نوجوان لکھاری ابصار فاطمہ کا پہلا سنجیدہ ناول


’ہم سب‘ پر کالم لکھتے رہنے کے دوران جن لکھاریوں ’ادیبوں اور دانشوروں سے میری غائبانہ ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ابصار فاطمہ بھی ہیں۔ میں نے جب ان کے کالم اور افسانے پڑھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کم عمری میں ہی زندگی اور ادب کے بارے میں سنجیدہ رویے کی مالک بن چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کے پہلے ناول۔ افسانے کی حقیقی لڑکی۔ پڑھنے کا موقع ملا تو میں حیران بھی ہوا اور متاثر بھی۔ حیران اس لیے کہ میں نہ جانتا تھا کہ انہوں نے ناول لکھنے کا بھاری پتھر اٹھانے کی ہمت کی ہے اور متاثر اس لیے کہ وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ ناول لکھنے کے لیے جس محنت‘ ہمت اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے اس میں بہت سے لکھاری کامیاب نہیں ہوتے۔ ان کے قلم کا سانس چند باب لکھنے کے بعد ہی پھولنے لگتا ہے اور پھر ان کا ادبی اسقاط ہو جاتا ہے۔

ابصار فاطمہ کا ناول سماجی حقیقت پسندی کی اس روایت سے جڑا ہوا ہے جس کی بنیادیں پشکن ’دوستو وسکی اور چیخوف جیسے روسی لکھاریوں نے رکھی تھیں اور پھر غلام عباس‘ کرشن چندر ’احمد ندیم قاسمی اور عصمت چغتائی جیسے اردو کے ترقی پسند ادیبوں نے ان بنیادوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔

ابصار فاطمہ ایک کہانی کار ہی نہیں ماہر نفسیات بھی ہیں اس لیے انہوں نے اپنے ناول کے کرداروں کا نفسیاتی اور سماجی تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ ناول ایک ایسی لڑکی اور عورت بسمہ کی کہانی ہے جو معمولی بھی ہے اور غیر معمولی بھی۔ معمولی اس لیے کہ بسمہ بھی مشرق کی سینکڑوں ’ہزاروں اور لاکھوں لڑکیوں کی طرح ایک روایتی خاندان اور معاشرے میں پیدا ہوتی ہے اور پلتی بڑھتی ہے اور اس کی روایتی انداز سے شادی کر دی جاتی ہے۔

یہ کہانی غیر معمولی اس لیے ہے کہ بسمہ ایک حساس لڑکی ہے جو اپنے دل کے نہاں خانوں میں خواب پالتی ہے۔ ناول کے آغاز میں تو اس کے رومانوی خواب ماحول کے تلخ حقائق سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتے ہیں لیکن پھر حالات کی سنگینی اسے ایک ایسے موڑ پر لے جاتی ہیں جہاں عورتیں یا تو مایوسی کی تاریکیوں میں گھر کر خود کشی کر لیتی ہیں اور یا ایک امید کی انگلی تھامے ایک نئی زندگی تخلیق کرتی ہیں۔

ناول کا ایک کردار گل بانو زبردستی کی شادی اور خاندان کی مشرقی عزت و غیرت پر قربان ہو کر اور زہر کھا کر خود کشی کر لیتا ہے جبکہ بسمہ دارالاماں پہنچ کر ایک نیا جنم اختیار کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس کا BREAKDOWNدھیرے دھیرے ایکBREAKTHROUGHکا روپ دھارتا ہے۔ اس نئے جنم کے حصول کے لیے ناول کا ایک توانا کردار بختاور احمد اس کی مدد بھی کرتا ہے اور حوصلہ افزائی تھی۔

اگرچہ ناول عورتوں کی آزادی اور خودمختاری کے بارے میں ہے لیکن اس میں کہیں بھی مردوں کے خلاف غصہ ’نفرت یا تلخی نہیں پائی جاتی بلکہ ابصار فاطمہ مردوں کے بارے میں بھی ہمدردی رکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ عورتیں اور مرد دونوں ایک غیر منصفانہ نظام کی قید میں ہیں اور انہیں مل کر اس قید سے آزاد ہونا ہے۔ اس غیر عادلانہ نظام میں طاقت اور اختیار رکھنے والے‘ چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں ’اس طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور کمزور و ناتواں لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔

ابصار فاطمہ اپنے ناول میں عورتوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہوں گی اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہوں گی تو وہ کسی نہ کسی مرد چاہے وہ باپ ہو یا بھائی ’شوہر ہو یا بیٹا‘ کی دست نگر رہیں گی اور وہ مرد جب چاہیں گے ان کا اقتصادی ’نفسیاتی اور سماجی استحصال کریں گے۔ مرد کی دست نگر رہ کر وہ آزاد و خودمختار زندگی نہیں گزار سکتیں۔

ابصار فاطمہ کی جزئیات نگاری قابل تحسین اور ناول لکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس ناول میں عورتوں کے مختلف کرداروں۔ جن میں بسمہ کی ماں اور دادی ’سہیلی اور اس کی ماں اور سسرال کی کئی عورتوں۔ کی پیچیدہ نفسیات تھری ڈائمنشنل انداز سے پیش کی گئی ہے جس سے ناول میں سسپنس بھی رہتا ہے اور ناول کو READABLEبھی بناتا ہے۔

ابصار فاطمہ کے ادبی ذوق ’نفسیاتی تجزیے اور سماجی تبحر سے محظوظ و مسحور ہونے کے لیے چند مثالیں حاضر ہیں

۔ ۔
’ میں پریگننٹ ہوں‘ گل بانو نے ایسے کہا جیسے خود بھی نہ سننا چاہتی ہو

بسمہ کو اپنے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے۔ یہ لفظ اس کے اور اس کی عمر کی لڑکیوں کے لیے کتنا ممنوعہ تھا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے سن کے بھی کوئی غیر اخلاقی حرکت کی ہو۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب اسے رومینٹک لگنا چاہیے یا خوفناک ’

۔ ۔

’ارے بھائی کے کرتوت بھگت رہی ہے۔ بھائی نے گاؤں کی دوسری برادری کی لڑکی سے بھاگ کر شادی کر لی بلکہ خدا جانے کی بھی یا۔ خیر اب وہ دونوں روپوش ہیں۔ جرگے نے عوض میں پانچ لاکھ جرمانہ اور گل بانو کا نکاح لڑکی کے چاچا سے کرنے کا فیصلہ دیا‘

۔ ۔ ۔

’او میڈم! جسے تم شرافت کہہ رہی ہو آج کل وہ صرف ان لڑکوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی اور صلاحیت نہیں ہوتی‘

۔ ۔
’مگر امی وہ صرف محبت کا اظہار بھی تو ہو سکتا ہے
فائزہ! زبردستی محبت کا اظہار محبت کا اظہار نہیں ہوتا اپنی طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے ’
۔ ۔
’میں تو دوسری شادی کر کے اپنی زندگی سیٹل کر لوں گا تم کیا ہمیشہ اس کاغذی رشتے کی قید میں رہو گی؟‘
۔ ۔ ۔
’بھئی دیکھو مرد تو ہوتا ہی غصہ کا تیز ہے عورت کو ہی خیال کرنا پڑتا ہے کہ اسے غصہ نہ آئے‘
۔ ۔ ۔
’اتنی خوبصورت لڑکیاں گھر بنانے والی نہیں ہوتیں ان کا ایک شوہر سے دل نہیں بھرتا‘
۔ ۔
’اب ایسے کپڑوں میں جوان عورت سامنے ہو تو مرد بہک ہی جاتا ہے‘
۔ ۔
’آپ پہ زنا بالجبر کا الزام ہو تو بھی آپ پاکیزہ اور میرے لیے ایک میسج بھی آئے تو میں داغدار‘
۔ ۔ ۔

ابصار فاطمہ کے ناول کا پیغام اس ایک جملے میں ہے جو ناول کی توانا آواز بختاور احمد نے اپنی ایک تقریر میں پیش کیا۔ ’جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا‘

ابصار فاطمہ عورتوں کو اپنے تمام تر دکھوں ’پریشانیوں اور آزمائشوں کے باوجود ایک امید اور ایک آس دلاتی ہیں۔ انہیں انسانی ارتقا پر یقین کامل ہے اور وہ جانتی ہیں کہ عورتوں کی انفرادی اور اجتماعی کوششیں رنگ لائیں گی اور عورتوں کی آئندہ نسلیں ہم سے بہتر زندگی گزاریں گی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ مشرق میں ابھی تک عورتیں وہ حقوق حاصل نہیں کر سکیں جو ان کا انسانی حق ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی قوم اور ملک اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک اور قوم کی عورتیں آزاد نہ ہوں اور عورتوں کو انسانی حقوق دلوانا ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔

اگرچہ ابصار فاطمہ کا یہ پہلا ناول ہے لیکن سماجی اور ادبی حوالوں سے اہم ہے۔ یہ ناول ابصار فاطمہ کے فن ناول نگاری کے درخشاں مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔

ابصار فاطمہ لکھاری ہونے کے ناتے میری ادبی دوست بھی ہیں اور ایک سائیکالوجسٹ ہونے کے ناتے میری رفیق کار بھی اور مجھے ان کے ساتھ ادبی اور پیشہ ورانہ دونوں دوستیوں پر فخر ہے۔

۔ ۔ ۔
ناول کے بارے میں محترم ابصار فاطمہ اور خالد سہیل کا مکالمہ
۔ ۔ ۔
خالد سہیل: پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ کے ناول۔ افسانے کی حقیقی لڑکی۔ پر آپ کو میرا تبصرہ کیسا لگا؟

ابصار فاطمہ :آپ کا میرا ناول پڑھنا اور اس پہ اتنا تفصیلی تبصرہ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ جب سے ’ہم سب‘ پہ لکھنا شروع کیا اور آپ سے شناسائی ہوئی آپ میرے لیے استاد کا درجہ رکھتے ہیں جن سے نہ صرف میں نے نفسیات کے حوالے سے سادہ سے سادہ انداز میں مضامین لکھنے کا طریقہ سیکھا ساتھ ہی جس طرح آپ قارئین کی رائے کا احترام کرتے ہیں وہ بھی میرے لیے ایک اہم قابل عمل رویہ ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ آپ نے ناول کے ہر اس پہلو پہ نظر کی جو میں قارئین تک پہنچانا چاہتی تھی۔ اور اس کا اندازہ ان اقتباسات سے ہوتا ہے جو آپ نے بطور حوالہ اپنے مضمون میں پیش کیے۔

خالد سہیل : پھر یہ بتائیں کہ کالم اور افسانے لکھتے لکھتے آپ کو ناول لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

ابصار فاطمہ : ناول لکھنے کے ارادے کے حوالے سے بات کروں تو یہ در اصل ایک لمبے عرصے سے ذہن میں پکتے لاوے کا نتیجہ سمجھیے۔ میں جس شہر میں رہتی ہوں یہاں سنجیدہ ادب تک رسائی بہت مشکل ہے۔ جس تعلیمی نظام میں ہمیں اردو پڑھائی جاتی ہے وہاں ادب کو بطور ادب نہیں پڑھایا جاتا جماعتوں میں کسی قسم کے کوئی تخلیقی مباحث نہیں ہوتے۔ حد یہ کہ کالج کے پہلے سال میں نے اپنے انگریزی کے استاد سے پوچھا کہ سر ہم جب کسی کہانی یا نظم پہ رائے لکھتے ہیں تو ہمیشہ ”کریٹیکل اپریسیئشن“ ہی کیوں لکھتے ہیں۔

فوراً جواب دینے کی بجائے انہوں نے مجھے یوں گھور کے دیکھا جیسا انہیں میرے ذہنی توازن کے درست ہونے پہ شبہ ہو۔ پھر کہا آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ اس پہ کچھ نہ لکھیں؟ میں نے وضاحت کی کہ نہیں جناب میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہم نصاب میں موجود مضامین اور کہانیوں پہ تنقید میں صرف ستائش ہی کیوں کرتے ہیں۔ ان کے کچھ کمزور یا منفی پہلو بھی تو ہوسکتے ہیں۔ انہوں کافی ناراض ہو کے جواب دیا کہ یہی طریقہ ہے آپ لکھنا چاہیں یا نہیں آپ کی مرضی۔ لیکن اتنے بڑے ادیبوں پہ آپ جیسے بچے کیا تنقید کریں گے؟

یہ واقعہ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ کس طرح نصاب میں ادب کو ہر ممکن حد تک غیر متعلق، غیر دلچسپ لیکن مقدس بنا کے طلباء پہ مسلط رکھا گیا ہے۔ ہمارے اسکول کالج کے نصاب میں نئے ادیبوں کا کوئی نام و نشان نہیں میری والدہ کے زمانے میں سر سید کا جو بوڑھا اپنے ماضی پہ افسوس کر رہا تھا وہ آج بھی برس کی اخیر رات بیٹھا افسوس ہی کر رہا ہے۔ اس کی جگہ کوئی اور افسانہ کوئی اور کردار نہیں لے سکا۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میں اور مجھ جیسے کئی نوجوان ادب کے نام پہ ڈائجسٹس میں چھپنے والے ناول اور افسانے پڑھنے پہ اکتفا کرلیتے ہیں۔ اس قسم کے فکشن میں زندگی بہت غیر حقیقی انداز میں پیش کی جاتی ہے۔ رومان کی ایک تکلیف دہ شکل دکھائی جاتی ہے جہاں جنسی اور جذباتی ہراسانی اور تشدد کو محبت کی ادا گردانا جاتا ہے۔ یہاں ہمیشہ صرف خوبصورت لڑکا و لڑکی ہی ہیرو ہیروئن ہوسکتے ہیں۔ جو ہیرو ہے اسے ہر منفی روئیے اور مجرمانہ حرکت کرنے کا اجازت نامہ دیا گیا ہوتا ہے۔

کہیں وہ بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے ہیروئن کو اغوا کر کے کے نکاح کر لیتا ہے، کہیں بھرے مجمعے میں تھپڑ مار دیتا ہے، کہیں خودکشی کی دھمکی دیتا ہے، شادیوں میں ہیروئن پہ فحش قسم کے جنسی تبصرے کرتا ہے اپنی مردانگی کے اظہار کے لیے زبردستی جنسی تعلق قائم کرتا ہے اور یہ سب رومان بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہیروئن کو مشرقی لڑکی دکھانے کے لیے اسے ہر قسم کے شعور سے عاری کر کے پیش کیا جاتا ہے ہر وہ حق جو وہ بطور انسان رکھتی ہے اسے بغاوت، بے راہ روی اور بری لڑکی کا چلن دکھا کر اس سے باز رکھا جاتا ہے، نہ وہ اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق رکھتی ہے، نہ کسی صلاحیت کی بنیاد پہ کیرئیر بنا سکتی ہے، نہ اپنے شعور کی بنیاد پہ زندگی کا ساتھی چن سکتی ہے حد یہ کہ اسے کم صورت ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ دوسری طرف ایک اور قسم کا ادب ہے جو جرم و سزا سے متعلق کہانیوں پہ مشتمل ہوتا ہے جہاں مجرم ہمیشہ برا ہوگا جہاں ہمیشہ ملک کا ہر مسئلہ انڈیا کی سازش نکلے گا۔

اسکول کی سطح تک یہ سب ٹھیک لگتا تھا۔ رومانوی فکشن مزاحیہ ضرور لگتا تھا غیر اخلاقی نہیں لگتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے شعور بڑھتا گیا یہ کہانیاں مجھے شدید فرسٹریشن میں مبتلا کرتی گئیں کہ ایک عورت یہ ڈیزرو نہیں کرتی جیسا یہ پیش کرتے ہیں۔ ایک باشعور نفیس مرد یہ حرکتیں نہیں کرتا جیسا ان ناولز کا ہیرو کرتا ہے۔ جب نفسیات پڑھی تو یہ باتیں اور شدت سے محسوس ہونے لگیں کیوں کہ بہت سے معاشرتی مسائل ہیں جن کا پس منظر سامنے لایا ہی نہیں جاتا اور متعلقہ افراد مطعون ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔

آپ کو شاید جان کے حیرت ہوگی کہ یہ ناول میں نے افسانے اور مضامین لکھنے سے بھی پہلے لکھنا شروع کیا تھا جو قسط وار فیس بک کے ایک پیج پہ شیئر کیا کرتی تھی۔ اور کئی دوسرے فیس بک گروپس پوچھ کے اور بغیر پوچھے اس کے اقساط آگے شیئر کرتے رہے۔ میں ہر قسط کے آخر میں پڑھنے والوں کے لیے کچھ سوال رکھتی تھی۔ تاکہ ان مسائل پہ گفتگو ہو سکے جو ہمارے سامنے ہیں لیکن ہم انہیں دیکھ نہیں پاتے۔

ایک اور بات جو ایک عرصے سے میرے دماغ میں تھی وہ تھی بنیادی کرداروں کے اردگرد موجود کردار۔ مجھے یاد ہے بچپن میں، میں نے ایک سندھی اسٹیج پروگرام دیکھا تھا جس میں دو کردار چھوٹا سا کامیڈی سین پیش کر رہے تھے وہاں ایک کردار دوسرے سے کہتا ہے۔ تمہیں پتا ہے ہم کیا ہیں؟ ہم ”اور دوسرے“ ہیں جب ڈرامہ ختم ہوتا ہے تو کچھ کے نام آتے ہیں اور ہمارا نام کبھی نہیں آتا ہمیں کہہ دیا جاتا ہے اور دوسرے جب کہ ہم کہانی میں موجود ہوتے ہیں۔

اسی لیے میں نے کہانی میں اسی طرح کے کچھ اور دوسروں کی کہانی الگ سے شامل کی کہ کہنے کو یہ اور دوسرے ہیں لیکن ان کا ہونا بھی بسمہ کی کہانی پہ گہرا اثر ڈال رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ بسمہ کی کہانی کے سائیڈ کریکٹر ضرور ہوں ایک کہانی ان کی بھی ہے جہاں یہ مرکزی کردار ہیں۔

خالد سہیل : ناول لکھنے میں آپ کو کن دشواریوں ’مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟

ابصار فاطمہ : ناول لکھنے دلچسپ تجربہ رہا۔ میں روز کام سے فراغت کے دوران تھوڑی قسط ٹائپ کرتی تھی اور ہفتے کے ایک دن کمپائل کر کے پوسٹ کر دیا کرتی تھی۔ پھر قارئین نے مطالبہ شروع کیا کہ ایک ہفتے کے بعد تو بہت دیر ہوجاتی ہے آپ ہفتے میں دو اقساط شیئر کیا کریں۔ ہم خوش گئے کہ لوگ دلچسپی سے پڑھ رہے ہیں تو ہفتے میں دو اقساط شیئر کرنے لگی۔ پھر مطالبہ ہونے لگا کہ آپ روز شیئر کر دیا کریں وہ بھی کرنے لگی کچھ نے مطالبہ کیا کہ یا تو قسط اور لمبی کریں یا پھر دن میں دو اقساط لگائیں۔

یہ مطالبہ میرے لیے مشکل تھا اس لیے روز ایک قسط والی روٹین تک ہی محدود رہی۔ لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ تقریباً چار سے پانچ ماہ کے درمیان ناول مکمل ہو گیا۔ ہاں اس کے بعد چھپوانے کے لیے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے پیسے دے کر چھپوایا لیکن میرے حصے کی تمام کتب ابھی تک مجھے نہیں مل سکیں ہیں۔ جب کہ پبلشر کا کہنا ہے کہ آپ کی کتاب کوئی نہیں خریدتا میرے پاس بھی بس ڈھیر لگا ہوا ہے۔

خالد سہیل: اب آپ کو ناول کے بارے میں کس قسم کا رد عمل مل رہا ہے؟

ابصار فاطمہ : قارئین کی جانب سے تو بہت اچھا ردعمل ملا۔ ہاں کچھ نے یہ اعتراض کیا تھا کہ کسی ایک ہی کی زندگی میں یا کسی ایک گھر میں اتنے مسائل کیسے ہوسکتے ہیں۔ جب کہ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے مسائل میں اردگرد دیکھ رہی ہوں اس کے مقابلے میں میں نے بہت کم مسائل ناول میں شامل کیے۔

ہاں جب اس ناول کی رسائی سنجیدہ ادبی حلقوں تک ہوئی وہ بھی تب جب ان لوگوں نے میرے بہت سے مختصر افسانے پڑھ لیے تھے ایسے میں ان کی شکایت یہ ہے کہ یہ ناول بہت سادہ ہے غیر ادبی انداز میں لکھا ہوا ہے۔ فکشن کی کمی ہے۔ جملے بہتر ہوسکتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ یہ میرے اسلوب کے معیار سے کافی کم ہے وغیرہ وغیرہ۔

خالد سہیل : ناول لکھنے کا تجربہ repeat or delete؟

ابصار فاطمہ: ناول لکھنے کا تجربہ دلچسپ ہے۔ مجھے کئی قارئین نے کہا کہ ہم ناول نہیں پڑھتے لیکن آپ کا ناول اتنا دلچسپ لگا کہ یہ پورا پڑھا، کچھ نے کہا کہ ہم نے ناول پڑھنا چھوڑ دیا تھا لیکن آپ کا ناول مکمل پڑھا۔ کچھ نے کہا کہ ان کے لیے یہ اب تک کا بہترین ناول ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ کئی افراد اس رائے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ اول کوشش ہونے کی وجہ سے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور کافی گنجائش ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ میری پہلی اہم کامیابی ہے۔ ابھی مزید دو ناولز پہ کام شروع کیا ہوا ہے۔ جن میں سے ایک کسی حد تک اسی طرح کا سادہ اسلوب رکھنے والا ناول ہے۔ تاکہ معاشرے کے عام مسائل اکثریت تک پہنچ سکیں دوسرا نسبتاً علامتی پیرائے کا ہے۔ دیکھیے کب جاکر مکمل ہو پاتے ہیں۔

خالد سہیل: اگر دوسرا ناول لکھیں گی تو پہلے ناول سے کس لحاظ سے مختلف ہوگا؟

ابصار فاطمہ : اگلے ناولز کے لیے میری کوشش ہوگی کہ یقیناً بہتر معیار کے حامل ہوں گے۔ اب تک جتنا لکھنا سیکھا ہے وہ تمام صلاحیتیں استعمال کروں گی لیکن یہ خیال ضرور رکھوں گی کہ یہ صرف کسی مخصوص طبقے کی تفریح طبع کے لیے نہ ہو۔ اگر اس میں مسائل عام لوگوں کے ہیں تو عام لوگوں کی سمجھ میں بھی آئے۔

خالد سہیل: کیا آپ مجھے سے کوئی سوال پوچھنا چاہتی ہیں؟
ابصار فاطمہ : یہ وہ سوال ہے جو اب تک کا سب سے اچھا سوال ہے (مسکراہٹ)

ویسے تو مجموعی طور پہ پورے ہی ناول کے حوالے سے میں چاہوں گی کہ آپ اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کریں۔ لیکن میں خاص طور سے رافع کے کردار کے حوالے سے آپ سے ڈسکس کرنا چاہوں گی۔ بہت سے قارئین اسے ٹرانس جینڈر سمجھ رہے ہیں۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے ناول میں موجود بہت سے مسائل پہ دوبارہ بھی لکھا مختصر افسانے کی صورت بھی اور مضامین میں بھی لیکن رافع جس مسئلے سے نبرد آزما رہا اس پہ میں دوبارہ لکھنے سے پہلے اس کردار پہ آپ سے آپ کی رائے بھی جاننا چاہتی ہوں اور معاشرتی اعتبار سے آپ کے مشاہدے سے بھی مستفید ہونا چاہتی ہوں تاکہ اگر دوبارہ جب بھی لکھوں جو میں جلد لکھنا چاہتی ہوں۔ وہ مستند ہو، حقیقت سے قریب ہو اور ایمپتھی کے ساتھ لکھ سکوں۔ آج کی مکمل بات چیت کے بعد ایک بار پھر آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ ناصرف آپ نے میرے ناول پہ تفصیلی رائے دی بلکہ اس پہ مزید بات چیت کا آغاز کیا۔

خالد سہیل: میری نگاہ میں ہر افسانے اور ہر ناول کا ہر کردار اس معاشرے کا استعارہ ہوتا ہے جو ہمیں معاشرے کے تاریک اور روشن پہلوؤں پر غور کرنے کی ترغیب و تحریک دیتا ہے۔ بعض ادیب اس حوالے سے دیگر ادیبوں کی نسبت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ آپ کے ناول کے بہت سے کردار بہت جاندار ہیں۔ رافع کا کردار بھی جاندار ہے بلکہ ناول کا سب سے زیادہ گنجلک اور پیچیدہ کردار وہی ہے۔ وہ ایسا مرد ہے جو مرد سے زیادہ نامرد ہے۔ جسمانی طور پر بھی ذہنی طور پر بھی۔ ازدواجی طور پر بھی اور خاندانی طور پر بھی۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے مرد ایسے بحران کا شکار ہوتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر قاری ہر کردار کو اپنی سمجھ بوجھ اپنے ادبی ذوق اور اپنی سماجی بصیرت کے حوالے سے پڑھتا اور سمجھتا ہے اور زندگی کے راز جاننے کی کوشش کرتا ہے۔

میں آپ کو سماجی حقیقت پسندی کی روایت میں ایک دلچسپ جاندار اور بھرپور ناول کا اضافہ کرنے کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب میں آپ کے اگلے ناول کا شدت سے انتظار کروں گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail