آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا

”میں میڈم لوئیز سے ملنے جا رہی ہوں“
”یہ میڈم لوئیز کون ہیں؟
میں نے پوچھا۔
” میڈم لوئیز ایک مشہورجرمن بیرن کی بیوہ ہے جس نے عیاشیوں میں ساری جائیداد لٹا دی اور بالکل دیوالیہ ہو کر مرا۔ میڈم لوئیز بہت عمر رسیدہ ہے۔ انوچکا اسے بہت چاہتی ہے۔ “
نکولائی کی آنکھوں میں ایک ایسی نرمی تھی جس میں شفقت ہی نہیں پیار بھی جھلک رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ ابھی روس واپس نہیں جا سکتا۔ میں نکولائی کی طبیعت، اس کے مزاج اور اس کی مصور بننے کی خواہش سے متاثر بھی تھا اور مجھے اس سے ہمدردی بھی تھی۔ روسی عالی منش خاندانوں کی طرح اس میں بلند نظری کا فقدان نہیں تھا۔ لیکن مصوری میں کمال حاصل کرنے کے لئے جس محنت اور استقامت کی ضرورت تھی اس کا فقدان یقیناً تھا۔ اس کے باوجود یہ ناممکن تھا کہ آپ کے دل میں نکولائی کے لئے تحسین اور پسندیدگی کے جذبات نہ ابھریں۔ لیکن میرے دل میں ایک شبہ بار بار سر اٹھاتا۔ نکولائی سے انوچکا کا رشتہ بھائی بہن کا نہیں لگتا تھا۔ کم از کم مجھے۔
میں جتنا وقت نکولائی کے ساتھ گزارتا اور جتنی زیادہ اس سے باتیں کرتا اتنا ہی میں اس کے کردار سے مسحور ہو رہا تھا۔ ہمیں باتیں کرتے کرتے چار گھنٹے گزر چکے تھے۔
”ایسا کیوں نہ کریں، ہم دونوں مادام لوئیز کے گھر کی طرف چلتے ہیں۔ تم انوچکا سے بھی مل لو گے اور وہیں سے کشتی بھی پکڑ لینا۔ “
میں فوراً تیار ہو گیا۔ دریا سے ذرا دور شہر کے وسط میں تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک چار منزلہ مکان کے قریب پہنچ کر نکولائی نے گلی ہی سے آواز لگائی۔
”انوچکا، انوچکا“
تیسری منزل پر ایک کھڑکی کھلی۔ انوچکا نے سر باہر نکالا۔ اس کے پیچھے ایک بوڑھی جرمن عورت کا پوپلا سا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔
”مجھے میڈم لوئیز سے باتیں کرنے کا بہت مزہ آ رہا ہے۔ ابھی کچھ دیر اور ٹھہروں گی۔ “
پھر کھڑکی سے تقریباً لٹکتے ہوئے اس نے گلاب کا ایک پھول نیچے پھینکا جس کو نکولائی نے ہوا ہی میں پکڑ لیا۔
” یہ لو۔ یہ سمجھنا تمھارے سپنوں کی رانی نے اپنے پیار کی نشانی تمھیں دی ہے“
میڈم لوئیز نے ہنسنا شروع کر دیا تھا۔
” ہمارا مہمان اپنے گھر واپس جا رہا ہے۔ وہ تمھیں الوداع کہنے آیا تھا۔ “
”واقعی؟ “
انوچکا حیرت اور مایوسی سے ملی جلی آواز میں بولی۔
”اچھا تو پھر یہ گلاب کا پھول اپنے دوست کو دے دو۔ تم لوگ گھر چلو۔ میں خود ہی آ جاؤں گی۔ “
یہ کہہ کر اس نے کھڑکی بند کر دی۔ نکولائی نے خاموشی سے گلاب مجھے دے دیا جس کو میں نے بھی بغیرکوئی لفظ کہے اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ کشتی پکڑ کر میں دوسرے کنارے پر اترا اور اپنے ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوگیا۔
لیکن یہ کیا؟ میرا دل اتنا اداس کیوں تھا؟ میرا تصور مجھے دریا کے پار لے گیا۔ یہ نکولائی نے اشارۃ کیا بات کی تھی کہ حالات کی مجبوری سے وہ روس واپس نہیں جا سکتا تھا۔ اور پھر وہی شبہ میرے ذہن میں ابھرا۔ کیا انوچکا واقعی نکولائی کی بہن ہے؟
رات کروٹیں بدلتے گزری۔ میں اسی سیماب صفت لڑکی کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس میں کیا راز ہے؟ نکولائی وطن واپس کیوں نہیں جا سکتا؟ کیا یہ دونوں بھائی بہن ہیں؟
اگلے دن میں ذرا جلدی نکولائی سے ملنے چلا گیا۔ یا کم از کم میں نے اپنے آپ کو یہی قائل کروایا کہ میں نکولائی سے ملنے جا رہا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے میرا دل مجھے انوچکا سے ملنے پر اکسا رہا تھا۔
دونوں اپنے روز مرہ کے کپڑوں میں ملبوس تھے۔ نکولائی ایزل پر کینوس چڑھائے مصوری کر رہا تھا۔ انوچکا سر پر سکارف باندھے کشیدہ کاری میں مشغول تھی۔ میں صوفے پر بیٹھا دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ نکولائی کے چہرے سے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کے نقوش نمایاں تھے۔ لیکن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ انوچکا کے چہرے پر ایک عامیانہ پن برس رہا تھا۔ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن اس میں گھریلو ملازموں کی جھلک آ رہی تھی۔
نکولائی نے اپنا ایزل اٹھایا اور کہا کہ وہ وادی میں جاکر پینٹ کرنا چاہتا ہے اور مجھے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ چشمے کے کنارے اپنا ایزل لگا کر اس نے بلوط کے ایک درخت کی تصویر بنانی شروع کر دی اور میں پشکن کی ایک کتاب پڑھنے لگا۔
لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد میرا کتاب سے اور نکولائی کا مصوری سے دل اکتا گیا۔ ہم کمبل بچھا کر اس پر نیم دراز ہوئے اور اپنی زندگی کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنانے لگے۔ شام ڈھلے گھر لوٹے تو انوچکا ابھی بھی وہیں بیٹھی ہوئی تھی جہاں ہم اسے چھوڑ کر گئے تھے۔ مجھے اس میں نہ تو کوئی شوخی نظر آئی اور نہ چلبلا پن۔ ہوٹل واپس پہنچ کر میرے ذہن میں یہی خیال رہا کہ یہ لڑکی ایک پہیلی ضرور ہے لیکن نکولائی کی بہن ہرگز نہیں۔
دو ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ میں روز نکولائی سے ملنے جاتا۔ انوچکا مجھے ہیلو کہنے کے بعد مزید کوئی بات کرنے سے گریز کرنے لگی تھی۔ لگتا تھا کہ وہ کوئی غم یا راز چھپائے ہوئے ہے۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں اس کا ماضی کریدنے کی کوشش کی لیکن ہوں، ہاں کے علاوہ اور کوئی جواب نہ ملا۔
ایک دن میں نکولائی سے ملنے گیا تو گھر کا بڑا پھاٹک بند تھا۔ میں باڑ کو پھلانگ کر پائیں باغ سے ہو کر اندر جانے لگا تو بڑی جھاڑی کے پیچھے سے ایک مانوس سی آواز سنائی دی۔ پہلے تو میں نے کھنکار کر اپنی موجودگی کی اطلاع دینے کا ارادہ کیا لیکن میرا تجسس میرے آداب پر حاوی ہو گیا اور میں جھاڑی کی آڑ میں گفتگو سنتا رہا۔
”نہیں، میں تمھارے علاوہ کسی سے پیار نہیں کر سکتی۔ ہر گز نہیں۔ میں مر جاؤں گی لیکن تمھارے سوا کسی کو نہ چاہ سکوں گی۔ ہر گز نہیں۔ نہیں، نہیں، نہیں“
میں دم سادھے سنتا رہا۔
کچھ دیر بعد وہ گھر کی طرف واپس مڑے لیکن انہوں نے مجھے جھاڑی کے پیچھے چھپا نہیں دیکھا۔
میں الٹے قدموں تیزی سے دریا کی جانب روانہ ہو گیا۔ میرے سب شبہات دور ہو چکے تھے۔ انوچکا اور نکولائی بہن بھائی نہیں تھے۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور غصہ بھی آیا کہ آخر انہوں نے مجھے دھوکہ کیوں دیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

