آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا
”انوچکا“
میں نے دھیرے سے آواز دی۔
وہ مڑی۔ اس کی بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھوں میں اس نیم تاریکی کے باوجود میں ادسی کی جھلک دیکھ سکتا تھا۔ میں نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما۔ ہاتھ سرد تھا۔ ساکن۔ ایک میت کے ہاتھ کی طرح۔
”میں ایک بار تم سے ملنا چاہتی تھی۔ صرف یہ کہنے کے لئے“
اس کے بعد وہ کچھ نہ کہہ سکی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا ہوا تھا، ان آنسوؤں کو روکنے کے لئے جو اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑنے کے لئے بے قرار تھے۔
”انوچکا“
میں نے پھر کچھ کہنا چاہا لیکن نہ کہہ سکا۔ طویل خاموشی رہی۔ اس کے چہرے سے اعتماد اور چنچل پن کی بجائے ایک جگر سوز اور دلگداز اداسی جھلک رہی تھی۔ لگتا تھا جیسے وہ زندگی سے تھک چکی ہے۔
میں نے پھر دھیرے سے اس کا نام لیا۔ اس نے جن نظروں سے مجھے دیکھا میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ کون بیان کر سکتا ہے ان نظروں کو جن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی دوشیزہ کا امید سے محروم پہلا پیار آشکار ہوتا ہو۔ مجھے ایک ہلکی سی سسکی کی آواز آئی۔ خزاں کے پتے کی طرح کانپتے ہوئے ہوئے ایک ہاتھ نے میرے چہرے کو چھوا۔ ہماری نظریں ملیں۔ پھرایک پل میں جیسے کایا پلٹ گئی ہو۔ خوف اوجھل ہو گیا تھا۔ اس کی جگہ ایک ایسے جذبے نے لے لی تھی جو کہہ رہا ہو کہ میں ایک دفعہ پیار کرنا چاہتی ہوں۔ اس کے ادھ کھلے ہونٹ میرے ہونٹوں کی جانب بڑھے۔ اس نے مجھے اپنی باہوں میں لپیٹ لیا۔ میں سب کچھ بھول گیا سوائے اس کے کہ میں اسے چاہتا ہوں۔ اس کا سر میرے سینے پر تھا اور وہ جذبات کی شدت سے بھری آواز میں کہہ رہی تھی،
”میں تمھاری ہوں“
اچانک میرے دماغ میں نکولائی سے چند گھنٹے پہلے گفتگو کی آواز گونجی۔
”یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ “
میں نے انوچکا سے اپنے آپ کو جدا کرتے ہوئے کہا۔
” میں نے تمہارا خط نکولائی کو پڑھوا دیا تھا۔ تمہارے بھائی کہ معلوم ہے کہ ہم یہاں مل رہے ہیں۔ میں مجبور تھا۔ “
”مجبور؟ “
اس نے ایسی آواز میں کہا جیسے سب کچھ پا کر ایک ہی لمحے میں اس کی دنیا لٹ گئی ہو۔
”ہاں، مجبور۔ اور یہ سب تمہارا قصور ہے۔ تمہیں کیا ضرورت تھی اپنے بھائی کو اپنا ا راز بتانے کی؟ نکولائی کچھ دیر پہلے ہی میرے پاس آیا تھا اور جو کچھ تم نے اسے بتا تھا اس نے سب لفظ بلفظ دہرا دیا۔ “
میرے آواز میں ایک ایسی سنگ دلی تھی جسے میں پہچاننے سے قاصر تھا۔ لگتا تھا کوئی اور بول رہا ہے۔ میں اس سے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔ مجھے خود سے کراہت آ رہی تھی۔ مجھے احساس تھا کہ میں صرف اسے ہی نہیں اپنے آپ کو دھوکا دے رہا ہوں۔ میں وہ فریبی اور بزدل تھا جو خود اپنی نظروں سے گر چکا تھا۔
انوچکا سسکیاں بھر رہی تھی۔ آنکھیں بند کیے وہ کرسی پر آگے کی طرف جھکی اور گھٹنوں کے بل فرش پر گر پڑی۔ میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔
”میں تمہیں بس ایک بار ملنا چاہتی تھی۔ تمہیں الوداع کہنے کے لئے۔ اب میں نہیں رک سکتی۔ رکی تو میرا دل پھٹ جائے گا۔ الوداع“
یہ کہ کر انوچکا تیزی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
میڈم لوئیز کمرے میں داخل ہوئی۔ میں جہاں تھا وہیں کھڑا رہا۔
”مس جا چکی ہیں۔ “
انوچکا کو میری زندگی سے گئے نصف صدی گزر چکی ہے۔
اور وہ وقت جس کے عارضی لمحوں کو اہل دانش مستقبل کہتے ہیں مجھے ابھرتی جوانی کے ان دنوں میں لا متناہی دکھائی دیتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ نگر نگر کی سیر کرتے ہوئے میری تقدیر میں کئی ایسے موڑ آیئں گے جب بہت سی موہنی صورتیں اپنی دل فریبیوں کے ساتھ میری زندگی کا حصہ بنیں گی۔ بالآخر زندگی حیرت سے بھرپور ہے۔
یہ پچاس سال میں نے رہبانیت میں نہیں گزارے۔ کئی حسیناؤن کو دل بھی دیا۔ کچھ نے رکھا۔ کچھ نے توڑا۔ ہر طرح کے رومانوی تجربات ہوئے۔ لیکن جذبات کی وہ شدت، نزاکت اور خوبصورتی جو انوچکا نے میرے دل میں جگائی تھی، وہ کبھی دوبارہ بیدار نہ ہو سکی۔ وہ مدھ بھری آواز کبھی سنائی نہیں دی۔ وہ آنکھیں جنہوں نے مجھے مکمل خود سپردگی سے دیکھا تھا کہیں دوبارہ نظر نہیں آئیں۔ ایک ہی لمحے میں خوف زدگی اور سرکشی کا وہ امتزاج اور کہیں نہ ملا۔
وہ دن ایسی مسرتوں سے بھر پور تھے جن کو بیان کرنا ہی ناممکن ہے اور وہ میری زندگی کے اداس ترین دن بھی تھے۔ جن کا خیال ہی میرا سینہ چاک کر دیتا ہے اب میرے پاس انوچکا کی صرف نہ مٹنے والی وہی یادیں رہ گئیں ہیں۔ یا ایک مختصر رقعہ اور ایک سوکھا ہوا گلاب کا پھول۔ جس میں ابھی تک یوں لگتا ہے جیسے تھوڑی سی مہک باقی ہے۔ لیکن جس ہاتھ نے مجھے یہ پھول دیا تھا، شاید وہ اب منوں مٹی تلے دفن ہو۔ انسان کی زندگی میں کیا رکھا ہے۔ گلاب کی ایک پنکھڑی کی مدہم اور بھینی سی خوشبو زندگی کی تمام خوشیوں، غموں، سانحوں اور رشتوں پر حاوی ہے۔
a translation of Ivan Turgenev’s story Annouchka


