نمرہ احمد کا ناول: مصحف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرآن میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہدایت موجود ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے، ”ذٰالک الکتاب لاریب فیہ، ہدًی للمتقین“ (یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے ) ۔

حضرت علیؓ کا قول ہے، ”جب تمہارا اپنے رب سے بات کرنے کو دل چاہے تو نماز پڑھا کرو اور جب تم چاہو کہ رب تم سے بات کرے تو قرآن پڑھا کرو“ ۔ مصنفہ نے اپنی کتاب میں ہماری توجہ اسی جانب دلانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی میں آنے والی تمام مشکلات اور پریشانیوں کے دوران قرآن ہمیں ہر قدم پر راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا تعلق اس سے جوڑے رکھیں۔

”مصحف“ قرآن سے جڑنے والی دو لڑکیوں کی کہانی ہے، یہ سنگ مرمر کے چمکتے برآمدوں اور اونچے ستونوں والی مسجد کی کہانی ہے، یہ امانت اور رحم کے حق ادا کنے والوں کی کہانی ہے، یہ صبر کرنے اور شکوہ نہ کرنے والوں کی کہانی ہے، یہ قسم پوری کرنے والوں کی کہانی ہے اور یہ کہانی خیانت کرنے والوں کی، علم پر غرور کرنے اور تقوٰی پر ناز کرنے والوں کی بھی ہے۔ مصنفہ فرماتی ہیں کہ نماز اور قرآن بعض اوقات انسان کے حالات تو نہیں بدلتے مگر آپ کو ان حالات میں بہتر طور پر رہنا ضرور سکھا دیتے ہیں۔

آزمائشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزمائشیں اور مصائب آپ کے مقدر میں لکھ دیے گئے ہیں وہ آپ کو مل کر ہی رہیں گے۔ البتہ قرآن سے دوری کی وجہ سے وہ مسائل آپ کو پاگل کر دیں گے اور قرآن کا قرب آپ کو ہر مشکل میں سے نکلنے کا راستہ دکھاتا رہے گا۔ بس قرآن پڑھیں، صادق اور امین دل کے ساتھ، نیتیں صاف رکھیں، سچ بولیں اور امانتوں میں خیانت نہ کریں۔ دوسروں کا راز رکھنا سیکھیں، لوگوں کو معاف کر دیا کریں اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ احسن ترین سلوک کریں چاہے ان کے پاس آپ کو دینے کے لئے بدترین اخلاق ہی کیوں نہ ہو۔ صبر کریں اور اس کا بدلہ اگلے جہاں میں مانگیں، یہ دنیا بدلے کی جگہ نہیں ہے۔

مصحف دراصل ایک یتیم لڑکی محمل کی کہانی ہے۔ محمل کے باپ آغا ابراہیم کے انتقال کے بعد اس کے تین بھائیوں نے ان کے عالیشان گھر اور بزنس پر قبضہ کر لیا۔ محمل اور اس کی ماں کو نوکرانیاں بنا کر رکھ دیا۔ محمل ماں باپ کی اکلوتی اولاد، بمشکل نو دس سال کی، اس وقت کچھ کر نہ سکتی تھی۔ مگر اپنے اور والدہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف لاوہ اس کے اندر پکتا رہا۔ وہ اکھڑ اور بد مزاج بنتی گئی حتٰی کہ وہ بیس سال کی ہو گئی۔

اس کا ایک تایا زاد کزن فواد اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور فلرٹ کرنے لگتا ہے لیکن محمل سمجھ نہیں پاتی۔ ایک دن فواد فرمائش کر کے اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر شاپنگ پر لے جاتا ہے، شاپنگ کے بعد وہ دھوکے سے اسے اے ایس پی ہمایوں داد کے گھر ایک فائل پر سائن کروانے بھیج دیتا ہے۔ وہاں پہنچ کر اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ فواد نے اسے تین کروڑ کے نفع کی خاطر ایک رات کے لئے بیچ دیا تھا۔ اس حقیقت کے آشکار ہونے پر وہ صدمے سے بیہوش ہو گئی۔

رات کے تین بجے ہوش میں آنے پر وہ اے ایس پی کو پھر اپنے سامنے پاتی ہے۔ وہ اس سے بہت سے سوالات پوچھتا ہے مگر مطمئن نہیں ہوتا اور محمل کو کمرے میں بند کر کے چلا جاتا ہے۔ محمل چیخنے چلانے اور رونے دھونے کے بعد اللہ سے دعائیں اور مدد مانگنے لگتی ہے، پھر وہاں سے فرار ہونے کا رستہ تلاش کرتی ہے۔ باتھ روم کی کھڑکی میں لگے کمزور سے کارڈ بورڈ اور میخوں کو نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور باہر کود جاتی ہے۔ وہ ساتھ والی عمارت کی چھت تھی جو کہ ایک دینی مدرسے کا تھا۔

ایک لڑکی بیٹھی اونچی آواز سے دعائے نور پڑھ رہی تھی، وہ محمل کو نئی سٹوڈنٹ سمجھتی ہے اور اپنے ساتھ نماز والے کمرے میں لے جاتی ہے کیونکہ فجر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ دونوں نماز پڑھتی ہیں، محمل کی نظر ایک فریم پر پڑتی ہے جس پر خوبصورت عبارت میں ایک قرآنی آیت کا ترجمہ لکھا تھا، ”بس لوگوں کو چاہیے کہ اس پر خوشی منائیں، قرآن ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں“ ۔ دوران گفتگو محمل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس لڑکی کا نام فرشتے ہے اور وہ اے ایس پی ہمایوں کی کزن ہے، یہ ہاسٹل اور ہمایوں کا گھر آپس میں متصل ہیں، محمل ساری کہانی فرشتے کو سنا دیتی ہے جو ہمایوں سے کہہ کر بحفاظت اسے گھر بھجوا دیتی ہے لیکن اس دوران محمل پر یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس کا کزن فواد شمالی علاقہ جات کی لڑکیوں کے اغواء اور خرید و فروخت میں ملوث ہے اور اس کا پورا گینگ ہے۔

فرشتے نے محمل کو سمجھایا کہ کزن جو کہ نامحرم ہوتا ہے اس کے ساتھ اکیلے گھومنے پھرنے جانا اللہ کے احکامات کے خلاف ہے، یہ خلاف ورزی کرنے کا خمیازہ محمل کو بھگتنا پڑا لیکن مسجد میں رو رو کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ نے اسے بحفاظت گھر پہنچا دیا۔ عدالت میں فواد کے خلاف کیس چل رہا تھا اور محمل نے بھی بطور گواہ پیش ہونا تھا۔

مدرسے میں پڑھائی جانے والی فقہ کی کتابوں میں زکوٰۃ، کتاب العلم، کتاب الصلوٰۃ، کتاب الصیام اور کتاب الحج و العمرہ وغیرہ شامل بھی تھیں۔ ان کی استاذہ میڈم مصباح نے لیکچر دیا کہ دین اور مذہب میں بہت فرق ہوتا ہے، دین religion کو کہتے ہیں جیسے اسلام۔ اور مذہب کسی بھی دین کے اندر عقیدے یا سکول آف تھاٹ (school of thought) کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ اسلام میں دو مذاہب ہیں، اہل السنہ والجماعت اور اہل تشیع۔ اور مسلک کسی مذہب کے اندر کسی طریقے کو کہتے ہیں، مثلاً فقہی مسالک، جیسا کہ شافعی، حنفی وغیرہ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply