عشق کے کوچے سے



شاید ترانہ سے بہت دن تک یہ سب کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کیونکہ جنگل میں آئی آندھی کی طرح ایک دن وہ اس سچ کو جان گئی۔ وہ چپ تھی۔

’ کیا تم بھی اسے پیار کرتے ہو؟‘ ترانہ کے لفظ برف کی مانند سرد تھے۔
’نہیں جانتا۔‘

’ شاید کرتے ہو۔‘ اس نے لمبی سانس کھینچی۔ مگر دوسرے ہی لمحہ اس کی آنکھوں میں برسوں کا پیار تھا۔ وہی دیوانگی اور جنون۔ ایک بار پھر اس نے مجھے میرے گلٹ کی کینچلی ’میں جانے سے روک دیا تھا۔

جاتے ہوئے وہ صرف اتنا کہہ پائی۔ ’کوئی لڑکا اگر میری زندگی میں آ جاتا تو تمہیں کیسا لگتا؟‘

’سانیال‘۔ اپنی ہی اگنی پریکشا سے گزرتے ہوئے میں خود سے بولا۔ ’سانیال۔ کیا کرو گے۔ آگے کیا کرو گے سانیال۔ وقت تمہیں بہا لے جانا چاہتا ہے اور یہ، تمہارے اندر کوئی مضبوط سا احساس ہے۔ جو تمہیں روک رہا ہے۔

شام میں نیٹ آن کرتے ہی مہک احمد آن لائن مل گئی۔ اے او اے۔ آن لائن ہوتے ہی سب سے پہلے اے او اے یعنی السلام علیکم لکھتی تھی۔ پھر الفاظ کا دریا نئے یوٹوپیا کے دروازے کھول دیتا۔ اور اس وقت۔ شاید میں کسی پرستان میں تھا۔ مہک کے لفظ خوشبو بن گئے تھے۔

مہک احمد کے معصوم سوال

اس نے پوچھا۔ اس نے بہت کچھ پوچھا۔ اس نے پوچھا کہ پرندے اور خواب میں بہتر کون ہے۔ جواب تھا۔ پرندے۔ کیونکہ پرندے سانس بھی لیتے ہیں اور بارش یا ساون کے موسم میں محبت کا ترانہ بھی گاتے ہیں۔ خواب تو ہرجائی ہوتے ہیں۔ آتے ہیں اور گم ہو جاتے ہیں۔

اس نے پوچھا۔ مور، تتلی اور بارش میں تمہیں کیا پسند ہے؟

اس نے پوچھا۔ ’آسمان میں چمکنے والا، اس کی اپنی پسند کا ایک تارا، چودہویں چاند سے بھی بہتر کیوں نظر آتا ہے؟‘

اس نے پوچھا۔ تم گلاب کیوں نہیں ہو، جسے میں توڑ کر اپنے سینے کے پاس لگا لیتی۔ تم میری دھڑکنیں میری سانس میں خوشبو کی طرح سما جاتے۔

’ تم تتلی کیوں نہیں ہو؟ جسے گلاب کی کیاریوں کے درمیان، مدہوش سی گھومتی ہوئی میں، پکڑنے کی کوشش میں کسی کانٹے سے اپنے ہاتھ زخمی کر لیتی۔ اور رسنے والی خون کی ہر بوند میں پاگل کردینے والی حسرت کے ساتھ محبت لکھ دیتی۔

اور پھر اس نے پوچھا۔ سنو ’اتنا پہلے کیوں پیدا ہو گئے۔ ؟ مجھ سے کافی پہلے۔ ؟ یہ کیسا انتقام ہے تمہارا؟ چلو‘ پیدا ہو گئے۔ تو میرا انتظار کیوں نہیں کیا؟ میرے خواب کیوں نہیں دیکھے؟ میری آہٹ کیوں نہیں محسوس کی؟ اس لیے کہ زمین کے ذرے ذرے میں، آگے کے بھی کئی شاندار برسوں تک میں کہیں نہیں تھی؟ مگر۔ میری خوشبو تو تھی جان۔ میرا احساس تو تھا۔ میری دھوپ۔ میرا سایہ تو تھا۔ بس تم ہی محسوس نہیں کر پائے۔ ’

اس نے پوچھا۔ تم نے شادی کیوں کرلی مجھ سے پہلے؟ میرا انتظار کیوں نہیں کیا؟

اس نے پوچھا۔ تمہیں کون کون مجھ سے زیادہ جانتا ہے؟ لیکن میں چاہتی ہوں تمہیں کوئی بھی مجھ سے زیادہ نہ جانے۔ تمہارے اندر، پھول، خوشبو اور خواب سے زیادہ میری مہک ہو۔ بیوی، چاند اور سورج سے زیادہ میں تمہیں دیکھوں۔ سرسراتی ہوا سے زیادہ میں تمہیں چھوؤں۔ میں تمہارے اندر کسی موسلا دھار بارش سی اتر کر بس برستی رہوں۔ تا عمر۔ ’

اس نے ٹھہر کر پوچھا۔ مجھے میرا حق لاؤ۔
جواب میں کہا گیا۔ یہ حق کسی اور کا ہے۔
’نہیں؟‘

’ حق دوسرے کا ہوتا تو تم یہاں نہیں ہوتے۔ بولو، کیوں ہو یہاں تم۔ اس کے پاس کیوں نہیں ہو، جس کے پاس تمہیں ہونا چاہیے۔‘

شاید وہ کھلکھلائی تھی۔ لیکن وہ اب بھی پوچھ رہی تھی۔ اور اس نے پوچھا۔ ’میرا حق مجھے دیتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو۔ محبت کا یہ حق کھو چکے ہوتے تو کیا میں یہاں ہوتی۔ تمہارے پاس۔ تمہاری سانسوں کے قریب۔ تمہاری جنبش، تمہاری بیتابیوں میں۔ تمہاری حیرانیوں میں۔ اور تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں میں۔ جو کمپیوٹر پر ٹائپ کرتے ہوئے حرف سے محبت اور لفظ سے شدت بن جاتے ہیں۔ آنکھوں سے خواب اور ہونٹوں سے نغمہ بن جاتے ہیں۔‘

اور پھر اس نے پوچھا۔ تمہارے بیٹے کو پتہ ہے کہ تمہاری زندگی میں اس کی ماں کے علاوہ بھی کوئی آ گیا ہے؟ ’

یہ وہی وقت تھا، جب وینس کا دل دھڑکا تھا۔ اور سیاروں کے جھرمٹ میں نویں سیارے کے روپ میں جانے گئے پلوٹو کو دیس نکالا دیا گیا تھا۔

’بولتے کیوں نہیں۔ کتنا پیار کرتے ہو مجھے۔‘

’نہیں کرتا۔‘ میں نے آہستہ سے دو لفظ ٹائپ کیے۔ وہ موسلادھار بارش کی طرح برس گئی۔ ’کرتے ہو‘ مگر ڈرتے بھی ہو۔ اچھا، ترانہ کتنا پیار کرتی ہے تمہیں۔ ؟ ’

’بہت‘
’مجھ سے زیادہ‘
’ہاں۔‘

’نہیں۔ مجھ سے زیادہ نہیں کر سکتی۔‘ وہ مطمئن تھی۔ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں کر سکتا۔ خود تمہارے جسم میں دھڑکنے والا دل بھی نہیں۔ نگاہوں سے محبت کا ترانہ چھیڑنے والی آنکھیں بھی نہیں۔ اور۔ میرا نام لینے والے تمہارے ہونٹ بھی تمہیں اتنا پیار نہیں کر سکتے جتنا میں کرتی ہوں۔

مہک رک گئی ہے۔ ’کیم‘ پر میرے اندر چل رہی ’یہ سونامی‘ یا طوفان کو دیکھا جاسکتا ہے۔ آنکھوں میں ایک لمحہ کو ہزاروں پرچھائیاں آ کر رخصت ہو گئیں۔ دوبارہ اس کے ہاتھ ٹائپ پر ہیں۔ میرا دل انجانے سوالوں کے سیلاب سے دھڑک اٹھا ہے۔

اس نے پوچھا۔ اچھا سنو۔ کتنا چھوا ہے ترانہ نے تم کو۔ میری بھی خواہش ہوتی ہے۔ ساون بن جانے کی۔ بارش بن جانے کی۔ ترانہ کی انگلیاں تمہارے بدن پر کیسے مچلتی ہیں۔ بہت آہستہ۔ بہت خاموشی سے۔ پیڑ کے سبز پتے پر گرنے والی اوس کی بوندوں کی طرح۔ کتنا دیکھا ہے اس نے تمہارے جسم کو۔ کتنا جانا ہے ترانہ نے۔ صرف اتنا ہی نا، جتنا ایک بیوی نبھائے جانے والے رشتوں کی بنیاد پر جان سکتی ہے۔ صرف اتنا ہی نا، جتنا کہ ایک جسم کا درد یا بھوک ہوتی ہے۔

صرف اتنا ہی نا، کہ ایک وقت، اس بھوک میں ایک ساتھ واسنا کی لہریں بھی شامل ہوجاتی ہوں گی۔ لیکن۔ وصال کے کسی بھی لمحے وہ کتنا تم کو دیکھتی ہے۔ تمہارے روم روم میں کتنے خواب دیکھ پاتی ہے۔ ؟ تمہاری سانسوں کی ہلچل میں کتنا ڈھونڈ پاتی ہے تم کو؟ ترانہ تم میں ہر بار ایک نئے سیلان کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں۔ ؟ ایک نئے گیت، نئے سپنے، اور نئے سیلان کو۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5