افسانہ : کنواری لڑکی خریدنی ہے


وقت چلتا رہا اور دونوں نوجوانوں کا معاشقہ بھی۔ بلال ہر دو چار ماہ بعد ماں باپ سے ملنے اپنی جاگیر پر جاتا اور اپنی آبائی حویلی میں ٹھہرتا تھا۔ لیکن وہ کبھی بھی نبیلہ کو وہاں نہ لے جا سکا۔ اگرچہ نبیلہ اسے بے شمار بار اپنے گھر لے گئی تھی۔ اس کے گھر والے تقریباً سبھی کے سبھی بلال کے اچھے واقف بن گئے تھے۔ نبیلہ کی چھوٹی بہن جمیلہ تو اسے بہنوئی کے طور پر قبول بھی کر چکی تھی۔ وہ بلال کو بہت پسند کرتی تھی اور اس رشتے سے خوش بھی بہت تھی۔

چار سال کی مسلسل رفاقت کے بعد نبیلہ اور بلال دونوں امتحانات سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ ٹیلی فون پر دونوں کا رابطہ لگاتار قائم تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ چنانچہ بلال نے اپنے والد سے نبیلہ کے بارے میں بات کی۔ جلال حسین شاہ کو پہلے سے ہی مکمل خبر تھی سو اس نے اپنا پہلا پینترا پھینکا۔ اس نے بلال کو بتایا کہ اسے نبیلہ سے اس کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن نبیلہ اس کی پہلی بیوی نہیں ہو سکتی۔ اسے پہلے ایک شادی باپ کی مرضی سے انہی کے خاندان میں کرنی ہو گی۔

جلال شاہ اس کے لئے پہلے ایک ایسی بیوی لانا چاہتا تھا جو ان کے جاگیردارانہ نظام سے ہو۔ جو پہلے سے ہی ان کی حویلی کے رسم و رواج اور طور طریقے جانتی ہو۔ جو ضرورت پڑنے پر حویلی کا انتظام سنبھال سکے۔ ان کے خاندان میں صدیوں سے یہی چلا آ رہا تھا۔ پہلی بیوی ہمیشہ کسی جاگیردار خاندان سے ہی لی جاتی تھی۔ دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کہیں شہر میں کرنا یا پھر رکھیل رکھنا ان کے لئے عام سی بات تھی۔ مگر بلال کو یہ سب قبول نہ تھا۔ وہ نبیلہ سے بہت پیار کرتا تھا اور اس سے جس نوعیت کے وعدے کر چکا تھا، ان کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں تھا۔

باپ بیٹے میں بہت کھنچاؤ آ گیا اور آخرکار اس کی خبر نبیلہ کو بھی ہو گئی۔ وہ تو پہلے ہی بلال پر واضح کر چکی تھی کہ وہ کبھی بھی اس طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ چنانچہ باپ بیٹے کے درمیان کشیدگی اور بڑھ گئی۔ جلال شاہ نے بیٹے کی بغاوت کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے اگلے اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پہلے سے طے کر رکھا تھا کہ اگر معاملات ایسی نہج پر پہنچیں گے تو اس نے کیا کرنا ہے۔

جلال شاہ نے ایک شام بیٹے کو اپنے خاص کمرے میں بلایا اور جب وہ دونوں اکیلے رہ گئے تو یوں گویا ہوا ”یہ جاگیر اور جائیداد جو ہمیں اپنے بزرگوں سے ملی ہے، اسی کی بدولت ہمیں دنیا کے عیش و آرام اور ملکی سیاست میں ہمارا حصہ ملتا ہے۔ اسی وراثت میں کچھ ذمہ داریاں بھی ہمارے حصے میں آتی ہیں۔ ہم اگر ان ذمہ داریوں سے دامن چھڑانا چاہیں گے تو ہمیں اس وراثت سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ تم اب چونکہ فیصلہ کر چکے ہو کہ تمہیں پہلی شادی بھی اسی شہر کی لڑکی سے کرنی ہے تو تمہیں پہلی قربانی اس حویلی سے اپنے حق کی دینا ہو گی۔

یہ حویلی میں مکمل طور پر تمہارے چھوٹے بھائی کے حوالے کر دوں گا۔ جاگیر کا انتظام تو پہلے بھی وہی سنبھال رہا ہے اور ہمارے خاندانی رسم و رواج کے مطابق شادی کے لئے بھی تیار ہے۔ شہر والا گھر میں ابھی بھی تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں مگر جاگیر میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے تمہیں میری ایک چھوٹی سی شرط ماننا ہو گی۔ ویسے تو یہ شرط بھی صرف علاقے میں اپنی عزت بچانے کے لئے ہے، ورنہ تم میرے بیٹے ہو بڑے بیٹے، اور میں تمہاری خوشی کے لئے کچھ بھی کر نے کو تیار ہوں۔ لیکن یہ سوچ لو کہ اگر تم نے یہ چھوٹی سی شرط بھی نہ مانی اور مجھے علاقے میں اپنی عزت سے ہاتھ دھونا پڑے تو پھر میں تمہیں جاگیر جائیداد سے مکمل طور پر عاق کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا ”۔ اس نے بلال کو اپنی شرط سے آگاہ کر دیا اور اس کے اقرار کی صورت میں، ایم بی اے کی ڈگری ملنے کے فوراً بعد شادی کی نوید بھی سنا دی۔

بلال کے نزدیک یہ ایک چھوٹی سی شرط تھی، کیونکہ بدلے میں جاگیر جائیداد کی وراثت اور نبیلہ کی محبت، اسے دونوں مل رہے تھے۔ سیاست میں جانا تو اس کی بھی خواہش تھی اور وہ اس امر کا ادراک بھی رکھتا تھا کہ سیاست کی ابتدا میں اسے کتنے سرمائے کی ضرورت ہو گی۔ باپ کی مدد اور جاگیر چھن جانے کے بعد تو اس کے پاس چھوٹی موٹی نوکری کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ روپے پیسے کی تنگی کے ساتھ جینا اس نے کبھی سیکھا نہیں تھا۔ اس لئے وہ بہت خوش تھا کہ معاملہ اتنی آسانی سے سلجھ گیا ہے۔ اس نے نبیلہ کو بھی فون کر کے بتا دیا کہ سب معاملات بڑی خوش اسلوبی سے نمٹ گئے ہیں۔ تفصیل کے متعلق طے ہوا کہ کانووکیشن کے موقع پر شہر آ کر ہی بتائے گا۔

وقت آنے پر کانووکیشن کا فنکشن بھی ایک شادمانی کے سے ماحول میں انجام پا گیا۔ پھر ہوئی نبیلہ اور بلال کی وہ ملاقات جس میں بلال نے نبیلہ کو اپنے باپ کی طرف سے لگائی گئی اس ”چھوٹی سی“ شرط کی تفصیل بتانا تھی۔ اور شرط بتا دی گئی۔ شرط یہ تھی کہ پہلے نبیلہ ڈاکٹر کے پاس جا کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرے کہ وہ ابھی تک باکرہ (کنواری) ہے۔ مگر جیسا کہ بلال کے جاگیردار باپ کو اندازہ ہی تھا، یہ سن کر نبیلہ کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔

بلال کے بارے میں پچھلے چار سال میں اس نے جو سنہری خواب دیکھے تھے سب یک لخت چکنا چور ہو گئے۔ اس کا دماغ کھول اٹھا مگر اس نے بلال کو یہ سب ظاہر نہ ہونے دیا۔ البتہ اس نے رد عمل کے طور پر بلال سے دو سوال ضرور کیے۔ پہلا تو یہ کہ کیا بلال کے پاس بھی اپنے کنوارے ہونے کا کوئی ثبوت ہے؟ جس کے جواب میں بلال نے ہنس کر کہا ”یار! مردوں کے بارے میں ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی مردوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ پہلے کسی عورت سے مل چکے ہیں یا نہیں؟“ ۔

یہ جواب سن کر نبیلہ کو اور بھی دکھ ہوا کہ وہ کتنی پاگل تھی جو اتنے سالوں کی رفاقت اور محبت میں بلال کے اندر چھپے ہوئے اس مرد کو ہی نہ پہچان سکی۔ مگر اس نے پھر بھی بلال کو کچھ نہیں کہا۔ البتہ دوسرا سوال ضرور کر دیا کہ کیا اسے اپنے باپ کی شرط میں کچھ بھی برا نہیں لگا؟ جس پر بلال کا جواب تھا کہ اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے؟ وہ تو خوش ہے کہ اس کے باپ نے اتنی معمولی شرط رکھی ہے۔ اور ویسے بھی وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ نبیلہ کا کبھی کسی مرد سے کوئی جسمانی رشتہ نہیں رہا اس لئے پریشانی کی بھی کوئی بات نہیں۔

نبیلہ اس کے جوابات پر سر سے پاؤں تک جل رہی تھی مگر خاموش رہی۔ اور بلال کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے ماں سے بات کر کے اس ٹیسٹ کا وعدہ کر لیا۔ اس وقت وہ انتہائی تکلیف میں تھی۔ اسے خطرہ تھا کہ اگر وہ کچھ دیر اور وہاں بیٹھی رہی تو شاید اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ اس لئے کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ گھر لوٹ آئی۔

بلال بھی خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا اور کال کر کے باپ کو بتا دیا کہ چند دنوں میں وہ ان کا مطلوبہ سرٹیفیکیٹ لے کر آ رہا ہے۔ دوسرے دن بلال نے نبیلہ کو فون کیا تو کال ہی تھرو نہ ہوئی۔ اس نے بار بار ٹیلی فون کی کوشش کی لیکن دوسری طرف بیل ہی نہیں جا رہی تھی۔ پھر اس نے واٹس اپ، فیس بک اور جہاں جہاں ممکن تھا اس کے لئے میسج چھوڑے لیکن کہیں سے کچھ جواب نہ آیا۔ اسی دن شام کو جلال شاہ کے کچھ مہمان وہاں آ گئے۔ بلال مجبور تھا کہ باپ کے مہمانوں کو بھی وقت دے۔

یوں مزید دو دن اس کے مہمانوں کے ساتھ گزر گئے۔ اس دوران وہ مسلسل ٹیلی فون کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے پاس نبیلہ کے گھر والوں میں سے کسی اور کا نمبر ہی نہیں تھا۔ کچھ مشترکہ دوستوں کو اس نے فون کیے تو پتہ چلا کہ ان کی بات تو ہو رہی ہے نبیلہ کے ساتھ۔ اس نے ان دوستوں کے ذریعے بھی پیغام بھیجے مگر نبیلہ نے واپس کال نہیں کی۔ اسے بہت پریشانی ہوئی اور آخرکار مہمانوں سے فارغ ہو کر وہ چوتھے دن نبیلہ کے گھر پہنچ گیا۔

جمیلہ نے آ کر نبیلہ کو خبر دی کہ بلال بھائی آئے ہیں۔
”کون بلال؟“ ۔ نبیلہ نے ایسے پوچھا جیسے یہ نام وہ پہلی بار سن رہی ہو۔

”کون بلال؟ ارے آپ کی محبت، آپ کے ہونے والے شوہر نامدار اور کون؟ چار دن سے آپ کو فون کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر نجانے کیوں مل نہیں رہا تھا اس لئے خود آئے ہیں“ ۔

”میرا بلال تو چار دن ہوئے مر چکا ہے، اس کا تو میں نے نمبر بھی بلاک کر دیا ہے۔ یہ کوئی اور بلال ہو گا۔ اسے گھر سے نکال دو“ ۔ نبیلہ نے جواب دیا۔

جمیلہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ نبیلہ کو کیا ہوا ہے۔ وہ دوڑی دوڑی ماں کے پاس گئی۔ انہیں بتایا، پھر گھر میں سب کو خبر ہوئی۔ سب پریشانی میں نبیلہ کے پاس آئے۔ مگر اس کا ہر کسی کو یہی جواب تھا ”میرا بلال چار دن پہلے کا مر چکا ہے۔ میں خود اسے دفنا کر آئی ہوں۔ یہ کوئی اور آدمی ہے۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں! اس کے بارے میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ یہ محبت کے نام پر انسانوں کو خریدتا ہے۔ اور خریدنے سے پہلے ان کے باڈی پارٹس کی گارنٹی بھی مانگتا ہے“ ۔

بلال نے خود نبیلہ سے ملنا چاہا تو ماجد صاحب نے منع کر دیا۔ بعد میں جب ماجد صاحب نے اکیلے میں نبیلہ سے بات کی تو اس نے والد کے بہت اصرار کے بعد سارا ماجرا سنا دیا۔ وہ اپنے اس رویہ پر بہت شرمندہ تھی کہ اس نے ماجد صاحب کے بار بار کہنے کے باوجود معاملات کو اس تنقیدی نظر سے نہیں دیکھا جن کے کہ وہ متقاضی تھے۔ جواب میں ماجد صاحب نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان زندگی کے بہترین سبق اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔ انہوں نے اس ارادے کا بھی اعادہ کیا کہ وہ ہر حال میں اپنی بیٹی کے فیصلوں کے ساتھ رہیں گے۔

بلال نے بعد میں ہزار کوشش کی، لیکن نبیلہ اس سے نہیں ملی۔ بالآخر وہ مایوس ہو کر اپنی جاگیر پر چلا گیا۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3