انگارہ آنکھیں سلگتے ہونٹ اور معصوم لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مجھے گرینڈلیز بینک میں ملا تھا۔ درمیانہ قد، سامنے سے گھنگھریالے بال، جو بڑے سلیقے سے سر پر سجائے گئے تھے۔ گندمی رنگ، سلگتا ہوا چہرہ، بڑی بڑی انگارہ سی آنکھیں اور چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کے ہونٹ تھے، نہ افریقیوں کی طرح مولے موٹے، نہ جاپانیوں کی طرح پتلے پتلے۔ بھرے بھرے ہوئے ہونٹ، سلگتے ہوئے چہرے پر سلگتے ہوئے ہونٹ۔ میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ خواہ مخواہ ہی دوسری بار دیکھنے کو دل چاہا تھا۔ دل بے اختیار ہو کر دھڑکا، بے چین ہو کر چونکا۔ میں گھبرا کر جلدی جلدی فارم بھرنے لگی تھی۔

کراچی میں بینک میں اکاؤنٹ کھولنا بھی ایک مسئلہ تھا۔ پہلے تو میں ناظم آباد چورنگی پر جو حبیب بینک ہے وہاں گئی، مگر ایک ہفتہ چکر کاٹنے کے بعد بھی اکاؤنٹ کھولنے کا فارم نہیں ملا تھا۔ عبداللہ ہارون روڈ پر موجود یونائیٹڈ بینک میں بھی یہی ہوا تھا۔ میں نے ازراہ تذکرہ فون پہ بہناز کو یہ بات بتائی تھی اس نے کہا تھا کہ کیوں نہ گرینڈ لیز بینک میں اکاؤنٹ کھول لو۔ گارڈن روڈ پر کانڈا والا بلڈنگ میں یہ کراچی کا پرانا بینک پارسیوں کا پسندیدہ بینک تھا۔

پھر اس نے ہی مجھے تعارفی حصے پر دستخط کر کے اکاؤنٹ کھولنے کا فارم بھجوا دیا تھا۔ بہناز بہت اچھی تھی۔ ہم دونوں نے ساتھ ہی ماما پارسی اسکول سے انٹر کیا تھا۔ ماما پارسی اسکول کراچی میں پارسیوں کا بنایا ہوا لڑکیوں کے لیے پرانا اسکول ہے۔ اس اسکول میں گزرے ہوئے لمحے خوابوں کی طرح یاد ہیں۔ اسکول کا میدان، پتھروں کی بنی ہوئی پرانی عمارت۔ اونچی اونچی چھتوں والی پرانی کلاسیں۔ سخت محنت کرنے والی استانیاں۔ پرنسپل کا صاف ستھرا کمرہ، جہاں ڈانٹ بھی پڑی تھی، پیار بھی ملا تھا۔ جہاں کی ماسیوں نے اور استانیوں نے ماں باپ کے بعد ہم لوگوں کی ہر طرح سے خدمت کی تھی۔

نہ جانے کراچی کی کتنی لڑکیاں یہاں سے پڑھ پڑھ کر دنیا کے ان گنت کونوں میں پہنچ گئی ہیں۔ یہاں مجھے بہناز ملی تھی اور میری دوست ہو گئی تھی پھر ساتھ ہی ہمارا داخلہ سندھ میڈیکل کالج میں ہوا۔ وہ بہت امیر تھی اور اس کے نمبر بھی مجھ سے زائد تھے، مگر اقلیتوں کے کوٹے میں اس کا نمبر سندھ میڈیکل کالج میں پڑا تھا۔ میں اس سے نمبروں میں بہت کم ہونے کے باوجود صرف تین نمبروں سے ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلے سے رہ گئی تھی۔ ہم لوگ بہت گہرے دوست تھے۔ میرا گھرانا بہناز کی طرح امیر نہیں تھا، متوسط درجے کے ناظم آباد میں رہنے والے لوگ تھے ہم، مگر پھر بھی بہناز سے خوب دوستی تھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ میری رازدار سہیلی تھی اور وقت پر کام آنے والی، جس پر میں مکمل طور پر بھروسا کر سکتی تھی۔

میں اس وقت گارڈن میں شمع کلینک میں کام کرتی تھی۔ صبح سے دوپہر تک کام تھا۔ اچھی تنخواہ تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ جلد از جلد پارٹ ون کا امتحان دے کر جناح ہسپتال میں میڈیسن میں کام شروع کروں۔ مجھے اس سے پہلے کبھی بھی بینک کے اکاؤنٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی مگر حامد، میرا چھوٹا بھائی، اب سعودی عرب چلا گیا تھا۔ وہاں سے اس نے کچھ رقم بھیجی تھی جو کہ وہ اب ہر ماہ پابندی سے بھیجنا چاہتا تھا اور اس نے لکھا تھا کہ میں اپنا اکاؤنٹ کھول کر اس میں پیسے جمع کرا دیا کروں۔

حامد کو انٹرویو کے بعد کراچی کے کوٹے میں این ای ڈی میں داخلہ مل سکا تھا اور نہ ہی ڈاؤ انجینئرنگ کالج میں داخلہ ملا۔ مگر کراچی پولی ٹیکنک میں داخلہ مل گیا تھا۔ اس نے وہاں سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا تھا، جس کے بعد وہ سعودی عرب چلا گیا تھا۔ اس کی نوکری بہت اچھی تھی اور وہ اپنے سارے ساتھیوں سے زائد اور میرے ڈاکٹر ہونے کے باوجود مجھ سے بھی کہیں زیادہ کما رہا تھا۔

میں نے جلدی جلدی فارم بھرا۔ حامد بینک ڈرافٹ کا جمع کرنے والے فارم میں اندراج کیا اور جلدی جلدی اس کے چہرے پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر گھبراتی ہوئی بینک سے نکل آئی تھی۔ نشاط سینما کے سامنے ڈبلیو چھ کا انتظار ہی کر رہی تھی کہ میں نے اسے دیکھا۔ نپے تلے قدموں کے ساتھ دھیرے دھیرے، آہستہ آہستہ وہ میرے سامنے سے چلتا ہوا مجھے دیکھتا ہوا، اپنی تیز نظروں سے اور اپنے سلگتے چہرے اور ہونٹوں کے ساتھ میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔

میں ساکت دم بخود حیران اور پریشان سی ہو گئی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا ”مس آپ اپنا پارکر قلم بھول آئی تھیں۔“ اس کے ہاتھ میں میرا پسندیدہ سیاہ پارکر قلم تھا، جسے میں فوراً ہی پہچان گئی تھی۔ میں نے اس سے قلم لے لیا، پھر کہا، بہت بہت شکریہ۔ نہ جانے کتنی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے تھے میں نے۔

”نہیں، صرف شکریے سے تو کام نہیں بنے گا۔ آپ کو جرمانہ دینا ہو گا۔“ اس نے بڑے شوخ انداز سے کہا تھا۔ میں تو جیسے مر ہی گئی تھی۔

”آپ تو ڈاکٹر ہیں ناں۔ میں نے اندازہ لگا لیا تھا۔ اچھا اپنے ہسپتال یا کلینک کا نمبر دے دیں۔ میں خود ہی آپ سے جرمانہ وصول کر لوں گا۔“ اس نے ہنس کر کہا تھا۔ میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، پھر شمع کلینک کا نمبر اسے بتا دیا تھا۔ دو اور تین کے درمیان فون کیجیے گا مجھے۔ تبسم میرا نام ہے۔ میں نے جھجک جھجک کر نہ چاہتے ہوئے بھی وہی کہا جو میرا دل کہہ رہا تھا۔ نہ جانے کیوں ایک شدید خواہش تھی اس سے بات کرنے کی اور اس سے تعلق رکھنے کی۔ اس میں کسی قسم کی شدید کشش تھی، جان لیوا۔ مار دینے والی۔

وہ مسکراتا ہوا ایک بار پھر نظر مجھ پر ڈال کر واپس بینک کی طرف چلا گیا تھا۔

وہ دن خوب صورت دن ثابت ہوا تھا۔ میں تمام دن اس کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔ وہ عام معیار کے مطابق خوب صورت تو نہیں تھا، مگر ایک کشش تھی اس میں، بے قابو کر دینے والی۔ گھر پہنچ کر بھی میں اسے بھولی نہیں تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح بار بار جھٹکنے کے باوجود ذہن کے پردے پر چلا آتا تھا، اپنی انگارے جیسی آنکھوں اور سلگتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ۔ میں اس کے بارے میں سوچتی ہوئی سوئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ رات یکایک آنکھ کھل گئی تھی میری ایک خوف سے، مگر بڑے خوشگوار احساس کے ساتھ۔

میں خواب دیکھ رہی تھی کہ میں ایک ویرانے میں بھاگی چلی جا رہی ہوں اور کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے۔ مسلسل چیخ پکار کے باوجود کوئی مددگار نہیں تھا جو ہاتھ پکڑتا۔ میں خوف کے مارے بھاگی جا رہی تھی اور پیچھے تعاقب کرنے والا آدمی، آگے اور آگے مسلسل قریب سے قریب تر آتا جا رہا تھا کہ میدان ختم ہو گیا اور نیچے ایک بڑی سی کھائی تھی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور آنکھیں بند کر کے اس کھائی میں کود گئی لیکن اس سے قبل ہی ایک مہربان چہرے نے مجھے پکڑ لیا تھا، اپنی گود میں اٹھا لیا تھا۔ وہی بڑی بڑی انگارے جیسی آنکھیں اور سلگتے ہوئے ہونٹ۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ تعاقب کرنے والا بھاگ چکا ہے۔ ایک پرسکون احساس کے ساتھ میں ڈری ڈری جاگ گئی تھی۔

پھر میں اسی کے بارے میں سوچتے سوچتے سو گئی تھی۔

صبح کا وقت بڑا مصروف گزرا تھا۔ طرح طرح کے مریض، عجیب عجیب شکایتیں، پھر ایک آیا کا مسئلہ تھا، جس کی ماں کو کینسر ہو گیا تھا جس کی دوا آٹھ ہزار روپے کی تھی اور پیسے اس کے پاس نہیں تھے۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ کچھ زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کی مدد کر دوں گی۔ پھر دواؤں کی کمپنیوں کے نمائندے آ گئے تھے اور ان کی باتیں سنتے سنتے تقریباً اڑھائی بجے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔

نرس نے دوسرے کمرے میں فون اٹھایا، پھر مجھے بتایا تھا کہ کوئی دانش صاحب آپ سے بات کریں گے۔ فون کے دوسری جانب وہی تھا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میں اس فون کا ہی تو انتظار کر رہی تھی۔ بھاری بھاری سی آواز۔ ”بہت مصروف ہیں کیا آپ؟“ اس نے پوچھا تھا۔

”اچھا، ڈسٹرب تو نہیں کیا میں نے؟“ اس نے کہا تھا۔
”نہیں نہیں، بالکل نہیں۔“ میں نے جلدی سے جواب دیا۔
”پھر کیا فیصلہ کیا ہے آپ نے؟“ اس نے پوچھا۔
”کاہے کا فیصلہ؟“ میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا تھا۔
”ارے بھول بھی گئیں۔ بڑی بے وفا ہیں آپ۔“ یہ کہہ کر وہ ہنسا تھا۔ مجھے عجیب سا لگا مگر اچھا لگا تھا۔
”میں سمجھی نہیں۔“ میں نے جواب میں کہا تھا۔

”آپ نے جرمانہ دینا ہے۔ یاد ہے؟ میں نے کہا تھا کہ آپ سے جرمانہ وصول کروں گا۔“ اس کی بھری بھری سی آواز آئی تھی۔

میں ہنس دی۔ ”ضرور بولیں، کیا جرمانہ چاہیے؟“ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”نہیں دے سکیں گی آپ۔“ اس کی آواز آئی۔
”آپ مانگیں تو۔“ میں نے فوراً ہی جواب دیا تھا۔
”اچھا، وقت آئے گا تو مانگ بھی لوں گا، پھر نہ، نہ کیجیے گا۔“ اس کی شوخ سی آواز میرے کان میں آئی تھی۔
”ضرور آزما کر دیکھیں۔ اب تو جرمانہ دے کر ہی رہوں گی۔“ میرے منہ سے بے ساختہ سا نکل گیا۔
”اچھا، آپ کی کلینک کہاں ہے؟“ اس نے پوچھا۔
میں نے بتایا کہ ”گارڈن ایسٹ میں چوراہے کے فوراً بعد نیلی سی عمارت ہے۔“
”ہاں ہاں۔ میں سمجھ گیا۔ اس علاقے سے میرا گزر ہوتا ہے۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4