عشق کے کوچے سے
مہک غائب تھی۔ اور ترانہ اپنے مکمل وجود کے ساتھ وینس کا دھڑکتا ہوا دل بن گئی تھی۔
’اچھا تم نے کیا سوچا؟‘ ترانہ کی آنکھیں میری آنکھوں میں جھانک رہی تھیں۔
’پتہ نہیں‘
ایک ایمانداری تو ہے تم میں کہ محبت کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے کہ تمہیں بھی مہک سے پیار ہے۔
میں خاموشی سے خلا میں دیکھتا رہا۔
’اچھا بتاؤ، تم اس سے رومانی باتیں بھی کرتے ہو؟
’ہاں۔‘
’بہت؟‘
’شاید‘
’سامنے ہوتے تو شاید اس کا ہاتھ بھی تھام لیتے۔‘ ترانہ کی آواز برف جیسی یخ تھی۔
’شاید۔‘
’شاید نہیں۔ تھام لیتے۔ یا ممکن ہے، اس سے بھی آگے۔‘ وہ کہتے کہتے رکی۔ مہک سے بات کرتے ہوئے ایک لمحہ کو بھی میری یاد نہیں آئی۔ مان لو۔ ایک دن میں تم نے اس کے ساتھ تین گھنٹے گزارے تو ایک مہینے میں 09 گھنٹے ہوئے نا۔ یاد ہے سانیال۔
ترانہ نے میرے ہاتھوں کو تھام لیا۔ اس کی آنکھیں پرانی یادوں کو محسوس کرتے ہوئے تھوڑا سا نم تھیں۔ یاد ہے۔ تم کہا کرتے تھے۔ جو مرد اپنی بیوی کے علاوہ، باہر کی دنیا میں کسی دوسری عورت سے ملا۔ اسی پیار کے جذبے سے۔ تو سمجھو اس نے اپنا ایک عضو کاٹ لیا۔ یاد ہے نا۔ بار بار ملتا رہا تھا تو۔ باہر کی دنیا میں۔ پرائی عورتوں سے۔ تو اس کے سارے عضو کٹ گئے۔ یاد کرو کہتے تھے نا۔ یہ بھی کہتے تھے۔ کہ پھر ایسا آدمی، اسی پختہ جذبے کے ساتھ، اپنی بیوی سے بانہیں پھیلا کر کیسے مل سکتا ہے؟ اور اپنے بچوں سے؟ کیونکہ اپنے پیار کے سارے اعضا کو کھو چکا ہے وہ۔ ترانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ مسکرائی تمہارے اعضا تو سلامت ہیں نا سانیال؟ میرے لیے؟ اور میرے بچوں کے لیے۔ ؟
میرے اندر جیسے میری اپنی چیخ ہی برف کی برف کی متعدد سلوں کے درمیان لہولہان تھی۔ اس ایک لمحہ اپنے ہی درد سے لڑتے، ابھرتے شاید میں نے کوئی فیصلہ لے لیا تھا۔
’وہ نیٹ کا سچ ہے، جسم کا نہیں۔‘
’اوہ‘ ۔ ترانہ زور سے ہنس پڑی۔
’نیٹ سارے کرتے ہیں۔ کون نہیں کرتا۔ لوگ تو ایسی باتیں اپنی بیویوں سے شیئر بھی نہیں کرتے۔‘
’میں لوگوں کو نہیں جانتی جان۔ سانیال کو جانتی ہوں‘ ۔ ترانہ کی آواز میں کہیں بھی غصہ کا اظہار نہیں تھا۔ تم نے کہا، وہ نیٹ کا سچ ہے۔ جسم کا نہیں۔ تم اس سے رومانٹک چیٹ بھی کرتے تھے؟
ہاں۔
ہاتھ تھامتے تھے۔ ؟
ہاں۔
کس (Kiss) ؟
شاید۔
شاید نہیں ہاں بولو
ہاں۔
ہونٹوں پر۔
ہاں۔
چلو ہونٹوں پر، آنکھوں پر یا تمہاری مرضی۔ کیونکہ پیار کے کسی بھی لمحے کی شدت کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر تم شاید سامنے ہوتے تو۔ وہ سب کرتے نا سانیال؟ ’
’سامنے ہوتے تو نا؟‘
’سامنے ہوتے تو شاید سنامی بن جاتے۔ ہے نا۔ ڈرو مت سانیال۔ کبھی کبھی بہت چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کل دیر تک سوچتی رہی۔ ہاری کہاں ہیں؟ سولہ برسوں میں تمہارے اندر کہاں ایک خلا چھوڑ دیا۔ کہاں سانیال‘ بتاؤ مجھے نہ۔ اس سے یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں روکوں گی۔ سمجھاؤں گی۔ کیونکہ محبت تم سے میں نے کیا ہے۔ میں نے بہت محبت کی ہے۔ سانسوں سے سانسوں کی محبت۔ پہلی سانس سے آخری سانس کے سارے پھول۔ بس اسی کچی عمر میں تمہارے نام چن لیے۔ روکوں گی نہیں۔ سوچ لوں گی کہ شاید اتنی ہی محبت لکھی تھی میری تقدیر میں۔ کیونکہ جہاں محبت پر روک یا بندھن لگ جائے، وہاں محبت نہیں ہوتی۔ خود غرضی آجاتی ہے۔
’پھر یہ سب۔‘
’تم بتاؤ۔ کیا سوچا ہے تم نے۔‘
’میری آواز جیسے گلے میں پھنس گئی۔ مہک شادی کرنا چاہتی ہے مجھ سے۔‘
’تو۔‘
’وہ کہتی ہے، وہ انڈیا آ جائے گی۔‘
’تولے آؤ نا۔‘ ترانہ نے آہستہ سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ لے آؤ مہک کو۔
’اور تم؟‘
ترا نہ آہستہ سے ہنسی۔ جانتے ہونا اپنی ترانہ کو۔ بچپن سے بٹوارا کبھی پسند نہیں آیا۔ بس مہک کا ہاتھ تمہارے ہاتھوں میں پکڑا کر چپکے سے نکل جاؤں گی۔ ’
مجھے نہیں معلوم، داستان، قصے کہانیوں کی اب تک کی تاریخ میں ایک بیوی نائیکا یا ہیروئن کیوں نہیں بنتی؟
مرد کی زندگی میں آنے والی دوسری یا تیسری عورت ہی ’نائیکا‘ یا ہیروئن کیوں بنتی ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ ایک مکمل زندگی کے ساون اور سپنے اپنے مرد کو بانٹتے ہوئے وہ کہیں کھو جاتی ہے۔ مگر اپنی تکمیل کے ساتھ ایک ہی گھر میں ہر لمحہ، دکھ سکھ کی سب سے بڑی ہیروئن وہی رہتی ہے۔
میں کسی بھی طرح کے ایلیوژن یا ڈائیلما میں نہیں تھا۔
محبت کے جھرنے اور بارش سے الگ میں ترانہ کے تمام رنگوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور اس دن۔ شاید میرے جذبات مہک تک پہنچ گئے تھے۔ اس نے آخری بار پوچھا تھا۔
’بولو۔ میں دہلی آ جاؤں؟ میں تم پر بوجھ نہیں بنوں گی سانیال۔ معاشی طور سے بھی نہیں۔ بس تمہارا ساتھ، تمہارا وجود چاہیے۔ ہاں۔ یا نا۔ مجھے اسی لمحے تمہارا جواب چاہیے۔‘
میرے اندر کسی بھی طرح کے پٹاخے یا آتش بازی کے چھوٹنے کی کوئی آواز نہیں تھی۔
میں نے آہستہ سے ٹائپ کیا۔ بہت سوچ سمجھ کر۔ ’نہیں‘
مہک ’سائن آؤٹ کر گئی تھی۔ کیم پر اندھیرا تھا۔ مہک غائب تھی۔
تبسم میرے سامنے تھی۔


