آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا


اس واقعے کے دو سال بعد مجھے زمینوں کے سپروائزر کا ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ میرے باپ کی طبیعت بہت خراب ہے۔ گاؤں پہنچنے پر باپ کو بستر مرگ پر پایا۔

دم توڑنے سے پہلے باپ نے بس اتنا کہا،

 ”انوچکا تمہاری بہن ہے۔ اب تم اس کے ذمہ دار ہو۔ باقی باتیں سپروائزر تمہیں بتا دے گا۔ “

کہانی یہ پتہ چلی کہ ماں کی وفات کے اٹھ سال بعد میرے باپ نے ایک خوش شکل ملازمہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن ملازمہ نے بغیر شادی کے تعلقات کو ترجیح دی۔ انوچکا اسی کی بیٹی تھی۔ ملازمہ کے انتقال کے بعد انوچکا باپ کے ساتھ رہنے لگی لیکن مجھے اس بات کا پتہ نہیں لگنے دیا۔

میں انوچکا کو اپنے ساتھ پیٹرزبرگ لے آیا لیکن بارہ سال کی لڑکی کی روز مرہ نگہداشت میرے بس کا روگ نہیں تھا۔ میں نے اسے سب سے بہترین بورڈنگ سکول میں داخل کرا دیا۔ سکول کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد انوچکا پھر میرے ساتھ رہنے لگی۔ میرے پاس وراثتی دولت کی کمی نہیں تھی لیکن میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس سترہ سالہ لاابالی، چنچل اور غیر ذمہ دار لڑکی کا کیا کروں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ فوج کی نوکری چھوڑ کر چند سال کسی اجنبی ملک میں گزاروں جہاں میں اپنی مصوری کر سکوں اور انوچکا جو اس کا دل چاہے کرے۔

تمام چنچل پن کے باوجود انوچکا بے حد حساس ہے اور اپنے بارے میں دوسروں کی رائے کو بے انتہا اہمیت دیتی ہے۔ خاص طور پر تمہاری رائے کو۔ مجھے بس اس بات کا ڈر ہے کہ اگر اس نے کبھی کسی کو دل دے دیا تو خدا جانے اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سے کیسے پیش آؤں۔ چند دن کی بات ہے وہ میری سرد مہری کی شکایت کر رہی تھی اور کہ رہی تھی کہ اس کا پیار صرف میرے لئے ہے۔ ”

 ”تو کیا یہی وجہ ہے کہ“

میں پورا واقعہ دہرانے ہی لگا تھا، لیکن میں نے ضبط سے کام لیا اور کہا چلو تمہارے گھر واپس چلتے ہیں۔

 ”لیکن تمہارا کام؟ “

میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میرے دل کو ایک عجیب سا سکون مل گیا تھا جیسے کسی نے زخم پر مرہم رکھ دیا ہو۔

انوچکا مجھ سے ملنے آئی اور اپنا ہاتھ بڑھایا جس کو میں نے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ نکولائی اپنی مصوری میں مشغول ہو گیا۔ میں نے انوچکا کو باغ میں ساتھ آنے کی دعوت کی۔ وہ خوشی خوشی میرے ساتھ ہو لی۔

 ”تم اتنے دن ہمارے بغیر اداس نہیں ہوئے؟ “

 ”تو کیا تم میرے بغیر اداس ہوئیں؟ “

 ”ہاں“

اس نے لجاتے ہوئے کہا۔

 ”تم مجھے دیکھ کر ہنستی کیوں تھیں؟ میرا مذاق اڑاتی تھیں؟ “

نہیں۔ پتہ نہیں کیوں۔ کبھی کبھی میں رونا چاہتی ہوں اور ہنس پڑتی ہوں۔ ”

یہ جو سامنے چٹان ہے نا۔ یہاں لوریلائی کی پری رہتی تھی۔ متھالوجی والی۔ جو دریا میں ڈوب کر مر گئی تھی۔ مجھے لگتا ہے میرا بھی وہی انجام ہو گا۔ مجھے میڈم لوئیز یہ کہانیاں سناتی ہے۔ میں اس وقت کتنی خوش ہوں اور کتنی اداس۔ کاش یہ وقت یہیں ٹھہر جائے ”

 ”تم والز جانتے ہو؟ “

 ”مناسب حد تک“

 ”چلو“

ہم دوبارہ گھر میں داخل ہوئے۔ نکولائی نے پیانو پر والز کی نرم دھنیں شروع کیں۔ میں نے انوچکا کے ہاتھ تھامے۔ اس وقت وہ ایک کھلنڈری لڑکی نہیں ایک حسین خواہش انگیز عورت لگ رہی تھی۔ اس لمحے میں ساری کائنات اس کی تیز سانسوں، نشیلی آنکھوں اور اس کے ہاتھوں کے لمس میں بس گئی تھی جو میری ہر حس میں کتنے ہی عرصے تک میری زندگی کا محور بنی رہی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6