اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ “بو “یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں

دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی ، ہندو ،مسلمان ، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے ہوں گے۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ اہتمام گفتگو ،لطائف اور آئندہ کاروباری اور سماجی روابط میں استحکام اور فروغ کے کوالٹی کنٹرول کے لیے تھا۔

  باکو۔ آذر بائی جان کی گل نارا جو نیویارک میں بیلی ڈانسر ہے اسے بلانے کی تجویز خاکسار کی تھی۔ وہ کم بخت ناچتی ہے تو دیدہ و دل اس کی حشر سامانیوں اور تھرکتے قدموں کے تلے مخملیں فرش ِ ہوجاتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر صاحب جو دعوت میں مدعو تھے انہیںکسی مریض کو دیکھنے کے لیے نیویارک سے آنا تھا۔ مالدار مریض نے اپنا جہاز بھیجا تھا ، یوں گجراتیوں کے دل و دماغ پر عیاشی کے لمحاتِ خود فراموشی میں بھی فضول خرچی کا جو کیلکویٹر آن رہتا ہے وہ اس فری رائڈ کی وجہ سے بند رہا۔

گل نارا نے بھی حساب لگایا کہ وہ لوگ جن کا ملک ریاض ،مبشرلقمان اور جہانگیر ترین کی طرح اپنا جہاز ہو وہ یقینا” پوتڑوں کے رئیس ہوتے ہیں۔ ان کے بال بچوں کو فرار ہونے میں بھی آسانی رہتی ہے۔

ایسی محافل شبینہ میں شرکت سے کچھ عرصے کے لیے میاں، تو کبھی اگلا پروگرام مل جاتا ہے۔ یوں اس نے اپنی فیس بھی کم کر دی تھی۔

یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس خالی نجی جہاز میں گل نارا کو بٹھانے کے لیے مریض سے باقاعدہ اجازت یہ جھوٹ بول کر لی تھی کہ وہ ایک مطب شکاگو میں بھی قائم کرنا چاہتے ہیں لہذا وہاں کے لیے وہ اپنی ممکنہ سیکرٹری کو بھی ساتھ لائیں گے۔

امریکہ میں اب ان کی اپنی سی۔ آئی۔ اے، پنجابیوں اور گجراتیوں کے علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ عام امریکی سمجھ گیا ہے کہ جھوٹ بولنے میں نقصان زیادہ ہے اور فائدہ کم۔ مجرم پکڑے جانے پر اپنی وارداتوں کی تعداد اصل سے کم بتائے تو نئے شواہد سامنے آنے پر پہلے سے دی گئی سزا پر ازسرنو عمل درآمد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

آپ اب بھی اس گل نارا والی دعوت سے جڑے ہیں۔ دعوت میں دو ایک پارسیوں کے علاوہ اکثریت گجراتی پٹیلوں تھے۔ یہ امریکہ اور برطانیہ میں بڑی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ پٹیل گجراتیوں کے ہاں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو پنجاب میں چوہدری مگر ذہانت، کاروباری صلاحیت اور آنکھ میں کاجل بن کر رہنے کا جو فن ان گجراتی پٹیلوں کو آتا ہے، چوہدری اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ کھانے کے بعد گل نارا نے ایک گھنٹہ ناچ کر مردوں کو تو دھواں بنا کر فضا میں اڑا دیا اور رقص کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب سے واپسی کا وقت طے کر کے کراچی کی زینب مارکیٹ والا کفتان پہن کر اپنی کسی عزیزہ کے ہاں سونے چلی گئی۔

 میزبان خاتون نے ایک قصہ چھیڑ دیا۔ ذہین تھیں واقعے کی مکمل جزیات نوک زباں تھیں۔ ایسی دعوتوں میں دیس کی باتیں، وہاں کے قصے جان لیں کہ غالب کو بھی ایسے قصے سنننے کا بہت شوق تھا جب ہی تو کہتے تھے کہ

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

اشارے سے کہنے لگیں کونے میں وہ جو ونود پٹیل بیٹھا ہے ، سالے کے پاس ٹیسلا کی ایجنسی ہے ، دو موٹیل ہیں۔ سیون الیون کے اسٹورز ہیں۔ پٹیالے کی سونیا کو رکھیل ڈال لیا ہے۔ اوریجنل بائڑی (بیگم) روٹھ کر بیٹے کے پاس بیٹھ گئی ہے۔ ہم نے کہا طلاق کا لفڑا، واندا (مسئلہ۔ ہنگامہ) تو نہیں ہوا۔ میزبان کہنے لگیں۔ بیٹا سالا بہت چالاک ہے۔ ماں کو بولا مرد لوگ ایسے ج ہوتے ہیں۔ خود کو مین ٹین رکھتی تو باپ کاہے کو ادھر ادھر دوڑ مارتا۔ ماں بھی کم نہیں تھی۔ پلٹ کر جواب دیا۔ انجلینا جولی تو بہت مین ٹین رکھتی تھی اپنے کو، بریڈ پٹ کاہے کو آیا کے ساتھ اور بعد میں نکول کے پیچھے گیا۔ سالے مرد لوگ کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک سے دوسری نئی پتلون خریدنے کے پیسے آجائیں تو ان کی   Party in Pants شروع ہوجاتی ہے۔ بیٹا بالاخر ماں کو سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ کورٹ میں جائیں گے تو وکیل لوگ ساری فیس لوگ کھا لیں گے۔ میں پتا جی سے دھندے کی وے وارک (گجراتی میں لین دین) بات کرتا ہوں۔ دونوں وکیل کی فیس Top- up (اوپر سے) اور بینک کا آدھا کیش اپن لوگ کو دے دے۔ ماں کہہ رہی تھی آکھے (ٹوٹل) کیش کی بات کر۔ بیٹا بولا ماں سارے کاوڑیے اپن لوگ کو دے دے گا تو بڈھا سالا کھد (خود) کیا کھائے گا چھوٹی ماں کو کیا کھلائے گا۔ ماں کو پھر بھی غصہ تھا۔ ایک موٹل چھوڑ دیا مگر عمر میں بیس سال چھوٹی سونیا کو پٹیالہ سے امریکہ آنے پر سیون الیون کے اسٹور میں جہاں ونود نے ملازم رکھا تھا اور بعد میں رکھیل بنا کر فلیٹ لے کر دیا۔ وہ دونوں واپس لے لیے۔

اب کی دفعہ ہماری ملاقات پٹیل سے پھر ایک فیملی دعوت میں ہوگئی۔ سونیا چھوڑ کر چلی گئی۔ ہمت نہ ہوئی کہ پوچھتے کہ پرانی بیگم واپس آگئی ہیں کہ سونیا کے نام کے جے کار ہوتی ہے۔ کسی نے بتایا کہ حزب اللہ کی ستائی ہوئی کوئی لبنانی لڑکی سیون الیون میں ملازم رکھی ہے اور سونیا کے پرانے بستر میں سوتی ہے۔ امریکہ میں بستر سے زیادہ فوم کا گدا مہنگا ہوتا ہے وہ سیل میں سستا مل گیا تھا۔ پلنگ پرانا ہے۔ چادریں تکیوں کے غلاف البتہ ملتان سے کسی پاکستانی دوست کے ذریعے منگوائے ہیں۔ ونود پٹیل رام جانے دعوت میں باہر سے کیا دیکھ کر آئے تھے۔ ہم سے گجراتی میں کہنے لگے:

”امریکہ میں سالا کتوں کا موج میلہ ہے۔ ادھر آپ کی ہماری طرف میں انسان پیدا ہونے سے بہتر ہے انسان امریکہ میں کتا پیدا ہو”

 لگ رہا تھا بہت دکھی تھے۔ مزید کہنے لگے:” سیٹھ اس طرف اپنے دیس میں ہم انسان پیدا ہوتے ہیں مگر سب لوگ کتا بنا کر رکھتے ہیں۔ ادھر امریکہ میں کیا ہے کتا سالا پیدا تو کتا ہی ہوتا مگر نہ حرامی ٹیکس دیکھتا ہے۔ نہ آپ جیسے لوزر مہمان کے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں۔ نہ اس کو کالے کو دیکھ کر بی ایل ایم (بلیک لائیوز میٹر) بولنا پڑتا ہے۔ پوٹی کی فکر بھی سالی ایسی مالکن کرتی ہے جس کو میرا جیسا انسان چومے تو ماؤتھ واش کا ٹرک منھ میں خالی کر دے۔

مالکن کی فکر سے ونود کی مراد جابجا اس چیتائونی سے تھی جو پارک اور سڑک پر کتے کو سیر پر لے کر نکلنے والوں کو مجبور کرتی ہے کہ کتے کی گندگی وہ ایک پولی تھین کی تھیلی میں ڈال کر سڑک پر دور کہیں رکھی کچرا کنڈی میں ڈال دیں۔ سن 1978 سے رائج اس قانون کو pooper scooper law کہا جاتا ہے۔ کتے لے کر نکلنے والے اس کی یہ غلاظت صاف نہ کریں تو ان پر پہلے سو ڈالر اور اب ڈھائی سو ڈالر جرمانہ ہوتا ہے۔ کتا بھی یہ کہہ کر واپس لے لیتے ہیں کہ تم کتے کے قابل نہیں ہو۔ ونود کا گلہ بجا تھا۔ ہم نے کہا شکر کر گدھیڑے انسان تھا تو امریکہ آگیا۔ کتا ہو تا تو احمدا واد (گجرات میں احمد آباد کا روز مرہ کے محاورے میں تلفظ) میں مرگھٹ پر مودی کی جلیلی، سڑیلی ہڈیاں چوس رہا ہوتا۔

اسی دعوت میں امریکہ میں برسوں سے مقیم خاتون موٹر وے والے سانحے پر کہنے لگیں۔ مین ہٹن میں کئی ایسی بلڈنگز اور محلے ہیں جہاں خواتین شام سات بجے کے بعد نہیں جاتیں۔ کئی فلورز پر رات کی شفٹ میں کام کرنے والی خواتین کو لفٹس اور ٹوائلیٹس کے استعمال میں احتیاط کی تلقین ہے۔ ایک جنگل میں اگر آدم خور شیر رہتا ہے اور چار دفعہ اس نے آپ کو نہیں کھایا۔ تو اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ کہ ساتھ پانچویں دفعہ یہ واردات نہ ہو۔ فرانس میں اور انگلینڈ میں رہنے والوں کو تو زیادہ پتہ ہے کہ نشے میں مبتلا بدمعاش کتنے ریپ کرتے ہیں۔ پاکستان تو ویسے بھی بہت Minimal Convictions کا ملک ہے

بات کو سمیٹتے ہو ایک بھارتی مہمان نے کہا

This too like Delhi rape is an issue of bad time-management.

وہی خاتون کہنے لگیں “ہماری اماں نے کہا سڑک پر کوئی بدمعاش دیکھو تو فٹ پاتھ یا راستہ بدل لو یا کوئی ایسا مقام دیکھ کر رک جاؤ جہاں مدد کے لیے لوگ موجود ہوں۔ اسرائیل جیسے ملک کے ایک ہوٹل میں تیس آدمیوں نے ایک سولہ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کی۔ یاد رہے کہ اسرائیل میں عورتوں کی تعداد مردوں سے ایک فیصد زیادہ ہے اور اس سلسلے میں وہاں شدید مظاہرے بھی ہوئے۔

سعودی عرب اور سنگاپور میں مجال ہے کسی کی ہمت ہو۔ ہم نے کہا سنگاپور کی مثال مت دیں۔ وہ چائے کی پیالی جتنا ملک ہے۔ سعودی عرب کی مثال بھی درست نہیں۔ ہمارے ملک کی پولیس کا یہ حال ہے کہ گیارہ سو پولیس والے ایک ملزم عابد علی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور وہ چھلاوا غائب ہوگیا جب کہ اس کی شناخت تیرہ گھنٹے میں فارنسک لیبارٹری میں موجود ڈیٹا بنک کے نمونوں سے ہو گئی تھی۔

خاتون کو پھولن دیوی یاد تھی۔ 1979 کے اواخر میں بلند کھنڈ یوپی کی پھولن دیوی شوہر اور سسرال کے مظالم سے تنگ آن کر ڈاکو بن گئی۔ درمیان کے واقعات سے گریز کرتے ہوئے جب اس کا راجپوتوں کے ایک گروہ نے انتقاماً بلات کار کیا تو وہ ان کی مخالف ایک گینگ میں شامل ہوکر اس گائوں پر قہر بن کر ٹوٹی اور بیس کے قریب راجپوت جو اس جرم میں شریک تھے گولیوں سے بھون ڈالے۔ اس پر فلم بھی بنی تھی۔ پابندی لگی تو مشہور صحافی خوشونت سنگھ اس پابندی کو ہٹوانے میں پیش پیش تھے۔ چیرمین سنسر بورڈ سے ایک لائیو ٹیلی کاسٹ مذاکرے میں پوچھا گیا کہ پابندی کیوں لگائی تو کہنے لگے کہ فلم میں وہ سین جہاں پھولن دیوی کو ریپ کیا گیا وہاں مکالموں کی زبان بہت ناشائستہ ہے۔ جس پر بے باک و بد لحاظ خشونت سنگھ نے چیرمین سے پوچھا کہ بیس مرد اگر انہیں ریپ کرتے تو وہ کونسی زبان استعمال کرتے وہ بتا دیں تاکہ یہ مکالمے اس انداز میں ڈب کرلیے جائیں۔ فلم پر سے اگلے دن پابندی ہٹ گئی تھی۔

اسے تعصب نہ مانا جائے اور حالات درست کرنے کی جانب توجہ دی جائے تو لمحہ فکریہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں Crime against Human -Body  سب سے زیادہ صوبہ پنجاب میں ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے انسانی بدن کی پنجاب میں کوئی حرمت نہیں۔ بچوں پر بھی سب سے زیادہ جنسی تشدد اور جسمانی مظالم پنجاب میں ہوتے ہیں۔ قصور اور چونیاں جو لاہور کے مضافاتی گو علیحدہ علاقے ہیں وہ پاکستان کے سرحدی علاقے ہیں۔ ماضی میں میدان حرب بھی رہے ہیں،۔ سرحد پار کچھ فاصلے پر بھارت ہے یہاں تو ہر قسم کے خفیہ اداروں کی اتنی بھرمار ہونی چاہیے کہ وہ علاقے کی کنواریوں کے خوابوں کی کارروائی پر بھی نظر رکھیں۔ وہاں بچوں پر مظالم کی بھرمار سمجھ سے بالاتر ہے۔

خود وزیر اعظم کا یہ اعتراف کہ پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی کی بھرمار ہے۔ ڈارک ویب پر ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام اور پھر پابندی۔ اب وقت ہو چلا ہے کہ سرکار ماضی کی ناکامیوں کا ذمہ سابقہ حکومتوں کے سر ڈالنے کی بجائے خم ٹھوک کر امریکہ کے سابق صدر ٹرومین کی طرح اپنی دفتر کے سرکاری نام پر ایسی تختی لگا لیں جو امریکی صدر انہوں نے اپنی میز پر لگا رکھی تھی کہ Buck Stops Here (آخری ذمہ دار میں ہوں)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 47 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan