ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)


گھر میں آتے ہی اس نے بلے کو ایک بار پھر وہیل چیئر پر بٹھایا اور اسے گلی میں نکال دیا۔ اسے کہا کہ وہ دو تین گھنٹے گلی بازار میں گھوم کر واپس آ جائے۔ واپسی پر وہ رشیدہ کو آواز دے گا تو وہ اسے اندر آنے میں مدد کر دے گی۔ بعد میں وہ نہا دھو کر سلمان عالم سے آج کا پڑھا ہوا سبق دہرانے بیٹھ گئی۔ نئی کتابوں کا بھی اس سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے چند دنوں میں مل جائیں گی۔

رشیدہ کے اگلے دو دن بھی اسی معمول میں گزرے۔ صبح سے دوپہر تک گھر میں پڑھنا۔ دوپہر کے بعد سلمان عالم کے پاس چلے جانا اور واپس آ کر پھر پڑھنا۔ اس دوران میں وہ کھانے پکانے اور بلے کی چیئر باہر سے اندر لانے میں مدد کرنے کے علاوہ صرف اپنی سلائی مشین پر ہی مشق کرتی رہی۔

چوتھے دن صبح صبح یامین صاحب کی بھیجی ہوئیں تین بچیاں سپارے تھامے اس کے پاس پڑھنے کے لئے پہنچ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ”رشیدہ“ جو کافی دیر سے ”شیدو“ بن کر رہ گئی تھی، اب آہستہ آہستہ ”باجی رشیدہ“ کہہ کر بلائی جانے لگی۔ اسی دن یامین صاحب نے بھی اسے بلایا اور کڑھائی کا لمبا چوڑا آرڈر دے دیا تھا۔ یامین صاحب کا بھیجا ہوا لڑکا وہ تمام دھاگے اور کپڑا وغیرہ اس کے گھر چھوڑنے آیا تھا۔

رشیدہ نے سلمان عالم کے گھر سے واپس آ کر کڑھائی کا کام شروع کیا۔ اس مشین کے استعمال کے سلسلے میں اس نے زاہد نامی لڑکے سے کافی کچھ سیکھ لیا تھا۔ اب جو اس نے کام شروع کیا تو اسے کافی خوشی ہوئی۔ یامین صاحب کا دیا ہوا کام اچھے انداز سے ہو رہا تھا۔ وہ صبح کے وقت پہلے چھوٹی بچیوں کو سبق پڑھاتی۔ پھر کڑھائی کا کام کرتی۔ دوپہر کے بعد سلمان عالم کی طرف جا کر پڑھتی اور ان سے ملاقات بھی کرتی۔ واپس گھر آ کر بھی کبھی کڑھائی اور کبھی پڑھائی وقفے وقفے سے دونوں کرتی رہتی۔

تین چار دن کے بعد رشیدہ کو اچانک خیال آیا کہ کیوں نا ایک بار زاہد کو بلا کر اپنا کام دکھا لے۔ ہو سکتا ہے کوئی اور بہتر طریقہ بھی ہو اس مشین کو استعمال کرنے کا۔ اور اس کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ زاہد نے آ کر دیکھا کہ کام اصل میں کیا ہے اور رشیدہ اسے کیسے انجام دے رہی ہے؟ تب رشیدہ پر انکشاف ہوا کہ یہ مشین ایسے کام کو سیمی آٹو میٹک طریقے سے بھی کر سکتی ہے۔ ڈیزائن اس کے کمپیوٹر میں فیڈ کر کے، بس ذرا ہاتھ سے تھامنے کی ہی ضرورت رہ جاتی ہے۔ اس طرح کام زیادہ رفتار سے انجام پاتا ہے۔ جاتے ہوئے زاہد بہت خوش تھا کہ رشیدہ نے اس بار آنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دوبارہ آنے کی درخواست بھی کی تھی۔

زاہد دراصل کسی اور قصبے کا رہنے والا تھا۔ اب اس فرم میں کام کرتے ہوئے اسی شہر میں اکیلا رہتا تھا۔ تنخواہ بے شک معقول تھی لیکن شادی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ خواہش کے باوجود کسی لڑکی سے دوستی بھی نہیں ہو سکی تھی۔ رشیدہ سے ملنے کے بعد اسے امید ہوئی کہ وہ اس کی قربت تو حاصل کر ہی سکتا ہے، شاید کسی وقت خلوت میں بھی پہنچ جائے۔ اسی خیال سے وہ رشیدہ کا فون ملتے ہی چلا آیا تھا۔

جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر رشیدہ کے گھر پہنچا تو تھوڑی تھوڑی شام ہو چکی تھی۔ رشیدہ نے اس کی موٹر سائیکل اندر صحن میں کھڑی کروائی۔ پہلے اسے بٹھا کر چائے پلائی اور اس دوران تھوڑا سا تعارف بھی ہوا۔ پھر اسے وہ کام دکھایا جو وہ مشین پر کر رہی تھی۔ اس وقت حجاب کی بجائے وہ صرف ایک بڑی سی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ جب ایک دوسرے کے قریب بیٹھے کام سمجھنے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے، رشیدہ کی چادر ایک طرف کو ذرا ڈھلکی تو زاہد نے دیکھا کہ اس نے کھلے گلے کی قمیض پہنی ہوئی ہے۔

قمیض کا گلا کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کہ اس کی دونوں چھاتیوں کا کچھ ابھار اور درمیان کی لکیر صاف نظر آ رہی تھی۔ زاہد اس وقت رشیدہ کے اتنا قریب تھا کہ اسے رشیدہ کی سانسوں کی آواز تک سنائی دے رہی تھی۔ رشیدہ کا جسم بھی اس کے جسم سے ہلکا ہلکا مس کر رہا تھا۔ زاہد کے لئے مشکل ہو رہی تھی کہ وہ کیسے خود کو قابو میں رکھے۔

اسی وقت بلا ہاتھوں سے اپنی وہیل چیئر کے پہیے کو گھماتا ہوا وہاں آ گیا۔ رشیدہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر الگ ہو گئی۔ پھر اس نے بلے کا زاہد سے اور زاہد کا بلے سے تعارف کروایا۔ اس تعارف کے دوران اس نے زاہد کو اس سلائی مشین فرم کی طرف سے بھیجا ہوا ایک ہمدرد بتایا۔ اور یہ بھی کہ اسے بڑی منتیں کر کے بلایا گیا ہے۔ کیونکہ عام طور پر اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ بلے نے بھی زاہد سے سلام دعا لی۔ اس مدد اور ہمدردی پر اس کا شکریہ ادا کیا اور باہر نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی رشیدہ بولی ”میں تو ڈر ہی گئی تھی“ ۔ پھر اس نے زاہد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا اور کہا ”دیکھو میرا دل کتنی زور زور سے دھڑک رہا ہے“ ۔

زاہد کی تو خواہش تھی کہ وہ اپنے ہاتھ کو ذرا نیچے کی طرف حرکت دے سکے۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکا اور چاہنے کے باوجود چند لمحوں بعد ہی اپنا ہاتھ واپس کر لیا۔ البتہ رشیدہ کی اس حرکت سے اس کی امید بہت مستحکم ہو گئی۔ اور جب رشیدہ نے الوداع کہتے ہوئے اپنے بیرونی گیٹ کے قریب اندھیرے میں زاہد کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کا شکریہ ادا کیا تو اس کا دل باغ باغ ہو گیا۔

زاہد کے جانے کے بعد وہ سونے والے کمرے میں آئی اور ایک نظر بلے پر ڈالی، وہ آنکھیں بند کیے اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ دوبارہ مشین والے کمرے میں آ گئی۔ رشیدہ اس وقت دو وجوہات کی بنا پر خوش تھی۔ پہلی اور بڑی تو یہ کہ اب وہ اپنی مشین کو زیادہ تیزرفتاری سے استعمال کر سکتی تھی۔ دوسرے وہ انداز، جس سے وہ بغیر کوئی پیسہ خرچ کیے، زاہد کو استعمال کر سکی تھی۔ دونوں طرح کی کامیابیوں نے اس کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ کیا تھا۔ وہ رات کو دیر تک بیٹھی کام کرتی رہی، مگر سوئی سارا کام ختم کر کے۔ یامین صاحب اور خود اس کے اپنے اندازے کے مطابق بھی یہ کم از کم آٹھ دس دن کا کام تھا، جو صرف چار دن میں انجام پذیر ہو گیا تھا۔

دوسرے دن بچیوں کا سبق ختم کرتے ہی اس نے یامین صاحب کو فون کر دیا کہ کام ختم ہو گیا ہے۔ اور ان سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر سامان اٹھوا لیں۔ کم از کم ایک سو پچاس پیس تھے جنہیں وہ اکیلے تو ہرگز نہیں اٹھا سکتی تھی۔ یامین صاحب کا آدمی جلد ہی آ گیا۔ اور وہ دونوں سارا سامان اٹھا کر سٹور پر پہنچ گئے۔

یامین صاحب کام کی کوالٹی دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور اس تیزرفتاری پر حیران بھی۔ فوراً لڑکے کو کہہ کر اس کے لئے چائے بنوائی۔ دونوں نے مل کر پی۔ باتوں کے دوران ہی یامین صاحب نے رشیدہ کی تحسین کی کہ وہ بہت لائق، حوصلہ مند اور محنتی لڑکی ہے۔ پھر اس کی مزید ترقی کے لئے دعا کی۔ اس کا حساب کر کے اسے پیسے بھی دیے اور شام کو نئے کام کی امید بھی دلائی۔

اس دن رشیدہ کو سلمان عالم کی طرف تو جانا نہیں تھا کہ وہ خود بیوی بچوں سے ملنے اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ ایسا وہ ہر چار چھ ہفتے کے بعد کیا کرتے تھے۔ گھر میں بھی اس وقت کوئی خاص کام نہیں تھا اس لئے رشیدہ اپنی پھوپھی کی طرف چلی گئی۔ پھوپھی کے پاس پہنچ کر اس نے یامین صاحب سے وصول کیے ہوئے آج کے پیسوں کا بڑا حصہ اس کے پاس رکھوا دیا۔ پھوپھی نے اس کے لئے ایک علیحدہ اکاؤنٹ کھلوا لیا تھا۔ رشیدہ کے تمام پیسے وہ اسی اکاؤنٹ میں رکھتی تھی۔ دونوں نے خوب گپ شپ کی اور پھر رشیدہ گھر لوٹ آئی۔

گھر پہنچ کر وہ شام کے کھانے سے فارغ ہی ہوئی تھی کہ یامین صاحب کی طرف سے فون آ گیا۔ وہاں پہنچی تو نیا کام آیا ہوا تھا۔ اس بار تین سو پیس تھے۔ کام پہلے کی طرح کا ہی تھا۔ یامین صاحب نے اسے کام سمجھایا اور تمام کپڑا دھاگہ اپنے ایک ورکر کے ہاتھ، اس کے ساتھ بھیج دیا۔ رشیدہ نے اس بار تین سو پیس بھی پانچ دنوں میں مکمل کر دیے۔

کام باقاعدگی سے ملنے لگا اور آمدنی بھی بڑھ گئی تو اس نے بلے کو ایک چھوٹا سا ٹی وی اور ایک سادہ سا موبائل فون بھی لے دیا۔ اسے نئے کپڑے دلوائے اور گھر میں بھی چھوٹی موٹی تبدیلیاں کر لیں۔

ایک صبح رشیدہ کسی ذاتی کام سے نکلی اور واپسی پر یامین سٹور کے پاس سے گزر رہی تھی۔ اس نے سوچا، کیوں نا یامین صاحب کو سلام کرتی چلوں! اتفاق سے سٹور میں اس وقت کوئی گاہک نہیں تھا۔ کاؤنٹر پر ایک لڑکا کھڑا تھا۔ رشیدہ سٹور میں داخل ہوئی ہی تھی کہ باہر ایک بڑی سی گاڑی آ کر رکی۔ ڈرائیور نے ہارن بجایا تو اندر کاؤنٹر پر کھڑا ہوا لڑکا لپک کر گاڑی کی طرف گیا۔ اب رشیدہ سٹور میں اکیلی تھی۔ یامین صاحب اندر کیبن میں اپنے بیٹے عابد کو کچھ سمجھا رہے تھے۔ انہیں خبر نہ ہو سکی کہ دکان میں کوئی اور بھی ہے۔ رشیدہ نے باپ بیٹے کی گفتگو کا بڑا حصہ سن لیا۔ یامین صاحب نے اپنے بیٹے کو جو کچھ سمجھایا، اس کا لب لباب مندرجہ ذیل تھا

”کوئی اور ہنر سیکھنے کی کیا ضرورت ہے تمہیں؟ اپنے ہاتھوں سے کام کر کے کوئی امیر نہیں ہو سکتا۔ دولت صرف ان کے پاس آتی ہے جو دوسروں سے کام لینا جانتے ہیں۔ یا پھر ہم جیسے تاجروں کے پاس، جو ان کی محنت پر اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ اس لئے تاجر بنو تاجر۔ محنت کش بننے کی بے وقوفی مت کرو“ ۔

رشیدہ فوراً سٹور سے باہر نکل آئی۔ کاؤنٹر والا لڑکا ابھی تک باہر گاڑی کے ڈرائیور سے باتیں کر رہا تھا۔ اس نے رشیدہ کو واپس جاتے ہوئے دیکھا بھی نہیں۔ یامین صاحب کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحت سن کر، رشیدہ کی سوچ کے دھارے کا تو جیسے رخ ہی بدل گیا۔ وہ گھر آ کر اپنے کام کاج میں مصروف تو ہو گئی تھی مگر اس کے خیالات تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچے ہوئے تھے۔ ایسی دنیا، جہاں عام طور پر رشیدہ کے ماحول میں بسنے والوں کا گزر بھی نہیں ہوتا۔

دوپہر کے بعد سلمان عالم کے پاس پہنچ کر اس نے اعلان کر دیا کہ وہ اب میٹرک کے امتحان کی تیاری نہیں کرے گی۔ اس کے دل میں کیا تھا، وہ اس نے ابھی بھی نہیں بتایا۔ اردو زبان وہ پہلے بھی لکھ پڑھ سکتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اب وہ اسے بہتر بنائے گی۔ انگریزی پڑھنا لکھنا اچھی طرح سیکھے گی اور قرآن شریف کی کچھ آیات بھی ترجمے کے ساتھ یاد کرے گی۔ لیکن ابھی اور کچھ نہیں۔ سلمان عالم نے چند سوال جواب کے بعد اس کی بات مان لی۔

رشیدہ نے اپنے محلے سے دو ایسی لڑکیاں ڈھونڈیں جو میٹرک پاس کر کے گھر میں بیٹھی ہوئیں تھیں اور رشیدہ کی مشین پر کام سیکھنے میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں۔ رشیدہ نے ان سے وعدہ کر لیا کہ جونہی وہ کام کرنے کے قابل ہو جائیں گی تو وہ انہیں کام کا معاوضہ بھی دے گی۔

دونوں لڑکیوں نے چند ہی دنوں میں کام سیکھ لیا۔ اب صبح کے وقت جب رشیدہ چھوٹی بچیوں کو سپارہ پڑھا رہی ہوتی تو نسرین اور زینب نام کی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک مشین پر کام کرتی۔ پھر جب رشیدہ اپنی پڑھائی کے لئے سلمان عالم کی طرف جاتی تو بھی ایسا ہی ہوتا۔ مطلب، اس کی مشین اب زیادہ سے زیادہ مصروف رہنے لگی۔ اسی بنیاد پر اس کی آمدنی مزید بڑھ گئی۔ محلے میں بھی اب زیادہ تر لوگ اسے باجی رشیدہ کہہ کر بلاتے اور عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

اس کے باوجود وہ ایک دن پھر اپنی پھوپھی کے گھر پہنچی تو اس کا چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔ اس کی باتوں میں مایوسی کی جھلک نمایاں تھی۔ اکثر جملوں کا آپس میں ربط بھی نہیں تھا۔ پھوپھی بھی سمجھ گئی کہ بھتیجی کو آج پھر کوئی خاص مسئلہ درپیش ہے۔ کہنا کچھ اور چاہ

رہی ہے، کہہ کچھ اور رہی ہے۔ پھوپھی نے ڈانٹ کر کہا کہ ادھر ادھر کی ہانکنے کی بجائے، اصل بات بتائے۔ ہوا کیا ہے؟ آخرکار رشیدہ بولی

”پھپھو! ہمارے معاشرے میں عورت پر ظلم و جبر کے دروازے تو ہر وقت کھلے ہیں لیکن باعزت آسودگی کا ایک لمحہ تو کبھی بھولے بھٹکے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ ذرا سوچ! وہی کام جو بلا مجھے مارنے پیٹنے کے بعد اور زور زبردستی سے کرتا تھا، اگر اپنائیت، لگن اور چاہ کے ماحول میں کرتا تو کیا میں اسے بدلے میں بہت سا پیار نہ دیتی؟ اور اگر ایسا ہوتا تو ہماری زندگی غربت کے باوجود کتنی اچھی ہوتی؟ مگر ہوا کیا! معاملہ پلٹا بھی تو محرومی، مایوسی اور بے بسی کی نئی بلاؤں نے حملہ کر دیا مجھ پر۔ ایک ہی کمرے میں دو علیحدہ چارپائیوں پر لیٹے ہوئے۔ کبھی رات کو آنکھ کھل جاتی تو اس پر نظر پڑتی۔ دل میں اک ہوک سی اٹھتی۔ کاش! وہ اٹھ کر میرے پاس آ جائے۔ مجھے منانے کی کوشش کرے اور میں فوراً اسے بانہوں میں بھر لوں۔ مگر۔“ ۔

”اب تو سب کچھ حاصل ہے تجھے۔ مولوی سلمان تو جوان بھی ہے اور تو نے ہی بتایا تھا کہ بہت پیار کرنے والا انسان ہے۔ اب کیا کمی ہے جو تو آہیں بھر رہی ہے؟“ ۔

”اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے مجھے بہت سی فکروں سے آزاد کر دیا ہے۔ لیکن حالات ایسے ہیں کہ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے، میں اس کی بیوی نہیں کوئی طوائف ہوں۔ یا شاید وہ ایک طوائف ہے جسے میں اپنے جسم کے بدلے خرید لیتی ہوں“ ۔

پھوپھی اسے ڈانٹتے ہوئے بولی ”اب ان بکواس خیالات کو دماغ سے نکال دے۔ قدرت تجھ پر مہربان ہے۔ کام تیرا چل پڑا ہے۔ قصبے میں عزت بھی ہے تیری۔ سلمان عالم والے معاملے پر بھی ابھی تک کسی نے شک نہیں کیا۔ پیسے بھی کافی جمع ہو گئے ہیں۔ چاہے تو ایک مشین اور خرید لے۔ ہمارے قصبے میں بہت لڑکیاں ہیں کام کرنے کے لئے۔ اس طرح عزت سے پیسہ کمانے کا موقع وہ بھی ڈھونڈ رہی ہیں۔ تو اس طرف دھیان دے“ ۔

رشیدہ نے بھی سوچا کہ پھوپھی کہہ تو ٹھیک ہی رہی ہے۔ اس نے فوراً زاہد کو فون کیا کہ جب بھی ہو سکے وہ اس سے ملنے آئے۔ ایک ضروری کام ہے۔ زاہد تو ہمیشہ اس انتظار میں رہتا تھا کہ کب رشیدہ اسے بلائے اور کب وہ اس کی صحبت سے فیضیاب ہو سکے۔ رشیدہ نے گو اسے ابھی گلے لگنے تک کا بھی موقع نہیں دیا تھا، مگر زاہد پھر بھی خوشی خوشی اس کے پاس آتا تھا۔ وہاں اسے عزت سے بٹھایا جاتا، ہمیشہ اس کی عمدہ چائے اور لذیذ کھانوں سے تواضع کی جاتی۔ میٹھے میٹھے لہجے میں کبھی کبھی باتوں کی چھوٹی موٹی چھیڑ چھاڑ بھی ہو جاتی۔ الغرض رشیدہ کے پاس اس کا وقت بہت اچھا گزرتا تھا۔

اس دن بھی زاہد آیا تو اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ کھانے کے بعد رشیدہ اس کے کافی قریب ہو کر بیٹھ گئی اور بڑے پیار بھرے لہجے میں بولی ”زاہد! مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں ایک نئی اور بہتر مشین خریدنا چاہتی ہوں“ ۔ زاہد نے جواب میں اسے بتایا کہ اس کی کمپنی میں ابھی حال ہی میں کہیں زیادہ ماڈرن مشینیں آئی ہیں۔ لیکن ایک تو یہ کہ وہ ذرا مہنگی ہیں، دوسرے انہیں استعمال کرنے کے لئے تھوڑی کمپیوٹر کی سدھ بدھ بہت ضروری ہے۔ رشیدہ کے دوسرے سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ اگر وہ

چاہے تو ایک ہفتہ کی لگاتار محنت سے اتنا کمپیوٹر ضرور سیکھ سکتی ہے۔ رشیدہ دونوں کاموں کے لئے تیار ہو گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4