خواتین پوچھ رہی ہیں کہ ‘مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟’

پوجا چھابڑیا - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تارا کوشل نے اپنی تحقیق کے سلسلے میں متعدد ریپ کرنے والوں کا انٹرویو کیا اور اس کا خود تارا پر شدید اثر پڑا ہے۔

انھوں نے ریپسٹوں (ریپ کرنے والوں) کے ساتھ انٹرویو پر مبنی اپنی تحقیق کا آغاز سنہ 2017 سے کیا۔ اس کے بعد وہ ڈپریشن یا ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہو گئیں۔ ان کے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا اور وہ بہت دن تک بس روتی رہیں۔

ایک دن انھوں نے دہلی سے ملحق نوئیڈا کے اپنے فلیٹ کے بیڈ روم میں خود کو بند کر لیا۔ تارا نے اس شام کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میرے پارٹنر ساحل دروازے پر کھڑے تھے۔ وہ بار بار پوچھ رہے تھے کہ کیا تم ٹھیک تو ہو، لیکن میں اندر مسلسل رو رہی تھی۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے تھیراپی (نفسیاتی علاج) کی ضرورت ہے۔’

ویسے بھی تحقیق شروع کرنے سے پہلے تارا جنسی تشدد کے زخم کو برداشت کر رہی تھیں۔ وہ 16 سال کی عمر سے ہی اس مسئلے پر بات کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے والدین کو بتایا: ‘جب میں چار سال کی تھی تو مالی نے میرا ریپ کیا تھا۔’

یہ سن کر تارا کے والدین صدمے میں چلے گئے۔ لیکن تارا کے لیے یہ ان کے اندر کے طوفان کو باہر نکالنے کے مترادف تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بارے میں بات کرتی رہی ہیں۔ عوامی مباحثوں میں حصہ لے رہی ہیں، دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں اور اب ایک کتاب بھی لکھ رہی ہیں۔

تارا نے بتایا: ‘اس واقعے کی کچھ کچھ یادیں باقی ہیں۔ میں اس کا نام جانتی ہوں۔ وہ کیسا تھا یہ جانتی ہوں۔ مجھے اس کے گھنگریالے بال اور میرے نیلے رنگ کے لباس پر خون لگنا یاد ہے۔’

جب تارا بڑی ہونے لگيں تو انھوں نے روزانہ ہونے والی دیگر جنسی ہراسانیوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘میری کتاب ‘وائی مین ریپ’ (مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟) میرے ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر کا نتیجہ ہے۔ اس دوران مجھے ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔’

علامتی تصویر

چھپے ریپسٹ کی شناخت

دسمبر سنہ 2012 میں دہلی کی چلتی بس میں فزیوتھیراپی کی ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد انڈیا میں زیادتی اور جنسی تشدد پر بہت مباحثے ہوئے۔ اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد اندرونی زخموں کی وجہ سے متاثرہ طالبہ کی موت ہو گئی۔ مارچ سنہ 2020 میں اس مقدمے کے چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی، لیکن جنسی جرائم پر سخت قوانین کے باوجود ریپ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں 2018 میں مجموعی طور پر 33 ہزار 977 ریپ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ریپ کا ایک واقعہ پیش آتا ہے۔ تاہم اگر ہم ان معاملات پر کام کرنے والے کارکنوں کی بات کو تسلیم کریں تو ان کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی کیونکہ بہت سے مقدمات درج نہیں کیے جاتے۔

تارا ان لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی جنھیں کبھی ریپ کا مرتکب نہیں قرار دیا گیا، جن پر کبھی ریپ کا مقدمہ نہیں درج کیا گیا۔ اس کوشش میں انھوں نے ملک بھر میں نو افراد سے ملاقات کی جن پر ریپ کا الزام تو عائد کیا گیا تھا، لیکن ان لوگوں سے کبھی بھی سرکاری طور پر پوچھ گچھ نہیں کی گئی تھی۔

تارا نے اپنی کتاب میں لکھا: ‘میں نے ان افراد کے گھریلو ماحول کو سمجھنے میں وقت لگایا۔ ان سے انٹرویو لیے۔ میں نے انھیں اور ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں اپنا کام خفیہ کر رہی تھی اور اس کے لیے میں نے مختلف نام، ای میل اور فیس بک کی شناخت استعمال کی تھی۔’

خفیہ طور پر کام کرنے کے لیے انھیں اپنا ٹیٹو چھپانا پڑا اور اس دوران وہ ہمیشہ روایتی کرتہ اور جینز پہنا کرتی تھیں۔ صرف یہی نہیں، وہ اپنے ساتھ ایک مترجم بھی رکھتی تھیں، جسے وہ اپنے محافظ کی حیثیت سے تعارف کرواتی تھی۔ وہ خود کو آسٹریلیا میں مقیم ایک این آر آئی (نان ریزیڈنٹ انڈین) کے طور پر متعارف کرواتیں، جو ایک فلم کی تحقیق کے سلسلے میں عام لوگوں کی زندگی جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

تارا کوشل نے لکھا: ‘میں 250 سوالات پوچھا کرتی تھی۔ اور سب کے لیے ایک جیسی چیزوں پر ہی نظر رکھتی تھی۔ لیکن میں نے انھیں کبھی نہیں بتایا کہ میں ان لوگوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں، ایسا کرنے سے وہ ریپسٹ کے طور پر شناخت ہونے لگتے۔’

علامتی تصویر

رضامندی کی سمجھ کا فقدان

تارا اس دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھیں۔ وہ مقامی سطح پر ہنگامی رابطوں کا بندوبست کرنے کے علاوہ، جیب میں پیپر سپرے (مرچ والا سپرے) رکھتی تھیں۔ نیز، واٹس ایپ پر ایک امدادی گروپ بھی بنا رکھا تھا جس میں وہ اپنے نئی لوکیشن شیئر کر رہی تھیں۔

تاہم انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ مباشرت کے سوالات کے جوابات دیتے وقت تین افراد نے ان کے ساتھ بے ہودہ حرکتیں کرنا شروع کردیں گے۔

سردیوں کی دھوپ میں شمالی ہند کے ایک شخص نے چھت پر دھوپ میں بیٹھ کر کیا کچھ کیا اس کے بارے میں تارا نے لکھا: ‘چھوٹے قد کا وہ آدمی میرے سامنے بیٹھا تھا۔ میں جن افراد سے ملی ان میں سے یہ شخص سب سے شاطر جنسی مجرم (اس نے خود بھی اعتراف کیا تھا) تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے گاؤں کی بہت سی خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

اسے جیل میں ہونا چاہیے تھا یا معاشرہ بدر ہونا چاہیے تھا لیکن وہ اپنے معاشرے میں ایک موثر شخصیت بنا ہوا تھا۔ چھت کے برآمدے پر وہ میرے سوالات سے ہی پرجوش ہو گیا تھا اور فحش حرکتیں کرنے لگا۔’

ان تجربات نے تارا کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔

تارا نے بی بی سی کو بتایا: ‘جب میں نے یہ انٹرویو ختم کیا تو مجھے احساس ہوا کہ اس صدمے سے نمٹنے کے لیے مجھے تھیراپی کی ضرورت ہے۔ میں بہت ڈپریشن میں تھی۔ کئی راتیں تو ایسی گزریں جب میں اپنے ساتھی کو غصے سے کہتی کہ مجھے چھیڑنا بند کرو۔’

بالآخر تارا کو پتہ چلا کہ ‘ان افراد کو رضامندی کا مطلب ہی معلوم نہیں اور نہ ہی انھیں یہ معلوم تھا کہ ریپ کیا ہوتا ہے۔’

جب تارا نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا تو انھوں نے صنف پر مبنی تشدد کے بارے میں سوشل میڈیا پر خواتین سے بھی بات کی۔

تارا نے بتایا: ‘ان خواتین سے بات کر کے مجھے دو مردوں کے بارے میں معلوم ہوا۔ لیکن باقی سات افراد کی تلاش کرنا بہت مشکل کام تھا۔ مجھے مقامی پولیس، مقامی میڈیا، این جی اوز اور جاسوس ایجنسیوں سے بھی رابطہ کرنا پڑا۔’

تارا کے ساتھ بات چیت کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے ریپ کا اعتراف کیا۔ تاہم تارا نے پہلے ہی سزا یافتہ ریپسٹوں کا انٹرویو نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

تارا نے کہا: ‘میرے نزدیک جیل ان مردوں کی نمائندگی نہیں کرتا جو ریپ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی جزیرے پر تنہا نہیں رہتے ہیں، ہم ان کے آس پاس کے ماحول کو سمجھے بغیر لوگوں کی مکمل معلومات حاصل نہیں کر سکتے۔’

تاہم تارا کوشل کے برعکس برطانیہ کی شیفیلڈ ہیلم یونیورسٹی میں مطالعۂ جرائم کے شعبے میں لیکچرار ڈاکٹر مدھومیتا پانڈے نے ریپ کے معاملات میں سزا پانے والوں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔

انھوں نے دسمبر 2012 میں دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ کے بعد اپنی تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے بتایا: ‘ریپ کرنے والوں کو شیطان قرار دیا گیا اور ان کے خلاف اجتماعی غصہ تھا۔ ہم ان کے جرم سے اس قدر خوفزدہ ہوگئے کہ ہم نے انھیں خود سے الگ، اپنی ثقافت سے مختلف کسی غیر شخص کی طرح سلوک کرنا شروع کر دیا۔’

ایک محقق کی حیثیت سے ڈاکٹر مدھومیتا نے اس خیال پر کام کرنے کا فیصلہ کیا کہ ریپ کرنے والے مردوں میں خواتین کے ساتھ زیادہ روایتی اور جابرانہ رویہ ہوتا ہے۔

وہ جاننا چاہتی ہیں کہ ‘کیا مرد خواتین کے بارے میں واقعی اپنی سوچ میں اتنے مختلف ہوتے ہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں؟’

علامتی تصویر

کوئی بھی ریپسٹ ہوسکتا ہے

ڈاکٹر مدھومیتا نے دہلی کی تہاڑ جیل میں 100 سے زیادہ ریپ کرنے والوں کا انٹرویو کیا ہے۔ ان سب لوگوں کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔

گینگ ریپ کی سزا کا سامنا کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ اس حادثے کے فورا بعد ہی فرار ہو گیا تھا۔ مندر کی صفائی کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ پانچ سالہ بچی کو ریپ کرنے کے لیے اسے اکسایا گیا تھا۔ اسی دوران، ایک نوجوان نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے باہمی رضامندی سے رشتہ قائم کیا تھا، لیکن جب لڑکی کے گھر والوں نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھا تو ان پر ریپ کا الزام لگا دیا گیا۔

جب ڈاکٹر مدھومیتا کو ریپ کی شکار پانچ سالہ بچی کا علم ہوا تو انھوں نے متاثرہ بچی کے اہل خانہ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر مدھومیتا نے کہا: ‘اپنی بیٹی کے ساتھ ریپ کی اطلاع ملنے کے بعد باپ ذہنی توازن کھو بیٹھا اور گھر بار چھوڑ کر کہیں چلا گيا۔ لیکن والدہ پولیس کے پاس پہنچ گئیں۔ انصاف کی امید نہ ہونے کے باوجود انھوں نے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی۔’

ڈاکٹر مدھومیتا خواتین کے بارے میں ان مردوں کی سوچ کو جاننا چاہتی تھیں تاکہ وہ جنسی تشدد کی پیچھے سوچ کو سمجھ سکیں۔

انھوں نے کہا: ‘جرائم کی نوعیت میں فرق کے باوجود ایک چیز مشترک تھی، معاشرے میں مردوں میں ایک قسم کے استحقاق کا اثر موجود تھا۔’

انھوں نے بھی دیکھا کہ ریپ کے شکار افراد پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور ان کو رضامندی کی سمجھ کی کمی تھی۔ اپنی تحقیق کے ذریعہ مدھومیتا نے تارا کی طرح اس عام خیال کی تردید کی ہے کہ ‘زیادتی کرنے والے عام طور پر پرچھائیوں میں چھپے اجنبی ہوتے ہیں۔’

مدھومیتا نے بتایا: ‘لیکن اس معاملے میں زیادہ تر لوگ متاثرہ کے شناسا تھے۔ لہذا یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی کیسے زیادتی کرنے والا ہو جاتا ہے، یہ لوگ غیر معمولی لوگ نہیں ہیں۔’

پرانے اعداد و شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زیادہ تر معاملات میں زیادتی کرنے والے افراد کی شناخت ہو جاتی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2015 میں 95 فیصد معاملات میں ایسا دیکھا گيا ہے۔ تاہم، اس مسئلے پر کام کرنے والے لوگوں کے مطابق ریپ کے تمام واقعات بھی اسی وجہ سے درج نہیں کیے جاتے ہیں۔

سماجی انصاف کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم پروجیکٹ 39 اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انوپ سریندر ناتھ نے کہا: ‘ریپ کے تمام مقدمات درج نہیں کیے جاتے ہیں کیونکہ زیادہ تر ریپسٹوں کی شناخت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی اور اس کے کنبہ پر مقدمہ نہ درج کرنے کے لیے بہت دباؤ ہوتا ہے۔’

اکثر صرف ایسے ہی مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں جرائم گھناؤنے ہوتے ہیں اور وہ سرخیوں میں آجاتے ہیں۔

علامتی تصویر

سزائے موت اس کا علاج ہے؟

انڈیا دنیا کا واحد ملک نہیں ہے جہاں ریپ کے ایسے واقعات اتنے بڑے پیمانے پر رونما ہوتے ہیں لیکن کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پدر شاہی معاشرہ اور غیر مساوی جنسی تناسب کی وجہ سے صورتحال اور بھی خراب ہوتی جارہی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ ‘طاقت کا اظہار کرنے کے لیے ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رواج بڑھا ہے اور اس کے ذریعے معاشرے کے مظلوم عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے۔’

‘عصمت دری کے مقدمات درج کرنے کے معاملے میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ لیکن انڈیا میں فوجداری کا نظام بہت زیادہ سیاسی دباؤ میں کام کرتا ہے، متعدد بار ملزمان کو سزا نہیں دی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ریپ کے کم ہی مقدمات میں سزا دی جاتی ہے۔’

تاہم سنہ 2012 میں دہلی میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد قوانین مزید سخت ہوئے ہیں۔ کچھ مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت دینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے، لیکن تارا اور ڈاکٹر مدھومیتا دونوں کا خیال ہے کہ سزائے موت مسئلے کا طویل مدتی حل نہیں ہے۔

ڈاکٹر مدھومیتا کا کہنا ہے کہ ‘میرا پورا یقین اصلاح اور بحالی پر ہے۔ ہمیں معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے تاکہ ملک میں خواتین اور مردوں کے مابین یکساں سطح کا ڈھانچہ تشکیل پائے۔’

تارا اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ‘ہمیں پہلے اس جرم کے ایکٹو ایجنٹ پر توجہ دینی ہوگی، یہ متحرک ایجنٹ مرد ہیں۔ ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں انھیں بچپن سے ہی بہتر تعلیم دینا ہوگی۔’

تارا نے جن مردوں سے انٹرویو لیے ان میں معاشرے کے تمام طبقات کے افراد شامل تھے، لیکن کسی نے بھی سکول کی سطح پر جنسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔

تارا کا کہنا ہےکہ ‘تعلیم تو ملی نہیں لیکن انھیں اپنے دوستوں کے ساتھ فحش فلموں اور جنسی کارکنوں سے ادھوری معلومات مل گئیں۔’

کئی لوگوں نے اپنے بچپن میں بھی اس طرح کے تشدد کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔ تارا نے لکھا: ‘تمام معاملات میں لوگوں نے باپ کو ماں کو پیٹتے دیکھا تھا۔ انھیں محبت نہیں ملی۔ انھیں باپ یا گھر کے بڑوں کے ہاتھوں کئی بار مارا پیٹا گیا تھا۔’

انھوں نے تحقیق کے آخر میں لکھا ہے کہ مرد پیدائش سے ہی استحقاق کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔

علامتی تصویر

مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟

ڈاکٹر مدھومیتا نے کہا: ‘اس کا کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ ریپ ایک پیچیدہ جرم ہے۔ ہر معاملہ خود میں مختلف ہے اور یہ کافی بالواسطہ ہے۔ کچھ لوگ اجتماعی ریپ میں ملوث ہوتے ہیں تو کچھ متاثرہ کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ کچھ بالکل نامعلوم افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہاں متعدد قسم کے ریپسٹ ہیں۔ غصے میں ریپ کرنے والے ریپسٹ، دوسروں پر ظلم و بربریت کے ارادے سے ریپ کرنے والے، اور بہت سے سیریل ریپسٹ ہیں۔’

ڈاکٹر مدھومیتا کے مطابق، یہ زیادتی کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ شوہر، ساتھی، قریبی دوست، ڈیٹ پر ملنے والا دوست، ہم جماعت، پروفیسر، کوئی بھی۔

ڈاکٹر مدھومیتا نے کہا: ‘ملک کے عام لوگوں کی طرح میں بھی سوچتی تھی کہ جیل کے اندر کیا سوالات کروں گی۔ یہ خیال بالی وڈ فلموں کو دیکھ کر پیدا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ خوفناک نظر آنے والے مرد ہوں گے۔ جن کے چہرے کٹے ہوئے، نشان زدہ اور دھاری دار کپڑوں میں ہوں گے۔ یہ لوگ مجھ سے بدتمیزی کر سکتے ہیں، یا بے ہودہ تبصرے کرکے نکل جائيں گے۔ یہ سب سوچ کر خوف آتا تھا۔’

لیکن جلد ہی ڈاکٹر مدھومیتا نے محسوس کیا کہ یہ ایسے لوگوں کا گروپ نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا: ‘میں نے ان سے جتنی باتیں کرنا شروع کیں، اتنا ہی ان کی کہانیاں سننے لگی، پھر وہ مجھے عجیب نہیں معلوم ہوئے۔ یہ بات ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔’

ڈاکٹر مدھومیتا کے مطابق صنفی تشدد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے معاشرے کو اجتماعی طور پر خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے برطانوی پروفیسر لیز کیلی کے جنسی ہراسانی کے تصور کا ذکر کیا جس کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک تسلسل ہے جس میں طرح طرح کے جنسی تشدد کو آپس میں جوڑ لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مدھومیتا نے کہا: ‘ہمارے آس پاس کے مرد خطرناک ہوسکتے ہیں، یہ نظریہ ڈرانے والا ہے، لیکن نیا نہیں ہے۔ ہم ایک پدرشاہی معاشرے میں رہتے ہیں۔ کوئی آپ پر زیادتی نہیں کرتا لیکن وہ بہت سے دوسرے طریقوں سے اپنا غلبہ دکھاتا ہے۔ معاشرے کے لیے یہ بالکل معمول کی بات ہے۔’

ڈاکٹر مدھومیتا کے مطابق روزمرہ کی زندگی میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی بات نہیں کی جاتی ہے۔

کام کی جگہ سے لے کر سڑکوں تک ہراساں کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر مدھومیتا کا کہنا ہے کہ جب تک صورتحال قابو سے باہر نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی بھی توجہ نہیں دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp