EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان کا ناراض بلوچوں سے مذاکرات کا عندیہ؛ بات چیت کون کرے گا اور کس سے کرے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان میں شورش کے خاتمے کے لیے عسکریت پسند رہنماؤں سے مذاکرات کی کامیاب اور ناکام کوشش ہوتی رہی ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات کا عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)

کراچی — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا رواں ہفتے صوبہ بلوچستان کے مسائل کے حل اور قیام امن کے لیے ’ناراض بلوچ رہنماؤں‘ سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد مختلف حلقوں میں مختلف ادوار میں بلوچ عسکریت پسند رہنماؤں سے ہونے والے کامیاب اور ناکام مذاکرات کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔

یہ سوالات بھی زیرِ گردش ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت بلوچ عسکریت پسندوں سے مذاکرات میں کس قدر سنجیدہ ہے اور کیا اس معاملے میں حکومت کو فوجی قیادت کی حمایت حاصل ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچ عسکریت پسند حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟ کیوں کہ ماضی میں نواب نوروز خان جیسے رہنما کو بات چیت کے بہانے بلا کر گرفتار کیا گیا تھا جب کہ ایسی سزاؤں کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب افغانستان سے امریکہ کی افواج کے انخلا سے پاکستان میں پیدا ہونے والی امن عامہ کی صورتِ حال کے حوالے سے خدشات اور چین کے تعاون سے جاری منصوبوں پر بلوچ عسکریت پسندوں کے حملوں کو بھی اس مذاکرات کے معاملے سے جوڑا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے پانچ جولائی کو بلوچستان کے دورے میں گوادر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بلوچستان میں مزاحمت کاروں سے بات چیت کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ گزشتہ ادوار میں انہیں رنجشیں ہوں یا بھارت ان کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہو۔ البتہ اب تو وہ حالات نہیں ہیں۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں پاکستان، خصوصاََ بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کی جائے گی۔

شاہ زین بگٹی وزیرِ اعظم کے معاون مقرر

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں ناراض عناصر سے بات چیت پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے واضح کیا تھا کہ بات چیت صرف ان عناصر سے ہو گی جو بھارت سے رابطے میں نہیں ہیں۔

اسی سلسلے میں وزیرِ اعظم عمران خان نے سات جولائی کو عوامی جمہوری وطن پارٹی کے ایک دھڑے کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے معاون مقرر کیا ہے۔

کیا حکومت سنجیدہ ہے؟

بلوچستان کی شورش پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد ریاست قلات کے ملک سے الحاق ہی نے بلوچ سرداروں اور سیاسی دانشوروں میں ریاست کے خلاف عسکری تحریک کے بیج بو دیے تھے جس کے نتائج آج تک مختلف اشکال میں سامنے آ رہے ہیں۔

بلوچستان میں شورش کے خاتمے کے لیے عسکریت پسند رہنماؤں سے مذاکرات کی کامیاب اور ناکام کوشش ہوتی رہی ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات کا عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔

بلوچستان کے ایک کثیر الاشاعت اردو اخبار روزنامہ ’انتخاب‘ کے مدیر اور تجزیہ کار انور ساجدی وزیرِ اعظم کے بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے عندیے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے کوئی پیش گوئی ممکن نہیں ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ناراض بلوچوں سے بات چیت ضرور ہونی چایے۔

کیا ایک اور آپریشن کی راہ ہموار کی جا رہی ہے؟

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انور ساجدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تشکیل کے بعد سے متعدد بار بلوچ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی کوششیں کی گئیں جن میں اکثر میں کامیابی نہیں مل سکی۔

انور ساجدی کے بقول حکومت اگر سنجیدہ ہے تو مذاکرات کا انعقاد کسی اور ملک میں کیا جائے جیسے امریکہ اور طالبان کے مذاکرات قطر میں ہوئے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات میں اگر سنجیدہ نہیں ہے اور صرف بات چیت کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ تو اس سے یہ یوں لگتا ہے کہ بات چیت میں ناکامی کا جواز بناکر بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک اور سخت آپریشن کیا جائے گا۔

بلوچستان کی شورش پر نظر رکھنے والے ایک سابق اعلیٰ سیکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع کرنے سے قبل اس وقت کی نواز شریف کی حکومت نے بھی ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

بلوچستان کے حوالے سے حکومت کے حالیہ اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت بلوچ عسکریت پسندوں کی مذاکرات میں عدم دلچسپی کو جواز بنا کر سخت آپریشن کرنے کا سوچ رہی ہے۔

بلوچستان میں فعال عسکری تنظیمیں

بلوچستان میں اس وقت متعدد عسکری تنظیمیں فعال ہیں جن میں بيشتر پاکستان سے علیحدگی اور آزادی کے حق ميں ہيں۔ پاکستان کی حکومت ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر کالعدم کر چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق ان عسکری تنظیموں میں سب سے با اثر اللہ نذر بلوچ کی ’بلوچ لبریشن فرنٹ‘ (بی ایل ایف) ہے جو بلوچستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ سرداری نظام کے بھی خلاف ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر پی) نامی عسکریت پسند تنظیموں کے سربراہان حربہار مری اور براہمدغ بگٹی یورپ کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں جس کی وجہ سے ان کی تنظیموں کو بلوچستان میں دھڑے بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

بی ایل اے کے ایک دھڑے کی قیادت بشیر زیب اور بی آر پی کے ایک گروہ کی سربراہی گلزار امام کر رہے ہیں۔ ان دونوں کا بھی دعویٰ ہے کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے۔

مہران مری کی یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور جاوید مینگل کی لشکرِ بلوچستان بھی عسکریت پسندی میں فعال ہیں۔ البتہ شورش پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دونوں تنظیمیں کمزور ہو رہی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن بختیار ڈومکی کی بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) کچھ برس میں ایک نمایاں عسکریت پسند تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔

پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک برس قبل جولائی 2020 میں اللہ نذر بلوچ کی بلوچ لبریشن فرنٹ، بشیر زیب کی بلوچ لبریشن آرمی، گلزار امام کی بلوچ ری پبلکن آرمی اور بختیار ڈومکی کی بلوچ ری پبلکن گارڈز نامی چار تنظیموں نے بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نامی مشترکہ محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں اس میں سندھ کی ایک عسکریت پسند تنظیم سندھو دیش ریوولوشنری آرمی بھی شامل ہو گئی تھی۔

بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں فعال طلبہ تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او – آزاد) کو بھی حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے۔ اس پر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو افرادی قوت فراہم کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

اللہ نذر بلوچ اور بشیر زیب زمانۂ طالب علمی میں بی ایس او (آزاد) کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

سی پیک اور چین کا دباؤ

بعض مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی حالیہ صورتِ حال کے پیشِ نظر چین پاکستان، خاص طور پر بلوچستان میں کئی ارب ڈالرز مالیت کے حامل چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے پریشان ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین پاکستان کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند گروہوں سے مذاکرات کر کے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنائی جائے۔

سی پیک چین کے عالمی سطح پر جاری ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کو زمینی راستے سے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنا ہے۔ اس منصوبے سے چین کو بحیرہ عرب تک رسائی حاصل ہو گی۔

سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں نئی شاہراہیں، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں چین کے سی پیک منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی سر زمین اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ترک کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند سی پیک منصوبے پر مختلف مقامات پر حملے بھی کرتے رہے ہیں۔

سنگاپور میں قائم ‘انٹرنیشنل سینٹر فار پولیٹیکل وائلنس اینڈ ٹیررازم ریسرچ’ سے وابستہ محقق عبد الباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کا بلوچ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا تعلق چین کے مفادات پر بڑھتے ہوئے حملوں اور اس کی وجہ سے سی پیک سے وابستہ منصوبوں پر کام کی سست روی سے ہو سکتا ہے۔

عبد الباسط نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں چین کی حکومت نے اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے بلوچستان میں امن و امان کی بہتری کا مطالبہ کیا ہو گا تاکہ سی پیک منصوبوں پر کام تیز ہو سکے۔

روزنامہ ’انتخاب‘ کے مدیر اور تجزیہ کار انور ساجدی بھی عبد الباسط سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاع تو نہیں ہیں البتہ اسے افواہ ہی سمجھیں کہ چین نے سختی سے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ سی پیک کے روٹ پر امن قائم کیا جائے۔ کیوں کہ اس منصوبے کے آگے بڑھنے میں امن و امان کی بدتر صورتِ حال بڑی رکاوٹ ہو سکتی ہے۔

انگریزی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین گزشتہ پانچ برس سے بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتِ حال اور بلوچستان

بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے امکان کو بعض مبصرین افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عبد الباسط کہتے ہیں کہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کے ذریعے پاکستان افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتِ حال میں ملک کو دریپش دو داخلی خطرات میں سے ایک خطرے کو کم کرنا چاہتا ہے۔

ان کے بقول پاکستان کی حکومت بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کرکے افغانستان سے منسلک سرحد پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خطرے سے نمٹنا چاہتی ہے۔

ماضی میں کیے جانے والے مذاکرات کے نتائج

ریاستِ قلات کے حکمران خان آف قلات میر احمد یار خان نے قیامِ پاکستان سے دو روز قبل اپنی ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

حکومت پاکستان نے اس قدم کو بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے خان آف قلات اور اُن کی ریاست کے خلاف فوجی کارروائی کی تھی۔

مبصرین کے مطابق اس کارروائی کی وجہ سے مئی 1948 میں خان آف قلات پاکستان سے الحاق پر مجبور ہوئے۔ البتہ ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبد الکریم نے اس فیصلے کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی۔

افغانستان میں پناہ لینے والے شہزادہ میر عبد الکریم کو قلات میں ریسٹ ہائوس میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں گرفتار کرکے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی دور میں زہری قبائل کے نواب نوروز خان کے خلاف بھی فوجی آپریشن کیا گیا تھا۔

نواب نوروز خان کو قرآن کا واسطہ دے کر شورش ختم کرکے پہاڑوں سے نیچے آنے پر راضی کیا گیا تھا۔ البتہ بعد ازاں انہیں بیٹوں اور ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا اور سب کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

جنرل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں شورش

فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان اپنے دورِ اقتدار میں ملک میں ون یونٹ نافذ کیا تھا اور بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت بلوچستان میں صوبائی خود مختاری کے مطالبات کے ساتھ ایک نئی تحریک شروع ہوئی تھی۔

ایوب خان کے بعد فوجی جنرل یحییٰ خان نے اقتدار حاصل کیا تو ان سے نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اﷲ مینگل سمیت کئی بلوچ رہنماؤں نے ملاقاتیں کی تھی جس کے بعد ون یونٹ ختم کر دیا گیا تھا اور یہ بلوچ شورش دم توڑ گئی تھی۔

پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں 1973 میں بلوچستان میں دوبارہ مسلح بغاوت ہوئی اور حکومت نے فوجی آپریشن کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی تھی۔

اسی دوران جنرل ضیا الحق اقتدار میں آئے۔ جنرل ضیا الحق سے مذاکرات میں نواب خیر بخش مری، سردار عطا اﷲ مینگل اور میر غوث بخش بزنجو شامل تھے۔ بعد ازاں 1988 میں تمام سیاسی رہنماؤں نے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

دو دہائیوں سے جاری حالیہ شورش

بلوچستان میں موجودہ شورش دو دہائیوں سے چل رہی ہے۔ اس میں شدت فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں اس وقت آئی جب اگست 2006 میں بلوچ سردار اور صوبے کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور سابق گورنر نواب اکبر بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا تھا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ دو دہائیوں سے جاری اس شورش میں اب تک سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار، عام شہری اور عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کی منشا سے اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکریٹری مشاہد حسین نے بھی اکبر بگٹی سے مذاکرات کیے البتہ کہا جاتا ہے کہ وہ ناکام رہے۔

جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت بنی جس نے بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنے کا اعلان کیا۔ اور 2009 میں صوبے کی محرومیوں کے ازالے کے لیے ’آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج‘ کا اعلان کیا۔

اس پیکج کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کے تحت نہ صرف ہزاروں نئی نوکریاں دی گئیں بلکہ اربوں روپے کے فنڈز بھی صوبے کی ترقی کے لیے مختص کیے گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں اور جلا وطن رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لیے گئے۔

حکومت کی ان کوششوں کے باوجود جلا وطن بلوچ رہنماؤں کو وطن واپس آنے پر قائل نہ کیا جا سکا۔

ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے عام معافی کی پالیسی

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت میں 2015 میں بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ عبدالمالک بلوچ کی صوبائی حکومت اور مقامی فوجی قیادت کی تجویز پر ’پُر امن بلوچستان مفاہمتی پالیسی‘ کی منظوری دی گئی۔

اس پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے جلا وطن بلوچ رہنماؤں خان آف قلات سلیمان داؤد، نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی اور نواب خیر بخش مری کے صاحب زادے حیربیار مری سے ملاقاتوں کے لیے یورپ کا دورہ بھی کیا۔

عبدالمالک بلوچ کے اس دورے کے باوجود ان میں سے کسی بھی رہنما کی پاکستان واپسی ممکن نہ ہو سکی۔

کچھ ماہ قبل کراچی میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عبد المالک بلوچ نے جلا وطن ناراض رہنماؤں سے مذاکرات کی ناکامی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جلا وطن بلوچ رہنما مذاکرات کے لیے بالکل سنجیدہ تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے کے دو یا تین ماہ بعد ان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ بعد ازاں بننے والی حکومت نے اس مسئلے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی تھی۔

تحریکِ انصاف کی حکومت کی کوشش

تحریک انصاف کی موجودہ وفاقی حکومت نے اقتدار کے تین سال گزرنے کے بعد بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔

شاہ زین بگٹی کو ’ناراض بلوچ رہنماؤں سے سیاسی اور قومی ہم آہنگی پر بات کرنے‘ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

شاہ زین بگٹی وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے ہم آہنگی بلوچستان ہوں گے اور ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔

’پہلے راہ ہموار کی جائے‘

صوبے کی اہم بلوچ قوم پرست جماعت ’بلوچستان نیشنل پارٹی‘ کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کا کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے مذاکرات کے لیے پہلے راہ ہموار تو کی جائے۔ کیوں کہ بلوچستان کی صورتِ حال گزشتہ دو دہائیوں میں پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق ان کی جماعت نے اعتماد سازی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت کو چھ نکات دیے تھے تاہم مسائل حل کرنے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں تھا۔

بی این پی نے تحریکِ انصاف کی موجودہ حکومت کی وفاق میں حمایت کی تھی تاہم جبری طور پر گمشدہ افراد کی واپسی سمیت دیگر مطالبات تسلیم نہ ہونے پر انہوں نے حکومت سے راہیں جدا کر لی تھیں۔

ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ شخصیات تو نواز شریف اور آصف علی زرداری بڑی تھیں۔ البتہ اداروں نے اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔

شاہ زین بگٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک پیغام رساں ہوں گے جو جا کر پیغام دیں گے۔ حالاں کہ اب پیغام رسانی کا وہ دور نہیں ہے کہ کبوتر کے پنجوں میں آپ نے پرچی باندھ دیں اور وہ جا کر پیغام دے آئے۔ اب جدید زمانہ ہے۔ انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

انور ساجدی کہتے ہیں کہ شاہ زین بگٹی زیادہ سے زیادہ اپنے کزن براہمداغ بگٹی سے بات کر سکتے ہیں۔ البتہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ پہاڑوں پر مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ جلا وطن قیادت کے زیرِ اثر نہیں ہیں اور وہ ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا چکے ہیں۔

بلوچ عسکریت پسند کیا کہتے ہیں؟

بلوچ عسکریت پسند تنظیموں میں سے کچھ نے حکومت کے مذاکرات کے عندیے پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے البتہ بیشتر کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔۔

بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہ زین بگٹی کی بطور وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے مفاہمت اور ہم اہنگی کی تعیناتی سے حکومت کے اداروں کی کم تجربے اور عدم سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسے شخص سے کیوں بات کرے گا جسے بلوچستان کے حقیقی مسائل کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے؟ ان کے بقول یہ ایک لطیفہ ہے۔

اسی طرح بلوچ نیشنل موومنٹ نامی عسکریت پسندی کی حامی جماعت کے سربراہ خلیل بلوچ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی ناراض بلوچوں سے بات چیت کی خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بلوچ قومی تحریک کی حقیقت کے ادراک، تشریح اور اعتراف میں ناکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار نئے حکمران بلوچ قوم سے مذاکرات کا مضحکہ خیز اعلان کرتے ہیں۔

خلیل بلوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان سے پہلے ایسے مضحکہ خیز اعلانات ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا الحق، جنرل پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف زرداری وغیرہ بھی کرچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اعلانات کا مقصد صرف یہ دکھانا ہوتا ہے کہ پاکستان بھی جمہوریت اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔

ان کے بقول حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بطور ریاست اہل ہی نہیں ہے کہ کسی فریق سے بات چیت کا آغاز کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2591 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے