ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)
اس دوران میں رشیدہ باقاعدگی سے سلمان عالم کی طرف بھی جاتی رہی، لیکن ہفتے میں صرف چار دن۔ اس نے ہر چار چھ ہفتے بعد لڑکیوں کے ہائی سکول میں جا کر پرنسپل صاحبہ سے ملنا اور اپنا نوکری کا زمانہ یاد کرنا بھی جاری رکھا۔ پرنسپل صاحبہ ہمیشہ اسے پیار سے ملتیں اور دعائیں بھی دیتیں۔ وہ بھی ان کے لئے محبت بھرے تحفے لے کر جاتی۔ پرنسپل صاحبہ، کتابوں کے بارے میں بھی اس کی رہنمائی کرتیں۔ ایسی کتابیں جو رشیدہ کے جنرل نالج میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ، دنیا کے طور طریقے سمجھنے میں بھی اس کی معاون ہو سکتی تھیں۔ ناول، افسانوی مجموعے، تاریخی کتابیں وٖغیرہ وغیرہ۔ رشیدہ جیسے کیسے یہ کتابیں حاصل کرتی اور جتنا بھی ممکن ہو سکتا اپنا وقت ان کتب کے مطالعہ میں صرف کرتی۔
مکان میں سے رانی اور نجمہ کا حصہ خریدنے میں جو ادائیگیاں کرنا پڑیں، ان کی وجہ سے مالی طور پر رشیدہ کا ہاتھ کئی مہینے تک تنگ رہا۔ مگر بعد میں آہستہ آہستہ حالات اس کے قابو میں آ گئے۔ روپیہ پھر سے ہاتھ میں رکنے لگا تو اس نے کمرے اور کچن کے درمیان والی جگہ میں ایک برآمدہ تعمیر کر لیا۔ آگے چل کر ایک اور ماڈرن مشین بھی خرید لی۔ زاہد کے ماں باپ تو فوت ہو چکے تھے اس لئے اس کی بڑی بہن اور بہنوئی کو بلوا کر زہرہ کے گھر بھجوایا۔ دونوں کا رشتہ طے کرایا اور پھر اپنے ہی گھر میں دونوں کی منگنی کی رسم بھی ادا کرا دی۔ شادی زہرہ کی گریجویشن کے بعد ہونا قرار پائی۔ یہ بھی طے ہوا کہ زہرہ شادی کے بعد مزید تعلیم بھی جاری رکھ سکے گی اور اگر اس کی خواہش ہو گی تو وہ بعد میں نوکری بھی کر سکے گی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رشیدہ کی ذمہ داری اب کام کی نگرانی اور پیسوں کا حساب رکھنے تک محدود ہو گئی تھی۔ اگرچہ اس ذمہ داری کی سنجیدگی اور اس کا بھاری پن بھی کچھ کم نہ تھا۔
اٹھارہ سال کی ہونے پر اس نے بینک اکاؤنٹ بھی اپنے نام سے کھلوا لیا۔ پھوپھی کے سر سے بوجھ بھی کم ہو گیا اور ساتھ ہی
رشیدہ کے معاملات میں اس کا عمل دخل بھی۔
تبھی ایک رات کو، جب وہ اور بلا گھر میں اکیلے تھے تو رشیدہ نے بلے کو خوش خبری سنائی
”بلے! میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں“ ۔
بلا تو ہکا بکا رہ گیا۔ ”میرے بچے کی ماں؟ تم مذاق کر رہی ہو؟“ ۔
”نہیں، ہرگز نہیں، میں سچ کہہ رہی ہوں“ ۔
”سچ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا میں نہیں جانتا کہ میں باپ نہیں بن سکتا۔ میں تو تمہیں چھونے کے قابل بھی نہیں رہ گیا“ ۔
”یہ بھی سچ ہے، لیکن یہ تمہارا اور میرا سچ ہے۔ دنیا کا سچ وہی ہو گا جو ہم دونوں دنیا کو بتائیں گے۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہاں کہو گے تو دنیا کی نظر میں، اس وہیل چیئر پر بیٹھے ہونے کے باوجود ایک مرد سمجھے جاؤ گے۔ ورنہ میرے پاس تو پورا بندوبست ہے“ ۔
”کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر کے تم ایک بچے کی ماں بننے جا رہی ہو اور کہہ رہی ہو پورا بندوبست ہے تمہارے پاس؟“ ۔
”ہاں! بالکل! اگر تم انکار کرو گے تو میں اس بچے کے اصلی باپ کے ساتھ اپنا نکاح ظاہر کر دوں گی“ ۔
”یہ ناممکن ہے۔ جب تمہاری میری طلاق ہی نہیں ہوئی تو تمہارا دوسرا نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟“ ۔
”طلاق تو تم مجھے لکھ کر دے چکے ہو۔ جو میرے پاس کسی اور جگہ محفوظ ہے اور میں صرف اس صورت میں سامنے لاؤں گی، اگر تم اس بچے کا باپ بننے سے انکار کرو گے“ ۔
”اچھا؟ کب دی تھی میں نے تمہیں طلاق؟“ ۔
”تمہیں یاد ہی ہو گا کہ جب میں نے پہلی مشین خریدی تھی تو تم نے کچھ کاغذات پر دستخط کیے تھے۔ ساتھ میں انگوٹھا بھی لگایا تھا“ ۔
”ہاں ہاں! مجھے یاد ہے“ ۔
”وہ مشین کی خریداری کے نہیں، طلاق کے کاغذات تھے۔ تم ان پڑھ آدمی، دستخط کرنے سے زیادہ کچھ جانتے نہیں۔ تمہیں یہ بھی خبر نہ ہو سکی کہ وہ طلاق کے کاغذات تھے“ ۔
”تم نے میرے ان پڑھ ہونے کی مجبوری اور میری بیماری سے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے رشیدہ! یہ تو سراسر ظلم ہے“ ۔
”کوئی ظلم نہیں ہے۔ سیدھا سیدھا طاقت کا اصول ہے۔ کبھی طاقت تمہارے پاس تھی۔ آج طاقت میرے پاس ہے۔ اور جیت ہمیشہ طاقت کی ہوتی ہے۔ بے شک طاقت کی سو شکلیں ہیں اور طاقت اپنی شکلیں تبدیل بھی کرتی رہتی ہے، لیکن طاقت کی جیت کا اصول کبھی تبدیل نہیں ہوتا“ ۔
”میں ساری دنیا کو بتا دوں گا کہ یہ جو تم مذہبی، پرہیزگار اور پاکباز بنی پھرتی ہو، اصل میں تمہارا کردار کتنا گھناؤنا ہے۔ تم ایک زانیہ اور بدکردار عورت ہو“ ۔
”تمہاری بات پر کوئی یقین ہی نہیں کرے گا۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ جس رشیدہ کو تم نے شیدو بنا دیا تھا، وہ اب پورے علاقے
میں باجی رشیدہ کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ لوگ میری عزت کرتے ہیں۔ مجھے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میرا حجاب، مذہبی انداز، محلے کی بچیوں کو سپارہ پڑھانا اور صدقہ خیرات سے میری شخصیت کتنی طاقتور ہو چکی ہے، تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارے لوگ عام طور پر اتنے سادہ ہیں کہ ایک ٹوپی، داڑھی والے اور فر فر عربی بولتے مرد کو کبھی گناہ گار ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ میں تو پھر ایک مظلوم عورت ہوں۔ مجھ پر لگائی گئی تہمت تو الٹی تمہی پر آن پڑے گی ”۔
”تمہاری ساری خوش فہمی ہوا ہو جائے گی، جب میں تمہارے کردار کا پردہ فاش کروں گا“ ۔
”تم کچھ بھی نہیں کر سکتے مسٹر مقبول ملک عرف بلا گولی۔ تم اب کوئی بھی گولی نہیں چلا سکتے۔ تمہاری تو اپنی گولیاں بھی بے کار ہو چکی ہیں۔ تمہیں یاد ہے؟ کئی سال پہلے، ایک بار تم نے اپنی ماں اور بہنوں کے سامنے مجھے جوتوں سے مارا تھا۔ میری پیٹھ کی کھال ادھیڑ کر رکھ دی تم نے۔ رات کو میں بستر پر کروٹ بھی نہیں لے سکتی تھی۔ مگر تمہیں اپنی جنسی بھوک مٹانے کی پڑی تھی۔ میرے منت سماجت کرنے کے باوجود تم نہیں مانے تھے۔
الٹا مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم مجھے طلاق دے دو تو میرا کہیں ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ برادری میں کوئی مجھ سے شادی نہیں کرے گا اور میں ٹکے ٹکے پر اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہو جاؤں گی۔ پھر یونہی بوڑھی ہو کر بھیک مانگتے مانگتے مر جاؤں گی۔ تم نے ٹھیک کہا تھا، کیونکہ اس وقت میں ایک کمزور، بے بس اور بے آسرا لڑکی تھی۔ مگر آج میں ایک پڑھی لکھی، عزت دار اور پیسے والی عورت ہوں۔ جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا ہے، اس بچے کے لئے میرے پاس پورا بندوبست ہے۔
تم ابھی انکار کرو، میں کل صبح ہی بچے کے باپ کو لا کر دنیا کو دکھا دوں گی۔ سب کو یہ بھی بتا دوں گی کہ میں نے تم پر ترس کھا کر یہ سب کچھ ابھی تک چھپا کر رکھا تھا۔ پھر میں اس مکان کے آدھے حصے میں، جو کہ میرے نام پر ہے، شفٹ ہو جاؤں گی۔ اور تم اس آدھے مکان میں اپنے آدھے دھڑ کے ساتھ، بے آسرا پڑے رہو گے۔ نہ کوئی آمدنی ہو گی، نہ کوئی تمہاری دیکھ بھال کے لئے آئے گا۔ میری یہ آفر بھی صبح ہونے تک ہے۔ صبح میرے جاگنے سے پہلے پہلے فیصلہ کر لو ”۔ اور وہ دوسری طرف کروٹ لے کر سکون سے سو گئی۔
ابھی صبح کاذب ہی ہو گی، جب رشیدہ نے اپنے پاؤں پر نمی محسوس کی اور اٹھ بیٹھی۔ دیکھا تو بلا اپنی چیئر پر بیٹھا، لیکن رشیدہ کے پیروں پر جھکا آنسو بہا رہا تھا۔ رشیدہ نے اپنے پاؤں کھینچ لئے۔ بلا ہاتھ جوڑتے اور روتے ہوئے بولا
”مجھے معاف کر دو رشیدہ۔ یہ سب میرے گناہوں کی سزا ہے۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔ میں خوشی سے اس بچے کا باپ کہلانا چاہوں گا۔ بس میری عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے“ ۔ رشیدہ نے اسے دلاسا دیا۔ ”تمہیں ایسے ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں احساس ہو گیا کہ اس دوغلے اور منافق معاشرے میں زندہ رہنے کا کیا طریقہ ہے، بس یہی کافی ہے۔ میں نے جو کچھ کیا، اس میں ہم دونوں کی بہتری ہے۔ اب تم بالکل خاموش رہو گے۔ کسی کو جو بھی اور جب بھی بتانا ہو گا، میں خود بتاؤں گی“ ۔
دوسرے دن دوپہر کے بعد رشیدہ سیدھی سلمان عالم کے گھر پہنچی۔ انہیں چائے پلائی اور بغیر تمہید باندھے انہیں بتا دیا۔ ”میں آپ کے بچے کی ماں بننے جا رہی ہوں“ ۔
”یہ کیسے ہوا؟ تم تو مسلسل لیڈی ڈاکٹر کی مدد لے رہی تھیں“ ۔
”آپ سچ کہہ رہے ہیں۔ میں پوری احتیاط برت رہی تھی۔ مگر تب تک، جب تک میری ضرورت تھی۔ اب میں ماں بننا چاہتی تھی۔ سو میں نے احتیاط ختم کر دی اور ماں بن گئی“ ۔
”یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا رشیدہ! ابھی بھی وقت ہے، اس مصیبت سے جان چھڑا لو۔ ورنہ تمہارے لئے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا“ ۔
”میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اور آپ نے بھی خاموش رہنے کے سوا کچھ نہیں کرنا۔ ہاں! البتہ اب میرا آپ کے پاس آنا بہت کم ہو جائے گا“ ۔
”مجھے تمہاری ضرورت ہے رشیدہ! تم میری بیوی ہو“ ۔
”آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یہاں کئی دوسری آتی رہتی ہیں۔ مجھے ان سب کی بہت پہلے سے خبر ہے۔ لیکن پھر بھی، میں آپ کی بیوی ہی رہوں گی۔ ہاں! صرف تب تب جب جب مجھے ضرورت ہو گی۔ اور اگر مجھے ضرورت پڑ گئی تو میں آپ کے گاؤں تک بھی پہنچوں گی، عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹاؤں گی۔ مجبور کی گئی تو ڈی این اے ٹیسٹ تک سے بھی پرہیز نہیں کروں گی۔ دوسری صورت میں آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں“ ۔
”میرے پاس ہم دونوں کا نکاح نامہ ہے۔ اس پر ہم دونوں کے دستخط بھی موجود ہیں“ ۔
”آپ درست کہہ رہے ہیں۔ اس نکاح نامہ پر ہم دونوں کے دستخط موجود ہیں۔ لیکن وہ نکاح نامہ ہے کہاں؟ آپ کے پاس تو اب وہ یقیناً ہے نہیں۔ بے شک، جس کے پاس ہے اور جہاں ہے، وہاں وہ بالکل محفوظ ہے۔ آپ کے پاس تو اس کی کوئی کاپی بھی نہیں ہے“ ۔
”مطلب، تم وہ نکاح نامہ یہاں سے چوری کر کے لے گئی ہو؟“ ۔
”جی بالکل! کیونکہ آپ نے اپنی طرف سے میری طلاق کی جو تشریح کی تھی، وہ دنیا کو بتانے کے لئے کافی نہیں تھی“ ۔
”میں نے جو تمہیں بتایا تھا، وہ شرعی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ نکاح عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا اصل مطلب ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان جنسی تعلق کا معاہدہ یا عہد نامہ ہے۔ اس لئے اگر کوئی مرد جوانی میں ہی جنسی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے، جیسا کہ تمہارا سابقہ خاوند ہو گیا تھا، تو اس کی طلاق خود بخود ہو جاتی ہے“ ۔
”آپ کے نزدیک کسی لفظ کے کیا معنی ہیں، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ مجھے صرف یہ دیکھنا ہے کہ معاشرتی اور سماجی طور پر یہ الفاظ کس طرح رائج ہیں؟ عام لوگ ان کے کیا معنی سمجھتے ہیں؟ میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے، اس لئے میں آپ کی ممنون ہوں۔ مگر آپ سے میری ملاقات اب میری سہولت کے مطابق ہی ہوا کرے گی۔ جو یقیناً بہت کم ہو گی۔ میں پہلے اس بچے کو پیدا کروں گی۔ اس کے بعد سوچوں گی کہ آپ سے طلاق لینی ہے یا نہیں؟ اور کیا اس کی کوئی ضرورت بھی ہے؟“ ۔
اور وہ چلی گئی۔
پھر وہ ایک بیٹے کی ماں بن کر سلمان عالم کو بچہ دکھانے کے لئے آئی۔
اس کے چند ماہ بعد ایک بڑا حادثہ ہو گیا۔ ہوا یوں کہ رشیدہ اپنے کام کے ضمن میں شہر گئی ہوئی تھی۔ بچہ گھر میں لڑکیوں کے پاس تھا۔ بلا اپنی وہیل چیئر پر باہر گھومتے گھومتے بڑی سڑک پر نکل گیا۔ جہاں اسے ایک تیز رفتار بے قابو کار نے ٹکر مار دی۔ آس پاس سے بہت سے لوگ فوراً اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے گاڑی چلانے والے لڑکے کو پکڑ لیا۔ کچھ لوگ بلے کو لے کر ہسپتال چلے گئے۔ گاڑی کے ڈرائیور کو لوگوں نے پولیس کے حوالے کر دیا۔ لوگوں کا پریشر اتنا زیادہ تھا کہ تھانے دار کے پاس ایف آئی آر کاٹنے اور لڑکے کو گرفتار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ پھر جب چند ہی گھنٹوں بعد بلے کی موت کی خبر آئی تو پولیس کے پاس کسی رعایت کی گنجائش بھی ختم ہو گئی۔
رشیدہ خبر ملتے ہی ہسپتال پہنچی تو بلے کی لاش مردہ خانے منتقل ہو چکی تھی۔ پولیس کیس تھا اس لئے پوسٹ مارٹم بھی لازمی تھا۔
سترہ سالہ قاتل ڈرائیور ایک دولت مند آدمی امیر الدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ابھی اسے ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ملا تھا۔ باپ کی کوششوں سے اسے تھانے میں آرام سے تو رکھا ہوا تھا مگر بلے کی موت کی وجہ سے ضمانت کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی۔
امیر الدین کی ہزار منت سماجت کے باوجود رشیدہ خون بہا لے کر لڑکے کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس لئے لڑکا ابھی تک جیل میں تھا۔ آخر یامین صاحب نے بیچ میں پڑ کر رشیدہ کو، خون بہا کے طور پر ایک بڑی رقم لینے پر آمادہ کر لیا۔
رشیدہ نے ان پیسوں کا ایک حصہ رانی اور نجمہ کو دے دیا اور باقی سے اپنے ساتھ والا مکان خرید لیا۔ اب وہ دونوں مکانوں کے درمیان والی دیوار گرا کر اپنی فیکٹری کو بڑا کرنا چاہتی تھی۔ لیکن ابھی وہ اس پروگرام کی منصوبہ بندی ہی کر رہی تھی کہ یامین صاحب نے اپنے بیٹے عابد کے لئے اس کا رشتہ مانگ لیا۔ رشیدہ نے اپنی پھوپھی سے مشورہ کرنے کے بعد یہ رشتہ قبول کر لیا۔ البتہ شادی سے پہلے اس نے احتیاطاً سلمان عالم سے طلاق لینا ضروری خیال کیا۔
۔
ہم کہانی سے نکل آئے ہیں اور وقت بھی آگے گزر گیا ہے۔ ہر چیز لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی مستقبل کے سفر پر ہے۔ مگر۔ سلمان عالم کے حالات آج بھی ویسے ہی ہیں۔ اگر ایک رشیدہ ان کے جال سے نکل بھی جاتی ہے تو کوئی اور پھنس جاتی ہے۔ محلے میں اگر کوئی ہمت کر کے ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو آس پاس کے لوگ اس کی انگلی نیچے کر دیتے ہیں۔
۔
صرف ایک بات اچھی ہوئی ہے۔ رشیدہ نہ صرف یہ کہ اب خود کسی ظالم خاوند کے بستر کی بے بس بیوی نہیں ہے بلکہ اس نے آس پاس کی بہت سی لڑکیوں کو ہمت دی ہے کہ وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کے لئے کچھ نہ کچھ کوشش کر سکیں۔

