کیا نئے خواب دیکھنے کی اجازت ہے؟

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی طلبہ تنظیمیں پابند سلاسل ہیں ماسوائے سندھ کے اور طلبا کی آواز بندش کا شکار ہے اور پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام کی گونج کے ساتھ تہذیب کے انحطاط کے آثار نمایاں ہیں مقدس مجید اور ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”نئے خواب، نیا نصاب نئی نسل کے مسائل پر مکالمہ“ پاکستان کی ترقی پسند اقلیتی آوازوں کی نمائندہ ہے۔ پاکستان میں نئے نصاب کے لفظ سے ڈر لگتا ہے کیونکہ ہر نیا نصاب ترقی معکوس کی جانب قدم نہیں پر جوش چھلانگ ہوتی ہے۔
پوری دنیا میں عمومی اور پاکستان میں بالخصوص مکالمے اور سوال /جواب کی اقدار معدوم ہوتی جا رہی ہیں اس صورتحال میں میرے لیے دلچسپ ہے یہ کتاب، کہ اس میں مکالمہ بھی ہے اور سوال بھی اور اس کے ساتھ اس میں ایک اور دم توڑتی اردو ادب کی صنف کی تجوید بھی ہے جو ہے خط نویسی، میرے لیے یہ اس لیے بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ اس میں ایک لکھاری واٹس ایپ کی نسل سے تعلق کا حامل ہے اور یقیناً ً میرا اشارہ ڈاکٹر صاحب کی طرف نہیں ہے مقدس کا تعلق جنریشن زی سے ہے اور اس جنریشن کے blunt اظہار رائے اور زندگی کے مختلف پہلووں کو ایک الگ نظر سے دیکھنے کی میں بہت متعارف ہوں ان کے اوپر لگنے والے ہر الزام جس میں بدتمیزی سے لے کر بے شرمی تک کے تمغے شامل ہیں میرے لیے بے معنے ہیں کیونکہ ان میں جو افراد سوچ سکتے ہیں ان کی سوچ کا انداز، رائے کا اظہار ایک نئی صبح کی نوید ہے ان کا تجسس ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے یہ ہر چیز کو الٹ پلٹ کے اپنے ذہن کی گتھی سلجھاتے ہیں اور اس عمل میں باتمیز اور تابعدار جیسی ٹرافیوں کی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں اور اس مکالمے کے دوسرے سرے پر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جب پہلی مرتبہ مجھ سے ان خطوط کا ذکر کیا تو مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی کہ ڈاکٹرصاحب سات سمندر پار ایک نوجوان ذہن کی گتھیاں کیسے سلجھا رہے ہیں کیونکہ بطور دوست مجھے ڈاکٹر خالد سہیل سے یہی توقع اور یقین ہے اس لیے کہ وہ اہل علم ہونے کے ساتھ اہل دل بھی ہیں۔ بقول افتخار عارف
ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں
وہ بطور ادیب اپنے موضوعات اور تحریروں میں روانی رکھتے ہیں لیکن میڈیکل سائنس کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ وہ کتنے ماہر لیکن انسان دوست ماہر نفسیات ہیں اور یہ صرف وہ لوگ جنہوں نے میڈیکل سسٹم کے اندر رہ کر کام کیا ہوتا ہے ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کو اپنے اندر انسان دوستی زندہ رکھنے کے لیے کیا جنگ لڑنی پڑتی ہے۔
مکالمہ، سوال، سوچ کا اظہار، آزادی اظہار رائے سب سے اہم انسانی حق ہے کیونکہ اگر آپ کسی سے freedom of expression اور freedom of thought ہی چھین لیں گے تو باقی کیا بچے گا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ اسی کو دبایا اور چھینا جاتا ہے افراد سے گھر سے لے کر تعلیمی اداروں، ورک پلیس اور حکومتی سطح پر اپنی سوچ اور اس کے اظہار اور سب سے بڑھ کر مختلف سوچ اور اس کے اظہار کو ناپسند کیا جاتا ہے گھر سے اس کی تربیت شروع ہوتی ہے بچوں کو تمیز سے مکالمہ اور بات کے اظہار سکھانے کہ بجائے خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے، سوچ کے اختلاف پر ایک دوسرے کے لیے جن الفاظ کا استعمال گھروں میں کیا جاتا ہے وہ طرزعمل اور الفاظ بچوں کی vocabluray کا حصہ بن جاتے ہیں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں استادوں کی ہاں میں ہاں ملانے والے شاگرد پسند کے جاتے ہیں اور یہ سلسلے میر کے محبوب کی زلف کی طرح دراز ہو کر جب حکومت تک پہنچتا ہے تو وہ جبری اغوا اور گمشدگیوں کی شکل اختیار کرتا ہے اور معاشرے میں mob lynching کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ پہلے دو موضوعات پر بات کرنا بہت مشکل تھا، مذہب اور سیکس اب ہم نے دو اور موضوعات کا اضافہ کیا ہے سیاست ریاست اور انسانی حقوق پاکستانی طاقتور طبقہ اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے لیکن دوسروں جس میں خواتین، اقلیتیں، LGBT، مزدور، کسان اور معاشرے کی دیگر محکوم طبقوں کی بات آتی ہے تو توہین اور غداری کی سرٹیفیکیٹ بٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ریپ اور بچوں میں جنسی زیادتی کو ہم اخلاقیات سے جوڑنا شروع کر دیتے ہیں اس چیز کا ادراک کیے بغیر کہ ہم نے might is right کا جو معاشرہ تشکیل دیا ہے اسے کے اثرات امیروں کی قانون شکنی تک نہیں رکتے بلکہ اس کے trickle down effects ہمارے گھروں، گلیوں، محلوں اور تعلیمی اداروں میں گھریلو تشدد، بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات کی صورت میں نمودار ہو رہے ہیں
ڈاکٹر خالد سہیل نے بڑی خوش اسلوبی سے مقدس کے سوالات کے جواب میں مغرب کی خواتین کی اپنے حقوق کے حصول کے لیے چلائی گئی مہم کو بیان کیا ہے اور اس عمل میں جہاں ہم ان کی تحریک کے مختلف ادوار سے واقف ہوتے ہیں وہاں ہم feminist icons انائس نن، سیمون دی بووا، Alice Paul، بیٹی فریڈین سے آگاہ ہوئے اور اس حقیقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان feminist نے کام زیادہ اور دشنام طرازی پر کم توجہ دی ہے۔ اس میں میرے لیے قابل فخر بات یہ ہے کہ ان feminist giants میں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کے نام لیے خطوط شانہ بشانہ موجود ہیں اور مقدس کی آگاہی ان کے کام سے قابل تعریف ہے میں امید کرتی ہوں کہ ایک دن ان ناموں کی فہرست میں ہماری ان بہادر خواتین کا نام بھی شامل ہو جائے گا جو نہ صرف ادب میں بلکہ ہماری سڑکوں پہ انسانی حقوق، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہوئیں اور پدر سری نظام اور ڈکٹیٹر شپ جیسی دو دھاری تلواروں کا سامنا کیا
اور آج بھی جمہوریت، طلبہ تنظیموں اور گمشدہ افراد کے لیے سڑکوں پر ہیں اس لیے جمہوریت ہی مکالمے کی واحد لائف لائن ہے اور جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔
لہو میں بھیگے تمام موسم گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے
وفا کے رستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے
سحر کا سورج گواہی دے گا
کہ جب اندھیرے کی کوکھ میں سے نکلنے والے
یہ سوچتے تھے
کہ کوئی جگنو نہیں بچا ہے تو تم کھڑے تھے
دل تو بڑا چاہ رہا تھا کہ تھا کو تھی سے بدل دوں ڈاکٹر صاحب کے ڈر کی وجہ سے نہیں کیا۔
مقدس کے ذہن میں جو سوال رشتوں سے متعلق ہیں وہ دلچسپ ہیں اس لیے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کی تعریف و توصیف میں جو قلابے ملاتے ہیں اور مغرب کو جس حقارت سے نوازتے ہیں وہ جہالت کی معراج تو ہے اور ساتھ میں ہمارے معاشرے کے superiority complex disorder کا آئنہ دار ہے جس میں ہم اپنا شجرہ نسب عربوں سے جا ملاتے ہیں اور جو مسائل اس سے جنم لے رہے ہیں وہ خوفناک ہیں۔ ایک طرف ہم تو دو اجنبیوں کو خاندان کی پسند سے ڈھول تاشوں کے اندر صرف اس لیے اکٹھا کرتے ہیں کہ ہم وہ ڈائنو سار ہیں جو بچے پیدا نہیں کریں گے تو ہماری نسل معدوم ہو جائے گی ایسے دو اجنبی جن کی کوئی compatibility نہیں ہوتی اور وہ محبت کی بجائے کمپرومائز کر رہے ہوتے ہیں مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس پر فوراً بچے پیدا کرنے کا پریشر اور بچے طلاق کے عمل کو گمبھیرتا کرتے ہیں اس صورتحال میں خاندانوں کے اندر جو خوشگوار صورتحال پیدا ہوتی ہے، جو زبان استعمال ہوتی ہے اور جس قسم کی اولاد کی تربیت ہوتی ہے اس کا اندازہ ہمیں پاکستان کی سڑکوں پر رینگتے دولے شاہ کے چوہوں سے بخوبی ہوتا ہے جن کی زبان نشتر برساتی ہیں اور خود وہ بات بات پر آتش فشاں کی طرح پھٹتے ہیں کیونکہ باوجود تاریخ فلسفہ اور سیاست سے نابلد ہونے کہ وہ اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ ایسے رشتے جو افزائش نسل کے لیے ہوں وہ فارمی مرغیاں تو پیدا کر سکتے ہیں صحت مند انسان نہیں۔ اس پر ہم نے ان رشتوں میں ایسی مصنوعی توقعات رکھی ہوتی ہیں کہ الاماں۔
اس کی ایک جھلک ہمیں پاکستانی ڈراموں میں نظر آتی ہے۔ پہلے صرف موٹا اور کالا ہونا جرم تھا اب لڑکیوں کے گھنگریالے بال بھی خوبصورتی کے پاکستانی معیار پر نہیں اترتے ساتھ ہی مرد اعلی شان بنگلوں، گاڑیوں میں قید ہیں یوں لگتا ہے ہر چیز کا تعین کر دیا گیا ہے نام اور پروفیشن سے شریک حیات اور بچوں کی تعداد تک، پیدا ہو، پڑھو 24 سال کی عمر میں گریجویشن کرو، 25 سال میں شادی 26 / 27 سال میں بچے، 50 سال میں ان کی شادی، 60 سال میں ریٹائرمنٹ اور 70 سال میں مر جاؤ عجیب روبوٹ ہیں، پروفیشن بدل نہیں سکتے اس سے بریک نہیں لے سکتے، وہ عورتیں جو پروفیشنل ہیں وہ غیر ذمہ دار اور جو پڑھی لکھی خواتین اپنے بچوں کے لیے بریک لیں اپنے پروفیشن سے انہوں نے تعلیم ضائع کر دی یعنی بچہ پالنا اور اس کی تربیت کوئی کام نہیں پیدا کریں اور جنگلی خود رو بیل کی طرح چھوڑ دیں چاہے باہر یہ آدم خور پودا جس مرضی کو نگل جائے۔ اچھی پیرنٹگ صرف یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں gadget تھمائیں ان کو پیسے دیں ان کے منہ میں آتش فشاں رکھیں جو آپ کے لیے دوسروں کی بے عزتی کرے اور اگر مشکل میں آئیں تو قانون کی دھجیاں بکھیر کے ان کو چھڑوا لیں لیکن ایسا انتظام نہ کریں کہ ماں باپ کو سکھائیں کہ اپنے کام کہ ساتھ مل کر بچوں کی تربیت کریں کہ یہ صرف ماں کی نہیں دونوں کی ذمہ داری ہے۔
ہمارے ہاں اولاد کے ہر اچھے کام کا کریڈٹ باپ کو اور ہر برے کام کی قصور وار ماں کی تربیت ہوتی ہے۔ رشتوں کا جو گنجلک جنگل ہم نے پیدا کر دیا ہے وہ بے پناہ نفسیاتی مسائل کا سبب بن رہا ہے اس میں ڈاکٹر صاحب اور مقدس کا مکالمہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ گرین زون لیونگ اور گرین زون لونگ کے بارے میں ہے جس میں مشغلہ، اچھے گرین زون دوست اور گرین زون مکالمے کو بیان کیا گیا ہے کہ شادی کا مطلب دوسرے کی گردن پر گھٹنا رکھ دینا نہیں بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو وقت دینا کا دن مختص کر کے باقی وقت میں الگ الگ مشاغل اور دوست رکھ کے ایک صحت مندانہ ماحول تخلیق کر سکتے ہیں
میں امید کرتی ہوں کہ علم و تہذیب کے محور مکالمے کو آگے بڑھایا جائے گا اور ان موضوعات پر بھی بات کی جا سکے گی جہاں ابھی زبان بندی ہے۔ بقول شاعر
فگار پاؤں مرے، اشک نارسا میرے
کہیں تو مل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے


بہت ہی عمدہ طریقے سے حقائق کو آشکار کیا ھے۔ بہت شکریہ۔