آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا


میری رات انتہائی بے چینی میں گزری۔ صبح ہوتے ہی میں نے مختصر سا سفری سامان ساتھ لیا اور ہوٹل کے مینیجر کو بتایا کہ میں رات کو واپس نہیں آؤں گا۔ اگلے تین دن میں پہاڑوں کے چھوٹے چھوٹے گاؤں گھومتا رہا۔ جہاں رات پڑتی سرائے میں سو جاتا۔ جرمنی کی جو خوبصورتی میں نے ان تین دنوں میں دیکھی وہ پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ میرا دل مطمئن تھا۔ میں انوچکا کو بھول چکا تھا۔

بالآخر جب میں ہوٹل واپس لوٹا تو مینیجر نے مجھے نکولائی کا ایک خط دیا۔ خط اپنائیت کے شکوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے اصرار کیا تھا کہ جیسے ہی مجھے خط ملے میں اسے اور انوچکا سے ملنے آؤں۔

نکولائی بہت گرم جوشی سے ملا۔ انوچکا مجھے دیکھتے ہی کھلکھلا کر ہنسی اور فوراً کمرے میں جا کر چھپ گئی۔ میں تکلف میں کچھ دیر بیٹھا اور پھر کام کا بہانہ بنا کر جانے کے لئے اٹھا۔ نکولائی نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا کہ وہ دریا تک مجھے چھوڑنے میرے ساتھ چلے گا۔

دریا کے کنارے پر ہم ایک بینچ پر بیٹھے۔ گفتگو کچھ مصنوعی سی لگ رہی تھی۔ اچانک نکولائی نے پوچھا کیا میں بھی انوچکا کو لاابالی اور غیر ذمہ دارسمجھتا ہوں۔ میں اس سوال سے چونک گیا تھا۔ جب میں چپ رہا تو نکولائی نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔

 ”انوچکا دل کی بہت اچھی ہے لیکن ناسمجھ ہے۔ اگر تم اس کے ماضی سے واقف ہوتے تو شاید اس کے بارے میں کوئی سخت رائے قائم نہ کرتے۔ “

 ”کیسا ماضی؟ تو کیا وہ تمہاری بہن نہیں ہے؟ “

 ”میں اپنے سوال پر خود ہی شرمندہ ہو گیا تھا۔

 ” انوچکا میرے باپ کی بیٹی ہے۔ میں صرف چھ مہینے کا تھا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا۔ بارہ سال تک میری تعلیم اور تربیت گھر پر ہی ہوئی۔ اس کے بعد میرے چچا کے اصرار پر مجھے پیٹرزبرگ ملٹری اکیڈیمی میں داخلہ دلوا دیا گیا۔ ایک دو سال بعد گھر کا چکر لگتا لیکن چند ہی دن گزارنے کے بعد میں واپس لوٹ آتا۔ ہر مرتبہ مجھے لگتا کہ میرا باپ پہلے سے زیادہ کمزور اور لاغر ہی نہیں بالکل زندگی سے مایوس بھی ہو رہا ہے۔ بیس سال کی عمر میں جب میں گھر لوٹا تو پہلی مرتبہ ایک پتلی دبلی لڑکی کو جو تقریباً بارہ سال کی ہوگی اپنے گھر میں دیکھا۔ یہ لڑکی انوچکا تھی۔ باپ نے مجھے بتایا کہ وہ ایک یتیم لڑکی تھی۔ میں نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ اکثر زمیندار نوکروں کے یتیم بچوں کو پال لیا کرتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6