واویلا کرنے والی عورتیں

چند دن پہلے ایک تعلیمی ادارے میں سر عام محبت کے برملا اظہار کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ سوشل میڈیا پر پڑھی لکھی خواتین کی جانب سے ان بچوں کی اس حرکت پر خوب لے دے ہوئی، ان کی جانب سے محبت کا اظہار کرنے والے بچوں پر تعلیمی ادارہ بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ہم حیران ہیں کہ وہ یہ مطالبہ کیسے کر سکتی ہیں۔
عورتوں میں ممتا کا جذبہ بلا تفریق ہوا کرتا ہے۔

یہ تووہ عورتیں ہیں جو محبت کے ناکام انجام پر سینما گھروں سے آنسو صاف کرتے ہوئے نکلا کرتی تھیں۔ یہ وہ ہیں جو یونی ورسٹی اور کالج سے شروع ہونے والی محبت کو آئیڈیلائز کیا کرتی تھیں۔ ان کے سپنوں کا شہزادہ وحید مراد ہوا کرتا تھا۔

یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے کزن سے محبت میں ناکامی پر خود کشی کی کم از کم ایک بار تو ضرور کوشش کیا کرتی تھیں۔

وہ عورتیں جنہوں نے ظالم سماج کے ان کی محبت کے درمیان آڑے آنے اور ماں باپ کے سمجھانے بجھانے پر شادی کر لی۔

وہ عورتیں جن کے دل اور خیال سے پہلی محبت کبھی نہ نکل سکی۔
وہ عورتیں جو آج بھی فلموں کے رومانی مناظر شوق سے دیکھتی ہیں۔

وہی عورتیں آج بھی دس بار کے ریہرسل کیے بالکل ایسے ہی سین جو تعلیمی اداروں ہی میں شوٹ ہوئے، اسکرین پر دیکھ کر خاموش رہتی ہیں۔

وہی عورتیں آج اسکرین پر ایسے ہی ایک سین کی ویڈیو دیکھ کر شرم سے گڑی جا رہی ہیں۔

وہ عورتیں جنہیں اپنی بیٹیوں کی صلاحیت، ترقی کرنے کے جذبے پر اعتماد ہے۔ اور ان کی بیٹیاں مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ صرف ایک ویڈیو وائرل ہونے پر وہی عورتیں بوکھلائی ہوئی ہیں، خوفزدہ ہیں کہ ان کی بچیاں یونی ورسٹی جا کر بگڑ جائیں گی۔

‌وہ عورتیں جو جانتی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں لڑائی جھگڑے، جنسی ہراسانی، ٹیچرز کا فیورٹزم کھلے عام ہے۔

‌ وہی عورتیں اب انگشت بہ دنداں ہیں، توبہ توبہ محبت کا اظہار یوں سر عام!

Comments - User is solely responsible for his/her words