ننھے ننھے ہاتھ


پھر اس کا خط نیویارک سے آیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن اس کا خط آیا تھا اسی دن رات کو پھر وہ چار لوگ میرے گھر گھس آئے اور میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے وہ خط ہی انہیں دکھا دیا تھا۔

وہ لوگ خط لے کر چلے گئے تھے مگر انہوں نے کہا تھا کہ ہاشم کو اس غداری کی سزا ضرور ملے گی۔ ہم لوگ اسے بھولیں گے نہیں۔

پھر دن ہفتے، ہفتے مہینے اور مہینے سال بن گئے۔ میری ایک بہن کی شادی ہو گئی اور میں لانڈھی میں اپنا مکان بیچ کر گلشن کے ایک فلیٹ میں شفٹ ہو گیا اور ہاشم کی بھی ایک بہن کی شادی ایک سال بعد ہو گئی اور تیسرے سال میں اس کی دوسری بہن بھی بیاہ کر چلی گئی تھی۔ میں نے بینک سے پیسے نکلوا کر ہاشم کی ماں کو دے دیے تھے اور سب کچھ عزت سے ہو گیا تھا۔

پھر یکایک ہاشم کی ماں کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ علاج ہوتا رہا مگر ان کی طبیعت بگڑتی گئی۔ ہاشم کا فون پابندی سے آتا تھا اور اس دن فون کر کے اس نے مجھے تاکید کی تھی کہ اس کی ماں کو کسی اسپیشلسٹ کو دکھانا ضروری ہو گیا ہے۔ وہ شدید احساس جرم کا شکار تھا۔ اسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ وہ ایسے حالات میں پھنس گیا تھا کہ اپنی ماں سے ملے بغیر اسے شہر چھوڑنا پڑ گیا اور اب پانچ سال کے بعد کراچی کے نام سے اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی تھی۔ اب تو اسے گرین کارڈ بھی مل گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ بالکل بھی فکر نہ کرے اس کی ماں کا مناسب علاج ہوگا۔

میں انہیں سول ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں لے گیا جہاں پروفیسر صاحب نے دیکھنے کے بعد انہیں فوراً ہی داخل کر لیا۔ ان کا دل فیل ہو رہا تھا۔ ان کی طبیعت صحیح نہیں تھی۔ ان کے تمام جسم پر ورم تھا، مشکل سے رک رک کر سانس لیتی تھیں۔

میڈیکل وارڈ کے کاریڈور میں لیٹے لیٹے نہ جانے کس خدشے کے ساتھ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ بیٹے حامد! ہاشم تو ٹھیک ہے ناں؟ اسے مت بتانا کہ میں بیمار ہوں، ورنہ وہ آ جائے گا، پھر یہاں کا تو تمہیں پتا ہی ہے۔ روز لوگوں کی لاشیں ملتی ہیں۔ نہ جانے اس نے کس کا کیا بگاڑا ہے کہ لوگ اس کے دشمن ہو گئے ہیں۔

میں نے آہستہ آہستہ ان کا ہاتھ دبانا شروع کر دیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ میں انہیں کچھ بھی تو نہیں بتا سکتا تھا۔ نہ بھتے کے روپوں کا ذکر، جو ہاشم نے اپنے پاسپورٹ کے لیے خرچ کیے تھے اور نہ وہ پانچ لاکھ جس سے ان کی بیٹیوں کی شادی ہوئی تھی۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور وہ دھیرے سے مسکرائی تھیں اور کہنے لگیں۔ ”جب ہاشم چھوٹا تھا، بہت چھوٹا، تو میں ایسے ہی لیٹ جاتی تھی اور ہاشم ننھے ننھے ہاتھوں سے میرا سر، میرے ہاتھ، میرا جسم اور میرے پاؤں دبایا کرتا تھا، دھیرے دھیرے۔ کئی سال پہلے جب وہ لڑکے رات کو گھر آئے، ہاشم کی تلاش میں تو اس کے بعد سے جب تک ہاشم چلا نہیں گیا تھا، میں راتوں کو خواب میں وہ کٹے ہوئے ہاتھ دیکھا کرتی تھی۔ شکر ہے کہ وہ چلا گیا۔ مالک اسے زندہ رکھنا، مالک اسے اچھا رکھنا، مالک اسے صحت دے۔ اس کی مشکل آسان کر۔“ آہستہ آہستہ دعائیں کرتے ہوئے انہیں غنودگی سی آ گئی تھی۔

رات کو ہاشم کا فون آیا۔ میں چاہنے کے باوجود اس سے ماں کی اصل حالت نہیں چھپا سکا۔ وہ شدید بیمار تھیں۔ اسے بتا دینا چاہیے تھا۔ شاید میں نے یہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی تھی۔

دوسرے دن شام کو اس کا فون آیا کہ وہ آ رہا ہے۔ وہ امریکا کے کسی ائرپورٹ سے بول رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ مت آئے۔ کراچی کے حالات نہیں بدلے ہیں۔ اس نے کہا تھا وہ ائرپورٹ سے بول رہا ہے اور اب آدھے گھنٹے میں فلائٹ نکلنے والی ہے۔ میرے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

دوسرے دن اس کی ماں کی حالت تھوڑی سی بہتر ہوئی۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کہہ بیٹھی تھیں کہ ”بیٹے اس کا فون آئے تو کہنا سب ٹھیک ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، بالکل اچھی۔“ اگلی صبح ان کی حالت بگڑ گئی۔ ساری دوائیں موجود تھیں۔ پروفیسر صاحب خود ان کو دیکھ رہے تھے۔ جان پہچان کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی خیال رکھا جا رہا تھا، مگر وہ ہوش اور بے ہوشی کے درمیان جھول رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ شاید نہیں بچیں گی۔ چلو رات کو ہاشم بھی آ جائے گا تو کم از کم مرنے سے پہلے دیکھ تو لے گا۔

میں اسے ائرپورٹ سے اپنی آلٹو میں لے کر نکلا۔ میں نے اسے بتایا کہ ماں کی حالت کافی خراب ہے اور ہم سیدھے ہسپتال ہی جا رہے ہیں، مگر اسٹار گیٹ کے فوراً بعد کالونی گیٹ سے پہلے قبرستان کے سامنے ایک پیلی ٹیکسی نے میرا راستہ روک لیا۔ مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتی ہوئی اس ٹھنڈ کا احساس بہت دنوں تک رہا تھا اور دو منٹ کے اندر ان تین آدمیوں نے میری گاڑی کا دروازہ کھول کر ہاشم کا سامان اٹھا کر اپنی پیلی ٹیکسی میں ڈالا اور تیزی سے نکل گئے۔ دو دن تک ہاشم کا کچھ پتا نہیں لگا اور اسی شام ہاشم کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنے بچے کے ننھے ننھے ہاتھوں کو یاد کرتی ہوئی یکایک ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھیں۔ جنازے کے لیے میت تیار تھی تو کورنگی روڈ کے ساتھ ٹاٹ کی بوری ملنے کی خبر آئی۔ ہاشم کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس بوری میں رکھا ہوا تھا۔ سر اور جسم پر چوٹ کے نشان تھے۔ دونوں آنکھوں کو کسی سوئے سے بھونک کر پھوڑ دیا گیا تھا۔ ماں کے جنازے کے ساتھ بیٹے کا بھی جنازہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے ساتھ اور جسم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے ساتھ۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4