اسلم بیگ نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں وزرائے اعظم، صدور اور اعلی عہدے پر فائز دیگر اہم شخصیات کے علاوہ چند سیاست دانوں نے بھی اپنی زندگی کے تجربات اور دیگر اہم واقعات کو کتابی شکل دے رکھی ہے۔ ایسی کتابوں میں درج مواد مصنف کی عملی زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے تھوڑا بہت مختلف ہوتا ہے۔

کیوں کہ کتاب لکھتے وقت مصنف صرف وہی مواد درج کرتا ہے۔ جو اس کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی کسی بات یا واقعے کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ جس سے مصنف کی شخصیت کو زک پہنچتی ہو۔ یا اس سے صاحب کتاب کی شخصیت کا منفی پہلو سامنے آنے کا اندیشہ ہو۔

پاکستان آرمی کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب ”اقتدار کی مجبوریاں“ آج کل تبصروں کی زد میں ہے۔ یہ کتاب کرنل اشفاق حسین نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب کا مواد جنرل اسلم بیگ کے انٹرویوز سے حاصل کیا گیا ہے۔ اور یہ زیادہ تر جنرل بیگ کی ابتدائی زندگی کے واقعات اور ان کی پیشہ ورانہ امور کا احاطہ کرتی ہے۔

جنرل ضیا الحق نے وائس چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی کے لئے ایک سمری اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو اس سفارش کے ساتھ بھیجی تھی۔ کہ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر کو اس عہدے پر نامزد کر دیا جائے۔ مگر وزیراعظم جونیجو نے سینیارٹی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل بیگ کے نام کی منظوری دی۔ یوں جنرل اسلم بیگ کو وائس چیف آف آرمی سٹاف تعینات کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد وہ آرمی چیف تعینات ہوئے۔ جنرل زائد علی اکبر کی تعیناتی کی صورت میں جنرل بیگ سپر سیڈ ہو جاتے۔ اور روایت کے مطابق ان کو ریٹائرمنٹ لینی پڑتی۔

جنرل بیگ کی کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ انہوں نے ایٹمی پروگرام کے متعلق بڑی سنجیدہ پالیسی وضع کی۔ بلاشبہ یہ ایک جامع اور دانشمندانہ پالیسی تھی۔ جس پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔ انہیں سیاچن کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی وزیراعظم کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ جو 17000 فٹ کی بلندی تک پہنچیں۔ وہاں انہوں نے آکسیجن کین بھی استعمال نہیں کیا۔ اور نہ ہی برفانی ہواؤں سے بچنے کے لئے خیمے کے اندر بیٹھنا پسند کیا۔

بلکہ باہر عام فوجیوں کے درمیان بیٹھ کر ان سے گپ شپ لگاتی رہیں۔ محترمہ اپنے والد کی طرح ذہین تھیں۔ وہ معاملات کو جلد سمجھ جاتی تھیں۔ اور مضبوط اور دلیرانہ فیصلے کیا کرتیں۔ جنرل بیگ نے ان کو ضرب مومن کی مشقوں کے دوران آرمی فارمیشنز اور آرمی کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کرایا۔ محترمہ نے آرمی فارمیشنز کی تیاریوں پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک تفصیلی میٹنگ کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔ تاکہ جنگی منصوبے کو ایک نئی شکل دی جاسکے۔ اور اہداف کو نئی صلاحیتوں کے مطابق درست کر لیا جائے۔ بقول جنرل بیگ یہ میٹنگ مصروفیت کی وجہ سے نہ ہو سکی۔ اتنی اہم میٹنگ کیوں نہ ہوئی۔ اور اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ اگر وزیراعظم کی مصروفیت کی وجہ سے میٹنگ منسوخ ہوتی تو کتاب میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا۔

جنرل بیگ محترمہ شہید کی فہم و فراست اور ہمت کے بڑے معترف تھے۔ انہوں نے بی بی کو مشورہ دیا تھا۔ کہ عوامی نیشنل پارٹی کے لوگوں کے علاوہ دیگر قبائلی جو افغانستان میں جلاوطن ہیں۔ ان کو عام معافی دے دی جائے۔ تاکہ وہ وطن واپس آ سکیں۔ محترمہ نے ان کے مشورے کو مانتے ہوئے سب کو معافی دے دی۔ جنرل بیگ سوال اٹھاتے ہیں۔ کہ کیا موجودہ وزیراعظم میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ اس طرح کا فیصلہ کرسکیں۔

جنرل مرزا اسلم بیگ کے مطابق صدر اسحاق نے انہیں ایک نان پیپر دیا تھا۔ جس میں بے نظیر حکومت کے خلاف الزامات درج تھے۔ جو پالیسی امور سے تعلق رکھتے تھے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ معاملہ ڈسکس ہوا۔ جس کے بعد صدر مملکت کو کہا گیا۔ کہ وہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے وزیراعظم کے ساتھ معاملات باہمی مشاورت سے درست کر لیں۔ مگر مشاورت نہ ہو سکی اور صدر نے حکومت برطرف کردی۔ جنرل اسلم بیگ نے وزیراعظم اور صدر کے اختلافات اور حکومت کی برطرفی کا ذکر بڑے سرسری انداز میں کیا ہے۔ اگر وہ چاہتے تو صدر اور وزیراعظم کو ایک میز پر بٹھا کر معاملات درست بھی کرا سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اس کی کوشش ہی نہیں کی۔

بقول جنرل بیگ گیارہ سال کی آمریت کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تھی۔ یہ ایک پر آشوب دور تھا۔ جب بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت قائم ہوئی۔ ملک کی سیاسی فضا بڑی ناہموار تھی۔ حزب اختلاف جو گیارہ سال تک ضیاء کے مارشل لا کے ساتھ رہی۔ اس کا رویہ غیر جمہوری تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل بیگ نے بے نظیر جیسی قائدانہ صلاحیتوں کی مالک وزیراعظم کی حکومت جو گیارہ سال کی آمریت کے بعد مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی تھی۔ اس کی برطرفی کے موقع پر خاموشی اختیار کرنے پر کیوں مجبور ہوئے۔ اور اس کے پس پردہ کیا عوامل تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور میں قائم اپوزیشن اتحاد پی این اے کا ذکر کرتے ہوئے جنرل بیگ کا کہنا ہے۔ اس اتحاد کے قیام کے پس پردہ بیرونی ہاتھ تھے۔ جن کا مقصد ایٹمی پروگرام کے بانی بھٹو شہید کے اقتدار کا خاتمہ تھا۔ وہ اسلامی امہ کو متحد کرنے کے خواہاں تھے۔ انہوں نے اسلامی تنظیم او آئی سی کو نئی جہت دی۔ بھٹو صاحب کی کوششوں سے ہی سعودی عرب کے شاہ فیصل اسلامی تنظیم کی قیادت کرنے کے لئے رضامند ہوئے تھے۔ جناب بھٹو نے شاہراہ قراقرم کو تعمیر کرا کر چین کے ساتھ تزویراتی تعلقات کی بنیاد رکھی تھی۔

1971 کی شکست کے بعد انہوں نے تدبر اور ذہانت کے ساتھ پاکستان کی عزت کو تھوڑے ہی عرصے کے دوران بحال کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید سیاسی طور پر بڑی مضبوط پوزیشن کے مالک تھے۔ ان کو غیر سیاسی ہتھکنڈوں اور سازش کے ذریعے ہی اقتدار سے بے دخل کیا جاسکتا تھا۔ لہذا سیاسی موقع پرستوں اور چند دینی جماعتوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ پی این اے کی قیادت نے غیرآئینی اور غیر اخلاقی طریقے سے مسلح افواج کو اقتدار سنبھالنے کی ترغیب دی۔ بقول جنرل بیگ بھٹو شہید کی حکومت گرانا امریکی ایجنڈا تھا۔ جو فوجی کارروائی کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ جنرل ضیاء کے مارشل لا کے بعد منصوبے کے عین مطابق بھٹو کو بھونڈی عدالتی کارروائی کے ذریعے پھانسی دے دی گئی۔ اور بعد میں ایک سازش کے تحت شاہ فیصل کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا۔

جنرل بیگ کی سوچ کے مطابق عمران خان جلد بازی اور غیر ضروری اقدامات کی وجہ سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اور وہ اپنے حریفوں کو بدنام اور رسوا کرنے کے عمل میں بہت دور جا چکے ہیں۔ ان کے دور حکومت میں سیاسی اساس یعنی کہ پارلیمنٹ کو بھی بے وقعت کر دیا گیا ہے۔ بقول جنرل بیگ روحانی راہنمائی کی خاطر خان صاحب کی شخصیت اسلام، لبرل ازم اور خانقاہ کے مابین گم ہو چکی ہے۔ جنرل بیگ عمران خان کے ایک انٹرویو کو بنیاد بنا کر لکھتے ہیں۔

” عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے۔ کہ اسلام سے میرا تعلق معنوی ہے۔ جس میں سے میں نے اپنے لئے بہتر حصوں کو منتخب کیا۔ یہ کسی یقین کی وجہ سے نہیں تھا۔ بلکہ اپنی ماں سے محبت کے سبب تھا کہ آج میں مسلمان ہوں“ ۔

عمران خان کی یہ بات اسلامی تعلیمات کی روح کے بالکل منافی ہے۔ کیوں کہ حکم ربی ہے۔ کہ ”پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ“ ۔

2014 کے دھرنوں کے دوران عمران خان اور ان کے سیاسی کزن طاہر القادری کو جنرل راحیل شریف نے بلایا۔ تو دونوں اچھلتے کودتے آرمی ہاؤس پہنچے کہ کام بن گیا۔ مگر دونوں کے منہ اس وقت لٹک گئے۔ جب جنرل راحیل نے ان سے کہا۔ ”جاؤ نواز شریف سے معاملات طے کرو“ ۔

عمران خان کے دور میں نیب سمیت دیگر ایجنسیز بدعنوانی کے سدباب کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ مگر عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آئی۔ بلکہ حکمرانوں کی طرف سے طاقت کے اندھے استعمال اور نااہل طرز حکمرانی کے نتیجے میں طاقت اور اختیار دونوں زوال پذیر ہیں۔ میڈیا کی زبان بندی کی وجہ سے ریاست کو ہزیمت کا سامنا ہے۔

جنرل اسلم بیگ نے بطور آرمی چیف ایک سال تک نواز شریف کے ساتھ کام کیا۔ چونکہ یہ پہلی خلیجی جنگ کا دور تھا۔ نواز حکومت کی پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے انہیں وزیراعظم کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور یہ ناراضگی ان کی ریٹائرمنٹ تک جاری رہی۔ ان کے دور میں نواز حکومت خوف کا شکار تھی۔ کہ کہیں میں مارشل لا نہ لگا دوں۔ اس صورت حال کے پیش نظر میں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ آرمی، نیوی اور ائر فورس کو ایک کمان میں دے کر چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ تخلیق کر دیا جائے۔ تاکہ حکومت سکون کے ساتھ کام کر سکے۔ مگر میرے مشورے کو نہیں مانا گیا۔ جنرل بیگ کے مطابق نواز شریف اگر میری بات مان جاتے تو آج وہ مشکلات میں مبتلا نہ ہوتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments