آگ اور پٹرول کی آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ریپ کیسز رپورٹ ہونے کی شرح اب بھی کم ہے۔

سماج نے اور اس میں رہنے والے لوگوں نے عزت کا معیار عورت کے اعضائے مخصوصہ کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ خدانخواستہ کسی عورت کا ریپ ہو جائے۔ تو سب سے پہلے اسے چپ رہنے کا ہی کہا جاتا ہے۔ والدین کی عزت خراب ہو گی۔ شادی کون کرے گا۔ سماج میں سر اٹھا کے کیسے چلے گی۔ اچھے گھر سے رشتہ نہیں آئے گا۔ اور وکٹم بلیمنگ شروع ہو جائے گی۔ تم نے دوپٹہ ایسے کیوں لیا۔ ایسے کپڑے کیوں پہنے۔ اس وقت باہر کیوں نکلی۔ کلاس فیلوز سے ہنس کے بات کیوں کی۔ وغیرہ وغیرہ۔

کبھی کسی ریپ کے بعد مار دی جانے والی لڑکی کی فیملی کو دیکھا ہے۔ کبھی یہ محسوس کیا کہ وہ کیسے درد سے گزرتے ہوں گے۔ میں نے دیکھا ہے۔ اس لڑکی کے چہرے اور جسم پہ دانتوں سے کاٹنے کے اتنے نشان تھے کہ اس کا چہرہ کسی کو دیکھنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس ماں کی سسکیاں اس کی خالہ کے بین۔ یہ تحریر لکھتے ہوئے بھی میں کانپ گئی ہوں۔ باپ بھائی اور ماموں جو ڈی ایچ اے سے بنا کپڑوں کے ایک کمبل میں پھینکی گئی اپنی بیٹی کی لاش اٹھا کے لائے۔ ان کے چہروں پہ وحشت صاف نظر آتی تھی۔ چہلم کے بعد محلہ چھوڑ گئے۔ باپ ڈاکٹر تھا گھر بیٹھ گیا۔ ماں پاگلوں کی طرح چیخیں مارنے لگ جاتی تھی۔ جس کو مارا گیا وہ ٹاپر تھی۔ ڈاکٹر بن رہی تھی۔ افسوس۔ معاشرے نے اس فیملی کو کیا دیا، صرف طعنے۔

یہ تو ہو گئی بات اس رویے کی جو ہم وکٹم کے ساتھ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ہمارا معاشرہ جس میں جو چند بولنے والے لوگ ہیں۔ ان کے خلاف ہی لٹھ لے کر کھڑا ہوا جاتا ہے۔ بچوں کے سامنے ماں ریپ ہو گئی۔ اس کے حق میں چند ہزار آوازیں کیا اٹھ گئی۔ معاشرے میں بیٹھے اخلاقی اقدار کے دیوالیے نکالنے والوں کو اخلاقیات یاد آ گئیں۔ ہمارے معروف ڈرامہ نگار جو کسی دور میں مجھے بڑے پسند تھے۔ اب تو کسی کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ یہ بندہ پسند تھا۔

نو ڈاؤٹ کہ آپ کے پاس لکھنے کی صلاحیت ہے۔ آپ بہت کرارے جملے لکھ لیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پہ اپنے گھر کی عورتوں کو نکال کر معاشرے کی تمام عورتوں کی تذلیل واجب ہو گئی ہے۔ آپ ہمارے جانے کے بعد ہی وہاں تشریف لائے ہوں گے۔ ہمارے سامنے آتے تو میں بڑے حساب چکتا کرتی۔ خیر کم تو ہمارے ساتھیوں نے بھی نہیں کی۔ تبھی تو آپ گرم توے پہ بیٹھے ہیں۔

آپ کے بقول یہ جو عورتیں وہاں آئی ہیں۔ ان کے باپ بھائی کہاں ہیں۔ تو جناب ان کے باپ بھائی خلیل الرحمٰن قمر نہیں ہیں۔ یہ ہم سب خواتین کے لیے سجدہ شکر ادا کرنے والی بات ہے۔ ورنہ آپ کے فرشتوں کے رجسٹر گالیوں سے بھرے رہتے۔ اور ہمارے کوسنوں سے۔ آپ بھی شکر کیجئیے۔

آپ نے کہا ان کو کون سی آزادی چاہیے۔ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں ہو۔ اور باپ بھائی پہرہ دیں۔ بھائی کال پہ کہے باجی مصروف ہیں۔ کس قدر گھٹیا سوچ ہے آپ کی۔ کس قدر گھٹیا الفاظ ہیں آپ کے۔ اور کتنا گندا دماغ آپ کے پاس ہے کہ عورت کے لیے حقارت آپ کے چہرے، زبان و باڈی لینگویج سے ٹپک رہی ہوتی ہے۔

آپ کے نزدیک جو عورت اپنے حقوق کے متعلق آگاہی رکھتی ہے۔ وہ دو نمبر ہے۔ طوائف ہے۔ اور سیکس کے لیے مری جا رہی ہے۔ جبکہ آپ کے ہی قبیل کے ایک اور فنکار فخریہ یہ تو کہتے ہیں کہ میں نے جن خواتین سے چکر چلائے۔ نہ میری بیوی کو پتہ چلے نہ ان عورتوں کے خاوندوں کو۔ مگر ان کی زبان می ٹو ٹرینڈ پہ فوراً اسلام کا لبادہ پہن کے سامنے آ جاتی ہے۔ کہ جی یہ تو دین سے دوری ہے۔ تو بھئی جو آپ کر رہے ہیں۔ وہ حب دین ہے۔ بدقسمتی سے یہ بھی مجھے پسند تھے۔

آخر میں ہمارے حکمرانوں کے ہر دل عزیز ٹی جے صاحب نے ملک میں پھیلتی ہوئی بے حیائی کا ذمہ دار مخلوط نظام تعلیم کو قرار دے دیا۔ مگر مدارس میں جو زبردستی کے جنسی اختلاط ہوتے ہیں۔ اس بارے بولتے ہوئے ان کی زباں کٹ کے گر گئی۔ کچھ عرصہ پہلے وہ فرما رہے تھے۔ کہ میرے دیس کی بیٹیوں کو کون نچا رہا ہے۔ اب فرماتے ہیں۔ کہ آگ اور پٹرول۔ ساتھ رہیں گے۔ تو جلیں گے۔ یعنی کہ سبحان اللہ۔

تہتر کے آئین کے تناظر میں مثال بالکل ٹھیک دی ہے۔ مگر جناب عالی یہ اکیسویں صدی ہے۔ یہاں دنیا چاند سے آگے نکل کے مریخ تک پہنچ گئی ہے۔ تسی اوتھے جا کے وی رپھڑ پا دینا (آپ نے وہاں جا کے بھی شور مچا دینا ہے ) کہ جی مریخ تو بہت گرم ہے۔ لہذا خواتین کو یہاں نہ لایا جائے۔ کہیں مرد آگ ہی نہ پکڑ لیں۔

سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ اس معاشرے کے میجارٹی مردوں کی سوچ وہی ہے۔ جو فیس بک پہ بیٹھے کسی تھکے ہوئے دانشور کی، سی سی پی او کی، خلیل الرحمن قمر کی یا ٹی جے کی ہے۔ پدرسری معاشرہ عورت کی بالادستی کیسے ہضم کر لے۔

سب سے پہلے تو اپنے اندر جھانکیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ آپ ظلم کے خلاف ہیں۔ آپ ظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کلیئر ہونا پڑے گا۔ آپ کو اپنے اندر سے صدیوں سے بسے عورت کے خلاف تعصب کو باہر نکالنا پڑے گا۔ آپ کو ظلم کے خلاف بولنا ہے تو یہ سوچ نکالنی پڑے گی کہ بھئی یہ تو عورت ہے۔ ضرور اسی کا قصور ہو گا۔ اسی نے مرد کے جذبات ابھارے ہوں گے۔ یہ نہیں کہیں گے کہ مرد کا کردار خراب ہے۔ گزارش بس یہ ہے کہ آگ اور پٹرول، یا سیکس کے لیے نعرے لگانے والی عورتوں جیسی خرافات سے نجات حاصل کی جائے۔

اپنا نصاب چینج کریں۔ اسے آنکھیں کھولنے کے لیے رکھیں۔ نا کہ جن کی آنکھیں کھلی ہیں۔ ان کی بھی بند کرنے پہ تیار بیٹھے ہیں۔ ریپ چاہے نابالغ بچی کا ہو، بچے کا ہو، عورت کا ہو یا مرد کا بھی اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ حکومت کو قانون سازی کی ضرورت ہے۔ مار دو، پھانسی لگا دو یا پھر سر قلم کرو، نامرد بنا دو یا جیل میں ڈال دو۔ یہ سب نعرے وقتی طور پہ تو انصاف پسند لگتے ہیں۔ مگر جب ہوش و حواس میں دیکھا جائے تو کیا ایسا کرنے سے معاشرے میں ریپ کیسز کی شرح کم ہو جائے گی؟

آپ اس سوچ کو ختم کرنے پہ نہیں آتے۔ جس کی وجہ سے معاشرہ فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نفسیاتی الجھنیں، مردانگی دکھانے کا شوق و جنون اور کمزور پہ تسلط اور اسے زیر کرنے سے جو تسکین ملتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ گراس روٹ لیول سے کام نہیں کریں گے۔ مگر اوپر سے تنے کاٹ دیں گے۔ شاخیں کاٹ دیں گے۔ او بھائی جڑیں تو موجود ہیں۔ جڑوں کو ناکارہ کرو۔ عورت مرد انسان ہیں۔ انہیں جنس سے بالاتر ہو کے دیکھنا شروع کریں۔ انہیں الگ الگ پنجروں کی بجائے ساتھ بیٹھ کے اپنی جھجک دور کرنے دیں۔

مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے ہوا مت بنائیں۔ وجوہات ختم کریں۔ اور وجوہات کیا ہیں۔ ان پہ غور کریں۔ بے حیائی آپ کے اپنے دماغوں میں ہے۔ رات کے اس پہر میرے ملک کے نوجوان پورن دیکھ رہے ہوں گے۔ صبح اٹھ کے اخلاقیات سکھائیں گے۔ وہ بھی باوضو ہو کر۔ یعنی کہ حد ہی ہے۔ خدا کا واسطہ ہے نصاب کو برقع مت پہنائیں۔ نصاب میں اخلاقیات، انسانوں کے احترام، عورت مرد کی بنا تخصیص بطور انسان عزت کرنا بتایا جائے۔ حکومت کے لیے مشورہ ہے کہ اور کچھ تو آپ کر نہیں رہے۔

تو تھوڑی توجہ قانون سازی کی طرف دے دیں۔ ہمیں تو بلوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ خان صاحب بجلی کے بل کی بہت ٹینشن ہوتی ہے۔ چوروں کے دور میں پانچ ہزار آتا تھا۔ اب پچپن ہزار آ گیا ہے۔ ہم ایسے بل پہ کیا کہہ سکتے ہیں۔ ہم تو بس چپ ہیں۔ ریپ وکٹم کو بلیم مت کریں۔ اور انصاف کا نظام بہتر کر دیں۔ ٹی جے صاحب آپ سے جنت میں ملاقات ہو گی۔ تب پوچھیں گے کہ وہاں پہ جو جنتی ہیں۔ کیا وہ بھی آگ اور پٹرول ہیں۔ یا یہ سب دنیا والوں کے لیے تھا۔ زبان مبارک پہ مدارس میں ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات کی مذمت بھی لے آئیے۔ اس اور تو کچھ نہیں مجبور و لاچار والدین خوش ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •