ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)


رشیدہ نے نئی مشین کے ساتھ ایک پرانا لیپ ٹاپ بھی خریدا اور ضروری ہنر مندی سیکھنے میں جٹ گئی۔ وہ لگاتار ایک ہفتہ کمپیوٹر کا کام سیکھتی رہی اور سلمان عالم کی طرف بھی نہ جا سکی۔ اس نے انہیں فون کر کے وجہ بھی بتا دی تھی۔ بے شک شکستہ سے لہجے میں ہی سہی مگر اسے اجازت دے دی گئی تھی۔ اس دوران میں نسرین اور زینب اس کی پرانی مشین پر کام کرتی رہیں۔ نئی مشین کے آنے پر ایک بار بلے نے رشیدہ سے سوال کیا کہ پہلی مشین تو اس کے نام پر خریدی گئی تھی۔ خریداری کے کاغذوں پر اس کے دستخط لئے گئے تھے اور انگوٹھا بھی لگوایا گیا تھا۔ اب یہ نئی مشین کس کے نام پر خریدی گئی ہے؟ تو رشیدہ نے یہ کہہ کر اسے چپ کرا دیا تھا کہ دوسری مشین بھی اسی کے نام پر خریدی گئی ہے۔ مگر دوسری بار دستخط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ ان پڑھ آدمی رشیدہ سے کوئی اور سوال ہی نہ کر سکا۔

ایک ہفتے بعد وہ سلمان عالم کے واپس آنے والے وقت سے بھی کچھ پہلے ہی ان کے گھر پہنچ گئی۔ وہ انہیں اپنی نئی کامیابی کی کہانی سنانے کے لئے بہت بے تاب اور پرجوش تھی۔ سلمان عالم نے گھر کی ایک چابی اسے پہلے سے دے رکھی تھی تاکہ اگر کبھی وہ جلدی آ جائے تو دروازہ کھول کر اندر بیٹھ سکے۔ وہ بھی یہی سوچ کر آئی تھی کہ ذرا جلدی جا کر چائے تیار کر لے۔

دروازہ کھول کر وہ سیدھی کچن میں گئی۔ کچن بہت صاف ستھرا نظر آ رہا تھا۔ وہ اس حیرت میں ابھی چائے بنانے کے لئے برتن اتار رہی تھی کہ اسے احساس ہوا جیسے اندر کمرے میں کوئی ہے۔ وہ خاموشی سے اس طرف گئی اور بیڈ روم کے باہر پہنچی تو اسے اندر سے سلمان عالم کے ساتھ کوئی نسوانی آواز بھی سنائی دی۔ وہ ساری بات تو صاف نہ سن سکی مگر اس نے عورت کو یہ گلہ کرتے ہوئے ضرور سن لیا کہ اب اسے بہت کم کم ہی خدمت کا موقع دیا جاتا ہے۔ رشیدہ فوراً پلٹی، کچن کا دروازہ بند کیا اور باہر کے دروازے کو اسی طرح لاک کر کے نکل گئی جیسے کہ وہ اس کے آنے سے پہلے تھا۔

رشیدہ گلی میں جا کر ایک ایسی جگہ چھپ کر کھڑی ہو گئی، جہاں سے سلمان عالم کے گھر کا بیرونی دروازہ صاف نظر آتا تھا۔ کوئی دس منٹ بعد ہی اس نے ایک نوجوان لڑکی کو سلمان عالم کے گھر سے نکلتے دیکھا۔ رشیدہ نے اس لڑکی کو پہچان لیا۔ وہ وہاں ہفتے میں ایک دو بار گھر کی صفائی کرنے آیا کرتی تھی۔ رشیدہ نے اسے کئی بار سلمان اور بچوں کی موجودگی میں گھر کی صفائی کرتے دیکھا تھا۔ مگر اس کی کوئی حرکت ایسی نہ تھی جس پر کوئی شک کیا جا سکتا۔ سلمان نے اس کے جانے کے بعد دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ غالباً اس کے جلد بعد ہی سبق پڑھنے والے بچوں کے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔

رشیدہ نے مزید چند منٹ انتظار کیا اور پھر سلمان کے گھر میں اس انداز سے داخل ہوئی جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔ وہ پہلے خوشی خوشی اپنی نئی کامیابی کا ذکر کرتی رہی۔ پھر سلمان کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ روم میں لے گئی اور فوراً بستر میں جانے کی خواہش ظاہر کر دی۔ سلمان نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔ اس کے لبوں کا لمبا بوسہ لیا اور معذرت کرتے ہوئے بولے کہ آج انہیں اس کے آنے کی امید نہیں تھی، اس لئے وہ کنڈوم نہیں لائے۔ اور یہ بھی کہ کنڈوم کے بغیر وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔

رشیدہ کی خواہش تھی کہ ابھی ابھی باہر جانے والی لڑکی کے بارے میں، اسے جو شبہ ہے وہ درست نہ ہو۔ لیکن بستر میں جانے

سے منع کرتے ہوئے سلمان نے جو عذر تراشا تھا، وہ بھی اس کے دل میں وسوسے پیدا کر رہا تھا۔ اسے شک گزرا کہ وہ کچھ ہی دیر پہلے ایک کام سے فارغ ہوئے ہیں، اس لئے دوبارہ تیاری پکڑنے میں انہیں کچھ وقت درکار ہے۔ مگر وہ جلدی میں غلط بہانہ استعمال کر گئے ہیں۔ وہ خاموشی سے انگریزی کی کتاب لے کر بیٹھ گئی اور نئے الفاظ کے سپیلنگز یاد کرنے لگی۔

بظاہر وہ پڑھنے میں مصروف تھی مگر اس کا دماغ انتہائی انتشار کا شکار تھا۔ مختلف سوچیں ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہی تھیں۔ نکاح کے بعد سے وہ خود کو سلمان عالم کی دوسری بیوی سمجھتی آئی تھی۔ اس کا خیال تھا، جلد یا بدیر خدا اس کی مدد کرے گا اور ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ وہ اس رشتے کو دنیا پر بھی ظاہر کر سکے گی۔ مگر سلمان کے ساتھ اس لڑکی کی سرگوشیاں، جو اس نے کچھ ہی دیر پہلے سنی تھیں، اس کے کانوں پر ہتھوڑے برسا رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد بچے بھی آنا شروع ہو گئے اور انہوں نے آتے ہی سلمان عالم کو مصروف کر لیا۔ تب رشیدہ وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور بظاہر چائے بنانے لگی۔ مگر اس کی نظریں سلمان کی طرف تھیں۔ جب اس نے دیکھا کہ سلمان کا سارا دھیان اب بچوں کے اسباق کی طرف ہے تو وہ دوبارہ بیڈ روم میں چلی گئی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ سلمان اپنے کمرے میں کنڈوم کہاں چھپا کر رکھتے ہیں۔ اس نے وہیں تلاش کیا۔ وہاں ابھی بھی کئی پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔ ایک کھلا ہوا خالی پیکٹ بھی تھا جو یقیناً آج ہی اور اس لڑکی کے لئے استعمال ہوا تھا۔ اب شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ سلمان نے جھوٹ بولا ہے۔ وہ پھر کچن میں گئی۔ وہاں سے چائے کی ایک پیالی سلمان کو دے کر بغیر کچھ بتائے باہر نکل گئی۔

راستہ بھر تو اس نے خود کو قابو میں رکھا، اگرچہ اس کا دماغ کھول رہا تھا۔ مگر، گھر میں جب اسے بالکل تنہائی میسر آئی تو وہ خوب روئی۔ رونے کے بعد جب اس کا دل ذرا ہلکا ہوا تو اس نے خود سے سوال جواب کیے۔ حالات کی باریکیوں پر غور کیا اور رونے دھونے کی بجائے ہنر مندی سے سینہ سپر ہونے کی ٹھانی۔ سلمان عالم کو فون کر کے معذرت کی کہ ایک ضروری کام یاد آنے کی وجہ سے وہ فوراً چلی آئی۔ وہ بچوں کو پڑھانے میں مصروف تھے اس لئے انہیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

اب وہ تقریباً روز ہی سلمان عالم کے گھر واپس آنے سے پہلے وہاں پہنچ کر ان کے بیڈ روم کی صفائی کرتی اور چائے بنا کر ان کے انتظار میں بیٹھ جاتی۔ ان کے گھر آنے پر میٹھی میٹھی باتیں کرتی اور پہلے سے کہیں زیادہ پیار جتاتی۔ سلمان بھی بہت خوش نظر آتے اور اکثر اس کے لئے کوئی نہ کوئی تحفہ بھی خرید لاتے۔ اب وہ اسے کسی بات پر ڈانٹ بھی دیتے تو وہ آگے سے مسکراتی رہتی جبکہ پہلے وہ باقاعدہ برا منا جایا کرتی تھی۔ رشیدہ شہر جا کر خاندانی منصوبہ بندی والی کسی لیڈی ڈاکٹر سے بھی مل آئی تھی۔ اسی بنیاد پر اس نے سلمان عالم کو بھی بتا دیا تھا کہ اب انہیں کسی اور احتیاط کی ضرورت نہیں ہے۔ سلمان کو بھی یہ بات اچھی لگی تھی۔

رشیدہ کی نئی مشین پر ہونے والا کام جب یامین صاحب کے واسطے سے شہر کے ڈیلروں کے پاس پہنچا تو اسے نئے نئے اور بڑے بڑے آرڈر ملنے لگے۔ پرانی مشین اب پورے طور پر نسرین اور زینب کے سپرد تھی اور دن میں بارہ چودہ گھنٹے ضرور چلتی تھی۔ بعد میں پروین نام کی ایک اور لڑکی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ سب سے مفید اضافہ زہرہ کی شکل میں ہوا۔ وہ کالج میں پڑھ رہی تھی اور

اپنے اخراجات خود اٹھانا چاہتی تھی۔ اس نے رشیدہ کی نئی مشین استعمال کرنے کے لئے کمپیوٹر کا مطلوبہ کام بھی سیکھ لیا۔ اب نئی مشین کا بھی زیادہ سے زیادہ استعمال ہونے لگا۔

رشیدہ کا کاروبار ترقی کر رہا تھا۔ اس کی آمدنی میں اضافہ در اضافہ ہو رہا تھا۔ اردو زبان میں اب اس کا لکھنا پڑھنا اور بولنا تک بہت اچھا ہو گیا تھا۔ عام فہم انگریزی بھی اب وہ کسی حد تک لکھنے پڑھنے کے قابل ہو گئی تھی۔ سلمان عالم سے سیکھی ہوئیں قرآنی آیات بھی وہ جہاں جہاں ممکن ہو ترجمے کے ساتھ بیان کرتی۔ سب ملنے جلنے والوں میں اس کی قدر بڑھانے میں ان آیات کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ نئی مشین کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاحات بھی اسے سب زبانی یاد ہو گئیں تھیں۔

ایک دن جب وہ سلمان عالم کی طرف جاتے ہوئے ابھی راستے میں تھی کہ ان کا فون آ گیا۔ ان کے گھر کے باہر، ان کے گاؤں سے آیا ہوا ایک دوست چوہدری عامر گھمن انتظار کر رہا تھا۔ رشیدہ کو بتایا گیا تھا کہ وہ اسے گھر میں بٹھائے۔ ساتھ یہ بھی تاکید کی گئی کہ وہ کوئی اچھا آدمی نہیں ہے، اس لئے اسے صرف برآمدے میں بٹھایا جائے۔ اور یہ بھی کہ اس کے ساتھ اندر کمرے میں جانے کی غلطی ہرگز ہرگز نہ کرے۔

رشیدہ نے وہاں پہنچ کر چوہدری عامر گھمن کو سلمان کا پیغام سنایا۔ اسے برآمدے میں کرسی ڈال دی۔ پانی پلایا اور چائے بنا کر دی۔ چائے پکڑتے ہی عامر گھمن نے رشیدہ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ کون ہے؟ یہاں کیا کرتی ہے؟ کہیں وہ سلمان کے جال میں تو نہیں پھنس گئی؟ وغیرہ وغیرہ۔ رشیدہ نے خود کو مولوی سلمان کا صرف ایک شاگرد بتایا، جیسے کہ وہاں اور بھی بہت سے ہیں اور یہ بھی کہ وہ شادی شدہ ہے۔ عامر گھمن نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ سلمان عالم کے گاؤں کا ایک زمیندار ہے۔ زمینوں کے علاوہ منڈی میں اس کی آڑھت بھی چلتی ہے۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں۔ اس لئے اسے عیش کے تمام سامان گاؤں میں ہی میسر ہیں۔ اسے سلمان عالم کی طرح شہر کی خاک نہیں چھاننی پڑتی۔

اب سوال کی باری رشیدہ کی تھی۔ جواب میں عامر گھمن تو شروع ہی ہو گیا۔ یہ سلمان عالم جو یہاں مولوی اور استاد، پتہ نہیں کیا کچھ بنا پھرتا ہے، نہایت جھوٹا، منافق اور موقع پرست آدمی ہے۔ گاؤں میں اس کی زمین سے اچھی خاصی آمدنی ہے لیکن وہاں نہیں رہتا۔ ٹیچنگ کا بہانہ کر کے وہاں سے بھاگا ہوا ہے۔ یہاں اسے طرح طرح کی عورتیں جو مل جاتی ہیں، تھوڑے تھوڑے پیسے خرچ کر کے۔ شوقین تو میں بھی ہوں، لیکن اس کا تو کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ کوئی بھیک مانگنے آئے اور اسے کام کی لگے تو اسے بھی نہیں چھوڑتا۔ بس تم اس سے بچ کے رہنا۔ ایسے ایسے جھوٹ بول کر عورتوں کو پھنساتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو۔ اوپر سے اس کی داڑھی، ٹوپی اور فر فر عربی، لوگ اس پر شک بھی نہیں کرتے۔

چوہدری عامر گھمن کچھ لمحے چائے پینے میں مصروف ہوا تو ذرا خاموشی ہو گئی۔ مگر چائے ختم کرتے ہی اس کی بات آگے جاری ہو گئی۔ ”ہو سکتا ہے ابھی تمہیں میری باتیں عجیب سی لگ رہی ہوں، مگر آنکھیں کھول کر رکھو گی تو جلد ہی میرے ایک ایک دعوے کا ثبوت مل جائے گا۔ ویسے تم چاہو تو میں یہ سب اس کے سامنے بھی کہہ سکتا ہوں۔ میرا لنگوٹیا ہے، ڈرتا بھی ہے مجھ سے۔ اس کے بس

میں ہو تو کبھی مجھے یہاں اپنے گھر میں نہ آنے دے۔ سکول میں آنے سے تو خواتین کا بہانہ کر کے منع کر دیتا ہے۔ لیکن مجبور ہے، یہاں آنے سے نہیں روک سکتا ”۔

رشیدہ نے نہ کوئی جواب دیا اور نہ ہی مزید کوئی سوال کیا۔ وہ اپنی کتابیں پکڑ کر کچن میں جا بیٹھی۔ کچھ ہی دیر بعد سلمان عالم بھی آ گئے۔ دونوں دوست، بچوں کے آنے تک خوب گپیں مارتے اور قہقہے لگاتے رہے۔ رشیدہ کا دماغ اب بالکل صاف ہو چکا تھا۔ اس کے لئے اب ہر فیصلہ کرنا آسان تھا۔

ایسے ہی کچھ مہینے اور گزر گئے۔

بلے اور رشیدہ کا گھر تو اب جیسے ایک چھوٹی سی فیکٹری کا روپ دھار چکا تھا۔ صبح کے وقت سپارہ پڑھنے کے لئے آنے والی بچیوں کی تعداد بھی بڑھ چکی تھی۔ نسرین، زینب، پروین اور زہرہ کے علاوہ بھی کچھ لڑکیاں وہاں آنے لگی تھیں جو دراصل کام سیکھنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ کام سکھانے کے لئے اگر ضرورت ہوتی تو زاہد کو بھی بلا لیا جاتا اور وہ خوشی خوشی آ بھی جاتا۔ وہ اور زہرہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے۔ سارا دن چائے بنتی، کھانے پکتے اور ہر وقت رونق سی لگی رہتی۔ بلا بھی اب ہر وقت حرکت میں رہتا۔ گلی محلے میں تو گھومتا ہی تھا مگر گھر میں ہوتا تو اپنی چیئر پر بیٹھے بیٹھے ہی لڑکیوں کو چائے وغیرہ بھی پلاتا رہتا۔ رشیدہ نے اسے ایک گیس کے سیلنڈر والا ایسا چولہا لا دیا تھا جسے وہ اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی استعمال کر سکتا تھا۔

ادھر یامین صاحب بھی رشیدہ سے کافی خوش تھے۔ وہ اب اسے اپنی ہی طرح کی ایک کاروباری شخصیت کا مقام دینے لگے تھے۔ دونوں اکثر یامین صاحب کے کیبن میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے، چائے پیتے اور کاروبار کے نئے نئے طریقوں پر بھی غور کرتے تھے۔

رشیدہ کی خوشحالی کی خبریں اس کے ماں باپ اور بھائیوں تک بھی پہنچ چکی تھیں۔ اس لئے وہ بھی گاہے بگاہے اس سے ملنے آنے لگے۔ کہتے تو یہی تھے کہ صرف اس سے ملنے آئے ہیں، لیکن پھر باتوں باتوں میں، اپنی مجبوریوں کا ذکر کر کے، مالی امداد کے بھی طلبگار ہو جاتے۔ اپنی ماں کو تو وہ بغیر مانگے ہی کچھ نہ کچھ دیتی رہتی مگر بھائیوں پر تو اسے غصہ ہی بہت تھا۔ ان کے ایک ایک سوال پر انہیں چار چار چکر لگواتی، گھر کے کسی کونے میں بٹھائے رکھتی، اور گھنٹوں انتظار کرانے کے بعد بھی ان کی مطلوبہ رقم کبھی پوری نہ دیتی۔ باپ کے ساتھ اس کا رویہ یوں تو کسی حد تک نرم تھا مگر گلہ اس سے بھی بار بار کیا جاتا۔ کیوں پھوپھی کے کہنے کے باوجود اس نے اسے پڑھنے نہیں دیا؟ یہ بات وہ ہزاروں بار دہرا چکی تھی مگر اس کا دکھ تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔

ادھر کئی ماہ سے رانی اور نجمہ کے حالات بگڑنے شروع ہو گئے تھے۔ ڈی ایس پی امان اللہ خان کے پاس سے بگو کی نوکری ختم ہو چکی تھی۔ اس لئے وہ سب عیش آرام، رعب داب تو رخصت ہوا ہی، ساتھ ہی روپے پیسے کی تنگی بھی آ گئی تھی۔ بگو اور نجمہ کا خاوند دونوں نوکریاں تو اب بھی کر رہے تھے مگر تنخواہیں ایسی تھیں کہ گزارا بھی مشکل سے ہوتا تھا۔ بگو کے مسائل زیادہ تھے کہ اسے گاؤں میں اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے لئے بھی کچھ نہ کچھ بھیجنا ضروری تھا۔ وہاں آنا جانا تو اب پہلے سے بھی کم ہو چکا تھا۔

رشیدہ ایک دن اپنی پھوپھی کے پاس پیسے جمع کرانے گئی تو اس نے مزید مشینیں خریدنے اور کاروبار کو بڑھانے کی خواہش کا

بھی اظہار کیا۔ پھوپھی اسے منع کرتے ہوئے بولی ”تمہارا کاروبار تو چل نکلا ہے۔ کمی نہ روپے پیسے کی ہے نہ عزت کی۔ البتہ تمہاری بنیادیں ابھی بہت کمزور ہیں۔ کاروبار کو مزید بڑھانے سے پہلے اپنی بنیاد کو مضبوط بناؤ۔ یہ گھر جس میں تم نے ایک چھوٹی سی فیکٹری بنا لی ہے، تمہارے سسر کے نام پر ہے۔ مطلب بلے کا اور اس کی بہنوں کا ہے۔ اگر وہ آج کسی وجہ سے ناراض ہو جائیں تو تم کہاں جاؤ گی؟“ ۔ پھر دونوں نے مل کے ایک نئی منصوبہ بندی کی۔

اسی منصوبہ کے تحت رشیدہ نے پہلے رانی اور پھر نجمہ کے گھر جا کر انہیں اپنی طرف آنے کی دعوت دی۔ جب وہ آئیں تو ان کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ کھانے پینے کے بعد وہ بلے سے مخاطب ہوئی کہ اس گھر میں دونوں بہنوں کا بھی حصہ ہے، جو کہ اب انہیں مل جانا چاہیے۔ دونوں بہنیں بولیں کہ یہ گھر ان کے ماں باپ کی نشانی ہے۔ بلا ان کا اکلوتا بھائی ہے۔ وہ بھائی سے مکان کا حصہ نہیں لینا چاہتیں۔ البتہ اگر ان کی کچھ مالی مدد ہو جائے تو مہربانی ہو گی۔ رشیدہ نے انہیں آفر دی کہ وہ دونوں اپنا اپنا حصہ اسے بیچ دیں۔ ایسے مکان بھی یہیں رہے گا اور ان کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی۔ دونوں بہنیں مان گئیں اور اگلے چھ مہینے کے اندر اندر باری باری ادائیگی کر کے، آدھا گھر رشیدہ کے نام ہو گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4