باجوہ گھرانے کا کاروبار اور تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎نورانی تحقیقاتی رپورٹ کا ہدف ریٹائرڈ جرنیل اور اس کے اہل خانہ نہیں، مسلح افواج کا ادارہ ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے، جن کا جنرل عاصم سلیم باجوہ سے رشتے داری کا دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی اور امریکی کلاکار اس پر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔

‎معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ دو سطری تردید سے جان چھڑا لی جائے۔ تصدیق شدہ دستاویزات کا انبار ہے، جس کی تردید جنرل عاصم سلیم باجوہ کے لئے زبانی کلامی ممکن نہیں ہو گی۔ وضاحت اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ نیک نام ڈاکٹر سلیم باجوہ کی حرمت کا سوال ہے۔ اس ادارے کی ناموس عزیز ہے، جس کو قوم نے ہمیشہ جاں سے زیادہ عزیز جانا ہے، جو قوم کی امیدوں کا مرکزو محور رہا ہے۔ خود ’چیف صاحب‘ پر بھی حرف آئے گا۔ اس لئے تردید نہیں، جواب درکار ہے۔ انہیں جواب اس لئے بھی دینا چاہئے کیونکہ وہ اب عوامی خدمت کے عہدے پر فائز ہیں اور سیاسی میدان میں ہر شخص عوامی مواخذے سے بچ نہیں سکتا۔ وزیراعظم عمران خان کا بھی امتحان ہے کہ وہ اپنی کابینہ کی شفافیت کیسے یقینی بناتے ہیں؟

‎عاصم سلیم باجوہ صادق آباد کے نیک دل، نیک نام اور نیک طنیت ڈاکٹر سلیم باجوہ کے فرزند ارجمند ہیں۔ بچپن میں تھے کہ ان کے والد ڈاکٹر سلیم باجوہ کو 25 نومبر1976 کو کراچی ایکسپریس میں سفر کرتے ہوئے گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سلیم باجوہ یکم دسمبر 1927 کو ضلع فیصل آباد کے ایک گاوں ملکھاں والہ میں پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک تک تعلیم مسلم ہائی سکول اور ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لائل پور سے پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1951 میں معالج کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1963 تک میڈیکل آفسیر مظفرگڑھ، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور صادق آباد میں سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں۔

‎بتایا جاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے مالا مال ڈاکٹر سلیم باجوہ نے ڈاکٹر عبدالسلام کے تعاون سے ’ملت ہسپتال‘ قائم کیا جہاں اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک انسانی خدمات انجام دیتے۔ ڈاکٹر سلیم باجوہ ہر سال صادق آباد میں مفت آنکھوں کے علاج کا کیمپ لگایا کرتے تھے۔ یتیموں، غریبوں، محتاجوں، بیواوں اور قیدیوں کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ بیواوں اور یتیموں کے لئے وظائف مقرر کئے ہوئے تھے۔ 1973 کے بھیانک سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والے افراد کی اس طرح بڑھ چڑھ کر مدد کی کہ ان کی خدمات کا عوامی، سماجی حلقوں کے علاوہ سرکاری انتظامی حلقوں نے بھی برملا اعتراف کیاتھا۔ دین سے ان کی محبت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ وہ مدرسہ تفہیم القرآن اور ادارہ تعمیر ملت صادق آباد کے سرپرست اعلی تھے۔ محمدی فٹ بال کلب صادق آباد کے صدر بھی تھے۔

‎اس نیک نامی کے اثاثے کے بیچوں بیچ احمد نورانی نے بدنامی کا بم پھوڑ دیا ہے، جس نے اس امیج کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دئیے ہیں۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’جو قومی چور ہو گا، ہم اس کے دشمن ہیں وہ خواہ جنرل ہو، کوئی جج ہو، نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو یا پھر لاوارث مریم نواز جس بچاری کا پاکستان میں بھی کوئی گھر نہیں تھا۔“

‎جنرل مشرف کے بریگیڈئر عاصم سلیم باجوہ اس لئے بہت قریب ہوئے کہ 12 اکتوبر 1999 کو مشرف برطرفی ڈرامے کے دوران جہاز سے جنرل مشرف کا زمین پر پہلا رابطہ بریگیڈئر عاصم باجوہ سے ہوا تھا جنہوں نے جنرل مشرف کے کتوں dot اور dash کے نام بتانے کے بعد جنرل مشرف کو حالات” قابو“ میں ہونے اور لینڈ کرنے کی خوشخبری سنائی تھی اور بعد ازاں جنرل مشرف کی اوٹ پٹانگ آپ بیتی کی پروف ریڈنگ کا شرف بھی حاصل کیا۔

‎لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر، کمانڈر سدرن کمانڈ رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ’سی پیک اتھارٹی‘ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے اطلاعات ونشریات ہیں۔

‎سر پر لگنے والے نامعلوم زخموں سے صحت یابی کے بعد احمد نورانی جنگ (جو) گروپ سے امریکہ سدھار گیا تھا۔ تازہ کارروائی اس نے ایک نجی ویب سائٹ پر ڈالی ہے جس پر تمام دستاویزات اور ان کی تشریح اردو و انگریزی دونوں زبانوں میں بڑے اہتمام سے شائع کی گئی ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے تو جیسے انتظار میں تھے انہوں نے اس “خبر “ کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ لیکن ’قومی میڈیا‘ پر غیر فطری خاموشی طاری ہے۔ ‎البتہ سوشل میڈیا پر تبصروں، طعنوں، طنز اور قومی ادارے کو نشانہ بنانے کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ عالمی ادارے احمد نورانی کے انٹرویو لے لے کر اس خبر کو پوری دنیا میں پھیلا چکے ہیں۔

جنرل ‎عاصم سلیم باجوہ ابتدائی ردعمل کے بعد مکمل خاموش ہیں لیکن اس خبر نے چاروں طوفان برپا کر رکھا ہے۔ ‎پیشہ وارانہ لحاظ سے یہ نورانی رپورٹ خبر کے معیار پر پوری اترے یا نہیں لیکن اس کی رسوائی اور گہرائی بے پناہ ہے؟ یہ تحقیقاتی رپورٹ دراصل عاصم باجوہ خاندان کی جائیداد اور کاروبار پر مشتمل ہے چار ممالک امریکہ، پاکستان، یواے ای اور کینیڈا سے قانونی دستاویزات حاصل کی گئی ہیں۔ یہ “باوثوق ذرائع” سے دی جانے والی خبر بھی نہیں جسے شک کی ٹوکری میں ردی سمجھ کر پھینک دیا جائے۔ سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر جمع کردہ ڈیٹا بیس ہے، جس سے جان چھڑائی نہیں جا سکتی۔

‎کہانی 2002 سے شروع ہوئی ہے جب کاروبار شروع ہوا۔ دعوی کیا گیا کہ اس سال کے آخر میں عاصم سلیم باجوہ جنرل مشرف کے سٹاف آفیسر مقرر ہوئے تھے۔ سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ باجوہ فیملی کے نام سے موسوم ’باجکو‘ گروپ بننے تک کے سفر کا آغاز کیسے ہوا؟ ابتدائی سرمایہ کاری کیسے حاصل ہوئی؟ یہ کام محض پیزا ڈلیوری سے نہیں ہوسکتا؟ صحافی نے جواب کے لئے وزیراعظم کے مشیر اطلاعات جنرل باجوہ کے جواب کا تین ہفتے تک انتظار کیا۔ اس دوران جنرل باجوہ کے ایک سابق معاون ریٹائرڈ  ‎بریگیڈیئر صاحب احمد نورانی کے بارے سن گن لیتے رہے۔ خبر منظر عام پر آنے کے بعد جنرل باجوہ نے ٹویٹ کیا کہ ”نامعلوم ویب سائیٹ پراپیگنڈہ کر رہی ہے۔ جس کی تردید کرتا ہوں۔“ ان کے صاحبزادے نے اسے ’را‘ اور سی پیک کو ناکام کرنے کی سازش قرار دے دیا۔ ان کے بھائی نے ٹویٹ کیا کہ ”عاصم سلیم باجوہ کا کاروبار سے تعلق نہیں۔“

‎اگر یہ مان بھی لیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ محترمہ فرخ زیبا ’باجکو گلوبل مینجمنٹ‘ میں برابر کی حصہ دار ہیں۔ 2007 میں امریکہ، اوہائیو میں رجسٹریشن فراہم کی گئی ہے۔ عبدالمالک باجوہ نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’عاصم سلیم باجوہ اوران کے صاحبزادوں کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں۔‘ اہلیہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

99  ‎کمپنیاں بنائی گئیں۔ کمرشل جائیدادیں خریدی گئیں۔ چار پانچ سال پہلے عاصم سلیم باجوہ کے صاحبزادوں نے بیرون ملک سرمایہ کاری کی۔ وہ کمانڈر سدرن کمانڈ تھے تو بیٹوں کے نام سے منرل کی کمپنی بن گئی۔ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر بھائی نے ’سلک لائن‘ بنا لی۔ ’لیبر‘ اور ’مین پاور‘ کمپنی بنائی۔ 2011 میں عاصم سلیم باجوہ کے صاحبزادے یوشع نے امریکہ میں دو گھر خریدے۔

‎قانون کے تحت ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والا ہر شہری اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اثاثہ جات میں واضح لکھا ہے کہ ان کے بیرون ملک اثاثے نہیں۔ اگر بیوی کا نان نفقہ آپ کے ذمے نہیں، اور وہ خود مختار ہے تو اسے اپنے اثاثے خود ظاہر کرنے ہوتے ہیں، ورنہ ان کی تفصیل بھی شوہر کو اپنے گوشواروں میں بتانا لازم ہے۔

‎منتخب نمائندوں پر یہ ذمہ داری کچھ زیادہ سنگین ہے کہ ان کی بیوی نان نفقے کے لئے ان پر انحصار کرتی ہو یا نہ کرتی ہو، انہیں اپنی تمام تفصیل بیان کرنا پڑتی ہے۔ یہ عوامی نمائندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اب سوال یہ ہورہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے گوشواروں میں اپنے اور اپنی بیگم کے حوالے سے یہ لکھ دیا ہے کہ ان کا کوئی ”بزنس کیپٹل“ ملک سے باہر نہیں ہے۔ اس بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

‎تحقیق کرنے والا صحافی سوالات کی بمباری کر رہا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ ”2002 تک کوئی ملکیتی کاروبار دنیا میں موجود نہیں تھا۔ 2002 میں معاملات شروع ہوئے اور آگے بڑھ گئے۔“ 30 لاکھ کی لینڈکروزر ابھی لوگوں کو بھولی نہیں تھی کہ یہ نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔

‎فیکٹ فوکس کے نام سے ویب سائٹ نے ”باجوہ فیملی کی کاروباری سلطنت عاصم باجوہ کی فوجی عہدوں پر ترقی کے ساتھ پھیلی“ کی شہ سرخی کے ساتھ جاری کی تو تہلکہ مچ گیا۔ یکایک تہلکہ ڈاٹ کام کی یاد آگئی جس نے انڈیا میں سیاستدانوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔

‎رپورٹ کے مطابق ”عاصم باجوہ کے بھائی نے امریکہ کی معروف فوڈ چین ’پاپا جونز‘ کے پہلے ریسٹورنٹ سن دو ہزار دو میں قائم کیے۔ اسی سال عاصم باجوہ کی جنرل پرویز مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی۔ ندیم باجوہ، جنہوں نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ میں بطور ڈیلیوری ڈرائیور کیا تھا، اب ان کے بھائیوں اور عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں اور ایک سو تینتیس فعال فرینچائز ریسٹورنٹس ہیں جن کی موجودہ مالی حثیت تقریبا چالیس ملین ڈالر (چھ سو ستر کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔“

‎”عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بھائیوں نے 52.2 ملین ڈالر (876 کروڑ) سے زائد کی سرمایہ کاری سے دو انٹرنیشنل فوڈ چینز کے تین ممالک میں 174 فرینچائز ریسٹورنٹ قائم کیے اور امریکہ میں 14.5 ملین ڈالر (دو سو تینتالیس کروڑ) کی کمرشل اور رہائشی جائیدادیں بنائیں۔ یوں 1119 کروڑکی سرمایہ پاکستان سے باہر کی گئی۔ عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں نے پاکستان اور امریکہ میں ان کاروباروں میں شمولیت اختیار کی، اہلیہ کی امریکہ کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں چلنے والے کاروباروں اور ان بزنسز کی پراپرٹیز میں برابر کی ملکیت ہے۔“

‎رپورٹ کے مطابق ”باجوہ خاندان چھ بھائیوں اور تین بہنوں پرمشتمل ہے جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر کے خوشحال مگر مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔“

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نومبر 1976ء میں ”مظلومانہ قتل” کے وقت سلیم باجوہ کے اثاثہ جات میں زرعی زمین، صادق آباد شہر میں کچھ دکانیں، ایک دواساز کمپنی میں حصص اور ایک گھر تھا۔ سلیم باجوہ کے بڑے دو بیٹے تنویر اور طالوت والد کی طرح ڈاکٹر بن گئے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پریکٹس کی۔ تیسرے بیٹے عاصم باجوہ نے 1984 میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ دو بھائی ندیم اور فیصل پنجاب یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے 1990 کی دہائی کے اوائل میں امریکہ چلے گئے۔ سب سے چھوٹا بھائی عبدالمالک بھی (2002) میں امریکہ چلا گیا۔“

‎اب اس کی تردید کیسے کی جائے کہ ”باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایل ایل سی کی رجسٹریشن دستاویزات، جو کہ امریکی ریاست اوہایو کے سیکریٹری آف سٹیٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں، سے یہ بات سامنے آتی ہی کہ عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا باجکو گروپ کے تمام کاروبار میں اپنے شوہر کے پانچ بھائیوں کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔

‎یہ رپورٹ کا محض خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ تفصیل مزید حیران کن اور دستاویزی شواہد کا پلندہ لئے ہوئے ہے جسے محض ’را‘ کی کارروائی یا کوئی انتقامی کارروائی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے نورانی تحقیقاتی رپورٹ پر بلاتاخیر اور فوری کاروائی کی ضرورت ہے پاک فوج کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں ہے کہ دو سطری ترید کرکے جان چھڑا لی جائے۔ تصدیق شدہ دستاویزات کا انبار ہے جس کی تردید جنرل عاصم سلیم باجوہ کے لئے آسان نہیں ہو گی، جس کی وجہ سے “اصلی تے وڈے” جنرل قمر جاوید باجوہ پر بھی حرف آئے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ، کینڈا، متحدہ عرب امارات اور پاکستان سے دستاویزات نہیں، مصدقہ دستاویزات کے انبار اکٹھے “کلے بندے دا کم نئیں” باقی احمد نورانی درجنوں ماہرین اور لاکھوں ڈالر خرچ کئے بغیر یہ تمام ناقابل تردید دستاویزات اور حقائق اکٹھے نہیں کرسکتے تھے۔ اس بارے میں واشنگٹن میں 3 دہائیاں وائس آف امریکہ میں گزارنے نہایت سنجیدہ مزاج بزرگ اور گوشہ نشین اخبار نویس جناب افضل رحمن لکھتے ہیں ،

“19  جولائی کو یہ معاملہ پاکستان سے شروع ہوا۔ 22  جولائی کو مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ یہاں سے بھارتی ہندو میجر آریا گریو نے اٹھایا اور 25 جولائی کو اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا۔ نورانی امریکہ میں ہے، ظاہر ہے کسی نے اُس کے “کندھے” پہ ہاتھ رکھا ہے اور اب لگ بھگ طشت از بام ہی ہو گیا ہے۔ آپ خود ہم سے زیادہ ان باتوں کو سمجھتے ہیں۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کا ابتدائی ردعمل انتہائی بچگانہ تھاکہ ایک غیرمعروف ویب سائٹس نے مجھ پر من گھڑت الزامات لگائے ہیں لیکن جنرل صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ فرخ زیبا کے اربوں ڈالر مالیت کے شریک کاروبار ہونے اور دستاویزات کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی ۔

یہی رویہ ان کے بھائی مالک باجوہ کا بھی تھا انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ان کے بھائی جنرل عاصم سلیم باجوہ کا ان کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ بھی اپنی بھابی محترمہ فرخ زیبا کے شریک کار ہونے کے بارے میں خاموش ہیں۔

راؤ خلیل مدتوں سے پیرس میں رہتے ہیں۔ لکھتے ہیں، “میں بھی صحافی ہوں میرے پاس کون سی توپ ہے، اس سے بخوبی واقف ہوں۔ میں کیا بم چلا سکتا ہوں، میں جانتا ہوں۔ میرے ذرائع کیا ہیں، جانتا ہوں، میں کیا طوفان کھڑا کر سکتا ہوں جانتا ہوں۔ اپنے ملک کے حق میں لکھنے کے لئے مجھے اپنے پروردگار سے جو مدد ملتی ہے، میں اس کو بھی محسوس کرتا ہوں۔ امریکہ سے مجھ جیسے دیسی صحافی نے جو اتنی بڑی “توپ” چلائی ہے ممکن نہیں اس کے پیچھے عالمی طاقتیں نہ ہوں ۔ اتنا مواد اکھٹا کرنا اپنی بساط اور اوقات کو دیکھ کر بتا سکتا ہوں، یہ سب سازش ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ سچ بھی ہو مگر اس یہ اس رپورٹر کی رسائی میں نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ کر سکے۔ اب اسے بی بی سی ، وائس آف جرمنی پر شائع کیا جا رہا ہے، اس کے الزامات کو معتبر بنا جا رہا ہے۔”

کنور خلیل لکھتے ہیں یہ سیدھا سیدھا پاک فوج پر حملہ ہے یہ ففتھ جنریشن وار کا داؤ ہے۔ ان الزامات کی انکوائری میں الجھایا جائے گا۔ نورانی جتنے بڑے دھماکے میں استعمال ہوا ہے، مجھے یورپ امریکہ میں مقیم کوئی بھی پاکستانی اخبارنویس بتا دے کہ کسی کی ایسی اوقات ہے کہ وہ یہ سب کر سکے؟ سوائے اس کے کہ وہ کسی کے استعمال میں آئے۔ میں بھی ایک صحافی ہوں۔ یہ سب کسی ایک صحافی کے بس کی بات نہیں، یہ سب بنا بنایا مواد ہے۔ یہ سب را کی سرمایہ کاری اور امریکہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف جنرل عاصم سلیم باجوہ پر نہیں، سی پیک پر کاری وار ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ کے کسی حاضر سروس نیک نام جج کی سربراہی میں کمشن بنایا جائے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل، ذوالفقار چیمہ اور حسنین اصغر جیسے مسلمہ دیانتدار ریٹائرڈ پولیس افسران کو مادر وطن کی خدمت کے لئے دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔ اب چیزوں کو چھپانے کی بجائے منظر عام پر لایا جائے اور عزیزم احمد نورانی کو بھی خوش دلی سے ان تحقیقات میں شامل ہونا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •