ننھے ننھے ہاتھ


میرا دل شدت سے دھڑکا اور خنکی کے باوجود پسینے کا سیلاب آتا ہوا محسوس ہوا، ”مگر کیسے؟“

”پھر کبھی بتاؤں گا۔“ ہاشم نے چوکنا ہو کر چاروں طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ فریئر ہال کی جانب ایک لڑکا اسکوٹر لے کر کھڑا تھا اور ہاشم وہاں سے چلا گیا۔

میں اسی وقت ساجد کے کمرے میں پہنچا۔ میرے پہنچنے کے ساتھ ہی ایک مشکوک قسم کی لڑکی کمرے سے نکل کر تیزی کے ساتھ روڈ کی طرف چلی گئی۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ساجد کا داخلہ میڈیکل کالج میں کیسے ہو گیا تھا۔ میں اپنے جیسے کتنے ہی لوگوں کو جانتا ہوں جن کے نمبر اچھے ہونے کے باوجود وہ میڈیکل کالج میں نہیں گھس سکے تھے اور ساجد میڈیکل کے طالب علم کے علاوہ سب کچھ تھا اور برسوں سے وہاں موجود تھا۔ مجھے کافی دنوں کے بعد پتا لگا کہ ضیاء الحق کے زمانے میں اس کا داخلہ کوٹے کی سیٹوں پر ہوا تھا اور پھر اس کی ایک بادشاہت سی تھی میڈیکل کالج اور سول ہسپتال میں۔ بڑے بڑے پروفیسروں سے لے کر ایم ایس تک سب ہی اس سے جھک کر ملتے تھے۔ وہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں امتحان پاس کرانے سے لے کر لڑکیوں کی سپلائی تک ہر کام کرتا تھا۔

”تو کیا فیصلہ کیا ہے؟ امریکا یا جاپان؟ چائے پیو گے؟ آؤ بیٹھو۔“ اس نے باہر نکل کر کسی چھوٹے کو آواز دے کر چائے لانے کے لی کہا تھا۔

واپس آیا تھا تو میں نے کہا یار جانا تو امریکا ہے مگر کوئی گھپلا تو نہیں ہوگا؟ جن صاحب کا ہے وہ قاتل واتل ہیں۔ اگر کچھ گھپلا ہوا تو مجھے نہیں چھوڑیں گے۔ میں نے اسے ڈرانے کے لیے خاص طور پر یہ بات کہی تھی۔ وہ ہنسا اور بولا میرے پاس کوئی شریف آدمی نہیں آتا ہے۔ کبھی قاتل، کبھی اسمگلر، وہ جو بھی ہے اسے میرا بتا دینا۔ ائرپورٹ پر اپنے قتل کی وجہ سے پکڑا جائے تو میری ذمہ داری نہیں ہے۔ پی سی کا کام پکا ہوگا اس کی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور دوسرے بستر پر بچھے ہوئے گدے کے نیچے سے ایک پلاسٹک کی تھیلی نکال کر اس میں سے کچھ پاسپورٹ نکال کر دکھائے دیکھو! ”یہ سارا کام ہے دو نمبر کا اور ایک نمبر سے بھی اچھا ہے۔“

میں نے اسے پچاس ہزار روپے دیے اور کہا کہ جب پاسپورٹ ملے تو جانے کی تاریخ اور ٹکٹ کے پیسوں کے ساتھ بقیہ ڈیڑھ لاکھ بھی دے دوں گا۔

شام کو گھر پہنچا تو ہاشم کی ماں ہمارے گھر پر ہی بیٹھی تھی۔ انہیں دیکھ کر میں اداس سا ہو گیا۔ شوہر کے مرنے کے بعد میری ماں کی طرح کس کس طرح سے محنت کر کے انہوں نے ہاشم کو پالا تھا، بڑا کیا تھا، پڑھایا تھا۔ جب اسے اسٹیل مل میں نوکری ملی تھی تو اس کی شادی اور دلہن کے خواب دیکھے تھے، مگر اب کیا تھا، انہیں پتا بھی نہیں تھا کہ ان کا بیٹا قاتل بن چکا ہے اور شاید امریکا چلا جائے گا اور پھر شاید کبھی بھی واپس نہیں آئے گا۔ میں خود پریشان تھا مگر ہنس ہنس کر ان سے باتیں کرتا رہا اور دلاسا دیتا رہا۔ زندگی سنگ دل ہے اور ہمارے جیسے خاندانوں کے لیے بڑی کٹھن۔

دوسرے دن کام سے واپس آیا تو میری ماں نے بتایا کہ رات کو ہاشم کے گھر کچھ لوگ آئے تھے اور اس کی ماں سے بہت بدتمیزی کر کے گئے ہیں۔ میں فوراً ہی ان کے گھر گیا۔ وہاں ہاشم کا چھوٹا بھائی اور بہنیں بہت سہمے ہوئے تھے۔ رات تین آدمی آئے تھے اور کہہ کر گئے تھے کہ اب صرف ہاشم کی لاش ہی ملے گی۔ وہ مجھ سے گڑگڑا گڑگڑا کر پوچھ رہی تھیں کہ آخر ہاشم نے کیا کیا ہے؟ میں کیا کہتا، تسلیاں دیتا رہا اور پریشان ہوتا رہا۔

دس دن کے بعد ساجد کا فون میرے آفس میں آیا تھا کہ پاسپورٹ تیار ہے، بقیہ پیسے اور ٹکٹ کے پیسے لے آؤ تو جانے کا انتظام کرتے ہیں۔

میں نے ہاشم کے دیے ہوئے موبائل پر فون کیا تو پھر جبار ہی فون پر ملا تھا اور اس نے بولٹن مارکیٹ کے پیچھے کسی گلی میں حبیب بینک میں دوسرے دن صبح گیارہ بجے مجھے اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ بلایا تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا، مگر میرے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

وہ بینک مجھے آسانی سے مل گیا۔ چھوٹا سا بینک تھا جس میں ضرورت سے زیادہ لوگ تھے۔ میں اندر گیا ہی تھا کہ ہاشم آ موجود ہوا تھا۔ اس کے پاس اکاؤنٹ کھولنے کا ایک فارم تھا جس پر اس نے میرے دستخط لیے۔ منیجر کے پاس جا کر اس نے پانچ لاکھ روپے جمع کر وا کر میرا اکاؤنٹ کھلوا دیا۔ مجھے کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر چیک بک میری جیب میں ڈال کر وہ مجھے لے کر باہر آ گیا۔ میرے ساتھ ہی اسکوٹر پر بیٹھ کراس نے کہا کہ طارق روڈ چلو۔ طارق روڈ کے ایک چائنیز ریسٹورنٹ پر ہم لوگ رکے۔ دوپہر کا کھانا کھایا، پھر اس نے پاسپورٹ کے بقیہ ڈیڑھ لاکھ اور پینتیس ہزار روپے امریکا کے ٹکٹ کے لیے دیے اور کہا کہ جتنی جلدی کا ٹکٹ بن سکے، بنوا لینا۔ پھر اس نے خود ہی کہا کہ یہ پانچ لاکھ روپے تمہارے اکاؤنٹ میں ہیں جس کا مجھے اور صرف تمہیں پتا ہے۔ جب بھی میری بہنوں کی شادی کا مسئلہ ہوگا ضرورت کے مطابق میری ماں کو دے دینا۔

اس نے ہی مجھے بتایا تھا کہ اس کے گھر پر مکمل پہر ہے وہ گھر نہیں جاسکے گا۔ نہ ماں سے مل سکے گا زندگی بچ گئی تو پھر دیکھا جائے گا۔ میں چاہنے کے باوجود اس سے ان پیسوں کے بارے میں کچھ نہیں پوچھ سکا کہ اس کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے ہیں، اس قتل کا تعلق پیسوں سے ہے تو کیا ہے؟ گزشتہ چند سال میں میرے اسکول کا دوست ہاشم، معصومیت، شرافت، محنت، دیانت کی دیوار پھاند کر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسے قاتل اور خونی سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔

میں وہاں سے نکل کر ساجد کے پاس گیا۔ ساجد نے مجھے ہاشم کا پاسپورٹ دکھایا جو کسی محمد جمیل رضا کے پاسپورٹ پر بنایا گیا تھا۔ جس پر امریکا کے لیے پانچ سال کا ویزا لگا ہوا تھا۔ ناظم آباد کے کسی گھر کا پتا تھا اور بتایا کہ پانچ تاریخ کے گلف ائرلائنز رات کو جہاز جائے گا۔ دو دن کے بعد میں آ کر ٹکٹ وغیرہ لے لوں۔

دوسرے دن صبح میں نے ہاشم کی ماں کو بتایا کہ ہاشم کا کیا پروگرام ہے۔ ان کے چہرے کی بدلتی رنگت بتا رہی تھی کہ وہ کتنی پریشان ہو گئی تھیں۔ پھر پانچ دن کے بعد رات کی فلائٹ سے ہاشم نکل گیا۔ میں اس کے جانے سے ایک دن پہلے ملا تھا، کیماڑی کے پٹھان کے ہوٹل میں اس سے گلے لگ کر رویا تھا۔ ساتھ چائے پی تھی اور پھر زیرو پوائنٹ تک اسے لے کر آیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4