عشق کے کوچے سے
تم سے کیا رشتہ ہے اس کا؟
ترانہ زندگی میں آ گئی۔ ہم مہا نگر کی بھیڑ کا حصہ بن گئے۔ پھر ایک چھوٹا سا بیٹا بھی ہو گیا۔ مہا نگر کی بھیڑ کا حصہ بنتے ہوئے بھی اندر کا ادیب مرا یا سویا نہیں، کیونکہ ترانہ نے اس ادیب کو کسی بھی لمحے سونے نہیں دیا۔ اس کی محبت لمحاتی یا چھلاوہ نہیں تھی۔ وہ شادی کے بعد بھی سانیال کو ایک محبوب کے طور پر ہی دیکھتی رہی۔ ادب سے سیریل کی دنیا تک جیسے ترانہ نے اپنا سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا تھا۔ سولہ برسوں میں اگر کچھ تبدیلی آئی تھی تو صرف ایک جسمانی تبدیلی کہ اپنے ہی جسم سے اپنے پیار کا ایک حصہ نکالتے یا بڑا ہوتے دیکھنے کا احساس اسے ایک پختہ عورت میں تبدیل کر گیا تھا۔ مگر اپنی تمام تر محسوسات کی سطح پر وہ صرف ترانہ رہی۔ وہی سولہ برس پہلے کی ترانہ۔ مگر ایک دن۔
گھر میں کمپیوٹر آ گیا۔ نیٹ لگ گیا۔ اور ایک نئی کہانی شروع ہو گئی۔ کیا بہت پیار کرنے کے باوجود آپ میں کہیں کوئی ایک دبی ہوئی خواہش باقی رہ جاتی ہے۔ بہت پیار کرنے والے بیٹے اور بہت زیادہ چاہنے والی بیوی کے باوجود کیا نیٹ پر اپنی محبتوں کی دنیا آباد کرنے والا شخص کہیں تقسیم نہیں ہوتا ہے؟ نیٹ کی دنیا نوجوانوں، ادھیڑ اور بچوں کے لیے معصوم اور متجسس ذہن میں، سیکس دیکھنے والی ایک دنیا تھی۔ آرکٹ سے لے کر ہائی فائی، لوہیپنس (Love Happens) ۔
ڈریم کمس ٹو ڈاٹ کام تک۔ فرضی ناموں کا سہارا لینے والی لڑکیوں اور لڑکوں کا ایک بڑا ریکٹ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا۔ بچوں سے بوڑھوں تک کے لیے تجسس کا ایک دلفریب سامان۔ کہیں کوئی جرم کا احساس بھی تھا میرے اندر۔ ترانہ کے رہتے ہوئے یہ دنیائیں کیوں آباد ہوجاتی ہیں؟ یعنی ہم کسی اجنبی لڑکی سے دوستی کرنا ہی کیوں چاہتے ہیں۔ وہ بھی صرف ایک نہیں۔ ہزاروں ملک، کمیونٹی، مذہب۔ نیٹ کی ایک پھیلی ہوئی دنیا۔ اس جادو نگریا میں سیراب ہونے کا احساس کیا حقیقت میں ایک جرم ہے؟
کبھی لگتا، سب کرتے ہیں۔ پھر لگتا گھر، اپنوں کی بے پناہ محبت کے باوجود نئی ٹیکنالوجی نے یکایک، نہ ختم ہونے والے پیار کا ایک سرچشمہ اندر تک گھول دیا ہے۔ آپ محض گھر کے پیار سے سیراب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ بہت سا پیار چاہیے آپ کو۔ کیونکہ خون کے اندر تک شامل ہوس کی آگ کل کی تہذیب تک تو خاموش رہی، لیکن آہستہ آہستہ نئی ٹیکنالوجی کے آتے ہی دھماکہ خیز اور پر تشدد ہو گئی۔ لیکن شاید اس دنیا میں بھی بد صورت چہروں کے علاوہ کچھ عام اور بے حد اچھے چہرے بھی ہیں۔ برائیوں کے علاوہ بہت کچھ اچھائیاں بھی ہیں۔ سیکس کے علاوہ ایک دوسرے کو جاننے کی چاہت بھی ہے۔ اور اچانک ایک دن۔
نیٹ اپن کرتے ہی یا ہو اسکرین پر ایک میسیج ملا تھا۔
میرا نام مہک ہے۔ مہک احمد۔ لاہور کی ہوں۔ عمر 23 سال، پانچ سال کی تھی، ماں گزر گئی۔ چھوٹی عمر سے ہی دو چیزوں کی عادت پڑ گئی۔ ادب پڑھنے کی اور ٹیلی پیتھی۔ تمہاری ایک کہانی پڑھی۔ لگا یہ کہانی تو میری ہی ہے۔ پھر مہینہ لگ گیا۔ تمہارا میل آئی ڈی تلاش کرنے میں زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس کچھ بھی کہنے کے لیے۔ شاید یہ پورا نظام اب اڑنے، تیز اڑنے کو مجبور کرتا ہے۔ کیونکہ پیار کرنے لگی ہوں تم سے۔ بغیر جانے، بغیر سمجھے۔
کیونکہ تمہاری کہانی کا لمس اندر تک محسوس کیا ہے میں نے۔ تمہاری عمر اگر 80 سال کی ہوئی تب بھی پیار کرتی تم سے۔ میرا میل مل جائے تو فوراً جواب دینا، اور ہاں۔ یا ہو میسینجر میں تمہیں ایڈ کر رہی ہوں۔ ہو سکے تو شام میں آنا۔ 6 بجے۔ پاکستان اور ہندستان کے وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہے۔ آؤ گے نا؟ تمہاری مہک۔
پتہ نہیں، اس میسیج کو کتنی بار پڑھا۔ پڑھتا گیا، ادب اور سیریل کی اس دنیا میں اس سے پہلے کتنی ہی چٹھیاں آئی تھیں میرے پاس۔ کتنی ہی لڑکیاں ٹکرائی تھیں۔ مگر یہ ای میل جیسے دل و دماغ پر چھا گیا تھا۔ جیسے ہوا میں اڑ رہا تھا۔ جیسے اندر، خون کا دوران بڑھ گیا تھا۔ تمہاری عمر اگر 08 سال بھی ہوتی ’نظریں بار بار اس کے لکھے جملوں پر دوڑ رہی تھی۔ میری عمر 32 سال ہے۔ اندر کوئی تشنہ خواہشات والا شخص تھا کیا؟ یا چالیس کی دہلیز پر کھڑا ایک ادھیڑ جسے اس بات سے سکون ملا ہو کہ کوئی 22۔ 32 سال کی لڑکی بھی اس سے پیار کر سکتی ہے۔ میں نہیں جانتا وہ کون سا لمحہ تھا۔‘ یورس سانیال ’لکھنے تک میں اپنا ای میل اسے سینٹ کرچکا تھا۔
اور اسی شام وہ پہلی بار یاہو میسینجر پر آئی اور جیسے حقیقت میں پرستان جیسی کسی نئی دنیا کے دروازے میرے لیے کھلتے چلے گئے۔ پھر تھوڑے سے دن گزر گئے۔
جب آپ پیار کرتے ہیں تو پھر آپ کو بتانا نہیں پڑتا۔ مشک کی طرح اس کی خوشبو آپ کے پورے وجود سے پتہ چل جاتی ہے۔ کئی بار ترانہ کے سامنے آتے ہوئے، یا اسے بازوؤں میں لیتے ہوئے چور سا بھی احساس ہوا۔ مگر یہ بات ایک مرد کے طور پر پوری ایمانداری اور سچائی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ترانہ کے ساتھ محبت کے کسی بھی لمحے میں مہک کہیں بھی موجود نہیں تھی۔ تو کیا وہ ایک لمحاتی کشش سے زیادہ نہیں تھی اور ترانہ مکمل طور پر میرے وجود پر حاوی۔
یا یہ ترانہ کا پیار تھا کہ مہک میری زندگی میں داخل تو ہونا چاہتی تھی۔ مگر ہو نہیں پا رہی تھی۔ یا یہ کہ ایک خاندان اور اس کی اخلاقیات سے بندھے ہونا بھی میری مجبوری تھی؟ یا پھر یہ کہ نیٹ کی اس چکا چوند دنیا میں ہم مکمل وجود کے ساتھ کہاں ملتے ہیں۔ شاید یہ بات مجھے کسی حد مطمئن کر رہی تھی۔ مگر سرحد پار ہی سہی، مہک کا جسم موجود تھا اور میں نیٹ کے کیمرے میں اس کے ہونے کی موجودگی کو پڑھ چکا تھا۔ کیا یہ محبت تھی۔ کیا ترانہ کی محبت میں کہیں کوئی کمی آئی تھی، جس نے اچانک مجھے مہک کی طرف موڑ دیا تھا۔ یا پھر ایک چالیس پار کے مرد کی مردانگی کو ملنے والی تھوڑی سی راحت تھی۔ ایک کم عمر کی لڑکی کا ساتھ پاکر۔ خاص کر ایک ایسی لڑکی کا، جو نہ صرف اس سے پیار کرنے لگی تھی، بلکہ اسے حقیقتاً پانا بھی چاہتی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


