پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے ریپ ہو نے کا لگا رہتا ہے کہ لڑکی تو زندہ بچ جاتی ہے مگر، بچوں کی نعش ملتی ہے۔

مگر نہیں دیکھ لیجیے اور ابھی دیکھ لیجیے، بیٹی کا درد کتنا سانجھا ہوتا ہے۔ موٹر وے پہ جو کچھ ہوا ہے۔ اگر یہ سانجھا دکھ نہ ہو تا اتنی چیخ و پکار نہ ہوتی۔ لیکن ایک خاص طبقہ اب بھی ایسا ہے، جن میں ہمارے افسر بالا بھی شامل ہیں، ان کا خیال خاص ہے۔ موٹر وے پہ کیا ہوا ہے، کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ صرف ایک عورت کا ریپ ہوا ہے۔ کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ مرد پہلے اپنی عورت کو ملکیت سمجھتا تھا۔ اب ہر عورت اس کی ملکیت بن گئی ہے۔

ہاشم ملک ماہر نفسیات ہیں۔ میں ان کو نہیں جانتی مگر انہوں نے اس بلاگ پہ ایک کومنٹ کیا تھا ”جاپان کو دیکھ لیں، وہاں جنسیت اور ریپ کیسز خاص طور پہ کم عمر بچے اور بچیوں سے رواج تھا، انہی جنسی مصنوعات کے باعث اب بہت حد تک کم ہو کر نہ ہونے کے برابر ہو گیا ہے،

آہ ہمارے ہاں بڑھتے جا رہے ہیں۔ جس کی سب سے اہم وجہ پارن فلمیں ہیں۔ اور مرد کو کون سمجھائے کہ ”موٹی عقل والے گنجوں، یہ فینٹسی ہے۔ حقیقت موت ہے۔ اور ظالمو تم یہ سب جو اپنی بیوی کے ساتھ نہیں کر سکتے کہ وہ تمہارے بچوں کی ماں ہے۔ اور خاندان میں عزت کا سوال ہے مگر تم دوسروں کی عورتوں کے چیتھڑے اڑا دیتے ہو۔ اور سمجھتے ہو ئے رسوائی بھی اس کی ہو گی تو موقع پرستو، وہ دور چلا گیا ہے۔ اب رسوائی تمہاری ہوتی ہے۔

اور یاد رکھو۔ یہ جس آزادی کے خلاف تم بول رہے ہو۔ ان سب واقعات سے تم اس کی راہیں استوار کر رہے ہو۔ جس جس گھر کی بیٹی درد سے گزرے گی اس اس گھر کی ذہنیت بدلتی جائے گی۔ یہ ایک نا قابل تسخیر قافلہ بنتا جائے گا۔ یہ واقعات آب و دانہ دے کر، اس سوچ اور فعل کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ڈرو اس وقت سے جس وقت بے لگام آزادی کا طوق تمہارے گلے میں ہو گا،

اور سرکار کچھ سوال ہیں، جواب دینا پسند فر مائیں گے۔ مجھے معلوم ہے سوائے نفرت، بد زبانی، کم ظرفی کے آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا

سرکار اگر کسی گھر میں بیٹا ہو ہی نہیں اور رات کو باپ کو ہارٹ اٹیک ہو جائے، چلیں کچھ لمحوں کے لئے آپ خود کو وہ مجبور باپ سمجھ لیں۔ بیٹی بے خوف باپ کی جان بچانے کے لئے بھاگ دوڑ نہیں کرے؟ کیا بیوی ہتھیار ڈال کر بیٹھ جائے گی؟

سرکار رات کے وقت نشے میں دھت شوہر، سر تاج، لاڈلا، چن کا ٹکڑا مردانگی کے نشے میں بیوی کو مار کر گھر سے باہر نکال دے۔ اس کے پاس موبائل نہیں، اب ٹیلی فون بوتھ بھی نہیں رہے۔ اکیلی عورت کیا کرے گی؟ کیا پہلے راہ چلتے کو پکڑ کر محرم بنائے گی؟ پھر باپ کی دہلیز تک جائے گی؟

سرکار یہ بھی چھوڑئیے، مان لیا محرم کے بغیر عورت سفر نہ کرے۔ جو رات سنہری میں محرم (باپ، بھائی، چچا، ماموں، تایا) کی نیت میں فتور آ گیا تو؟ تو تب آپ حضور یہ فر مائیں گے، رات کے وقت عورت نے سفر ہی کیو ں گیا۔

اچھا سرکار، دن کو سفر کر لیتے ہیں۔ عبایا بھی لے لیتے ہیں۔ نامعلوم لوگوں نے ریپ کرکے جو نعش پھینکی ہو گی۔ اس کو تین دن بعد آپ اٹھانے آئیں گے تو بھی آپ کا انداز تکلم با کمال ہو گا۔ ”آشنا نے محبت کرنے کے بعد ٹھکانے لگا دیا۔

سرکار کسی کا کوئی محرم، فرض کریں گھر پہ نہیں ہے اور اس کے خاندان میں کسی قریبی رشتے کی وفات ہو گئی ہے۔ مثلاً مان لیتے ہیں اس کی بہن فوت ہو گئی ہے۔ آپ ساتھ چلیں گے؟ یا کوئی ادارہ تحفظ دے گا۔ اجی کیسے دے گا، ادارے تو خود رات کو یتم خانوں اور سو کالڈ شرفا کے ساتھ ٹھیکے پہ مامور ہوتے ہیں۔

سرکار چلیں اب آپ مجھے بھی ایک گندی عورت کہیں گے۔ اس لئے کہ میں مہینوں گھر سے نہیں نکلتی مگر میرے لفظ بھاگتے پھرتے ہیں۔ اور انہی بھاگتے لفظوں کا کھوج لگاتے ادھر ادھر کی غلاظت مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔

جے “مچھ” نہیں تے کچھ نہیں، اس لئے کہ وہ اپنے مولانا سی سی پی او صاحب نے کافی اخلاقی اور دینی باتیں اتنے مغرور انداز تکلم میں کی ہیں کہ اردو نے اپنا منہ چھپا لیا تھا۔ اور یوں لگ رہا تھا جیسے ملک بھر کی ”مچھیں”، با جماعت یہ جملہ بول رہی ہوں۔

”مجھے یقین ہے آ پ میڈیا والوں کو اللہ پوچھے گا،“ رات کو ماؤں بہنوں۔۔۔”

سر میڈیا کو تو اللہ پوچھے گا ہی۔ آپ کے لئے کیا روز قیامت کوئی گریڈ ”پچاس” کے افسروں کی کمیٹی بنائی جائے گی؟ ذرا ایک کام کیجئے۔

ذرا موبائل کمپنیو ں سے ڈینا نکلوائیں اور دیکھئے کہ پورن کا تبادلہ مرد آپس میں زیادہ کر تے ہیں یا عورتیں۔ افسران بالا کے موبائل چیک کروائیے اور بتائیے کہ کوئی موبائل پورن سے خالی ملا؟ مردوں کے موبائل ڈیٹا کی پرسنٹیج بتائیے۔ حد یہ کہ صرف پانچ ماہ کے کرونا کرائسز میں، کفن کے ساتھ عورت سے لذت آمیزی تک کی پورن وائرل ہو ئی۔ اور خصوصی کرونا پورن بنیں۔ آخر یہ مردانہ موبائل تک ہی کیوں آتی ہیں؟

جو بھی اس وقت خاتون کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ یقین مانئے یہ سب وہ موقع پرست ہیں۔ جن کو کسی شکار کی تلاش ہے۔ موقع ملتے ہی اپنا وار کر دیتے ہیں۔ جو بھی اس وقت بالکل خاموش ہیں وہ بھی موقع پرست ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •