ڈی آئی جی کی محبوبہ (8)
قسط نمبر سات کا آخری حصہ
کراچی ائرپورٹ پر ہی اسے ٹیپو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ائرپورٹ پر اس کے سواگت کے لیے خود موجود ہوں گے. باہر آتے وقت البتہ اسے بہت احتیاط کرنی ہوگی. سب سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ائرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں. ٹیپو کو دیکھ لے تو وہ یہ اہتمام کرے کہ بیگ میں سے نکال کر عبایہ پہن لے. یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کر لیا ہے. باہر آئے گی. سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے کھڑا ہوا ہوگا. یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ ہے جو اس کے گھرانے کو پہلی دفعہ لاہور لے کر گھومی تھی. احتیاط صرف اتنی ہے کہ وہ پہلے جاکر جیپ مین بیٹھ جائے گی. وہ کچھ دور چل کر ڈرائیور کو اپنی چھوٹی جیپ دے دیں گے اور خود اس جیپ میں باقی ماندہ سفر ساتھ ساتھ طے کریں گے.
٭٭٭ ٭٭٭
اس کے پاس اپنی لاہور اڑان میں وقت گزارنے کے پورے چھ گھنٹے تھے. ظہیر کے جانے کے بعد جب اس نے ٹیپو کو میسج کیا کہ وہ شادی ہال سے تو آ گئے ہیں لیکن وہ ابھی دولہا پارٹی کے ساتھ گھر پر ہی ہے. دلہن والوں کی مرضی ہے کہ انہوں نے جو ہوٹل میں ایک برائیڈل سوئیٹ بک کرایا ہے، دولہا دلہن وہاں جا کر آرام کر لیں. مالدار لوگ ہیں بڑا ناشتہ کرا کے جوڑے کو دوپہر کی فلائیٹ سے سیدھا ملتان بھیجنا چاہتے ہیں.
شرارتی ٹیپو نے پوچھا کہ میری دلہن اچھی لگ رہی ہے کہ کراچی والی؟
اس نے کہا آپ کو تو کراچی والیوں سے نفرت ہے مجھے ان سے تو نہ ملائیں. یہ وہاڑی کے لیے نکلنا چاہتے ہیں. ممکن ہے فیصلہ یہ ہو کہ دولہا دلہن کل اپنے ولیمے پر اڑان بھر کر پہنچیں. ٹیپو کا میسج آیا نو پرابلم. لاہور وہ ائرپورٹ پر خود موجود ہوں گے. ظہیر کے جانے کے بعد وہ تادیر لاؤنج میں بیٹھی اپنی فلائٹ کے انتظار میں اپنی آئندہ زندگی سے جڑی رشتوں کی دو چبھتی نوکیلی تکونوں پر غور کرتی رہی.
بینو کو لگا کہ ایک تکون ظہیر نے ٹوانہ جی سے مل کر بنائی ہے. اس تکون میں اسے ازدواجی بندھن کی رسی نے زبردستی اس کے مرضی کے بر خلاف باندھ دیا ہے. سوچنے پر لگا کہ وہ منڈی میں فروخت کے لیے لائی گئی ایک پالی ہوئی گائے ہے جسے پہلے مالک منڈی میں لایا اور اب اسے مقامی خریدار قربانی کے لیے جیسے تیسے لاد کر سوزوکی پر اپنی منزل پر اسے لیے جا رہا ہے. ایک ایسی گائے جسے نئے گھر اور نئے سلوک کی کوئی خبر نہیں. وہ اتنے بڑے فیصلے میں کسی بھی جگہ قابل مشورہ نہیں مانی گئی. اس کے پلاننگ کے مجرم اس کے ابو اور ظہیر ہیں. ظہیر کا کینیڈا جانا. چوری چکاری بلکہ سرکاری مال کی ڈکیتی میں شامل ہونا، شادی پر شادی کر کے ایک فراڈ کے ذریعے حصول شہریت کی خاطر ٹوانہ صاحب کی Conjugal Partner بنا کر اسے ان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود اتنے خطرناک مشن پر بیرون ملک آنا ًفاناً روانہ ہوجانا. سب ہی گھناؤنے افعال تھے.
اسے بہت شدت سے احساس ہوا کہ ظہیر کا یوں اسے ٹوانہ صاحب کے حوالے کر کے چلے جانے کا مطلب ہے اس تکون میں اس کی حیثیت محض ایک رکھیل کی ہے. یہ کوئی Same. Sex Marriage ہے جس میں ظہیر ٹوانہ صاحب کی بیوی ہے. اب یہ شادی کینیڈا ہجرت کی وجہ سے اپنا اسٹیٹس بدل کر Open Relationship میں بدل رہی ہے. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے میاں کو اصرار ہو کہ اس کا نکاح اب بھی قائم ہے. یہ ایک Polyandry ہے. مہابھارت میں سیتا کی طرح تقدیس کی علامت دوروپدی کے بھی پانچ پانڈوے شوہر تھے. تامل ناڈو کے علاقے نیل گری ہلز میں جو ٹوڈا قبائل رہتے ہیں ان کی خواتین کے بھی ایک سے زائد شوہر ہوتے ہیں.
بینو کو ایک عجب احساس کراہت و بے چارگی نے گھیر لیا کہ ظہیر اور اس کے ابو کی مرضی سے جو کچھ ہوا ہے وہ اس سیدھی سادی کزن میرج میں شامل نہ تھا. اس سے مشورے ہوتے تو وہ اسے سمجھاتی کہ میاں کینیڈا وغیرہ میں کچھ نہیں رکھا. ہمارے تو بچے بھی نہیں کہ ہمیں فیوچر کی کوئی فکر ہو. ابو امی نے بھی تو چین سکون سے زندگی گزار کے ریٹائرمنٹ لیا ہے. ظہیر اپنی ذمہ داریاں نبھا کر اپنے رینک کے حساب سے نوکری کرتا تو بھی وہ ٹھیک سے جی سکتے تھے.
بینو اگر موقع پرست اور خواہشات کی ماری لڑکی ہوتی تو اس کی دوست ضویا ڈاہا کے سب سے چھوٹے ماموں روحیل ڈاہا تو اس پر دل و جان سے عاشق تھے. وہ اب صوبائی کابینہ میں وزیر تھے. کئی دفعہ ضویا کے ذریعے اس کی رائے معلوم کی. وہ ہمیشہ انکاری ہوئی. ضویا نے کئی دفعہ کہا کہ ماموں کو لگتا ہے وہ انہیں سنی سنائی میڈیا کی باتوں کی روشنی میں برا آدمی سمجھتی ہے. ان کی مرضی تھی کہ وہ بینو کے والدین سے اپنے والدین کے ذریعے بات بڑھاتے. لحاظ والے تھے. کبھی بینو یا اس کے والدین پر شادی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا. بینو نے ایک دفعہ ان کے اصرار پر ضویا کی موجودگی میں انہیں واضح دو ٹوک انداز میں منع کر دیا تو وہ بھی راستہ بدل گئے اور ان کی شادی لاہور کے کسی بڑے تاجر خاندان میں ہو گئی. بینو نے ان کی بیگم رباب کو دیکھا تھا. وہ اس سے کسی طور کم نہ تھی. بینو کا اپنے بارے میں یہ سوچنا تھا

Deep. downوہ ایک سادہ مزاج کی خوبصورت مگر مضبوط کردار کی لڑکی تھی جس نے طے کر رکھا تھا کہ وہ اپنے والدین کو دکھ نہیں دے گی. اس لیے اس نے ابو امی کے ہر فیصلے کو سر جھکا کر قبول کیا.
اس نے شکر ادا کیا کہ آزمائش اور انتشار کی اس عظیم گھڑی میں اس کی زندگی میں ایک محفوظ اور قابل قبول طریقے سے ٹیپو آ گئے. اس نے بہتے ہوئے طوفانی دریا کا رخ ایک ایسے میدان کی طرف موڑ دیا جہاں آبادی کو نقصان پہنچنے کا کم سے کم خطرہ تھا.
ٹوانہ صاحب اور ظہیر کی مدد سے یکایک تمام مروجہ بندھن توڑ کراس کی زندگی میں داخل ہونے والے اس ازدواجی تیز طوفانی ریلے کے راستے میں یہ ایک اخلاقی شگاف ہی وہ اصل وجہ تھی کہ بچت ہو گئی. کردار اور شرط وفا داری کا جو ایک بحران اسے خود کو ٹیپو کے حوالے کرنے سے پیدا ہو سکتا تھا وہ نہیں ہوا. اس نے ٹیپو کے ساتھ شمالی علاقہ جات کے ساتھ چند ایام بتانے کا، زندگی سے خوشیوں کے چند دن چرانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اسے پہلی مثلث والی ڈکیتی سے مقابلتاً کم بگاڑ اور تخریب کاری کی واردات لگا. اس نے سوچا ٹیپو سے اس کی وابستگی محض ایک فرد کی برائی ہے جب کہ ٹوانہ ظہیر گھٹ جوڑ اور کینیڈا روانگی میں وفا داری، سرکاری ملازمت کے رہنما اصولوں، ازدواجی تقدیس کے تمام ضابطے جھوٹ اور دغا بازی کی نذر ہو گئے تھے.
اپنی اس بے وفائی کا جب اس نے بارات بس میں ظہیر پر نگاہ ڈالتے ہوئے اور ایمبولنس میں اس کے کہنے کے مطابق ٹوانہ صاحب کے احکامات ماننے اور اور اپنے ابو کی اس تمام منصوبے میں شراکت اور منظوری کا اس نے سوچا تو اسے ایک قابل تسلی و تسکین مضبوط جواز ہات آ گیا.
ایسے میں اسے پروین شاکر کا وہ قطعہ یاد آ گیا جو اس نے کالج میں اپنی کسی پروفیسر سے سنا تھا. یہ استاد پروین شاکر کی جامعہ کراچی میں ہم جماعت تھیں. پروین شاکر نے یہ قطعہ جامعہ کے مشاعرے میں پڑھا تھا کہ
دکھ اٹھائے ہیں بہت، ہم جو حصاروں میں رہے
زخم تنہائی کوئی آ کے ہمارے بھرتا
جل چکے شعلہء تنہائی میں برسوں کب سے
مشعل برگ حنا اب کوئی روشن کرتا
یوں تو الفت آغاز کا کوئی لمحہ نہیں ہوتا. ازدواجی بے اطمینانی اور حسن کی بے قدری کے شدید احساس کے کمپوزٹ (مٹی اور پتوں چھلکوں سے تیار شدہ آرگینک کھاد) میں بس کسی جان لیوا عاشق کی توجہ کا بیج لطف و آرائش کے مون سون میں پڑ جائے تو گل ہائے صد رنگ بمع خارزار بے اندیشہ اگ آتے ہیں.
تقدیر کے ان فیصلوں سے اس نے بغاوت کی اس لمحے ٹھانی جب بینو نے پہلی دفعہ ضویا ڈاہا کی مہندی والی رات ٹیپو کے اچانک گھر آنے پر انہیں دیکھا. وہ ایسا ہی مرد تھا جو اس کے خوابوں میں بستا تھا. سماجی پابندیوں کی بات اور تھی. ظہیر کو چھوڑ باقی تین کزن سلیمان، شیراز اور جمیل تو ظہیر سے بھی ہر طور پیچھے تھے. روحیل ڈاہا کے ہاں مال و منال کی کثرت تھی سچ یہ ہے کہ وہ ٹیپو کے اسٹائل اور طاقت میں پاسنگ بھی نہ تھے.
جب جہاز میں بورڈنگ کا اعلان ہوا عین اس وقت اس نے سوچا کہ اب تعلقات کی یہ دوسری نئی تکون اس نے اپنی مرضی سے ٹیپو کے ساتھ بنائی ہے. اسے پیار کی ریشمی ڈوری سے خود باندھا ہے. فکر کاہے کی. کینیڈا کو پلان بی مانا جائے. وہ اس دوران کوشش کرے گی کہ ٹیپو کو مجبور کر کے جلدی سے نکاح پڑھ لے. رخصتی بھلے سے ان کے پروموشن کے بعد ہو. اس دوران وہ ہلکے ہلکے دوسری شادی کی یہ مٹکی اپنی بیگم کے سر پر پھوڑ دیں تاکہ Damage Control کے لیے مناسب وقت مل جائے. وہ ان کو اپنے جال میں ٹریپ کرنے کے لیے کوشش کرے گی کہ اس ہفتۂ ہنی مون میں ماں بن جائے. بچہ بلیک میلنگ کا بہت بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے. وہ ذمہ دار ہیں. بات کے پھیلاؤ اور متعلقہ ذمہ دار حساس حلقوں میں شکایت سے ڈریں گے. ان کے ادارے میں جونئیر افسران میں مس کنڈکٹ اور بے راہ روی کی شکایت پر بہت سخت ایکشن ہوتا ہے.
نشست پر براجمان ہوتے ہی اس نے سوچا بچہ پیدا کرنا اس کا ارمان ہے. وہ ہر قیمت ماں بننا چاہتی ہے. وہ ٹیپو کو پوجتی ہے. جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے جا رہا ہے اس میں اس کی رضا اور شعوری فیصلہ شامل ہے. وہ اس راستے پر عمل درآمد کے لیے صرف زبانی چارہ جوئی سے کام لے گی. ممکن ہے مان جائیں.
ٹیپو اس معاملے میں اگر لیت و لعل سے کام لیں گے تو وہ خاموشی سے ٹوانہ صاحب کی Conjugal Partner بن کر انہیں کے ساتھ کینیڈا کا راستہ لے گی. ظہیر کو بچے کی ولدیت جاننے کی ضد ہوگی تو ولدیت کا ذمہ لینے کے لیے ٹوانہ صاحب موجود ہیں. شادی میں یہی کچھ ہوتا ہے. ٹیپو، ظہیر اور وہ اس تکون میں بینو کی نگاہ ہر وقت Eject Button پر رہتی تھی. فائٹر جیٹ کو بچانا نا ممکن ہو تو پائلٹ کو اس فیصلہ کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جہاز کو برباد ہونے دے اور خود کو محفوظ طریقے سے جہاز سے باہر گرا لے. وہ اور ٹیپو دونوں ہی شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں سوائے جنسی آسودگی کے دیگر معاملات میں خوش تھے. اس لیے الٹے قدم جانا آسان تھا. خروج کے اس واضح عسکری منصوبے کی وجہ سے اسے اس عشق عاشقی میں بڑی چس آ رہی تھی.
ٹوانہ صاحب، وہ اور ظہیر والی تکون کا معاملہ اس کے برعکس ذرا ٹیڑھا تھا. بینو کو ایک بہت بڑے سوال نے تنگ کر رکھا تھا. وہ یہ کہ کینیڈا کی شہریت کے لیے اگر یہ سب قربانی دینا لازم ہے تو وہاں اس مقامی قوانین کے تناظر میں ظہیر کا اس کی زندگی میں کیا مقام ہوگا.
بینو کو فکر یہ تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ مال مفت جان کر ٹوانہ صاحب اس پر اپنا ازدواجی تسلط پکا پکا جما لیں اور ظہیر کی حالت اس بدو کی ہو جس نے ریت کے طوفان میں اونٹ کو گردن خیمے کے اندر رکھنے کی اجازت دی تھی اور جب طوفان نے شدت پکڑی تو اونٹ خیمے کے اندر اور بدو باہر بیٹھا تھا. ٹوانہ صاحب اسے کچھ خاص پسند نہ تھے. سستی بیکری کے پرانے گلابی کریم کیک جیسے. پکے پولیس والے. شادی کے بعد میاں بیوی ظہیر اور بینو کو انہوں نے لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں کھانے پر بلایا تھا. بینو نے انہیں وہیں دیکھا تھا. ظہیر نے کہا شادی پر بھی آئے تھے. میرے لیے تو پتا سمان (باپ جیسے ہیں) ہیں. ٹوانہ صاحب پکے پولیس والے لگتے تھے. خرانٹ. اپنی مونچھوں کی محبت میں مبتلا. ہر دم ان کو مروڑ کر اپنی مردانگی کے احساس کو تقویت دیتے ہوئے. ایسا لگتا ان کی والدہ نے دوران حمل یا تو روح افزا بہت گھٹکایا ہے یا اسٹرابیری کے باغ کے باغ اپنی Perverted Appetite (مختلف اشیا کھانے کی وہ شدید طلب جو حمل کے دنوں میں اکثر خواتین کو لاحق ہوتی ہے) بغیر ڈکار لیے ہڑپ کر لیے ہیں. یہ ہی وجہ ہے کہ ٹوانہ صاحب کی رنگت سفید سے گلابی زیادہ نظر آتی تھی. رویے میں بہت مہذب تھے. اسے بھابھی کہہ کر خود اس کی پلیٹ میں کئی دفعہ کھانا ڈالا. بینو کو کانٹے چھری سے کھانے کی عادت نہ تھی. انہوں نے تاڑ کر کہا ہات سے کھائیں. آپ کون سی بکنگھم پیلس کی دعوت میں آئی ہیں. انہوں نے اس کی جھینپ مٹانے کے لیے بتایا کہ ایک بہت سجل وزیر اعظم کی نک چڑھی ایرانی بیگم نے جب فرنچ صدر کی دعوت میں ہات سے سلاد میں سے کھیرا نکال کر دیگر سرکاری آغاز سے پہلے مہمانوں سے پہلے سرکاری بینکویٹ میں کھانا شروع کیا تو ان کے Bad Manners کا بہت چرچا ہوا تھا. یہاں ملتان میں، بندہ اور ظہیر تو دفتر میں تین چمچے چینی ڈال کر جب چائے کی سڑکی مارکر پیتے ہیں تو آئی جی صاحب کے لاہور کے دفتر میں زلزلے کے جھٹکے لگتے. بینو کو لگا وہ اگر اچھے انسان نہیں تو خاص برے آدمی نہیں. بہت Easy Going سے ہیں.
جہاز میں یہ باتیں یاد آتی رہیں. وہ اپنے فون سے کھیلتی رہی پتہ ہی نہ چلا کون مرد خاموشی سے اس کے ساتھ والی نشست پر براجمان ہو گیا ہے.
یہ سب مگر کیوں؟
بینو کی بے وفائی کا سبب جاننا ہو تو وہ نکات یاد رکھیں کہ ظہیر سے جسمانی تعلقات کی ناآسودگی نے انیس برس کی بینو میں محرومی کا ایک ہلاکت آمیز زہر گھولنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے اسی زہر میں تریاق ڈھونڈ لیا. اس Antidote یعنی تریاق نے شادی کے چوتھے برس بھی پہلی رات سے پیے گئے زہر کے اثرات کو تیزی سے ریورس کرنا شروع کر دیا. اپنے دماغ اور دل کی مضبوط رسی گوندھ کر اس نے ذائقے بھرے تجربات اور آؤٹ آف بکس زندگی جینے کی Bungee Jumping شروع کردی. دل اور دماغ کی مشترکہ ڈیوٹی لگادی کہ وہ اس کے مفادات کی نگرانی کرے. اب خیر سے اسے وہ تمام ذائقے دستیاب ہوں گے جو ظہیر کی رفاقت میں نہیں مل پائے. اس نے طے کر لیا کہ وہ دن آ گئے ہیں کہ طبیعات کی اصطلاح میں اس برق رفتار شعوری مسافت کی Quantum Leap کے جھونٹے لے. لاؤنج میں وہ مسکرا کر گھومتے ہوئے کشمیری گجریوں کا گیت
منے دی موج وچ ہنسنا کھیڈنا
(من کی موج تو ہنسنا کھیلنا ہے )
دل کی رکھنا کمے کنے
(دل کو اپنے کام میں مگن رکھنا ہے
مہنا پر کسے نو مندا نہیں بولنا
(ہم نے کسی کی عیب جوئی بھی نہیں کرنی)
اب چاند کی چاندنی دیواروں پر پھیل گئی ہے )
بھی گنگنایا تھا
جہاز میں اس کی نشست بھی اچھی تھی. خاصا لیگ روم تھا. ایمرجینسی ایگزٹ کے بالکل ساتھ کھڑکی والی. ساتھ آن کر بیٹھنے والا کوئی ٹی وی ایکٹر تھا. اپنا نام ضوریز خان بتایا. جس پر بینو چھیڑا کہ دنیا میں ہر ہینڈسم، سیلیبرٹی، بے وفا، وگ پہننے والے ادھیڑ عمر مرد کے نام کے آخر میں خان کیوں آتا ہے. جس پر وہ کچھ دیر سناٹے میں رہا. کہنے لگا نہیں بعض کے ساتھ زین ملک اور کریسٹیانو رونالڈو بھی آتا ہے. اس پر بینو نے آنکھیں گول گھما کر کہا میں نے مردوں کی بات کی ہے دیوتاؤں کی نہیں. یہ ادا دیکھ کر ضوریز خان کچھ ایسے فدا ہوئے کہ جھٹ سے اپنا کارڈ نکال کر تھمایا. اسے دانہ بھی ڈالا کہ اس کا اپنا پروڈکشن ہاؤس ہے. ایک ڈرامے کے اسکرپٹ کے لیے وہ لاہور کے کسی مشہور مصنف سے معاملات طے کرنے جا رہا ہے. جب اس نے بینو کی طرف بہت پسندیدہ نگاہوں سے پلک جھپکے بغیر انگلیوں سے ویو فائنڈر بنایا تو اسے بہت الجھن ہوئی. ٹیپو جی کی بات اور تھی مگر یہ مردوا تو اس کی زندگی کا پہلا اجنبی تھا جو زیادہ ہی اوکھا ہو رہا تھا. قبل اس کے کہ بینو اسے جھڑکتی اس نے کہا وہ کیمرے کی آنکھ سے اسکرین کے لیے اس کے چہرے کی قبولیت کا جائزہ لے رہا تھا. دیکھ رہا تھا کہ وہ کتنی Photogenic ہے۔
اس نے بلا تامل اس کا غصہ فرو کرنے کے لیے پیشکش داغ دی کہ بینو چاہے تو اسے ہیروئن کاسٹ کیا جاسکتا ہے. اس نئے اسکرپٹ مین ہیروئن کا کردار بہت جاندار ہے ٹوٹل Women Empowerment کا. اشفاق احمد کی کہانی ہے گوما. ان. ہالینڈ مگر اس کا اسکرین پلے وہ ایک ایسے کہانی کار سے لکھوا رہا ہے جو اسکرین پر آگ لگانا جانتا ہے. بینو جس نے یہ کہانی اشفاق احمد کی کتاب ‘زاویہ’ میں پڑھ رکھی تھی جب اس کے بارے میں ایک دو سوال کیے تو اداکار صاحب کچھ نابلد لگے مگر اس نے سوچا کہ بس اتنا ٹریلر کافی ہے.
بینو نے یہ جاننے کہ لیے کہ اسے دوسرے مرد کیسے دیکھتے سوچتے اور محسوس کرتے ہیں چھیڑ خانی کے طور پر کہہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو معمولی شکل صورت کی لڑکی مانتی ہے. خود کو قطعی طور پر ہیئروئن میٹریل نہیں سمجھتی۔ جس پر اس نے کہا یہ ایشوریا رائے اور کاجول، رانی مکرجی بھی عام زندگی میں بہت عام شکل و صورت کی ہیں. وہ تو ان کی نسبت قدرتی حسن سے مالا مال، گل تازہ کی مانند، ایک پیکر معصومیت ہے. اس کا، چہرہ تو ہر آن سو رنگ بدلتا ہے. کیمرہ یہ ہی سب کچھ تو کھوج رہا ہوتا ہے. یہ ہی ایکٹنگ کا Oomph Factor ہے. وہ بس حوصلہ کرے. اس نے بینو کو یقین دلایا کہ اس میں صرف اس بات کی کمی ہے کہ وہ اپنے حسن اور صلاحیتوں سے آگاہ نہیں. یہ سب بینو کو بہت بھلا لگا.
اسے لگا ٹیپو بھی تو کہا کرتے تھے نا کہ تم کبھی خود کو میری آنکھوں سے چھپ کر دیکھو. جب بینو نے کہا "آر. یو. ریلی. سئیریس” تو حضرت کہنے لگے یہ سب باتیں اسٹوڈیو میں ہو رہی ہوتیں تو وہ اس کے ابھی کئی اسکرین شاٹ لے کر اسے قائل کر دیتا. اس نے پاکستان کی چار پانچ مشہور ٹی وی سیریل والیوں کے نام لیے کہ ان میں سے ایک کو بھی اگر آپ ناشتے کے وقت دیکھ لیں تو سارا سال توبہ کر کے نفلی روزے رکھیں. اللہ ماری بغیر استری کا کفن لگتی ہیں. ان میں سے کوئی وہ نہیں جو اسکرین یا میڈیا میں دکھائی دیتی ہے. ان پر منوں میک اپ لدا ہوتا ہے. لباس سے لے کر اٹھنا بیٹھنا سب ایک ٹیم ورک اور ہدایت کے تحت ہوتا ہے. ان کو ایک فرد واحد کی بجائے Finished Product ماننا دانشمندی ہو گی.
حضرت رفاقت کے لیے بہت بے تاب تھے. لاہور میں قیام کا پوچھ رہے تھے. بینو کو بڑی الجھن ہوئی. کسی مرد سے یوں سرراہ بے تکلف ہونے کا پہلا موقع تھا. اس وجہ سے اس نے اپنا نام بھی غلط یعنی نینا عباسی بتایا. نمبر مانگنے پر کہا. ان کا نمبر کارڈ پر موجود ہے. وہ کال کر لے گی، شاید کھانے پر مزید گفتگو ہو. بھلے سے معروف و مصروف اداکار تھے مگر بینو کو پیشکش کی کہ ان کے لیے لنچ، ناشتہ، رات کا کھانا، لیٹ نائٹ ڈرائیو کا کوئی ایشو نہیں. مزید دانہ یہ کہہ کر ڈالا کہ اداکاری میں نام ہوگا تو شہرت کی یہ کنجی ماڈلنگ اس کے لیے دولت کے دروازے کھول دے گی. بتانے لگے کہ ان کے پچھلے ڈرامے کی ہیروئن نے بسکٹ اور دھلائی پاؤڈر کے اشتہارات سے ہی رواں سیزن میں تین کروڑ روپیہ کمایا. بینو چونکہ دس کروڑ روپے اپنے ہاتھ سے ایک بکس سے دوسرے بکس میں منتقل کرچکی تھی اس لیے اسے تین کروڑ کچھ زیادہ نہ لگے. اس نے سوچا وہ ٹیپو کو ضرور بتائے گی کہ ایک تم ہی نہیں تنہا، الفت میں میری رسوا. اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں۔ (جاری ہے)
















