میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟ سوالات کے جواب

ڈیئر رابعہ! میرے آپ کے لیے لکھے گئے مضمون ”میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟“ کے مضمون کے نیچے کچھ تبصرے وصول ہوئے۔ ان تبصروں کو پڑھ کر مجھے ہما دلاور کے اعتراضات یاد آ گئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ڈاکٹر سہیل اور آپ اتنی بنیادی باتیں کیوں لکھتے ہیں؟ ہم یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں جو آج سے سو برس پہلے کر لی گئی تھیں اور دنیا ان باتوں کو سمجھ کر آگے بڑھ چکی ہے؟“

ان کے بارے میں ایک حقیقت پسند انسان کی طرح صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہم ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جہاں پچاس فیصد افراد اپنا نام لکھنا نہیں جانتے ہیں۔ جہاں سرکاری اسکولوں میں قوم پرستی اور تنگ نظر مذہبیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جہاں بے گناہ انسانوں کو عوام ہجوم بنا کر جان سے مار دیتے ہیں۔ وہ ایک غبارہ ہے جس کے اندر ایک خیالی دنیا آباد ہے۔ ہم خود بھی اس کے اندر رہتے تھے اور اگر اس میں سے نکل نہ گئے ہوتے تو شاید اپنی زندگی بچانے کے لیے، اپنی نوکریاں قائم رکھنے کے لیے اور اپنے بچوں کی بھلائی کی خاطر انہی باتوں پر یقین کرتے رہتے۔ اس لیے ان بنیادی باتوں کو آسان کر کے لکھتے رہنا ہو گا۔

تبصرہ:

Syed Mohammad Zahid
بہت خوب

Rn Rn

ویسے تو میں نر اور مادہ کا قائل ہوں۔ اور عورت اور مرد کو بھی اسی تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اور کسی محترمہ کی طرف سے لکھی گئی اس کہاوت کا بھی قائل ہوں کہ چھرا نیچے ہو یا اوپر کٹتی ہمیشہ کچری (خربوزہ) ہی ہے۔ لیکن بات اگر مردانگی کی ہو تو جو آپ نے لکھا یا رابعہ نے۔ اس سے اتفاق نہیں۔ ہمارے ہاں مردانگی کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی صنف مخالف کی بہت ساری بونگیوں کو نظر انداز کر جانا۔

طلاق جیسا اور دوسری، تیسری اور چوتھی تک کے اختیار کا آپشن انتہائی حالات میں بھی استعمال نہ کرنا اور کئی کڑوی کسیلی سن کر ٹال جانا ، شدید غصہ کی حالت میں ہاتھ نہ اٹھانا جبکہ طاقت ہو، غلطی چاہے مخالف فریق کی ہو شام ڈھلے منت ترلا کرنا اور خوشامد کر کے منانا، ہمارے ہاں اسی کو مردانگی کہا جاتا ہے۔ یعنی بڑا جگرا۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا: زیادہ تر لوگ اسی طرح نر اور مادہ کے قائل ہیں۔ پیدا ہونے سے پہلے ہی لڑکوں کے کپڑے، جوتے اور کھلونے نیلے اور لڑنے جھگڑنے سے متعلق اور لڑکیوں کی دنیا گلابی بنانے والی بلین ڈالر انڈسٹری اور مادہ کے جسم کو انکوبیٹر اور نر کے جسم کو لڑنے اور مرنے کے لیے استعمال کرنے والا مذہبی اور پدرسری معاشرہ یہی دماغ تخلیق کر رہا ہے۔ اس میں اگر کوئی مادہ اور نر کی تقسیم کا قائل ہو تو یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے۔

بچہ دانی کے ساتھ پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک خانے میں ڈال کر ان سے جو توقعات صدیوں سے کی جا رہی ہیں، ان کی وجہ سے نسل در نسل جسمانی اور ذہنی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جن کو ان مسائل سے مکمل طور پر لاعلم افراد ”ہسٹیریا“ کے خانے میں ڈال کر ان علامات کے اظہار کو ”بونگیاں“ ہی کہہ سکتے ہیں۔ ملکوں کے حالات اور تعداد و شمار اور حقیقت کھوکھلے الفاظ کے مکمل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ان الفاظ اور قانون اور رواج کے درمیان پل بنانے پر کام کی ضرورت ہے۔

تبصرہ:

اعجاز اعوان

مصنفہ نے حضرت آدم و حوا کو دیومالائی قرار دیا ہے جبکہ قرآن اسے حقیقت قرار دیتا ہے۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا: یہ مضمون مادی دنیا اور سائنسی اور سماجی ناپے جا سکنے والے حقائق پر مبنی ہے۔ قرآن کو زیادہ تر دنیا تاریخی لٹریچر کا حصہ جانتی ہے۔

تبصرہ:

Mehdi Zaidi
سلامت رہیں بہت ہی فکر انگیز تحریر

Ishrat Popal
بہت اچھی تحریر۔

Niaz Awan
Bhut khoob

تبصرہ:

خالد سہیل

Dr. Lubna Mirza….thank you for sharing your feminist alongside humanist perspective as a woman as well as a doctor…it will enhance social awareness and create a respectful humane society where girls will be as much respected, loved and cherished as boys…

ڈاکٹر خالد سہیل کے تبصرے پر احمد ناصر کا ردعمل

’’ڈاکٹرخالد سہیل صاحب! مضمون نگار نے بہت اچھا لکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کیا ہم ایک اور پہلو سے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں کہ نسوانیت کیا ہے؟ نسوانیت یہ نہیں ہے کہ ماں اپنے کماؤ بیٹے کے پیچھے بہو کو ذلیل کرے۔ نسوانیت یہ نہیں ہے گھر کی مالکن معصوم گھریلو ملازم کو جلائے، مارے، پیٹے، بھوکا رکھے اور پھر جان سے مار دے۔ نسوانیت یہ نہیں ہے سوتیلی ماں ہی اپنی سوتیلی اولاد پھر ظلم ڈھائے۔ نسوانیت یہ نہیں ہے ماں اپنی بہو پر اس لیے ظلم کرے کہ وہ صرف بیٹا ہی جنے۔ نسوانیت یہ نہیں ہے کہ سوتن شوہر کی پہلی بیوی پر ظلم کا باعث بن جائے۔ کیا خیال ہے؟‘‘

Abdul Sattar
well said and logical.


ڈاکٹر لبنیٰ مرزا:

نسل در نسل سے خواتین کو مکمل انسان نہ سمجھنے اور ان کو ملکیت کی طرح استعمال کرنے کی وجہ سے وہ اس بات پر مجبور کر دی گئیں کہ اپنے باپ، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے پر بوجھ بنی رہیں۔ جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوں، ان کی اپنی جاگیر اور ملکیت ہو اور اپنا گھر چلانے کے لیے ان کو کسی سے پیسے مانگنے کی ضرورت نہ پڑے تو پھر وہ اپنی بہو کو ایک مخالف کے طور پر نہیں دیکھیں گی۔ میں نے تو نوید کی ہری آنکھوں والی گرل فرینڈ کے ساتھ کبھی کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ہمیشہ اس کو مہنگے تحفے دیے۔ ہمیشہ اس کو اچھی طرح سے پڑھائی کرنے کا مشورہ دیا۔ ظاہر ہے کہ وہ اب میرے خاندان کا حصہ ہے۔ اگر وہ پڑھی لکھی ہو گی، دنیا کے حالات جانتی ہو گی تو اس میں ہمارا اپنا فائدہ نکلتا ہے۔ اپنے بچوں کو کمزور بنا کر ہم خود کو کمزور بناتے ہیں۔ نوید کی پرانی گاڑی بھی اس کو دے دی۔ حالانکہ اس کو بیچ کر چند ہزار ڈالر میں اپنی جیب میں بھی رکھ سکتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی تو میں نے دیکھا کہ اس کی گاڑی کتنی بدحال ہے اور اس کی سائیڈ ٹھکی ہوئی ہے۔

اس کے پاس ہمارے گھر کے دروازے کی چابی ہے، جب چاہے آئے اور جب چاہے چلی جائے۔ یہ لوگ جب کالج ختم کر لیں گے تو اپنا گھر بنا لیں گے۔ جب وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے تو آگے اسی طرح اپنے بچوں کی مدد کریں گے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے جیسا ان کے ساتھ کیا گیا۔ جس طرح تشدد نسل در نسل چلتا ہے اسی طرح اچھا سلوک بھی نسل در نسل چلتا ہے۔ یہ بچے جتنے دن میرے ساتھ میں رہیں تو ہم اس مختصر وقت میں ایک دوسرے کی زندگی میں خوش گواری کا سبب بنے رہیں تو ہم سب کے لیے اچھا ہی ہے۔

میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ ریٹائرمنٹ میں اتنا جمع کر لوں کہ بڑھاپے میں اپنے بچوں پر بوجھ نہ بننا پڑے۔ میری وصیت کے مطابق بیٹے اور بیٹی کو برابر ملکیت ملے گی۔ نسوانیت کی دنیا میں سب کو برابر حق دینے پر یقین کیا جاتا ہے۔ پدرانہ معاشرے میں باپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن مادرانہ معاشرے میں سب کو برابر اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے یہ عجیب بات ہے کہ مادرانہ معاشرے کو مادرانہ کہا جاتا ہے۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں خواتین اور بچوں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ بدسلوکی نہ ہو رہی ہو، پدرانہ معاشرے کو مادرانہ معاشرہ ہی لگتا ہے۔

میرے ملک امریکہ میں عیسائی قوم پرست پدرانہ سماج کے نزدیک ایک نارمل نظام وہی ہے جس میں باپ کی مرضی اور پسند سے دنیا کے تمام انسان مہروں کی طرح چلتے ہوں اور اس کو بغیر کسی زیادہ صلاحیت یا لیاقت کے، زیادہ تنخواہ، توجہ، تحفظ اور ترقی ملتی ہو۔ اس کے لیے اس نے اپنی شکل کے خدا بھی بنا لیے۔ آج بھی اس ملک میں جینڈر پے گیپ موجود ہے یعنی برابر کام کرنے پر خواتین کو تنخواہ کم ملتی ہے۔ لیکن ان خواتین نے اتحاد قائم کیے، ایک دوسرے کو سہارا دینا شروع کیا، اس کے خلاف قانونی مہم چلائی اور یہ جینڈر پے گیپ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔

ہم اولڈ ہوم میں رہیں گے، وہاں تاش اور شطرنج کھیلتے رہیں گے۔ بچوں کا دل چاہے تو ملنے آئیں ورنہ نہیں۔ ہماری طرف سے کوئی زبردستی نہیں۔ یہی ہمارا بڑھاپے کا پلان ہے۔ امید ہے کہ لوگ یہ سمجھ پائیں گے کہ انسانوں کو اس طرح مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے دوسرے انسانوں کی زندگی خراب کرنے پر مجبور ہوں۔ سچی محبت کے لیے اور انسانوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے معاشی آزادی لازمی ہے۔

نسوانیت یہ نہیں ہے سوتیلی ماں ہی اپنی سوتیلی اولاد پھر ظلم ڈھائے۔

توریت میں بیوی کنواری نہ ہو تو اس کو اس کے باپ کے گھر کے سامنے سنگسار کرنے کا سبق ہے۔ وہ اس لیے کہ کوئی آدمی نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہو جس کا خرچہ اس کو اٹھانا پڑے۔ جب ذمہ داریاں بانٹ لی گئیں اور پیسہ کمانا آدمی کے حصے میں آیا تو اس کو یہ یاد نہیں رہا کہ یہ آدھا اس کا بھی ہے جو زندگی کا بقایا آدھا کام کرنے میں مصروف ہے۔ جن خواتین کے پاس اپنی تنخواہ نہیں ہوتی اور وہ اپنے بچوں کے لیے اپنے شوہروں پر انحصار کرنے کے لیے مجبور ہوتی ہیں تو وہ اپنے شوہر کے دیگر خواتین کے ساتھ پیدا ہوئے بچوں کو بھی قبول نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ ان کے محدود سرمائے میں شریک ہو جاتے ہیں۔

چونکہ خواتین کو ایک برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ اس بے انصافی میں مذہب اور معاشرے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر ان سوتیلے بچوں کی مائیں زندہ ہیں تو اگر وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوتیں تو ان حالات کا سامنے آنے کا سوال پیدا بھی نہ ہوتا۔ ان تمام حالات اور تاریخ کی بنیاد معاشی بندھنوں سے جڑی ہے۔ جو سوتیلی مائیں اپنے پیروں پر کھڑی ہیں، وہ سخی ہیں، کسی بچے کو کرسمس پر سائیکل دلا رہی ہیں، کسی کی مرہم پٹی کر رہی ہیں اور کسی کو بڑا ہو کر ڈاکٹر انجینئر بننے کا مشورہ دے رہی ہیں۔

جب ان کے ذہن میں یہ پریشانی نہیں ہوتی کہ ان کا اور ان کے اپنے بچوں کا کیا بنے گا تو ان کے تعلقات سوتیلے بچوں سے خود ہی اچھے ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی کو امریکی قانون کے مطابق ان بچوں کو پالنا ہوتا ہے اور طلاق کی صورت میں اس کا 18 سال تک کی عمر تک خرچہ بھی دینا ہوتا ہے جو شادی کے دوران اس کی بیوی سے پیدا ہوئے ہوں چاہے وہ کسی کے بھی ہوں۔ شادی دو افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے ایک سماجی اور معاشی معاہدہ ہے۔

ایسا درست نہیں کہ اس میں سے جب چاہیں خود کود جائیں اور دوسری پارٹی پر اپنی ذمہ داریاں ڈال کر لٹکتا چھوڑ جائیں۔ جب اپنے اندر اور اپنے معاشرے کے اندر یہ ظرف پیدا کر لیا گیا ہو تو پھر خواتین سے بھی اس کی فرمائش کر سکتے ہیں۔ آج کی دنیا میں اشاروں، کنایوں اور آثار سے نتائج اخذ کرنے اور گھڑنے کا معیار بہت بدل چکا ہے۔ جب ڈی این اے ٹیکنالوجی ایجاد ہو گئی تو خداؤں نے انسان خواتین کے ساتھ آدھے خدا ہرکیولیس بچے پیدا کرنے بند کر دیے اور کنواری ماؤں کے معجزات بھی ختم ہو گئے۔

آدمیوں نے دیگر آدمیوں کے ساتھ مل کر یہ معاہدے بھی بنا لیے کہ اگر وہ دنیا میں کچھ مقام بنا لیں تو ان کے مرنے کے بعد بھی ان کی بیویاں اپنی پسند اور مرضی سے دیگر آدمیوں کے ساتھ تعلقات نہ بنا سکیں۔ لیکن اپنے لیے سب جائز ہے۔ خواتین زندہ رہیں یا مر جائیں، ان کے کسی بھی اچھے کام یا اعلیٰ مرتبے بھی بنیاد پر دنیا بھر کی خواتین آپس میں مل کر کوئی ایسا معاہدہ نہیں بناتیں کہ تمہارے آدمی کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔

اعلیٰ ظرف انسان تمام انسانوں کی خوشی، بھلائی اور بہبود میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ بے وقوفی ہے کہ ہم خیالی نظاموں کی بنیاد پر دنیا کو یہ بتانے کی کوشش میں لگے رہیں کہ کس کو کیا پسند اور ناپسند ہونا چاہیے حالانکہ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی میں بزنس کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ایک چمچ بھی اسی طرح بنایا اور فروخت کیا جاتا ہے جیسا کہ خریداروں کے سروے کے نتائج سے بہترین پایا گیا ہو۔ خواتین یہی سب کچھ بچپن سے دیکھتی آئی ہیں۔

اس لیے ان کو سمجھنا ہو گا کہ گھریلو سیاست سے یہ مسائل انفرادی طور پر حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس لیے وہ جتنی جلدی اس تنویمی نیند سے جاگ جائیں گی، اس نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہو گا۔ وقت ہی سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جن کا سرمایہ ختم ہو چکا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے یعنی آنٹیوں کو اپنے بچوں کو بھی آزاد کر دینا ہو گا اور خود کو بھی۔

”نسوانیت یہ نہیں ہے گھر کی مالکن معصوم گھریلو ملازم کو جلائے، مارے، پیٹے، بھوکا رکھے اور پھر جان سے مار دے۔“

نسوانیت یہ واقعی نہیں ہے، نہ ہی دنیا کی کسی بھی کتاب میں اس کا سبق ملتا ہے اور نہ ہی باقاعدہ طور پر کسی بھی ادارے میں یہ تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ چند خواتین کا ذاتی مجرمانہ فعل ہے۔ اس کا مقابلہ اس مردانگی کے سبق سے کرنا جس میں مذہب، قانون اور معاشرتی رویے سے باقاعدہ صنف کی بنیاد پر آدمیوں کو بالاتری اور زیادہ حقوق دینا شامل ہیں، ایک بے دیانت تقابل ہے۔

اس سے پہلے مضمون میں بینک مینیجر صاحب کے اپنے بچے ملازم کو حرامی کہنے کو مردانگی کے منفی مفہوم سے جوڑنے کا ایک پس منظر ہے۔ لفظ حرامی ایک گالی کیوں ہے؟ اگر ایک بچے کی ماں اسپرم ڈونیشن سے یا اپنی مرضی سے بنائے گئے محبت کے تعلق سے بچہ پیدا کرتی ہے اور اس کو اپنی کمائی سے خود پالتی ہے تو اس کا بقایا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ تعلق صرف اتنا ہے کہ کسی آدمی کو اس عورت کی ماں بننے کے لیے شوہر کی ضرورت کو استعمال کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ان بچوں کو حرامی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان کو لو چائلڈ یعنی محبت کا بچہ کہتے ہیں۔ نسوانی دنیا کے اندر حرامی بچہ وہ ہوتا ہے جو ناپسند شادی، شادی میں ریپ، برتھ کنٹرول اور حمل گرا دینے کی غیر دستیابی سے مرضی کے بغیر اس کی ماں پر تھوپ دیا گیا ہو۔

میری سابقہ سیکرٹری کے پاس جرنلزم میں بیچلر ڈگری تھی۔ ساتھ میں کام کرتے ہوئے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہے بلکہ اس کے ماں باپ پروفیسر اور میوزیم کے ڈائریکٹر ہوتے تھے۔ اس کی عمر بھی مجھ سے زیادہ تھی۔ جتنے سال بھی ہم نے ساتھ میں کام کیا، ہمارا تعلق دوستی کا رہا۔ اس کے بچے میرے سامنے بڑے ہوئے۔ جس دن اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بڑی بیٹی حمل سے ہے تو میں ایک لمحے کو یہ سن کر پریشان ہو گئی۔

اتنی کم عمری میں حمل اور ابھی نہ تعلیم ختم ہوئی ہے اور نہ ہی اس کے پاس اچھی نوکری ہے۔ وہ خود کو اور اپنے بچے کو کیسے سنبھالے گی؟ اس کی ماں کی تنخواہ بھی بہت کم ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد بمشکل اپنا گھر جوڑے رکھنے میں کامیاب ہے۔ دوسری طرف چونکہ وہ میری بیٹیوں کی طرح ہی ہے، میں اس کو چار باتیں بھی سنانا چاہتی تھی کہ تم نے برتھ کنٹرول توجہ سے کیوں نہیں لیا۔ جب تک بچے پیدا کرنے کے لیے ذہنی، جسمانی اور معاشرتی لحاظ سے تیار نہ ہوں، ہمیشہ دو طرح کے برتھ کنٹرول استعمال کرنے چاہئیں۔

لیکن میں نے ان میں سے کچھ نہیں کیا اور بس مبارک باد دی اور کہا کہ امید ہے کہ ماں اور بچے کی صحت ٹھیک رہے گی۔ اس نے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ ڈاکٹر مرزا نے یہ خبر سن کر کیا کہا؟ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بچے اس بات کی پروا کرتے ہیں کہ ان کے والدین اور جاننے والے ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ زندگی میں سب کچھ ہمیشہ ٹھیک نہیں رہتا ہے۔ جو بھی حالات سامنے آ جائیں ان کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ میں نے اس کے لیے اپنے گھر میں بے بی شاور رکھا جس میں ساتھ میں کام کرنے والے افراد اور اس کے دوستوں کو بلایا جو اس کی بچی کے لیے تحفے اور ضرورت کا سامان لائے۔

بے بی شاور پارٹی میں ہاتھوں پر مہندی لگائی گئی۔ اس نے کہا کہ میرے پیٹ پر گڈ لک کے لیے مہندی لگا دیں۔ اس کے پھولے ہوئے پیٹ پر میں نے حنا سے پھول بنا دیے۔ میں نے اس کو دو سو ڈالر تحفے میں دیے اور کہا کہ اپنی بچی کے لیے کالج سیونگ انویسٹمنٹ اکاؤنٹ شروع کرے اور اس میں اپنی تنخواہ سے تھوڑے پیسے ڈالتی جائے کیونکہ 18 سال پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔ جب تک اس کی بیٹی بڑی ہو تب تک اس میں اتنے پیسے ہوں گے کہ وہ کالج جائے۔

529 اوکلاہوما کے کالج سیونگ اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے جب اس رقم میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کو تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے نکالنے پر ٹیکس نہیں دینا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کی بچی ہمیشہ جب بھی ہمارے آفس آتی اور اپنی نانی کی گود میں بیٹھی رہتی اور ادھر ادھر بھاگتی تھی تو اس کی معصوم حرکتیں دیکھ کر ہم لوگ ہنستے اور خوشی محسوس کرتے تھے۔ اس بات کو کئی سال گزر گئے۔ اب اس لڑکی کی شادی ہو چکی ہے۔ اس کا شوہر پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ وہ خود بھی کالج جا رہی ہے۔ اپنی بچی کی ذمہ داری کے احساس اور اپنی ماں اور سماج کے سہارے کے ساتھ یہ نوجوان اپنی زندگی بہتر ڈگر پر گزارنے کے لائق ہوئے۔ بیمار مرادنگی کے ساتھ مر جاؤ اور مار دو کے علاوہ بھی مسائل حل کرنے کے طریقے دنیا میں موجود ہیں۔

”نسوانیت یہ نہیں ہے کہ سوتن شوہر کی پہلی بیوی پر ظلم کا باعث بن جائے!“

کوئی ایک انسان کسی دوسرے انسان پر ظلم کیوں کر سکتا ہے؟ قانون کدھر ہے؟ یہ سزا کے لائق جرم ہے۔ سوشل جسٹس کے مطابق شوہر کی پہلی بیوی رخصت ہو چکی ہوں گی اور ان سے حساب کتاب صاف ہو چکا ہو گا، تبھی نئی خاتون اس کی زندگی میں آئی ہوں گی۔ شادی شدہ زندگی کے دوران تخلیق کی گئی تمام ملکیت آدھی کر کے دونوں کو دے دی گئی ہو گی۔ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی انصاف سے بانٹ دی گئی ہو گی۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ خواتین کے نئے تعلق سے پہلے پرانے شوہر رخصت ہو چکے ہوں گے اور ان کے درمیان حساب کتاب صاف ہو چکا ہو گا۔

یہ نئے افراد ایک پرانصاف معاشرے میں اپنے پارٹنر کے سابقہ پارٹنر کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ کسی بھی انسان کو نہ تو ایسا کرنے کی ضرورت ہونی چاہیے اور نہ ہی ان کو ایسا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ اپنا ملک اور معاشرہ چلانے کا غلط طریقہ ہے جو کہ ان نتائج سے صاف ظاہر ہے۔ اگر کسی نظام میں یہ حالات چل رہے ہیں تو اس میں سدھار کی اشد ضرورت ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: مردانگی چند انچوں کا نام نہیںلڑکے روتے نہیں ہیں، تم لڑکی ہو کیا؟ مرد بنو
Comments - User is solely responsible for his/her words