2020 ء : کب کیا ہوا؟
البتہ کارکنوں سے استعفے دینے کے حق میں ہاتھ اٹھوائے، اور اسلام آباد مارچ میں پہنچنے کی تائید بھی ہاتھ اٹھوا کر لی۔ یہی کام بلاول نے گڑھی خدا بخش کے تعزیتی جلسے میں کیا۔ زرداری صاحب نے ویڈیو لنک پر خطاب کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سی ای سی کی میٹنگ جو 30 دسمبر کو ہوئی اس میں فیصلہ ہوا کہ سینٹ کے انتخابات اور ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا، میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہے۔ پی پی کے اس فیصلے سے بڑے جماعتوں مولانا فضل الرحمن اور مریم شریف کو جھٹکا پہنچا۔
سیاست میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ اسی دن مولانا صاحب اور مریم نواز نے اسلام آباد میں مشاورت کی اور میڈیا سے خطاب کی۔ نیب نے نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف کو 29 دسمبر کی شب اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب مولانا کی جماعت میں چار سینئر لوگوں نے بغاوت کردی مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد نے مولانا پر بے شمار الزامات لگا کر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کو بحال کرنے کا اعلان کیا ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمن صاحب نے جماعت میں ایک گروپ اپنے نام سے قائم کیا تھا، دوسری جانب نون لیگ کے دو استعفے قومی اسمبلی کے چیرٔ مین کو بذریعہ ڈاک پہنچ گئے، مریم نے اعلان کیا کہ وہ اراکین چیرمین کے طلب کرنے پر جائیں اور استعفے ان کے منہ پر مار دیں لیکن آج ہی دونوں اراکین اسمبلی پہنچے اور کہا کہ یہ استعفے جعلی ہیں۔ مختصر یہ کہ نون لیگ بھی اس مسئلہ پر تقسیم نظر آ رہی ہے۔ اب پی ڈی ایم کے سربراہان کا اجلاس یکم جنوری 2021 ء کو ہو گا۔ گویا اب کل سے جو سیاست سامنے آئے گی وہ 2021 ء کا حصہ ہوگا۔
نومبر کے مہینے میں گلگت بلتستان میں انتخابات منعقد ہوئے۔ سیاسی جماعتوں میں مقابلہ تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، بلاول بھٹو ایک ماہ گلگت بلتستان میں موجود رہے اور بہت جذباتی دکھائی دیے، مریم نواز نے بھی انتخابی جلسوں میں بھر پور کردار ادا کیا۔ سرکاری نتائج کا اعلان 25 نومبر کو کیا گیاجس کے مطابق تحریک انصاف نے 22، پیپلز پارٹی نے 5، مسلم لیگ نون نے 3 سیٹیں حاصل کیں۔ گلگت بلتستان میں انتخابات ہوئے اور تحریک انصاف کو زیادہ سیٹیں حاصل ہوئیں، آزاد امیدواروں کی اکثریت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس طرح عمران خان کی حکومت گلگت بلتستان میں بھی قائم ہو گئی، حافظ سعید کو 10 سال 6 ماہ قید کی سزا انسداد دہشت گردی عدالت نے سنا دی۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 29 فروری 2020ء کو دستخط ہوئے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن کے لیے مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں، طالبان نے ٹرمپ کو مذاکرات کو نقصان پہچانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ کیا، ٹرمپ نے کہا کہ یہ مسئلہ حلق کا کانٹا بن گیا ہے۔ دورہ پر مسئلہ کشمیر پر مودی اور ٹرمپ کے مذاکرات ہوئے۔ کشمیر کے علاوہ دہلی میں فسادات، آر ایس ایس کے غنڈوں نے قتل عام کیا۔ مرنے والوں کی تعداد تیس تک جا پہنچی، سینکڑوں زخمی ہوئے۔ نومبر 2020 امریکہ میں صدارت کے لیے کانٹے دار مقابلہ ہوا، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جو بائیڈن نے شکست دی اور ہیلری کلنٹن کا بدلہ لے لیا۔ ٹرمپ آخری وقت تک شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا اور سپریم کورٹ جانے کی باتیں کرتا رہا لیکن دونوں کے درمیان الیکٹرول ووٹس کا تناسب اتنا زیادہ تھا کہ ٹرمپ میں نہ مانوں کی رٹ لگائے، آخرکار ٹھنڈا ہو گیا۔ جو بائیڈن امریکہ کا نیا صدر منتخب ہو گیا۔ ٹرمپ نے میں نہ مانوں کی رٹ لگائی آخر کار ہتھیار ڈالنا پڑے۔ برطانیہ اور یورپی یونین کا تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا، برطانوی شہر یورپی سہولتوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے۔
گزشتہ برس میں اموات
علمی، ادبی، سیاسی و سماجی شخصیات جنہیں 2020 اپنے ساتھ لے گیا۔ اس سال کا یکم جنوری کو ملتان میں میرے دوست شاعر، ادیب پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی صاحب اللہ کو پیارے ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب متعدد تصانیف کے خالق تھے۔ کالج اور سرگودھا یونیورسٹی، فیصل آباد یونیورسٹی میں پروفیسر و صدر شعبہ کے فرائض انجام دیے، ڈائریکٹر کالجیز اور بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔
معروف شاعر احمد فراز کا ایک شعر ہے
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
سال 2020 ء تو بالکل بھی اچھا نہ رہا، لاکھوں انسانوں کو کورونا ہڑپ کر گیا۔ وہ احباب جنہوں نے 2020 ء میں داعی اجل کو لبیک کہا کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ بہت ممکن ہے کچھ نام رہ گئے ہوں، اس کی معذرت۔ نثار عزیز بٹ، پروفیسر صدیقہ مسعود انور، ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی، سلطان جمیل نسیم، طارق عزیز، علامہ طالب جوہری، احمد زین الدین، احفاظ الرحمان، تاج بلوچ، اطہر شاہ خان، اقبال حیدر، پروفیسر حبیب ارشد، سرور جاوید، ڈاکٹر علی یاسر، کبیر انجم، اے کے ڈوگر، قانون دان، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، آل عمران، محمد خالد، نسیم صدیقی، نواز مسکین (خوشاب) ، سرائیکی و پنجابی کے شاعر نجیب پروانہ۔
پشتو کے شاعر، سید کاظم عباس زیدی، شاعر، سلیم فاروقی، قلم کار، کرکٹر امتیاز احمد، عزیز ظفر آزاد، پروفیسر انوار احمد زئی، مولانا ڈاکٹر عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ، کراچی، مرزا خورشید بیگ میلسوی، قومی سیرت ایوارڈ یافتہ شاعر و نعت خواں ناصر زیدی، استاد، شاعر پروفیسر عنایت علی خان، شاعر، ڈاکٹر آفتاب میمن، سید منور حسن سابق امیر جماعت اسلامی، پروفیسر مظفر حنفی، شاعر، ادیب، افسانہ نگار، دانشور، مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی، میر حاصل بزنجو، سیاستدان، اعظم خلیل، مصباح الدین فرید، بھارت کے شاعر راحت اندوری، سید اطہر علی ہاشمی صحافی، سلطان جمیل نسیم افسانہ نگار، نصرت ظہیر ادیب، مزاح نگار صحافی، امیر حسین چمن افسانہ نگار، شاعر استاد پروفیسر منظر ایوبی، رشید مصباح دانشور، سید نصرت زیدی، ڈاکٹر اعجاز احسن، ظفر اکبر آبادی، خواجہ محمد اسلام، اطہر شاہ خان عرف جیدی، سجاد شاہین، سید ارشاد حسین نقوی، سیاستداں اور مسلم اسکولوں کے روح رواں آزاد بن حیدر، میر جاوید الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، امان اللہ، نعمت اللہ سابق ناظم کراچی، پروفیسر شمیم اختر، ڈاکٹر آصف فرخی، سینئر وکیل اور دانشور اسلامک لائرز موومنٹ پاکستان کے نائب صدر ایڈووکیٹ غلام قادر جتوئی 12 اکتوبر کو انتقال کر گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راشد ربانی کورونا کے نتیجے میں اللہ کو پیارے ہوئے، عالم دین مولانا عبد الرحمن ( مولانا طارق جمیل کے استاد تھے)، اکتوبر میں ہی سینئر صحافی شکیل حسنین، صحافی سلیم عاصمی بھی اکتوبر میں ہی اللہ کو پیارے ہوئے۔ اکتوبر 16 شمالی وزیر ستان میں اور ماڑہ بلوچستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں فوجیوں سمیت 20 اہل کار شہید ہو گئے۔ جنگ ستمبر 1965 ء میں دوارکا آپریشن کے غازی وائس ایڈمرل (ر) اقبال فضل قادر کراچی میں 19 اکتوبر کو داعی اجل کو لبیک کہا۔
ثناخوان رسول الحاج محبوب احمد حمدانی ( 20 اکتوبر) کو انتقال کر گئے۔ اردو ڈائجسٹ کے روح رواں ڈاکٹر اعجاز حسین قریشی لاہور میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر اعجاز قریشی کاتعلق میرے خاندان سے ہے۔ وہ تحریک پاکستان کے رکن، اردو ڈائجسٹ کے بانی، ادارہ کاروان علم فاؤنڈیشن کے بانی بھی تھے۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرر ایسو سی ایشن (سپلا) کے سرگرم کارکن، ریاض احسن مرحوم کے ساتھی دیوان آفتاب احمد خان کراچی میں انتقال کر گئے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی کی ملک عدم روانگی ہوئی۔
یکم نومبر 2020 ء کو خادم روضہ رسول ﷺ شیخ احمد علی یاسین قضائے الٰہی سے اس دنیائے فانی کو خیر آباد کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں نصف صدی تک نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک میں خدمات دینے کا شرف حاصل ہوا۔ 3 نومبر کو شاعر ادیب علامہ عادل فاروقی اور صحافی سعود ساحر کا انتقال ہوا۔ ہاکی ٹیم کے کپتان عبدالرشید جونیئر، اردو نثر نگارمسعود مفتی اللہ کو پیارے ہوئے۔ سرائیکی دانشور و شاعر سردار صوفی تاج محمد خان گوپنگ، قاضی جاوید، سید اختر علی، صحافی ارشد چودھری، شاعرہ ڈاکٹر مینا نقوی نومبر کے مہینے میں اللہ کو پیاری ہوئیں، مفتی جمیل احمد نعیمی اللہ کو پیارے ہوئے۔
قاضی جاوید حسین، تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا انتقال ہوا تدفین 21 نومبر کو ہوئی، اخباری اطلا ع کے مطابق القاعدہ سربراہ این الظواہری افغانستان 20 نومبر کو میں انتقال کر گئے۔ سیاستداں انور عزیز، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ شمیم اختر 22 نومبر کا لندن میں انتقال ہوا، تدفین لاہور میں جاتی امرا خاندانی قبرستان میں 28 نومبر کو عمل میں آئی ہوئی۔ ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور اشفاق سلیم مرزا 23 نومبر کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
سابق نیول چیف ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری 24 نومبر کو انتقال کر گئے۔ مسلم لیگ فنگشنل کے سینئر سیاست دان جام منگریو کورونا کے باعث انتقال کر گئے۔ ارجنٹائن کے لیجنڈ فٹبال کے کھلاڑی ڈیگو میراڈونا 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری احمد مختار اللہ کو پیارے ہوئے۔ ڈاکٹر ثمین خان اللہ کو پیارے ہوئے۔ صاحبزادہ فاروق علی، محسن فخری زادہ (ایرانی سانئسدان)، انجمن مبصرین پاکستان کے صدر ادبی و سماجی شخصیت زاہد جعفری اللہ کو پیارے ہوئے۔ سابق وزیر اعظم ٖظفراللہ جمالی دل کے عارضے کے باعث 2 دسمبر کو انتقال کر گئے، تدفین ان کے آبائی گاوںٔ ڈیرہ مراد جمالی میں ہوئی۔ ادیب، کہانی کار اور محقق ناقد پروفیسر مختار شمیم، کرنل ولی، شاہ جی عبد القدوس فائق، پروفیسر اقبال بخت دنیا چھوڑ گئے۔
یکم دسمبر متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر عادل صدیقی کورونا سے اللہ کو پیارے ہوئے، کالم نگار و دانشور عبدالقادر حسن نے لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ جج ارشد ملک کورونا کے باعث 4 دسمبر کو انتقال کر گئے۔ سندھ کے معروف ماہر تعلیم بختاور کیڈٹ کالج فار گرلز کے پرنسپل پروفیسر شیخ محمد یوسف 3 دسمبر کو جہان فانی سے کوچ کر گے۔ بزرگ سیاست داں شیر باز مزاری ہفتہ 6 دسمبر کو انتقال کر گئے تدفین بلوچستان کے علاقے روجھان مزاری میں ہوئی۔
جامعہ کراچی کے سابق رجسٹرار، سابق چیف ایکزیگیٹو ہمدرد یونیورسٹی، سٹی کیمپس، پروفیسر کرنل (ر) محمد ولی خان درانی، ملیر کینٹ میں تدفین ہوئی، معروف تاجر سراج قاسم تیلی، مذہبی شخصیت مفتی زر ولی خان کراچی میں انتقال کر گئے۔ صحافی عبد لقدوس فائق امریکہ میں انتقال کر گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر سید اعجاز علی شاہ کورونا سے انتقال کر گئے، ناظم شاہ بھی دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ فیڈرل سیکریٹری ڈاکٹر شفیق ندیم ملک، پاکستان نیوی کے عارف الحسینی، فیصل سے تعلق رکھنے والے قاضی محمد فضل رسول وحید، شاعر گستاخ بخاری (حکیم منیر شاہ) ، عالم دین مفتی زر ولی خان، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے دسمبر کے آخری دنوں میں دنیا کو الودع کہا۔ سینیٹر کلثوم پروین کی موت کورونا کے باعث ہوئی۔ نیب تحقیقات پر کنٹرولر جنرل اکائونٹس خرم ہمایوں نے خود کشی کی۔
اس سال نوبل انعام پانے والوں میں ادب کا انعام امریکی شاعرہ لوئس گلک جن کی عمر 77 برس ہے، پیشہ کے اعتبار سے استاد ہیں اور امریکی یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتی ہیں دیا گیا۔ انہیں طلائی تمغہ اور 11 لاکھ 18 ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔ اقتصادیات کا نوبل انعام مشترکہ طور پر 2 امریکی ماہرین پال ملکروم اور رابرٹ ولسن کے دینے کا اعلان ہوا۔ 2020 ء میں ایک عالمی تنظیم نے سروے کر کے رپورٹ دی کہ دنیا کے 10 شہر ایسے ہیں جن میں ملازمین کوسب سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان کا کوئی شہر اس فہرست میں شامل نہیں اول نمبر پر جاپان کا شہر ٹوکیو، دوسرے نمبر پر بھارت کا شہر ممبئی اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا بتایا گیا۔
سال 2020 ء کئی اعتبار سے اچھا سال ثابت نہیں ہوا۔ کورونا نے معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کیے، کورونا کے علاوہ ڈینگی نے بھی عوام کو نقصان پہنچایا، کتوں کے کاٹنے کے واقعات بھی بے شمار ہوئے، اخباری رپورٹ (جنگ ) کے مطابق 2020، فرائض ادائیگی کے دوران 50 میڈیا ورکرز قتل ہوئے، چین نے کہا کہ سی پیک پر اضافی گارنٹیاں مانگنے کی خبر بے بنیاد ہے۔ سال رواں میں بلوچستان میں مختلف واقعات میں 396 افراد جاں بحق ہوئے، صرف کراچی میں 6 پولس اہلکار شہید ہوئے، جب کہ دہشت گردوں اور ڈاکوؤں و اغوا کاروں سمیت 74 ملزم مارے گئے۔
جاتے جاتے یعنی آخری دن مفتی منیب الرحمن جو کہ رویت ہلاک کمیٹی کے چیئرمین تھے کے لیے اس اعتبار سے اچھا ثابت نہیں ہوا کہ انہیں اس عہدے سے برطرف کر کے ان کی جگہ عبدالخبیر آزاد کو چیرٔ مین کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ بلکہ پوری کمیٹی کی تشکیل نئے سرے سے کی گئی۔ نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری کے باعث ملک میں خاص طور پر میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ رواں سال نے سیاست میں ہلچل مچائے رکھی، حزب اختلاف نے عمران خان کی حکومت کو ایک پل چین نہیں لینے دیا۔ باوجود اس کے کہ کورونا اپنی جگہ تباہی مچا رہا تھا لیکن پی ڈی ایم نے کورونا کی پروا نہیں کی اور اپنی سیاسی سرگرمیاں اسی طرح جاری رکھیں۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں رواں سال اضافہ ہوا، ایک رپورٹ کے مطابق سال کے شروع کے ساتھ ماہ میں صرف پنجاب میں 2043 واقعات سامنے آئے۔

