ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)


پہلے مختصر سی روئیداد اس رات کی۔

سلمان عالم نے نکاح کے بعد ، پہلے رشیدہ کو آئندہ پیش آنے والے حالات سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ پھر، کہاں کہاں، کس کس احتیاط کی اور کیوں ضرورت ہے؟ یہ تفصیل بتائی۔ اس کے بعد وظیفہ ء زوجیت ادا کیا اور مولوی سلمان صاحب سو گئے۔ رشیدہ بھی پہلے تو تقریباً آدھ گھنٹہ کے لئے گہری نیند سوئی مگر پھر اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کافی کوشش کرتی رہی کہ پھر سے نیند آ جائے لیکن اس کی سوچوں نے اسے سونے نہ دیا۔ وہ اگلے دن سے شروع ہونے والی اونچ نیچ پر غور کرتی رہی۔ کس کو کیا بتانا ہے؟ کس سے کیا چھپانا ہے؟ یہ سب ابھی سے طے کرنا بہت ضروری تھا۔ اسی منصوبہ بندی کے درمیان میں کبھی کبھی تھوڑی دیر کے لئے اسے نیند کا ہلکا سی جھونکا آتا مگر پھر اس کی سوچیں اسے جگا دیتیں۔ اسی طرح صبح کاذب کا وقت ہو گیا۔

رشیدہ نے ساتھ لیٹے ہوئے سلمان عالم کو دیکھا تو ایک عجیب خوشی کے احساس کی لہر اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ اس نے خود میں ان کے لئے ایک خاص اپنائیت کا جذبہ محسوس کیا۔ اسی جذبہ سے سرشار اس نے ان کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ لبوں کو لبوں سے مس کیا اور ان کے بدن کے مختلف مقامات پر ہاتھ پھیر کر انہیں اکسایا۔ نتیجہ! سلمان عالم نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔ دونوں کے جذبات جوش میں آ گئے اور باہمی جنسی آسودگی کا ایک دور مزید چل گیا۔

نہا دھو کر بیٹھے تو سلمان اسے زندگی کے بارے میں اپنے تجربات بتانے لگے۔ رشیدہ ان کی باتیں غور سے سن رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے مستقبل کے تانے بانے بھی بن رہی تھی۔ سلمان نے اپنے مالی معاملات کے بارے میں پہلے سے بتائی ہوئی باتوں کا اعادہ کیا اور اس وعدے کو بھی دہرایا کہ وہ اس کے باوجود اس کی تمام ضروریات اور خواہشات کا خیال رکھیں گے۔ ان کے پوچھنے پر رشیدہ نے ایک عدد سمارٹ فون کی فرمائش کر دی، جیسا کہ سلمان خود بھی استعمال کر رہے تھے۔ اتفاق سے کسی عزیز کے لئے خریدا ہوا ایک نیا سمارٹ فون سلمان صاحب کے پاس پڑا ہوا تھا، وہ انہوں نے فوراً رشیدہ کو دے دیا۔ بے شک وہ تھا تو سستا سا ہی، مگر رشیدہ کی ضرورت کے لئے کافی تھا۔

اس دن سکول سے چھٹی تھی اور چھٹی والے دن قرآن شریف پڑھنے والے بچے جلدی آ جاتے تھے۔ اس لئے یہ طے پایا کہ جب بچے آ کر قرآن شریف پڑھنے میں مصروف ہو جائیں تو رشیدہ باہر چلی جائے گی۔

دونوں کی خوش قسمتی کہ سلمان عالم کا چھوٹا سا گھر بھی کچھ ایسے بنا ہوا تھا کہ آس پاس کے گھروں سے اس میں نظر نہیں پڑتی تھی۔ کون آیا، کون گیا؟ اس کا مکمل پردہ رہتا تھا۔ سوائے اس کے کہ کوئی ان کے دروازے کے باہر سے ان پر نظر رکھ رہا ہو۔ اس کی بھی نوبت نہیں آتی تھی، کیونکہ قرآن اور عربی کے استاد ہونے کی وجہ سے محلے میں ان کی بہت عزت تھی۔ اس لئے جب بچے آ کر

اپنے درس قرآن میں مصروف ہو گئے تو رشیدہ وہاں سے چلی گئی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی کہ وہ پوری رات اس گھر میں تھی۔

رشیدہ سیدھی یامین سٹور پہنچی۔ کوئی بھی تہوار ہو یا چھٹی کا دن، یہ سٹور ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ بلکہ ایسے موقع پر تو سٹور کے مالک، یامین صاحب اکثر خود وہاں موجود ہوتے۔ ساٹھ سال سے زیادہ عمر، ہلکی ہلکی داڑھی، چمک دار آنکھیں اور نہایت با اخلاق۔ اتنے باریک بیں اور رمز شناس کہ اڑتے پرندوں کے پر گن سکنے والا محاورہ ان پر صادق آتا تھا۔ برداشت، بردباری اور پردہ پوشی بھی ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سامنے والا صاف جھوٹ بول رہا ہے، اسے جھوٹا کہنے سے پرہیز کرتے تھے۔ ان کی ایسی ہی خوبیوں کی وجہ سے پورا علاقہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

اس علاقے کی کتنی ہی بچیاں، یامین صاحب کے دیکھتے دیکھتے جوان ہوئیں اور بیاہ کو دوسرے قصبوں، شہروں کو چلی گئیں۔ کتنی ہی شادی کے بعد دوسرے قصبوں، شہروں سے یہاں آئیں اور اب اس قصبے کا حصہ بن چکی تھیں۔ بیسیوں لڑکے ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے ہوئے، باپ بنے اور اب بڑھاپے کی طرف گامزن تھے۔ یامین صاحب سب کے ساتھ نہایت محبت سے پیش آتے۔ اسی وجہ سے ان کا سٹور بھی خوب چل رہا تھا۔

رشیدہ نے جب کاؤنٹر پر موجود لڑکے سے حجاب دکھانے کے لئے کہا تو یامین صاحب بھی پیچھے سے نکل کر کاؤنٹر پر آ گئے۔ رشیدہ کا حال چال پوچھا، کاؤنٹر والے لڑکے کو ہٹایا اور اسے حجاب دکھانے کا کام بھی خود سنبھال لیا۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں رشیدہ نے بتایا کہ وہ آج کل مولوی سلمان عالم صاحب سے تعلیم حاصل کر رہی ہے اور انہوں نے ہی اسے حجاب استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یامین صاحب کے دماغ نے فوراً اس بات کو جلی حروف میں لکھ لیا، لیکن انہوں نے رشیدہ کو کچھ بھی ظاہر نہ ہونے دیا۔

بلکہ اس کے اس عمل کی تحسین کی۔ رشیدہ نے جب حجاب منتخب کرنے کے بعد پرس سے ایک سمارٹ فون نکال کر، اس کے لئے کسی اچھی سی کمپنی کی سم مانگی تو یامین صاحب سارا معاملہ ہی سمجھ گئے۔ انہوں نے فون میں سم ڈال کر اسے سٹارٹ بھی کر دیا اور رشیدہ کو تاکید بھی کر دی کہ وہ اگلے دو تین دن میں اپنے کسی عزیز کے شناختی کارڈ کی کاپی لا کر دے تاکہ وہ سم کو رجسٹر کر سکیں۔ رشیدہ نے ادائیگی کرتے ہوئے وہیل چیئر کے لئے معلومات بھی طلب کیں۔ وہ چاہتی تھی کہ بلے کے لئے کہیں سے ایک سستی سی وہیل چیئر خریدے تاکہ بلا اپنے بستر سے اٹھ کر کچھ حرکت کرنے کے قابل ہو جائے۔ یامین صاحب نے اسے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کر لیا۔

رشیدہ کا دماغ انتہائی تیزرفتاری سے کام کر رہا تھا۔ وہ سولہ سال کی عمر میں ہی جیسے یکایک بیس بائیس سال کی ہو گئی تھی۔ اس نے گھر کی طرف جاتے ہوئے، راستے میں ہی پرس سے سلمان عالم کا نمبر نکالا اور انہیں فون کر دیا۔ سلمان عالم کو فون سنتے ہی ایک جھٹکا سا لگا کہ رشیدہ نے اتنی جلدی نہ صرف یہ کہ سم حاصل کر لی، بلکہ سسٹم بھی آن کر لیا ہے۔ فون پر وہ ویسے بھی زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سم ایکٹو کرنے پر شاباش دی اور خدا حافظ کہہ دیا۔

بلا بستر پر لیٹا رشیدہ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں اور مایوس ہو کر پلٹ آتیں۔ بھوک

سے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ آج کسی ملنے والے نے آنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی۔ لیکن جونہی رشیدہ کمرے میں داخل ہوئی اور بلے کی نظر اس کے حجاب پر پڑی تو اسے حیرت کا ایک زوردار جھٹکا لگا۔ وہ سب رف ٹف لوگ تھے۔ محنت مزدوری کے علاوہ اچھا کھانا اور بہت سا کھانا ہی ان کی اہم طلب تھی۔ خوشی کے موقع پر اچھے کپڑوں کی خواہش بھی اس کے بعد ہی آتی تھی۔ رشیدہ کا فیشنی حجاب دیکھ کر اس کی حیرانی، بلکہ پریشانی عین فطری تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی سوال کرتا، رشیدہ نے اسے بتایا کہ وہ اس کا ناشتہ بنا کر لائی ہے، اور ابھی گرم کر کے دیتی ہے۔ اتنا سنتے ہی، بلے کے لب پر آیا ہوا سوال بھی ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

رشیدہ ناشتہ گرم کر کے لائی تو اس نے ساتھ ہی اسے دو خبریں بھی سنائیں۔ پہلی تو یہ کہ اب جلد ہی ایک عدد وہیل چیئر کا بندوبست ہو جائے گا، جس میں بیٹھ کر وہ گلی محلے میں بھی جا سکے گا۔ دوسرے یہ کہ اب وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، اس لئے سکول کی نوکری چھوڑ رہی ہے۔ بلے نے وہیل چیئر کے لئے تو خوشی کا اظہار کیا مگر سکول کی نوکری چھوڑنا اسے فکرمند کر رہا تھا۔ رشیدہ نے اس کے کسی سوال سے پہلے ہی بتا دیا کہ وہ صرف دو تین گھنٹے کے لئے سلمان عالم صاحب سے پڑھنے کے لئے جایا کرے گی۔ باقی وقت وہ اپنی نئی مشین پر کڑھائی کیا کرے گی۔ اس نے امید ظاہر کی کہ اس سے اتنی کمائی ضرور ہو جائے گی کہ گھر کے اخراجات آسانی سے پورے ہو جائیں۔ وہیل چیئر ملنے کی امید اور پھر سے گلی محلے میں آ جا سکنے کے خواب نے بلے کو کسی اور سوال کی اجازت ہی نہ دی۔

ناشتے کے بعد رشیدہ نے بلے کے کپڑے تبدیل کروائے۔ پھر، پچھلے دنوں میں نئی مشین سے تیار کیے ہوئے نمونے ساتھ لئے اور دوبارہ یامین سٹور چلی گئی۔ اس کی آواز سنتے ہی یامین صاحب پھر کاؤنٹر پر آ گئے۔ رشیدہ جو پھول وغیرہ کاڑھ کر لائی تھی، وہ دیکھنے میں بھی خوبصورت تھے اور کام میں صفائی بھی خاصی تھی۔ البتہ یامین صاحب کے لئے یہ نیا کام تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ مارکیٹ سے کیسا رسپونس ملے گا۔ انہوں نے کام کی تعریف تو کی لیکن مزید بات چیت کے لئے شام تک کا وقت مانگ لیا۔

تبھی رشیدہ نے ان سے ایک نئی خواہش کا اظہار کر دیا۔ وہ چونکہ قرآن شریف پڑھی ہوئی تھی اور اب سکول کی نوکری بھی چھوڑ رہی تھی تو وہ چاہتی تھی کہ محلے کی چھوٹی بچیوں کو قرآن شریف پڑھانا شروع کر دے۔ اس نے یامین صاحب سے مدد مانگی کہ اگر وہ ایسی بچیوں کو جانتے ہوں، جو قرآن شریف پڑھنا چاہتی ہوں تو وہ انہیں اس کے پاس بھیج دیں۔ وہ یہ کام بغیر کسی معاوضے کے کرے گی۔ یامین صاحب نے ایک بار پھر اس کے خیالات کو سراہا اور اس نیک کام میں اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا۔

یامین سٹور پر کشیدہ کاری اور کروشیا کا جو کام اس قصبے سے خریدا جاتا تھا، یامین صاحب اسے شہر میں کچھ تھوک کے دکانداروں کو فروخت کرتے تھے۔ اس دن بھی یامین صاحب اپنا یہی مال بیچنے کے لئے شہر جا رہے تھے۔ وہ جاتے ہوئے رشیدہ والے نمونے بھی ساتھ لے گئے۔ جب شام کو وہ واپس آئے تو انہوں نے ایک لڑکے کے ہاتھ رشیدہ کو بلا بھیجا۔

رشیدہ کی آمد پر انہوں نے اسے بتایا کہ بے شک اس کا کام نہایت ستھرا صاف اور خوبصورت ہے لیکن یہ پورے طور پر دست کاری کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس لئے اسے اس کی وہ قیمت نہیں مل سکے گی جو ہاتھ کے کام کی ہوتی ہے۔ البتہ ایک معاملہ

ہے، جس میں اسے ترجیح حاصل ہو سکتی ہے۔ وہ تکیے اور رومالوں کے لئے نام اور پیغام لکھنے کا کام زیادہ صفائی سے اور بڑی تعداد میں کر سکتی ہے۔ یوں اسے مقدار کی بنیاد پر بہتر آمدنی ہو سکے گی۔ آزمائش کے طور پر وہ کچھ کام اپنے ساتھ لائے تھے، وہ انہوں نے رشیدہ کے حوالے کر دیا۔ رشیدہ ان کا شکریہ ادا کر کے ساتھ لے گئی۔

دوسرے دن رشیدہ سکول پہنچی تو سب استانیاں اس کا حجاب دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ حیرت اور پریشانی انہیں تب ہوئی جب اس نے نوکری چھوڑنے کا بتایا۔ پرنسپل صاحبہ کو بھی اس کے جاب چھوڑنے کا دکھ تو تھا مگر وہ یہ جان کر خوش تھیں کہ رشیدہ اب مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی تیاری کر کے میٹرک کا پرائیویٹ امتحان دے گی۔ انہوں نے رشیدہ کا استعفا منظور کر لیا اور اکاؤنٹس کلرک سے کہہ کر اس کے واجبات کی ادائیگی بھی کروا دی۔ رشیدہ نے سب کو خدا حافظ کہا لیکن سلمان عالم سے ملاقات تک نہیں کی۔

وہاں سے وہ گھر آئی، یامین صاحب والا کام ساتھ لیا اور شہر میں اس سلائی مشین کے دفتر جا پہنچی۔ انہوں نے پہلے ہی اس کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا۔ اسے زاہد نام کے ایک نوجوان سے ملایا گیا۔ زاہد ایک دبلا پتلا تقریباً اًکیس بائیس سال کی عمر کا لڑکا تھا۔ وہ اسے پیچھے ایک کمرے میں لے گیا جہاں اسی کی طرح کی کئی سلائی مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ زاہد نے اسے بتانا شروع کیا کہ کیسے یہ مشینیں کمپیوٹر کی طرز میں کام کر سکتی ہیں۔

زاہد کے کہنے پر وہ اس سسٹم کو سمجھنے بیٹھ گئی۔ زاہد اس کے حجاب کی وجہ سے تھوڑا ڈر بھی رہا تھا، لیکن جب اس نے مشین کے استعمال میں سمجھاتے سمجھاتے دو تین بار رشیدہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کوئی منفی ردعمل نہ آیا تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ اس نے ادھر ادھر ہوتے ہوئے ایک بار رشیدہ کی چھاتی کو بھی ہلکا سا ٹچ کر دیا۔ رشیدہ سکون سے وہ کام سیکھتی رہی۔ الٹا اس نے اٹھتے وقت زاہد سے پوچھا کہ کیا ضرورت پڑنے پر وہ اس کے گھر آ کر بھی اس کام میں اس کی مدد کر سکتا ہے؟ زاہد نے اسے کھلی دعوت سمجھ کر ہامی بھر لی اور اسے اپنا ٹیلی فون نمبر بھی دے دیا۔

گھر آ کر رشیدہ نے کھانا وغیرہ بنایا، بلے کو کھلایا، خود کھایا اور زاہد کے بتائے ہوئے طریقے سے کام کرنے کی کوشش میں جٹ گئی۔ کچھ دھاگے اور کپڑا ضرور ضائع ہوئے لیکن تقریباً تین گھنٹے کی سخت محنت کے بعد اس نے کام کو سمجھ لیا۔ تب اس نے زاہد کو ٹیلی فون کر کے اس کا شکریہ ادا کیا۔ نہایت ملائمت اور محبت بھرے لہجے میں اسے ایک اچھا دوست تک کہہ دیا۔ زاہد تو شاید اس کے بعد آرام سے سویا بھی نہ ہو گا۔ لیکن رشیدہ اب بہت تھک چکی تھی۔ مزید کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ سو گئی، تاکہ صبح اٹھ کر یامین صاحب کا دیا ہوا کام کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگلی صبح وہ ابھی جاگی ہی تھی کہ اسے یامین صاحب کی طرف سے ایک لڑکا بلانے آ گیا۔

رشیدہ وہاں پہنچی تو یامین صاحب ایک عدد وہیل چیئر کے ساتھ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ یامین صاحب نے اسے بتایا کہ ان کے ایک دوست بھی وہیل چیئر پر ہیں۔ مگر اب انہوں نے ایک اچھی والی وہیل چیئر خرید لی ہے، اس لئے یہ پرانی والی اب فارغ ہے۔ انہیں چونکہ یہ مفت میں ملی ہے اس لئے وہ رشیدہ سے بھی اس کا کوئی پیسہ نہیں لیں گے۔ رشیدہ نے اپنے معاملات میں یامین صاحب کی اس غیر معمولی دلچسپی کو شدت سے محسوس کیا اور ان کا ہاتھ چوم کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ یامین صاحب نے اسے اپنا فرض قرار

دیتے ہوئے ایک لڑکے کو بھیجا کہ وہ جا کر یہ چیئر رشیدہ کے گھر چھوڑ آئے۔

وہیل چیئر دیکھ کر بلے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ خوشی سے اس کے رخسار لال ہو گئے۔ رشیدہ نے اسی وقت اسے چیئر میں بٹھایا، پہلے گھر کے صحن میں گھمایا اور پھر تھوڑی دیر کے لئے گلی کا چکر بھی لگوا دیا۔ کئی مہینوں کے بعد وہ اپنے بستر سے اٹھ کر گلی میں آیا تو بچوں کی طرح خوشی سے پر جوش ہو رہا تھا۔ ویسے تو بلے نے بھی چند ہی منٹوں میں سمجھ لیا کہ اس چیئر پر کیسے بیٹھنا اور اسے کیسے چلانا ہے، لیکن ایک مسئلہ ابھی باقی تھا۔ گھر کے بیرونی دروازے کا فرش کچھ اس طرح سے بنا ہوا تھا کہ وہ اکیلا اس چیئر پر بیٹھ کر باہر تو نکل سکتا تھا، البتہ واپس گھر آنا کسی کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس لئے رشیدہ اسے واپس گھر لے آئی۔

ناشتہ وغیرہ بنانے، کھانے کھلانے کے بعد ، رشیدہ نے رات کو کیے گئے مشین کے کام کو ایک بار پھر دیکھا۔ جہاں کہیں ضرورت تھی اس کی نفاست میں اضافہ کیا۔ یامین سٹور گئی۔ وہ سب کام یامین صاحب کے سپرد کیا اور خود اپنی پھوپھی کی طرف جا پہنچی۔ پھوپھی کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ پھر دوپہر کے بعد جب سلمان عالم کے اپنے گھر واپس پہنچنے کا وقت ہو گیا تو ان کی طرف چلی گئی۔

سلمان عالم بڑی بے تابی سے اس کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ نکاح والی رات کے بعد ، درمیان میں دو راتیں گزر گئی تھیں۔

اس وقت دوسرے بچے بیٹھے اپنا اپنا سبق یاد کر رہے تھے۔ رشیدہ بھی چائے بنانے کے بعد سلمان عالم سے پڑھنے کے لئے بیٹھ گئی۔ طے بھی یہی ہوا تھا کہ سبق پڑھنے کے لئے آنے والے بچوں کی موجودگی میں، وہ بھی سارا دھیان اپنی پڑھائی پر ہی دیا کرے گی۔ ان دونوں کا باہمی تعلق وہاں بچوں کے سامنے ہرگز ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ سو، سب بچوں کے چلے جانے کے بعد وہ دونوں بیڈ روم میں گئے، اپنا کام کیا اور پھر رشیدہ اپنے گھر چلی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4