کمسن بچوں پر جنسی تشدد کا ذمہ دار کون؟


حال ہی میں میر ہزار خان کے علاقے میں زین نامی پندرہ سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کے نازک حصہ پر گولی مار دینے کی خبر پڑھی تو پورے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پریشانی کے عالم میں اپنے ننھے معصوم بچوں کی طرف نظر دوڑائی تو بے اختیار آنکھ میں آنسو آ گئے اور میں سوچنے لگا کہ اس جنسی تشدد کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ معاشرہ، والدین، اساتذہ یا حکومت؟ جب سے پوری دنیا میں انٹر نیٹ کی سہولت آئی ہے تو اس گلوبل ویلج میں جنسیت اور جنسی تشدد کو اتنی ہوا ملی ہے کہ حکومت کے لئے جنسی جرائم پر قابو پانا ناممکن ہو گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سب سے بڑی وجہ وہ جنسی غبار ہے جو ایک مجرم کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور آخر کار اس سے وہ عظیم گناہ سرزد ہوتا ہے جسے دیکھ اور سن کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ گھر ہو یا مدرسہ، سکول ہو یا یونیورسٹی جب بھی ایک گھٹن زدہ ماحول میں پلنے والے کسی بھی فرد کو موقع ملتا ہے وہ حیوان بننے سے نہیں چوکتا اور پھر اپنے جرم کو چھپانے کے لئے وہ قتل جیسے جرم سے بھی نہیں گھبراتا۔

پورنوگرافی یعنی فحش فلموں کی صنعت ایک ایسا کاروبار ہے جس سے کسی بھی قوم کو ذلالت کے گڑھے میں آسانی سے دھکیلا جا سکتا ہے اور یہود و نصاریٰ نے صنف نازک کے ساتھ ساتھ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یعنی زنا کا سہارا لیا اور صرف مسلم امہ کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو حیوانیت زدہ کر دیا۔ کسی بھی قوم کی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا بہت آسان کام ہے اور ہمیں ہدف بناتے ہوئے طاغوتی قوتوں نے ہمیں ہدف بناتے ہوئے جدید ہتھیاروں سے لیس پورن کی اتنی اقسام متعارف کروا دی ہیں جن کا شمار بھی ممکن نہیں۔

دیکھا جائے تو پاکستان میں ننگ ملت و ننگ دین ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو صرف مال و زر کے حصول کے لئے ہماری نوجوان نسل کے اذہان میں وہ گند بھر رہے ہیں جس کا لامحالہ نتیجہ کسی چھوٹی بچی یا بچے سے ریپ کی صورت میں نکلتا ہے۔ مختلف سماجی رابطوں کے لائیو شوز، فحش موویز، سیکس سکینڈلز، ڈراموں اور فلموں کے فحش مناظر کے ساتھ ساتھ جدید تنگ لباس بھی ایک جنس زدہ نفسیاتی مریض کی شہوت میں اضافہ کا موجب بنتا ہے اور جذبات میں اندھا ہو کر وہ کر گزرتا ہے جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔

پاکستان بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 ء میں ملک میں ہر روز 9 سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے تھے اور 2017 ء کے مقابلے میں یہ اضافہ 11 فیصد تھا۔ 2019 ء کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سابقہ ششماہی میں جنوری تا جون بچوں سے زیادتی کے 1304 مقدمات درج ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ 7 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 8 بچوں تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ دنوں ساحل کے صوبائی کو آرڈینٹر نے پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات سال 2020 ء کے بارے میں بتایا کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ کیس پنجاب اور سندھ میں رپورٹ ہوئے۔ پنجاب 853، سندھ میں 477 کیس رپورٹ ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 35 صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا ) میں 91 صوبہ بلوچستان میں 22 آزاد کشمیر میں 10 جنسی تشدد کا کیس رپورٹ ہوئے۔ پاکستان میں شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں زیادہ کیس رپورٹ ہوئے۔

گاؤں میں 62 % اور شہر میں 38 % رپورٹ ہوئے ہیں، ۔ ساحل کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق چھ ماہ (جنوری تا جون 2020 ) تک بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کہ دوران پاکستان میں 1489 بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات پیش ہوئے یہ وہ رپورٹیڈ کیس ہیں جن کی اطلاع پولیس کو ملی ہے، اس وقت پاکستان میں تقریباً 8 بچے روزانہ جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں

ہمارا کوئی بھی شہر ایسا نہ ہو گا جہاں کسی نہ کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی نہ ہوئی ہو لیکن والدین اور معاشرے کے غیر ذمہ دارانہ رویے میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ قوانین موجود ہیں، ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے لیکن سزا کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ باقی ماندہ لوگ اس جرم سے باز رہیں لیکن میری رائے میں اس طرح کے واقعات صرف والدین اور معاشرے کی عدم توجہی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی والدین کو اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے تو ایک والد کو اس خاندان یعنی ریوڑ کا نگہبان بھی بناتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن والدین سے اس سلسلے میں سخت پوچھ گچھ کی نوید بھی سنائی گئی ہے لیکن ہماری ریاست میں والدین کی سرزنش کے لئے فی الحال کوئی قانون موجود نہیں۔

امریکہ میں قیام کے دوران میری ایک پاکستانی دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ایک بار ہماری بچی کھیلتے ہوئے پلنگ سے نیچے گر گئی، ہم اسے ہسپتال لے گئے، ڈاکٹر کو تمام واقعہ سنایا تو اس نے پولیس کو بلا لیا۔ پولیس افسر نے میری امریکی قوانین سے لاعلمی کی بنا پر مجھے صرف تنبیہ کی کہ اگر تم نے مستقبل میں ایسا کیا تو بچی آپ سے لے لی جائے گی او راس کی پرورش کا ذمہ پھر ریاست اٹھا لے گی لیکن ہمارے ملک میں جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی اور عدلیہ کی بے حسی پر ڈال کر معاشرے کو بھڑکایا جاتا ہے اور ان والدین سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی جن کو مظلوم بنا کر میڈیا پر پیش کیا جار ہا ہوتا ہے۔

میں نے اکثر چھوٹی چھوٹی بچیوں کو قریبی دکانوں پر اکیلے سودا سلف لاتے دیکھا ہے جبکہ ان کے مرد حضرات گھر پر بیٹھے موبائل یا ٹی وی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ اگر صرف والدین ہی سونے، موتی اور ہیرے جیسے بچوں کی نگہداشت کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس طرح کی وارداتیں کم ہو جائیں۔ میری رائے میں والدین، اساتذہ، معاشرہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اعلیٰ عدالتیں نہ صرف اس جرم میں برابر کی شریک ہیں بلکہ ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ، اساتذہ اور میڈیا بھی اس گناہ عظیم کا ذمہ دار ہے۔

معاشرے میں جب بھی کوئی جرم تیزی سے پنپ رہا ہوتا ہے تو اس جرم کے پھیلنے اور تیزی سے بڑھنے کے اسباب کی تلاش کرنا اور بروقت ان اسباب کا سد باب کرنا ہی ایک ترقی یافتہ قوم کا شیوہ ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں جنسی ہوس کی سب سے بڑی وجہ مادر پدر آزاد معاشرہ، جنسی ویڈیوز اور غلط صحبت اور جہالت ہے، ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر مجرمان غیر تعلیم یافتہ ہی تھے جو ننھے اور معصوم بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، اگر والدین اپنے بچوں کی درست خطوط پر تربیت کریں اور کسی بھی فرد سے کوئی چھوٹا موٹا تحفہ یا چیز نہ لینے دیں اور اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں تو میرے خیال میں یہ ناممکن نہیں کہ بچے کی بھی شخص کے بہلاوے میں آئیں۔

بچوں کو جدید اور درست انداز میں تربیت ہی اس قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی ریپ کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ملک میں موبائل شاپ پہ موجود فحش مواد کے علاوہ وہ پورن ویب سائٹس ہیں جن کو بلاک کرنا پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے۔ میں نے بارہا اپنے مضامین میں فحش ویب سائٹس کو بند کرنے کی التجا کی ہے کیونکہ میرے خیال میں ذہنی طہارت و پاکیزگی ہی اس جرم سے بچنے کا واحد راستہ ہے جو صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت وقت اس طرف توجہ دے۔

مجھے یاد ہے کہ ماضی میں وی سی آر کرائے پر دینے والی ایسی دکانوں کو جو فحش مواد کا کاروبار کرتی تھیں، نہ صرف بند کیا جاتا تھا بلکہ مالکان کو کڑی سزا دی جاتی تھی اور ایسی اداکارائیں جو فحش ڈانس کرنے میں ملوث پائی جاتی تھیں ان کو بھاری جرمانے کر نے کے ساتھ ساتھ ان پر مختلف تھیٹرز میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی تھی مگر وائے بد قسمتی آج کل ان کو پرائڈ آف پرفارمنس نے نوازا جاتا ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد سے ہی اس طرح کے جرائم کی بیخ کنی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS