نوجوانوں کے مسائل اور عورت مارچ

جب سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 63 فی صد ہے، سب نے نوجوانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیوں نہ ہر دور کی نوجوان نسل کی خواتین کے حوالے سے بات کی جائے۔ ہر نسل کو اپنے سے پہلے والی نسل سے کیا ملا اور اس نے اگلی نسل کو کیا دیا۔ نوجوانی کا زمانہ طالب علمی کا زمانہ ہوتا ہے جسے زندگی کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔
اس وقت نوجوان جو خواب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل بھی ان ہی خوابوں سے وابستہ ہے۔ ہمارے والدین کی نسل نے پاکستان کے بننے میں براہ راست یا بالواسطہ اپنا حصہ ڈالا۔ شاید آج کل کے نوجوانوں نے کتابوں میں پڑھا ہویا فلموں میں دیکھا ہو یا ان کے والدین نے ان کو بتایا ہو کہ 1947 میں جب پاکستان بنا تو کتنے بڑے پیمانے پر لوگوں نے ہجرت کی۔ کتنے لوگ مارے گئے۔ کتنی عورتیں اغوا ہوئیں اور یہ دونوں طرف ہوا۔ ہندوستان سے یہاں آنے والے مسلمانوں کے ساتھ بھی ہوا اور پاکستان سے وہاں جانے والے ہندووں کے ساتھ بھی ہوا۔
چونکہ اس وقت میں پاکستان بننے کے بعد عورتوں کے مقام کے حوالے سے بات کرنا چاہتی ہوں تو میں اس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گی۔ اگر آپ زیادہ جاننے کے خواہشمند ہیں تو Freedom at midnightضرور پڑھیں۔ اردو ادب میں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو اور دیگر ادیبوں کی کہانیاں پڑھیں۔ بہرحال وہ نسل یعنی میرے والدین کی نسل جیسا کہ میں نے دیکھا، زندگی کے بارے میں، پاکستان کے بارے میں ایک ماڈرن نقطہ ء نظر رکھتی تھی۔ محمد علی جناح قائد اعظم ان کے لیڈر تھے جو خود ایک ماڈرن شخص تھے۔
یہ نسل پاکستان کو ترقی یافتہ مغربی ممالک کی طرح دیکھنا چاہتی تھی، سائنسی ترقی کو بہت اہمیت دیتی تھی۔ نوجوان پاکستانی خواتین بھی اس نئے ملک اور نئے معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنا چاہتی تھیں اور پڑھے لکھے مرد بھی انہیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔ ان نوجوان خواتین نے 1948 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی بیگم رعنا لیاقت علی خان کی طرف سے شروع کی جانے والی ویمن والنٹیئر سروس میں حصہ لیا اور ہجرت کر کے آنے والوں کے کیمپوں میں فرسٹ ایڈ فراہم لی، راشن تقسیم کیا اور سب سے بڑھ کر انہیں جذباتی اور اخلاقی مدد فراہم کی۔
بیگم رعنا لیاقت علی نے نوجوان عورتوں کے لئے دفاعی تربیت بھی متعارف کروائی۔ انہوں نے پاکستان ویمنز نیشنل گارڈ اور پاکستان ویمن نیشنل ریزرو بنائی۔ یوں بہت سی نوجوان پاکستانی خواتین نے فوجی تربیت حاصل کی۔ 1949 میں بیگم رعنا نے پاکستان بھر سے سو سرگرم خواتین کو جمع کیا اور عورتوں کو سماجی، ثقافتی اور تعلیمی طور پر آگے بڑھانے کے لئے ایک غیر سیاسی تنظیم اپنا بنائی۔ تب ہی ایک سیاسی تنظیم انجمن جمہوریت پسند خواتین بھی قائم ہوئی۔
1950 کے عشرے کے وسط میں خواتین ایکٹیوسٹس مسلم فیملی لا خاص طور پر کثیر الازواجی اور طلاق سے متعلق قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہیں۔ اس کے ساتھ سیاسی عمل میں عورتوں کی شراکت کے بارے میں بھی بات چلتی رہی۔ عورتوں کے حقوق کمیٹی نے عورتوں کے لئے صوبائی اسمبلیوں میں 15 فیصد اور قومی اسمبلی میں دس فیصد نشستوں کا مطالبہ کیا تھا۔ (اگست 1955۔ لاہور) ۔ اکتوبر 1955 میں عورتوں کے ایک گروپ نے حکومت کے پاس عورتوں کے حقوق کا منشور اور چارٹر جمع کرایا تھا تا کہ اسے ملک کے مستقبل کے آئین میں شامل کرایا جا سکے۔
1956 میں جب پاکستان کے آئین کی ڈرافٹنگ مکمل ہوئی تو سب سے پہلے عورتوں نے اس پر تنقید کی۔ کیونکہ انہیں لگا کی اس آئین میں جنس کی بنیاد پر امتیاز کے خاتمے کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ایک جیسے کام کے لئے ایک جیسا معاوضہ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس وقت قومی سطح کی اہم خواتین سیاستدان جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ تھیں۔ آئین میں خواتین کے لئے کی جانے والی اصلاحات میں ان دونوں خواتین کا کردار بے مثال ہے۔
1958 میں ایوب خان کا مارشل لا لگا تو میں اس وقت نو سال کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میری خالائیں خوشی خوشی میری امی کے پاس آئیں کہ فوج کے آنے سے چیزیں بہت سستی ہو گئی ہیں، چلیں کراکری خریدنے چلتے ہیں اور میری امی نے بہت معصومیت سے کہا تھا کہ فوج آ گئی ہے اب تو چیزیں سستی ہی ملا کریں گی۔ میرے والد اس بات پر خوش تھے کہ شہر صاف ستھرا ہو گیا تھا۔ کھانے پینے کی اشیا کی دکانوں پر جالیاں لگ گئی تھیں۔ جنرل اعظم خان عوام میں بہت مقبول تھے۔
ایوب خان کے دور میں عورتوں کے حوالے سے اچھی بات یہ ہوئی کہ 1961 کے عائلی قوانین بنے۔ ایک سے زیادہ شادیوں پر قدغن لگی۔ شادی اور طلاق کے ضوابط بنائے گئے۔ یوں عورتوں کے ساتھ زیادہ مساوی سلوک کیا گیا۔ یہاں بات نوجوانوں اور طلبہ کی ہو رہی ہے تو ایوب خان کی حکومت کو گرانے میں طلبہ کا بہت ہاتھ رہا۔ 1963 میں انہوں نے یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف ہڑتال کی۔ اور یوں طلبہ کے ایکٹوازم کا آغاز ہوا۔ طلبہ کے مظاہروں کا سلسلہ ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوا۔
یحیی آ خان نے پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنا پر انتخابات کرائے لیکن اقتدار سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کو نہیں دیا گیا اور ملک دو لخت ہو گیا۔ اس کے بعد ہم نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔ بھٹو کی پھانسی، ضیا الحق کی آمریت، اس کے امتیازی قوانین کے خلاف خواتین کی جد و جہد اور خواتین محاذ عمل کا قیام، جمہوری حکومتوں کے مختصر ادوار، مشرف کا مارشل لا پھر جمہوری حکومتیں، کچھ دنوں پہلے تک تحریک انصاف اور اب نیا جمہوری اتحاد بر سر اقتدار ہے۔
بات ہو رہی تھی نوجوانوں کے مسائل کی اور یہ کہ پاکستان کی نوجوان خواتین کیا چاہتی ہیں۔ اس کا اظہار چند سالوں سے ”عورت مارچ“ کی شکل میں ہو رہا ہے۔ ان کے نقطہ ء نظر کو جاننے کے لئے زیر نظر سطور کو غور سے پڑھیے۔ ”اس وقت ہم پدرشاہی، سرمایہ داری اور جاگیر داری کے نظاموں میں رہتے ہوئے ان لڑائیوں اور جدوجہد کے بارے میں باتیں کریں گے جن کا ہمیں روز تجربہ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مکمل آزادی کے لئے ان نظاموں کو ختم کرنا ضروری ہے۔
جن اقتصادی نظاموں اور معاشروں میں ہم رہتے ہیں، وہاں صرف اسی کام کو کام مانا جاتا ہے اور اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے خواہ کم سہی، جو پیداواری ہو اور اور اس سے ٹھوس چیزیں بن سکیں۔ جب کہ وہ بے تحاشا کام جو عورتیں اپنے لئے، اپنے خاندانوں کے لئے اور اپنی کمیونٹیوں کے لئے کرتی ہیں، اس کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا، نہ ہی اسے باقاعدہ کام مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہماری صنف کو مقبول بیانیے میں تعظیم و تکریم ملتی ہے کہ ہم اپنی ذات کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور دوسروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں لیکن ہم سمجھتی ہیں کہ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تا کہ اس کام کا کوئی معاوضہ نہ دینا پڑے۔
ہمیں اپنے مقام پر (چاردیواری میں ) رکھا جائے اور ہمیں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے، منظم ہونے اور بولنے سے روکا جائے۔ یہ اک دکھائی نہ دینے والے استحصال کی وہ قسم ہے جسے پدر شاہی خاندانوں میں ہم پر مسلط کردہ کرداروں کو تقویت دینے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ اگر ہم کبھی صلہ مانگیں یا وقفہ لینا چاہیں۔ تو ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ اچھے بچے یا اچھے ساتھی/بیوی کو ہر ایک کا خیال رکھنا چاہیے لیکن بدلے میں کچھ زیادہ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
عورت ہو یا کیئر ٹیکر یا خواجہ سرا یا کوئی اور شناخت، یہ کردار ہمیں بچپن سے ہی سیکھا دیا جاتا ہے اور زندگی بھر اسے اسپیشلائزیشن کے ہر ذریعے خواہ میڈیا ہو، تعلیم گاہیں، کام کے ادارے، ہمارے اساتذہ، دوست، خاندان، سیاسی رہنما اور بالآخر ریاست بھی اسے مضبوط بناتی ہے۔ اگر ہم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہمیں شرم دلائی جاتی ہے اور تشدد کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
اگر ہم اس سب کچھ سے جو ہمارا انتخاب بھی نہیں تھا، ریلیف لینا چاہیں تو ہمیں جذباتی، ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں ہمیں اپنی نوکریوں سے چھٹی لینی پڑتی ہے، یوں علاج اور صحت کے حوالے سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ ہماری نوکری خطرے میں پڑ جاتی ہے خواہ ہم گھریلو ملازمہ ہوں، یا کنٹریکٹ پر یا بے قاعدہ کام، غیر رجسٹرڈ، یا دیہاڑی پر یا غیر رسمی کام کرتی ہیں۔ ہم میں سے اکثر شادی کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں اور شادی اس ذمہ داری اور صنفی تقسیم کار کو اور مضبوط بناتی ہے کیونکہ قانونی معاہدے میں بہت سی نا قابل بیان توقعات بھی شامل ہوتی ہیں۔
خاندانوں کی تخلیق اور اس کی اصلاح کا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے ”اچھا تم ٹھیک کر لو گی۔ ’۔‘ اب ٹھیک ہو جائے گا ’۔‘ آپ لڑکے کی شادی کر دیں، اس کی بیوی اس کو ٹھیک کر لے گی“ ۔ دوسروں کی جذباتی تسکین کے لئے ہم سے مکمل سپردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ ہم اپنے شریک حیات اور خاندانوں کے دکھ اور تکلیف کو اپنے اندر جمع کرنے والا برتن بن جاتی ہیں۔ خاندانوں کو جوڑے رکھنے کا بوجھ اور خاندان کی بقا ( یعنی عزت) کی ساری ذمہ داری ہم پر ڈال دی جاتی ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب شادی ٹوٹتی ہے تو خاندان اور اہل خانہ کی زندگیوں کو برقرار رکھنے کے لئے ہم نے جو کچھ کیا ہوتا ہے، ہمیں اس کا کوئی صلہ نہیں ملتا۔ بچہ پیدا کرنا تو عورت کا حیاتیاتی فریضہ ہے لیکن بچے کی پرورش اور تربیت کا کام ساری عورتیں کرتی ہیں خواہ وہ بچوں کی بائیولوجیکل ماں ہوں یا نہ ہوں، اسی طرح بوڑھوں اور معذوروں کی دیکھ بھال، گھر سنبھالنا، گھر کے افراد کی دیکھ بھال کرنا، کمیونٹیز تشکیل دینا اور اپنے بنیادی حقوق طلب کرنے کے لئے سڑکوں پر مارچ کرنا یہ سارے کام معاشرتی پیداوار (تولید) کے لئے انتہائی اہم ہے۔
پدرشاہی ہم پر جو نادیدہ استحصال مسلط کرتی ہے، اسے عورت دشمن سرمایہ دارانہ نظام اور بنیاد پرستی کی ہر شکل خواہ ثقافتی ہو یا اقتصادی یا سماجی اسے مزید مضبوط بناتی ہے۔ صنف، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ہماری سستی مزدوری کے ذریعے یہ نظام منافع خوری سے پھلتا پھولتا ہے۔ ہمیں سوچے سمجھے طریقے سے کم معاوضہ، غیر محفوظ کام اور کم سہولتیں دی جاتی ہیں۔ کھیتوں، کارخانوں یا بیگار خانوں یا گھروں میں امدادی یا شراکتی کام قرار دے کر ہمارا سودے بازی کا اختیار سمجھوتوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
سرکاری خدمات اور سرکاری ملکیت والے اداروں کی نجکاری بھی بنیادی سرکاری خدمات اور سماجی تحفظ کے پروگراموں تک پسماندہ طبقوں کی رسائی پر براہ راست اثر انداز ہوئی ہے۔ سبسیڈیز ختم کرنے، کارپوریشنوں کو بیل آؤٹ دینے، کفایتی اقدامات اور سماجی ترقی پر خرچ ہونے والی رقم میں تخفیف نے عورتوں، سماجی اقلیتوں اور دیگر غریب اور پسماندہ طبقوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ’پیداواری‘ شعبے میں کام کو آگے ٹھیکے پر دینا اور تھرڈ پارٹی ٹھیکیداری نظام کم از کم اجرت، سماجی تحفظ، ہیلتھ انشورنس یا ملازمت یا پیشہ ورانہ تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دیتا۔
عورتوں اور صنفی اقلیتوں کو خاص طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، ان پر دھونس جمائی جاتی ہے اور انہیں کم از کم اجرت اور ڈیسنٹ کام سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہم مروج اقتصادی ماڈل کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ چند لوگوں کے منافع کے لئے گھر اور لیبر مارکیٹس میں ہماری محکومیت پر انحصار کرتا ہے۔ ہم ایسی پالیسیوں اور نظام کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں جو جسمانی طور پر مختلف لوگوں، ذہنی صحت کے مسائل کے شکار لوگوں، صنفی اقلیتوں، اور ضعیف لوگوں کو مسترد کرتا ہے اور صرف جسمانی اہلیت اور قابلیت کو معیار بناتے ہے۔
یہ نظام بلا معاوضہ کیئر ورک یا بچوں اور بوڑھوں کی دیکھ بھال کے کام کو بھی کسی شمار قطار میں نہیں لاتا اور نہ ہی اسے مجموعی قومی پیداوار میں شامل کرتا ہے ”۔ تو یہ ہے پاکستان کی نوجوان عورتوں کا نقطۂ نظر جو انہوں نے 8 مارچ 2022 کو پاکستان کی حکومت، سماج اور ریاست کے سامنے پیش کیا۔ نوجوان ہر دور میں اپنے ماحول سے شاکی رہے ہیں لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے جائز مسائل پر توجہ دی جائے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہم ایک پدر شاہی معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ عورتیں بجا طور پر یہ محسوس کرتی ہیں کہ انہیں برابر کا انسان تصور نہیں کیا جاتا۔ صنفی مساوات کے بغیر ملک اور معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ لگتا یہی ہے کہ عورت مارچ فیمنزم سے آگے بڑھ کر ایک سماجی اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو جائے گا۔


بہت اعلی تجزیہ۔ بہت شکریہ