افسانہ : کنواری لڑکی خریدنی ہے


نبیلہ کو جلد ہی جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ جہاں اس نے پہلے آرکیالوجی میں دوبارہ سے ایم اے کیا۔ پھر اس نے چار ہزار سال پہلے کے موہنجوداڑو اور بابل کے درمیان علمی، ثقافتی اور تجارتی روابط کا تھیسس منتخب کر کے، اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور وہیں ریسرچ کے کام میں مصروف ہو گئی۔ اسی ریسرچ کے دوران میں اسے ایک پاکستانی نژاد پروفیسر کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔ ساتھ کام کرنے کا یہ تعلق، پہلے دوستی اور پھر محبت میں بدل گیا، جس کا نتیجہ دونوں کی شادی کی صورت میں نکلا۔

ادھر بلال شاہ نے پہلے باپ کی مرضی سے اپنی ہی طرح کے ایک جاگیردار خاندان کی لڑکی سے شادی کر لی۔ لڑکی بہت سی اور خوبیوں کے باوجود کنواری ہرگز نہیں تھی۔ مگر نہ تو بلال ہی اپنے باپ سے پوچھ سکا کہ اگر لڑکی کسی جاگیردار خاندان کی ہے تو اس کا کنوارا ہونا کیوں ضروری نہیں ہے؟ نا ہی خود اسے کسی سے اس معاملے کا ذکر کرنے کی ہمت ہوئی کہ اس طرح دو طاقتور جاگیردار خاندانوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ البتہ اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

باپ کی دولت اور طاقتور سسرالیوں کے علاوہ علاقے کے با اثر لوگوں کی حمایت بھی اسے حاصل تھی۔ وہ جلد ہی قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہو گیا۔ اب اس کے تمام طور اطوار روایتی جاگیردار سیاستدانوں جیسے ہو گئے تھے۔ اس کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزرتا تھا اور بیوی بچے جاگیر والی حویلی میں رہتے تھے۔ اس کے باوجود رات کو اس کا بستر کم ہی عورت کے بغیر ہوتا تھا۔ دولت کی تو کوئی کمی نہ تھی اس لئے عورتوں کے دلالوں کی بھی بہتات تھی، جو کہ اب تک کئی کنواری لڑکیوں کو اس کے خلوت کدے کی زینت بنا چکے تھے۔

اب دنیا کو دکھانے کے لئے ہی سہی مگر اسے اسلام آباد میں بھی ایک عدد بیوی کی ضرورت تھی۔ اور اس بیوی کا سیاست میں مددگار ہونا بھی ضروری تھا۔ وہ اس کھوج میں کافی لڑکیوں سے ملا۔ وہ پڑھی لکھی بھی تھیں، خوبصورت بھی تھیں، سیاسی حلقوں کے ادب آداب سے بھی خوب واقف تھیں اور اس کی دوسری بیوی بننے کو بھی تیار۔ البتہ! ان میں ایک بھی کنواری نہیں تھی۔ سیاست میں رہتے ہوئے سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنا اس کی مجبوری بن گیا تھا۔ آخرکار اسے ایک ایسے بیوروکریٹ خاندان کی طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا پڑی جو سیاست میں بہت اثر رسوخ رکھتا تھا۔

نبیلہ سے پھر کبھی اس کا ملاقات نہ ہو سکی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3