عشق کے کوچے سے


’ سوچنے دو۔‘
بتاؤ نا کیا ہے یہ۔

ریہڑی والا پیاز لو، آلو لو کی صدائیں لگا رہا ہے۔ دونوں گندے بچے ابھی بھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ترانہ کے ہاتھ میرے ہاتھوں پر سخت ہو گئے ہیں۔ بتاؤ نا، کیا ہے یہ۔ ’

’بتاؤں۔ ؟‘
’ہاں۔ بولو نا۔‘
’تمہارے اندر‘ ڈوپامائن ’اور‘ نورے پنیکرین ’کیمیکل کی سطح بڑھ گئی ہے۔‘
’وہاٹ‘ ۔ ترانہ چونکتی ہے۔ یہ کیا ہے۔ ڈوپامائن؟
’کیمیکل ہے۔ جو دماغ میں خاموشی سے ایک نہیں ختم ہونے والی خوشی کی ترنگیں رکھ دیتا ہے۔‘
ترانہ مسکرائی۔ یعنی پیار۔ اور وہ۔ نورے۔ ؟ ’
’نورے پنیکرین۔‘
’ہاں وہی۔ تم بھی نا سانیال، یہ کیا ہے؟‘
’یہ بھی ایک کیمیکل ہے جو دل میں ہلچل اور جوش پیدا کرتا ہے۔‘

ترانہ چونکی۔ تو تمہارا پیار بس اتنا ہے۔ ڈوپامائن اور نورے پینکرین کی سطح تک۔ اتنا ہی ہے پیار۔ ادب سے کیمسٹری کی دنیا کی طرف چلے جانا۔ اور کل جو میرے ساتھ ہوا۔ پتہ ہے۔ آدھی رات۔ گھر کا دروازہ کھول کر خاموشی سے گلی میں تمہاری تلاش میں نکل پڑی۔ پھر اچانک احساس ہوا۔ ارے، یہ میں کیا کر رہی ہوں۔ جاگی تو یکایک ڈر کا احساس ہوا۔ ساری گلی سنسان تھی۔ لوگ اس وقت مجھے دیکھتے تو پتہ نہیں کیا کہتے مجھے۔

کچھ نہیں۔ یہ سیروٹونن کی مسلسل گرتی ہوئی سطح کی وجہ سے ہوا۔ ’
’مطلب؟
’محبت میں پاگل پن کی حد تک۔ خود کو فنا کردینے کا احساس۔‘
’ماروں گی تم کو۔‘ ترانہ زور سے کھلکھلائی تو ہمیں دیکھنے والے وہ دونوں بچے بھی کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

بالکنی سے رات روشن تھی۔ تارے آنکھ مچولی کا کھیل ’کھیل رہے تھے۔ سولہ برس پہلے کا احساس ایک دم بارش کی طرح برس جانا چاہتا تھا۔ تب دل و دماغ پر بس ایک ہی نام کا بسیرا تھا۔ ترانہ۔ اور اس نام کے ساتھ ہی جیسے خوشبوؤں کے در کھل جاتے۔ ہوا سرسراتی ہوئی جیسے سارے بدن میں ایک طوفان اٹھا دیتی۔ اور تنہائی کے کسی پراسرار لمحے ترانہ کا ایک جملہ میرے ہوش و حواس پر حاوی ہوجاتا۔

’میں بس اتنا جانتی ہوں، جسے پیار کروں، وہ مجھے ملنا چاہیے۔‘

اس دن دوپہر کے تین بج رہے ہوں گے۔ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی معلوم ہوا۔ ترانہ اسپتال میں ہے۔ بھابھی نے بتاتے ہوئے ایک لمحہ کو میرا چہرہ دیکھا۔ چوکی پر خاموشی سے بیٹھے پاپا نے بھی میری طرف نظریں کر لیں۔ میں نے کتاب وہیں میز پر رکھ دی۔

’میں جا رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے رات میں بھی نہ آؤں۔‘

اتنا کہہ کر میں کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ میرے لیے کہنا مشکل تھا کہ ترانہ کے اندر ڈوپامائن ’اور‘ نورے پنیکرین ’کی سطح کتنی بڑھ گئی تھی یا پھر‘ سیروٹونن ’کی سطح کتنی گھٹ گئی تھی۔ جو اچانک پاگل پن کی حدوں کو چھوتے ہوئے وہ اسپتال میں بھرتی ہو گئی تھی۔ لیکن شاید سب کچھ معمول کے مطابق نہیں تھا۔ کیونکہ گزشتہ ہفتہ ہی اس نے میرے وجود کے ریشے ریشے میں گھلتے ہوئے اپنی جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔

’میری سانسیں سیوئیوں کی طرح ٹوٹتی بکھرتی جا رہی ہیں۔ کیونکہ یہ ہر وقت بس تمہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔ تم کیوں چلے جاتے ہو سانیال۔ کیوں نہیں ایسے رہتے، جیسے میرے کمرے میں میرا ٹھہرا ہوا وقت رہتا ہے۔ اس لمحہ جب تمہیں سوچتے ہوئے تمہارے وجود میں گھل جانے کی خواہش ہوتی ہے۔

اس کی ہتھیلیوں میں انگارے جمع تھے۔ ’کبھی اچانک ایک دھند سی کمرے میں بھرجاتی ہے۔ پھر دنیا بھر کی باتیں میرے کمرے میں گونجنے لگتی ہیں۔ تم یکایک دھند میں کھو جاتے ہو تو لگتا ہے، یہ سانسوں کی سیوئیاں بھی ٹوٹ سی گئی ہوں۔ کہیں مت جاؤ پلیز۔ میرے ساتھ رہو۔ اس سے پہلے سانیال، یہ سانسوں کی سوئیاں بکھر جائیں۔‘

قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ وہ جنرل وارڈ میں تھی۔ جہاں دوچار مریض اور بھی تھے۔ چھوٹے شہروں کی اپنی تاریخ اور تہذیب ہوتی ہے۔ اسے گھیرے ہوئے اس کے محلے کی کئی عورتیں جمع تھیں۔ مجھے دیکھ کر جو اجنبی سی خوشی اس کے چہرے پر لہلہائی، وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے ہی لمحہ جنرل وارڈ میں بہت سے لوگوں کی موجودگی کے باوجود وہ میری بانہوں میں تھی۔ کمزور بیمار سی۔ وہ مجھے بتا رہی تھی۔ وہ بول نہیں پا رہی ہے۔ آواز چھن گئی ہے۔ میں نے اسے زور سے سینے سے بھینچ لیا۔ ترانہ رو رہی تھی۔ میں اسے سینے سے بھینچے ہوئے محبت میں ڈوبی انگلیوں کو اس کی آنکھوں کے پاس لہراتا کہہ رہا تھا ’

”میں ہوں نا۔ تمہارا سانیال۔ تمہاری آواز۔ تم کہتی تھی نا، ساری دنیا میں کوئی بھی تم سے اچھا نہیں بولتا۔ کسی کی بھی آواز تم سے زیادہ خوبصورت اور سحر انگیز نہیں ہو سکتی۔ ابھی اس لمحہ صرف تمہیں سننا ہے مجھ کو۔ کیونکہ میں اپنی ترانہ کے لیے روح، جسم اور نغمہ سب بن گیا ہوں۔ تمہاری آواز۔ اس آواز کا سنگیت تمہارے ہونٹوں پر رکھوں گا ترانہ اور تمہارے ہونٹ دنیا کی سب سے حسین لڑکی کے ہونٹ بن جائیں گے۔ اور جب تم میرے سر میں سر ملا کر جواب دو گی تو یہ کائنات کی سب سے سریلی آواز ہوگی۔ مگر ترانہ۔ آج میں تمہاری آواز ہوں۔ اپنی آواز کو بھول کر میری آواز کا لمس محسوس کرو۔ ’

ترانہ سمٹ گئی۔ میری پشت پر اس کی ہتھیلیاں سخت ہو گئیں۔ میری شرٹ گیلی ہو رہی تھی۔ میں نے اس کا چہرہ اٹھایا تو وہ مسکرا رہی تھی۔ ایسی مسکراہٹ۔ جسے شاید دنیا کی چند عظیم شاہکار مصوری کے نمونے میں ہی تلاش کیا جاسکے۔

اس رات میں جنرل وارڈ میں اس کے پاس والی چوکی پر ہی سویا۔ یہ سب جانتے ہوئے کہ چھوٹے شہر کی سنسنی دیتی ہوائیں ہم دونوں کی کہانی کی خوشبو کو لیتی ہوئی اڑ گئی ہیں۔

اب یہ کہانیاں اڑیں گی۔ پھیلیں گی۔ مگر شاید آگے کی صورت حال پر غور و فکر کرتے ہوئے میں مطمئن تھا۔ یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ اب مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔

تب نیٹ نہیں تھا، موبائل بھی نہیں تھے۔ چھوٹی چھوٹی آسانیاں بھی ہم سے بہت دور تھیں۔ لیکن محبت کا کرشمہ اور جادو اپنی پوری شدت کے ساتھ تب بھی موجود تھا، اور شاید آج سے بھی زیادہ تھا۔ باہر بالکنی میں دودھیا چاندنی کی روشنی میں ستاروں کا رقص جاری ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5