ایک سال کی عمر میں ریپ کا شکار ہونے والی بیتھ تھامس
یہ واقعہ ہے فروری 1984ء کا جب ٹم اور جولیا ٹیننٹ کو ڈیپارٹمنٹ آف سوشل سروسز نے نوید سنائی کہ ان کی بچوں کو گود لینے کی درخواست کے مطابق ان کے پاس دو بچے ہیں جنہیں وہ اپنا سکتے ہیں۔ ٹم امریکہ کی کسی جنوبی ریاست میں واقع چرچ کا نیک دل اور مقبول منسٹر تھا اور جولیا اس کی بہت محبتی اور نیک دل بیوی۔ دونوں اپنی شادی کے بارہ سال بعد بھی اولاد سے محروم تھے۔ دونوں کی خواہش تھی کہ اولاد کی صورت وہ اپنی محبت اور جو کچھ ان کے پاس ہے کسی کو دے سکیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی انہوں نے بچہ گود لینے کا سوچا تھا۔ اور متعلقہ ادارے میں درخواست جمع کروائی تھی۔ دو بچوں کے اکٹھا ملنے کی خبر سے وہ حد سے زیادہ خوش تھے۔ جولیا نے کہا ”مجھے تو یہ معجزہ لگا۔ سنا تھا کہ بچے ملنے میں پانچ سے دس سال تک لگ جاتے ہیں اور ہم نے تو ابھی کچھ عرصے پہلے ہی درخواست دی تھی۔“ یہ بچے سگے بہن بھائی تھے۔ انیس ماہ کی بیتھ اور سات ماہ کا جونتھن۔ شروع میں ان بچوں کی آمد جو ٹم اور جولیا کو ایک سہانا خواب لگی تھی، جلد ہی بھیانک سپنے میں تبدیل ہو گئی۔
جون کا معاملہ تو ٹھیک تھا۔ اس کی عمر بھی بہت کم تھی۔ مگر بیتھ کا رویہ خاصا عجیب و غریب تھا۔ باوجود محبت ملنے کے اس کے اندر شدید غصہ اور پرتشدد رویہ تھا، خاص کر چھوٹے بھائی اور ان بے زبان جانوروں کے ساتھ جو اس سے جسمانی طور پہ کمزور تھے۔ بیتھ میں رحم، محبت اور دوسروں کے لیے قربت کے احساس کا فقدان تھا۔
جون کو دھکا دینا اس کو مارنا اور گرا کر اس پر جسمانی تشدد اس حد تک تھا کہ ماں باپ کسی وقت چوک نہیں سکتے تھے۔ جون کی حفاظت کے لیے انہیں رات کو بیتھ کے کمرے کو مقفل کرنا پڑتا۔ ایک دن اس نے اکیلے میں موقع پا کے جون کو دھکا دے کے زمین پہ گرایا اور اس کا سر بار بار سیمنٹ کے فرش سے ٹکرایا۔ جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ بیتھ کا خطرناک حد تک بڑھا غصہ دوسروں پہ کنٹرول کرنے کی کوشش تھا۔ مگر اس کا دوسرا روپ وہ بھی تھا جس میں وہ جھوٹ بول کے اور دوسروں کو خوش کرنے والی باتیں کر کے ان کا دل لینے کی کوشش کرتی۔ وہ خود غرض تھی اور جھوٹی باتوں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتی۔
مگر جو بات انتہائی تشویشناک تھی وہ اس کا جنسی رویہ تھا۔ کبھی وہ اپنے بھائی جون کا پینٹ اتار کے اس کے پرائیویٹ اعضا کو مارتی، دباتی اور اذیت دیتی تو کبھی کسی اور معصوم لڑکے کے ساتھ اس کا یہی رویہ ہوتا۔ خود وہ روزانہ کی بنیاد پہ خود لذتی Masterbation کی عادت میں مبتلا تھی۔ اسے اس کی ماں جولیا نے کئی بار سمجھایا مگر وہ پبلک مقامات میں بھی اس عادت پہ قابو پانے سے قاصر تھی۔
جانوروں کے ساتھ بھی اس کا رویہ بہت بہیمانہ تھا۔ موقعہ ملتے ہی وہ ان کو پن چبھو کے اذیت پہنچاتی۔ ایک دن اس نے چڑیا کے چار نوزائیدہ بچوں کو اپنے ہاتھوں میں مسل کے مار دیا۔
ایک دن جولیا نے دیکھا کہ کچن کی دراز میں سے ایک چاقو غائب ہے۔ بعد میں بیتھ نے بتایا کہ چاقو اس نے چھپایا تھا کیونکہ وہ اپنے ماں باپ کو رات کے اندھیرے میں چاقو مار کے قتل کرنا چاہتی تھی۔ اس کی ان باتوں کی وجہ سے کمسن بیتھ میں وہ علامات نظر آ رہی تھیں جو کسی سائیکو پیتھ psychopath میں ہو سکتی ہیں۔
ایک بات جو بہت اہم تھی وہ بیتھ کا رات کو ڈراؤنے خواب دیکھنا تھا۔ اس نے اپنے والدین کو بتایا کہ اسے لگتا کہ کوئی اس کے پرائیویٹ حصوں کو اس بے دردی سے چھو رہا ہے کہ اس میں سے خون نکل رہا ہے۔ وہ سوتے میں اس بھیانک ہیولے کو اپنے اوپر دیکھتی۔ تو خوفزدہ ہوکے چلاتی۔ اور تکلیف کے عالم میں اٹھ جاتی۔
یہ ساری باتیں انتہائی پریشان کن تھیں لیکن اس کے والدین اتنی آسانی سے ہار ماننے کو تیار نہ تھے۔ انہیں اس کے ماضی کا بالکل علم نہیں تھا۔ وہ اس رویہ کا سراغ جاننا چاہتے تھے۔ تاکہ صیحح علاج ہو سکے۔ لہٰذا وہ بیتھ کو بچوں کے مشہور نفسیاتی معالج کے پاس لے گیے۔ ساتھ ہی انہوں نے بیتھ کے حقیقی والدین اور گھریلو حالات کو جاننے کی کوشش کی جو امریکہ کے چائلڈ پروٹیکٹو سروسز نظام میں رازداری کو ملحوظ رکھنے کی قانونی شرط کہ وجہ سے اتنا آسان نہیں تھا۔
بیتھ کی ذہنی حالت اور علاج کی ضرورت کے پیش نظر وہ یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ بیتھ کی ماں کا گردے کے مرض میں انتقال ہو گیا ہے ۔ اس کے مرنے کے بعد بچوں کی ذمہ داری شراب کے عادی باپ پہ تھی۔ جس نے نشہ کی علت کی وجہ سے بچوں کی نگہداشت نہ کی۔ جب شکایت ملنے پہ چائلڈ پروٹیکٹو سروسز والے اس کے گھر پہنچے تھے تو گھر غلاظت کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ سات ماہ کا بچہ جون گندے ڈائپر میں کسا ہوا تھا۔ اور اس کے بستر پہ جگہ جگہ پیشاب کے نشان اور بدبو تھی۔ دودھ کی بوتل میں سڑا ہوا دودھ تھا۔ جون اتنا کمزور تھا کہ وہ نہ سر اٹھا سکتا تھا اور نہ ہی پلٹ سکتا تھا۔ ایک ہی حالت میں مستقل پڑا رہنے کی وجہ سے اس کا سر پیچھے سے گول کے بجائے سپاٹ شکل اختیار کر گیا تھا۔ اور بچے میں کوئی چونچالی نہ تھی۔
بیتھ اٹھارہ ماہ کی عمر میں ماں کے پیار سے محرومی کا شکار سہمی ہوئی بچی تھی۔ جس کے پاس کھانے کے لیے ایک سیریل کا ڈبہ پڑا تھا۔ الکوحل کے نشہ کی علت میں مبتلا باپ نے اسے بنیادی ضروریات اور نگہداشت سے محروم رکھا ہوا تھا اور اس وقت وہ بچوں کو چھوڑ کے کہیں غائب تھا۔
ذہنی معالج نے بیتھ کی ذہنی حالت کی تشخیص کو RAD یا Reactive Attachment Disorder کا نام دیا گیا۔ یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ابتدائی چند ماہ سے چند سال کے عرصے میں بچوں کا والدین یا نگہداشت کرنے والے سے پر تحفظ، صحتمندانہ جذباتی تعلق نہیں بن پاتا۔ اور اسی وجہ سے بعد کی زندگی میں دوسرے لوگوں سے بھی کوئی جذباتی رشتہ نہیں بن پاتا۔ اس کا سبب نگہداشت میں بے توجہی، جسمانی، جذباتی اور جنسی استحصال ہو سکتا ہے۔ عموماً یتیم خانوں، فوسٹر کیئر، زندگی میں صدمات، بیماری، محرومی، ہجرت، والدین کے منشیات اور شراب کی عادت کے باعث عدم توجہی کا شکار بچے اس قسم کی ذہنی حالت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ان بچوں میں بنیادی ضروریات مثلاً محبت، تحفظ اور اعتماد اور ایک مستقل خیال رکھنے والے کی کمی کے باعث غصہ، چڑچڑا پن، اداسی، عدم تحفظ، بے اعتمادی، بے بسی کے علاوہ دوسروں کے لیے ہمدردی، افسوس، تاسف اور ندامت جیسے محسوسات کا فقدان ہوتا ہے۔ اپنی بے بسی کا حل وہ دوسروں پہ کنٹرول میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ بغیر کسی تاسف کے انسانوں اور جانوروں کو مارنے سے گریز نہیں کرتے۔ بیتھ کی شخصیت میں یہ علامات واضح طور پہ تھیں۔
بیتھ کا مستقل علاج جاری رہا۔ لیکن سب سے اہم چھ سال سے آٹھ سال کی عمر کا وہ دورانیہ تھا کہ جب 1989ء میں اس کے والدین نے اسے ایک ایسے ادارے میں داخل جو Early Attachment Disorder والے بچوں کے لیے مخصوص تھا۔
یہاں علاج کے بعد اس میں واضح تبدیلی آئی۔ مستقل ایک ڈاکٹر اور مشہور سائیکو تھرپسٹ کن ماجڈکی زیر نگرانی علاج نے اس میں اعتماد، اور دوسروں کے لیے احساس پیدا کیا۔ اس تھرپی کے دوران بیتھ نے اپنے حقیقی باپ کے ہاتھوں ایک سال کی عمر میں ہونے والے جنسی استحصال کے تجربے کو بیان کیا ہے۔ جو ڈوکیومنٹری میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ایچ بی او HBO نے بیتھ کے اس کیس کی سنگینی اور اہمیت کے پیش نظر دستاویزی فلم Child of Rage تیار کی جو 1990ء میں پیش کی گئی۔ جبکہ 1992ء میں ٹی سی چینل CBS نے بیتھ کی زندگی پہ ایک فلم بنائی جس نے تہلکہ مچا دیا۔ یہ دونوں فلمیں یو ٹیوب پہ دیکھی جا سکتی ہیں۔
بیتھ کی صحت یابی ایک لمبا سفر ہے۔ مگر آج وہ ایک کامیاب شادی شدہ پروفیشنل زندگی گزار رہی ہے۔ اور فلیگ اسٹاف، ایریزونا کے ایک ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بحیثیت رجسٹرڈ نرس کام کرتی ہے اور اپنی مسیحائی کے فریضہ کو عبادت کی طرح انجام دیتی ہے۔ اپنی بہترین کارگردگی پہ اسے دو دفعہ سال کی بہترین نرس کا ایوارڈ مل چکا ہے۔
بیتھ نے اپنی سوانح عمری کو جو اس نے اپنی دوسری فوسٹر ماں نینسی تھامس کے ساتھ لکھی ہے، اس قسم کے حالات سے گزرنے والوں کو امید کا پیغام دیا ہے۔ کتاب کا نام ہے۔
More Than A Thread Of Hope
بیتھ کے متعلق ڈرامہ اور دستاویزی فلم دیکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش ضرور کریں کہ کسی سے محبت اور رشتے کرنے سے پہلے اپنے سے رشتہ قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔ اور جب اپنے سے رشتہ قائم ہو جائے تو سماج میں بسے لوگوں سے محبت مشکل نہیں۔








No prove is mentioned whether this was the truth or another fake memory