بھٹو خاندان کی ٹریجڈی: ذوالفقار علی بھٹو کے دو بدنصیب بیٹے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم ترکی جناب بلند ایجوت نے مجھ سے کہا کہ ”آج مجھے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں ملنے تشریف لائیں اور وہاں ہم دونوں کھانا ساتھ کھائیں گے۔“

یہ میرے لیے اعزاز تھا، وزیراعظم ترکی کے ساتھ لنچ، دوسرا ترکی کی اس پارلیمنٹ میں ملاقات جو مسلم دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ کے صدر دروازے پر پروٹوکول والے میرے منتظر تھے۔ وزیراعظم ترکی بلند ایجوت نے مجھے Pick کرنے کے لیے اپنی ذاتی کار بھیجی جسے ان کے ذاتی ڈرائیور ”سردار“ چلاتے تھے۔ انہوں نے چار بار وزیراعظم منتخب ہو کر بھی سرکاری گاڑی اور سرکاری شوفر کی مراعات حاصل نہیں کی تھیں۔ ان کا سٹاف ترک تاریخ کے ایک ایسے وزیراعظم کا سٹاف تھا جسے ترکی کی آٹھ سوسالہ تاریخ میں ایمان دار ترین اور کامیاب ترین وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وزیراعظم کا سٹاف مجھے اپنے ہمراہ ان کے چیمبر میں لے گیا۔ وزیراعظم کے دفتر پہنچ کر چیف پروٹوکول افسر نے انگلی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ یکایک دروازہ کھلا، وزیراعظم ترکی مجھ سے مصافحہ کرنے کے لیے کئی قدم آگے بڑھے اور ساتھ ہی کہا:

”چلیں لنچ کے لیے؟“
”جی۔“

اور ہم دونوں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے کاریڈورز میں قدم بڑھانے لگے۔ میں عاجزانہ فخر سے ان کے ہمراہ چلتا رہا اور وہ حسب عادت میرے ساتھ افغانستان، امریکہ، ترکی میں جمہوریت اور پاکستان میں جمہوریت جیسے موضوعات پر سوالات کرنے لگے۔ ہم دونوں کی جب بھی ملاقات ہوئی، اکثر اوقات گفتگو کے یہی موضوعات رہے۔ میں بہت خوش تھا کہ آج ترکی کے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم ترکی کے ہمراہ کھانا کھاؤں گا۔

ہم پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں پہنچ گئے۔ ایک عام سی سرکاری کینٹین جہاں ترک پارلیمنٹ کے ملازمین، چند ایک اراکین اسمبلی اور دیگر لوگ بیٹھے تھے۔ اس دوران چلتے چلتے ترکی کے ایک شان دار رہبر جناب نجم الدین اربکان نے بلند ایجوت سے مصافحہ کیا اور میرے ساتھ بھی ہاتھ ملایا۔ جناب وزیراعظم نے ان سے میرا تعارف کروایا۔ نجم الدین اربکان، ترکی کے وہ رہنما ہیں جنہوں نے رجب طیب اردوآن کو اپنی پارٹی کی طرف سے استنبول منتخب کروایا۔ جہاں سے طیب اردوآن کی سیاست وحکمرانی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

کھانے کی میز پر بیٹھتے ہی ترک وزیراعظم بلند ایجوت نے کھانے کا آرڈر دیا۔ ابلی ہوئی پالک اور سوپ (مسور کی دال کا سوپ) اور ٹوکری میں ترک روٹی اکمک۔ یہ تھا وہ لنچ جس کی دعوت ترک وزیراعظم نے دی تھی۔

کھانا شروع کرتے ساتھ ہی انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے اور بے نظیربھٹو کے بھائی کے قتل کی داستان سننے کی خواہش کی۔

میں انہیں اس قتل کی داستان سناتا جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنی جیب سے سگریٹ کا باکس نکالا، سگریٹ سلگایا اور کش پر کش لگانے لگے۔ وہ میری آنکھوں میں اس کرب کو دیکھنے میں سرگرداں تھے جو میں بھٹو خاندان کی داستان الم سناتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی۔
شاہنواز بھٹو کا فرانس کے شہر کانز میں زہر دے کر قتل۔
اور اب میرمرتضیٰ بھٹو کا ان کے اپنے گھر کے سامنے پولیس کے ہاتھوں قتل۔
اس دوران انہوں نے مجھ سے چھوٹے چھوٹے کئی سوالات بھی کیے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی جسے منسوخ کروانے کے لیے انہوں نے بحیثیت وزیراعظم ترکی، جنرل ضیا الحق سے بار بار رحم کی اپیلیں ہی نہیں کی تھیں بلکہ اپنے ذرائع سے عالمی دباؤ ڈالنے کی بھی کوششیں کیں جس کا ذکر انہوں نے کئی سال قبل مجھ سے ایک ملاقات میں کیا تھا۔

شاہنواز کا قتل، مرتضیٰ بھٹو کا قتل اور اس قتل کے بعد ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو جو اب ”دبئی منتقل کر دی گئی“ ۔ تھیں۔

بھٹو خاندان کی داستان الم سنتے سنتے وہ رکے اور کہنے لگے :
” Shakespearean Tragedy“
ترک وزیراعظم جناب بلند ایجوت کے بھٹو خاندان کے المیے پر یہ دو لفظی تبصرہ سن کر میں وہیں رک گیا۔

جناب بلند ایجوت نے اپنی چڑھتی جوانی میں نوبل ایوارڈ یافتہ بنگالی شاعروادیب رابندر ناتھ ٹیگور کی تحریروں کا ترکی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ بلند ایجوت کا شمار ترکی کے معروف شاعروں اور قلم کاروں میں بھی ہوتا تھا۔

کچھ توقف کے بعد انہوں نے کہا:
Mr. Goindi, carry on.

میں نے اس خاندان کی دردناک داستان سنانے کا سلسلہ پھر سے جوڑاکہ کیسے ایک بیٹی بے نظیر بھٹو، جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خلاف سینہ سپر ہو کر جدوجہد کرتی رہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کے دو بدنصیب بیٹوں کی داستان جن کی جھولی میں صرف جدوجہد اور موت تھی۔

بس موت!

جدوجہد بھی بالکل مختلف۔ جب ان کے والد کو سولی پر چڑھایا گیا تو وہ دونوں بھائی برطانیہ جیسے آرام دہ ملک میں رہتے تھے۔ مگر دونوں نے اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیے سنگلاخ پہاڑوں کے دیس افغانستان کو چنا۔ جہاں جنرل ضیا الحق نے امریکہ کی سرپرستی میں دنیا بھر کے دہشت گردوں کا اکٹھ کر کے اشتراکی حکومت کے خلاف ”عالمی دہشت گردی“ کی بنیاد رکھی۔

شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو، اس سرزمین پر جلاوطن ہوئے جہاں برصغیر کی آزادی کے متوالے مولانا عبیدا اللہ سندھی اور دیگر اٹھارہ ہزار فدائین ہند نے انگریز سامراج کے خلاف مورچہ لگایا۔

اور پھر ایک وقت آیا کہ جنرل ضیا الحق کے ”مخبر“ کابل کی گلیوں میں ان دونوں بھائیوں کی تلاش میں ایک ایک نکڑ سونگھنے لگے۔

انہی دنوں ایک رات شاہنواز بھٹو زہر دے کر مار دیے گئے۔ جب ان کا تابوت اگست 1985 ء میں لاڑکانہ لایا گیا تو میں ان کے تابوت کو کندھا دینے والوں میں شامل تھا۔

بھٹو کا بیٹا جلاوطنی میں قتل۔

اور پھر دوسرا بیٹا مرتضیٰ بھٹو کابل کے بعد شام میں جلاوطن ہوا اور ہر دم بے چین رہا کہ اپنے وطن جاؤں۔

میں نے بتایا کہ میں نے کراچی ائرپورٹ پر وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا جب ذوالفقار علی بھٹو کی شریک حیات بیگم نصرت بھٹو اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے استقبال کے لیے پہنچیں تو ائرپورٹ سیکیورٹی والوں نے ان کے بازو پکڑ کر ان کو روکا۔ وہ دمشق کے صدر حافظ الاسد کے سرکاری جہاز پر پاکستان آئے لیکن جہاز کو پاکستان کی سرزمین پر لینڈ کرنے سے روک دیا گیا۔ سازش تھی کہ جہاز ہندوستان چلا جائے۔

شام کے صدر کا سرکاری جہاز واپس ہوا اور پھر بھٹو کا یہ بیٹا ایتھوپین ائرلائن کی فلائٹ سے آدھی رات کو کراچی پہنچا۔ اس کو گرفتار کرنے کے لیے ”حکام“ جہاز میں آ گئے، اس نے گرفتاری تو وہیں دے دی مگر اس نے کہا، ”مجھے جہاز میں گرفتار کرنے کیوں آئے ہو، میں تو خود وطن واپس لوٹا ہوں۔“

جب وہ جہاز سے ہتھکڑیوں سمیت نیچے اترا، تو اس نے حکام سے کہا:
”ٹھہرو!“
اپنی سرزمین پر پہلا قدم دھرتے ہی اس نے اپنی مادر وطن پر سجدہ ریز ہو گیا۔
اس کے بعد زنداں اور قتل کی ناقابل یقین داستان۔
اور پھر ایک دن وہ اپنے ہی گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا۔

اس داستان کا الم ناک نکتہ یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کے حصے میں نہ شہرت آئی، نہ ہی سیاسی وراثت، اور نہ ہی اقتدار۔

بلکہ سب کچھ چھن گیا۔
بس جلاوطنی اور موت ان کا مقدر بنی۔
اور شعوری طور پر بھٹو خاندان کے یہ دو سپوت دو گمنام ہیرو بنا دیے گئے۔
ہے کوئی جو ان کا ذکر کرے۔
بلند ایجوت سگریٹ کے کش لگاتے رک گئے۔
ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جو ان کے رخساروں پر آٹپکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •