آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا


رات گئے کشتی میں واپسی کے لئے بیٹھا تو چاند چمک رہا تھا۔ دھیمی دھیمی ہوا میں جیسے شراب کی تاثیر تھی۔ میں نے ملاح سے کہا کہ کشتی کو دریا کے بہاؤ پر چھوڑ دے۔ کہیں دور سے کوئل کی کوک سنائی دے رہی تھی۔ ساری رات ایک میٹھی میٹھی بے چینی سے انوچکا کے خوابوں کے ہجوم میں گزری۔

لیکن کیا میر ی یہ محبت یک طرفہ تھی؟ کیا وہ بھی مجھے اتنا ہی چاہتی تھی جتنا میں اسے پیار کرتا تھا؟

اس کے بعد کچھ عرصے تک انوچکا سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ایک دن نکولائی نے بتایا کہ وہ کمرے میں بند ہے اور کچھ کھا پی نہیں رہی۔ میرے اصرار پر وہ تھوڑی دیر کے لئے باہر آئی۔ اس کی رنگت پیلی پڑی ہوئی تھی۔ میں نے حال پوچھا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ حال جیسا بھی ہے گزر جائے گا۔ اور یہ کہہ کر وہ واپس کمرے میں چلی گئی۔

اگلے دن میں نے ناشتے کے بعد پھر ان کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔ ابھی میں کمرے کو تالہ لگا رہا تھا کہ ایک بچی بھاگتی ہوئی آئی اور مجھ سے پوچھا کیا اس پانچ نمبر کمرے میں آپ ہی رہتے ہیں؟ جب میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے مجھے ایک خط دیا اور کہا کہ مس نے جواب منگوایا ہے۔ مختصر سا خط انوچکا کی طرف سے تھا۔ لکھا تھا،

 ” مجھے تم سے بہت ضروری ملنا ہے۔ اکیلے میں۔ کل پانچ بجے میڈم لوئیز کے گھر آ جانا۔ میں تمھیں سب کچھ بتا دوں گی۔ خدارا انکار نہ کرنا۔ “

میں نے بچی کو ہاں میں جواب دیا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ خط کو کئی بار پڑھا۔ ہر دفعہ پڑھ کر پریشانی مزید بڑھتی گئی۔ اتنے میں نکولائی کمرے میں اچانک داخل ہوا۔ وہ بہت فکر مند لگ رہا تھا۔

 ”کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟ “

وہ کرسی گھسیٹ کر میرے پاس بیٹھ گیا۔

 ” تمہیں یاد ہے انوچکا کہتی تھی کہ وہ میرے سوا اور کسی کو نہیں چاہ سکتی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ جان دے دے گی لیکن کسی اور کو پیار نہیں کرے گی۔ “

 ”ہا ں مجھے یاد ہے“

نکولائی نے بات جاری رکھی۔

 ”رات مکان کی مالکن نے میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا فوراً آؤ انوچکا کی طبیعت بہت بگڑ رہی ہے۔ میں اس کے کمرے میں گیا تو وہ بخار میں تپ رہی تھی۔ وہ میرے گلے سے لپٹ کر بے تحاشا رونے لگی۔ “

 ”مجھے یہاں سے لے چلو نکولائی۔ کہیں بھی۔ میں اب یہاں ایک پل نہیں رہ سکتی۔ “

 ”میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی اور اس کے اچانک اضطراب کی وجہ پوچھی۔ اس نے بڑی مشکل سے اقرار کیا کہ وہ تم سے پیار کرتی ہے۔ جذبات کی جس شدت سے وہ تم پر فریفتہ ہوئی ہے وہ حیرتناک ہے۔ اس کا خیاہل ہے کہ تم اس کو چھچھوری اور گحٹیا سمجھتے ہو اور اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔ اس نے مجھ سے یہ تک پوچھ لیا کہ میں نے کہیں اس کی پیدائش اور بچپن کی کہانی تمھیں تو نہیں سنائی۔ سچی بات ہے کہ میں نے جھوٹ بولا اور کہہ دیا کہ میں نے تمہیں کچھ نہیں بتایا۔ اس نے مجھ سے وعدہ لے لیا ہے کہ ہم کل ہی شہر چھوڑ جائیں گے۔ “

اس نے اب مجھے شرمگیں نظروں سے دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔

 ”میں آج ہی شہر سے روانہ ہو جاتا لیکن پھر مجھے ایک خیال آیا جس کو کہتے ہوئے مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔ “

اور پھر س نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

 ”کیا تم بھی اسے چاہتے ہو؟ “

 ”ہاں“

میں نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا۔

 ”شادی تک کرنے کے لئے؟ “

اس نے ایک بم کے دھماکے کی طرح سوال داغ دیا۔

میں چپ رہا۔ خاموشی کو توڑتے ہوئے اس نے خود ہی کہا،

 ”انوچکا کا کچھ پتہ نہیں وہ کیا کر گزرے۔ اپنے آپ کو ضرر پہنچا لے یا تم سے اکیلے میں چھپ کر ملنے کی کوشش کرے۔ اس سے کچھ بعید نہیں“

میں سوچ میں پڑ گیا۔ کیا میں نکولائی سے یہ بات چھپا سکتا جو میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے خط میں لکھی تھی؟ کیا اس کی صاف گوئی اور ایمان داری کا جواب میں جھوٹ بول کر دے سکتا تھا؟

بغیر کچھ کہے میں نے خط اس کے سپرد کر دیا۔ خط پڑھ کر اس کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے رک رک کر کہا،

 ” اب کیا ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے تم اتنی عجلت میں شادی نہیں کر سکتے۔ “

 ”نکولائی۔ مجھے شام تک کا وقت دو۔ “

پھر ہم دونوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ میں پانچ بجے انوچکا سے ملوں گا لیکن اسے یہ نہیں بتاؤں گا کہ میں نے نکولائی کو اس کا خط دکھایا ہے۔ نکولائی گھر پر ہی رہے گا۔

 ” یہ تو طے ہے کہ تم اس سے شادی نہیں کرو گے۔ بہر حال کل صبح ہم شہر چھوڑ جائیں گے“

یہ کہہ کر نکولائی چل دیا۔ میں سخت اضطراب کے عالم میں تھا۔ مجھے نکولائی کی ایماندارانہ گفتگو پر غصہ آ رہا تھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ یہ بات تھی کہ صرف چند گھنٹوں میں مجھے اتنا بڑا فیصلہ کرنا تھا۔ نکولائی نے کہا تھا کہ آگ سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔ انوچکا ایسی ہی آگ تھی۔ پیار کی آگ۔ جذبات کی آگ۔ دل گرفتگی کی آگ۔ میں سترہ سال کی اس لا ابالی لڑکی سے پیار بھی کرتا تھا اور اس سے خوف زدہ بھی تھا۔ مجھے اپنی بزدلی کا اعتراف کرنا پڑا۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس سے شادی کی ذمہ داری نبھا سکتا۔

جب ملاح نے مجھے دوسرے کنارے پر اتارا، پانچ بجنے والے تھے۔ سورج ڈوبنے کے قریب تھا۔ شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ہوتا ہوا میں میڈم لوئیز کے گھر تک پہنچا۔ گھر تاریک تھا۔ میں نے دستک دی۔ دروازہ کھلا۔

 ”اس طرف“

ایک پوپلی سی آواز نے کہا۔

 ”آپ میڈم لوئیز ہیں؟

 ”ہاں۔ انوچکا تمہارا انتظار کر رہی ہے“

پتلی سی سیڑھیاں چڑھ کہ ہم تیسری منزل پر پہنچے۔ دہلیز پر میں نے ہلکی سی روشنی میں میڈم لوئیز کا چہرہ دیکھا۔ ایک کائیاں سی مسکراہٹ اس کے بے دانت منہ پر رقص کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک شریر سی چمک تھی۔ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

میں کمرے میں داخل ہوا۔ کمرہ بھی نیم تاریک تھا۔ انوچکا اسی کھڑکی کی طرف منہ کیے بیٹھی تھی جس سے کچھ دن پہلے اس نے گلاب وہ پھول پھینکا تھا جو ابھی تک میرے کوٹ کی جیب میں تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6