محبت، جنگ اور واپسی

میں نہیں چاہتی تھی کہ کسی کی آنکھ میں اپنے لئے کوئی ناخوشگوار جذبہ یا تاثر دھکیلوں۔ لہذا میں محتاط رہتی تھی۔ میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ امریکہ دنیا کے سب ملکوں سے زیادہ کمفرٹیبل ملک ہے جہاں مسلمان شہریت لے سکتے ہیں، جائیدادیں خرید سکتے ہیں، روز روز نئی سے نئی مسجدیں تعمیر کر سکتے ہیں اور انسانی حقوق کی آزادی انجوائے کر سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عام طور پر امریکی لوگ کسی کو تنگ نہیں کرتے اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔
مجھے نائن الیون کے واقعہ سے اگلا دن کبھی نہیں بھولے گا۔ اس روز میں بذریعہ ٹرین اکیلی نیویارک سے پنسلوانیا کا سفر کر رہی تھی۔ بہن سے ملنے جانا ضروری تھا۔ ٹرین تقریباً خالی تھی۔ امریکہ کے لوگ گھروں میں گھسے ٹی وی کے آگے بیٹھے نائن الیون کے مناظر دیکھ رہے تھے۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ ایک شرابی قسم کا وہائٹ جوڑا ٹرین میں چڑھا اور الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگا۔ ساری ٹرین میں موٹے تازہ لمبے تڑنگے سیکیورٹی گارڈز ادھر سے ادھر دندناتے پھر رہے تھے۔
مجھے لگا جیسے سب کی نظریں مجھ پر گڑی ہوئی ہیں۔ آخر میں وہی تو تھی جس کے دہشت گرد بھائیوں نے ایک روز قبل امریکہ میں تباہی مچا دی تھی۔ بلند و بالا عمارتوں کو ریزہ ریزہ کر کے ملک کی بنیادیں ہلا دی تھی۔ میرا اور ان دہشت گردوں کا مذہب ایک تھا۔ میں مجرم تھی۔ راستے میں ایک دو بار ٹرین جنگل میں اچانک رکی تو مجھے بے انتہا خوف محسوس ہوا۔ گو کہ میں نے امریکی طرز کے کپڑے پہن رکھے تھے پھر بھی میں گوری کالی تو نہیں تھی، مسلمان تھی۔
مجھے لگا جیسے ابھی یہ امریکن لوگ غصے میں آ جائیں گے اور مجھ پر حملہ کر کے میری تکہ بوٹی کر دیں گے۔ تب امریکن بہت غمزدہ تھے، کچھ بھی کر سکتے تھے۔ میں تمام وقت چوکنی ہو کر ڈری بیٹھی رہی۔ پھر میرا سٹیشن آ گیا اور میں آرام سے نیچے اتر گئی اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ میں محفوظ رہی۔ بہرحال یہ بھی امریکہ کا ہی احسان تھا کہ اس نے مجھے مکمل تحفظ دیا اور کسی نے مجھے کوئی گزند نہ پہنچائی۔ اس روز میں نے واقعی دل میں سوچا کہ یہ قوم بہت اصولی اور برتر ہے اسی لئے دنیا پہ راج کر رہی ہے۔
ایک روز حسب معمول میں خواتین کی میز پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی کہ میری نظر مردوں کی میز پر بیٹھے ایک شخص پر پڑ گئی، وہاں کوئی نیا مریض بیٹھا تھا یہ لمبا چوڑا گورا چٹا امریکن تھا جو بات بے بات قہقہے لگا رہا تھا۔ عمر پچپن کے قریب دکھتی تھی وہ بھی میری طرح غالباً Rehab کے لئے ہی وہاں داخل تھا کیونکہ وہ کسی بھی طرح اولڈ ہوم میں رہنے والا بوڑھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اونچی اونچی آواز میں اپنی کہانی کہہ رہا تھا۔
چند الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو میں چونک گئی۔ وہ بتا رہا تھا کہ وہ ویت نام کی جنگ میں بطور فوجی شریک رہ چکا ہے۔ میں اس کی یہ بات سن کر اسے نظر انداز نہ کر سکی اور غور سے اس کی طرف دیکھا۔ بطور تاریخ کی طالبعلم کے، امریکہ کی دیگر ممالک میں گھس کر بلاجواز جنگ کرنے، انہیں اسیر اور مطیع بنانے، تباہ کرنے کی عادت اور صلاحیت مجھے ہمیشہ متجسس اور حیران کرتی رہی ہے۔ میں نے اس کی باتوں پر کان لگا دیے۔ وہ ساتھ بیٹھے دوسرے مردوں کو بتا رہا تھا کہ اس نے ویت نام کے بعد بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور ابwar veteran بن کے ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے۔ میرے اندر کی کھوجی کہانی کار نے مجھ ٹہوکا دیا اور کہا
” اس کے پاس تو بہت سی انوکھی اور نادر کہانیاں ہوں گی۔ اس سے بات کرنا چاہیے۔“
بس تبھی سے میں اس سے بات کرنے کے موقع کی تاک میں رہنے لگی۔
ایک روز میں حسب معمول کاریڈور میں اکیلی واک کر رہی تھی کہ وہ مجھے دکھائی دے گیا۔ وہ لنگڑا کر چل رہا تھا جیسے تکلیف میں ہو مگراس کے چہرے کی بشاشت برقرار تھی۔ میں اس کے قریب پہنچ گئی اور hi کہہ کر اسے مخاطب کیا۔ اس نے بھی جواب میں hi کہہ دیا اور میری طرف سرسری انداز میں دیکھنے لگا۔
”کیسے ہو؟ ٹانگ کو کیا ہوا؟“ میں نے گفتگو کا بہانہ ڈھونڈا۔
”دراصل ذیابیطس کی وجہ سے بیمار ہوں۔ میرے پاؤں کی ایک انگلی خراب ہو گئی۔ درد رہتا ہے۔ شاید کاٹنی پڑ جائے۔ میرا نام بروس ہے۔“
اس نے دوستانہ انداز میں ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ جسے میں نے تھام لیا اور مسکرا کر بات چیت آگے بڑھا دی۔
”ہیلوبروس۔ میرا نام نیلم ہے۔ اپنے گھٹنے کے آپریشن کے بعد فزیوتھراپی کروانے کے لئے یہاں آتی ہوں۔ “
میں نے جواب دیا۔
”تم انڈیا سے ہو؟“ اس نے مجھے سے وہی متوقع سوال کیا جو سب شروع شروع میں کرتے ہیں۔
”نہیں۔ پاکستان سے ہوں۔“
میں نے جھجکتے ہوئے انکشاف کیا۔ ڈر تھا کہ گورا امریکن یہ سنتے ہی مجھ سے منہ موڑ کر چل نہ دے مگر اس کے برعکس وہ تو جیسے کھل اٹھا۔
”پاکستانی؟ مجھے پاکستانی مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
”اچھا؟“ میں نے یقین نہ آنے والے انداز میں کہا
”وہ کیوں بھلا؟“
”کیونکہ میری ایک بہو پاکستانی ہے اور وہ بہت اچھی ہے۔ میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ اس کے بچے بھی تمیزدار ہیں۔“
اس نے یہ کہہ کر مجھے حیران تو کیا مگر میرے تجسس کو مزید پر لگا دیے۔
”اچھا؟ پاکستانی بہو؟“ میں حیرت زدہ رہ گئی۔
”میں نے ایک روز تمہاری باتیں سنی تھیں۔ تم ویت نام کی جنگ میں سپاہی بن کر گئے تھے۔ اس بارے میں کچھ جاننا چاہتی ہوں۔“ میں دل کی بات زبان پر لے آئی۔
”اچھا؟ حیرت ہے کہ تم کو اس قسم کے موضوعات سے دلچسپی ہے۔ مجھے تم ایک ذہین عورت لگتی ہو۔“
اس نے اچانک کہا تو میں ہنس پڑی۔ دل میں سوچا یقیناً یہ مجھے تھرڈ ورلڈ کے کسی پسماندہ ملک کی ان پڑھ، بے شعور، جاہل مسلم عورت ہی سمجھتا ہو گا، تبھی اسے میرا سوال عجیب سا لگا اور حیرانی ہوئی۔
وہ پاس پڑے صوفے پر بیٹھا اور کہنے لگا ”جنگ کے بارے میں تو کوئی بھی مجھ سے سوالات نہیں کرتا۔ کون پوچھتا ہے war veterans کو؟“
اس کی آنکھوں میں اداسی چھلک آئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اپنی زندگی کی پٹاری میرے سامنے کھولنا شروع کر دی تو اس میں سے عجیب عجیب کہانیاں نکل کر میرے ارد گرد بکھرنا شروع ہو گئیں۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر اس کی بات سننے لگی۔
”میں ساٹھ کے عشرے میں بھرپور جوان تھا۔ ہائی سکول میں میرا سنجیدہ رومانس میری کلاس میٹ سیلی کے ساتھ تھا۔ ہم دونوں ہائی سکول میں سویٹ ہرڈز کہلاتے تھے۔ فوٹو گرافی کا شوق تھا، سو میں نے کالج میں فوٹو گرافر بننے کے کورسز لے لئے۔ زندگی بہت حسین تھی۔ اچانک ایک روز سیلی نے مجھے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ یہ سنتے ہی ہم دونوں خوش ہو گئے اور فوری طور پر شادی کا فیصلہ کر لیا تاکہ اپنے بچے کو ایک مستحکم اور خوشگوار زندگی دے سکیں۔
اس کے لئے ایک محبت کرنے والا گھر ہو جہاں وہ مکمل اعتماد کے ساتھ پلے بڑھے۔ پھر ہمارا بیٹا ایلن اس دنیا میں آیا۔ ہم خوشی سے نہال ہو گئے۔ بہت اچھے تھے وہ دن۔ اب مجھے ایک پکی اور اچھی آمدنی والی نوکری کی ضرورت تھی۔ اتفاق سے میری ڈرافٹنگ ہو گئی اور مجھ ویت نام کی جنگ میں بطور فوٹو گرافر بھرتی کر لیا گیا۔ ڈرافٹنگ سمجھتی ہو نا؟ ”اس نے مجھ سے سوال کیا
”ہاں مجھے پتہ ہے ڈرافٹنگ کیا ہوتی ہے۔ ستر کے عشرے میں باکسر محمد علی اور ایلوس پریسلے دونوں ڈرافٹ ہوئے تھے۔ ایلوس تو جنگ میں چلا گیا تھا مگر محمد علی نے احتجاج کیا تھا کہ میں اس بے تکی بے وجہ کی پرائی جنگ میں جانے سے انکار کرتا ہوں۔“
میں نے بروس کو بتایا تو وہ حیران سا ہو گیا۔
”تم تو بہت کچھ جانتی ہو امریکن نظام اور ہسٹری کے بارے میں۔ wow۔“ وہ متاثر نظر آنے لگا۔
”پھر کیا ہوا؟“ میں نے سوال کیا۔
”پھر ویت نام جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ بچھڑنے کے خوف سے ہم دونوں خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرز رہے تھے۔ ہم بار بار لپٹتے چمٹتے، پھر اپنے بیٹے ایلن کو چومتے۔ ہم نے روزانہ ایک دوسرے کو خط لکھنے کے وعدے کیے۔ سیلی نے گھر کے فرنٹ یارڈ میں لگے oak tree کے تنے پر پیلا ربن باندھا۔ تمہیں تو یقیناً پتہ ہو گا پیلا ربن باندھنے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟“
اس نے مجھ سے سوال کر دیا۔
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں جانتی تھی پیلا ربن باندھنے کا مطلب۔ گھر کو لوٹ آنے والے فوجی شوہر یا معشوق کو یہ پیغام دینا ہے کہ گھر والی تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ وہ اب بھی تمہیں چاہتی ہے اور بانہیں کھولے تمہارا استقبال کرنے کو تیار ہے۔ تم بے دھڑک گھر میں چلے آؤ۔
” واہ بھئی! تم تو پوری امریکن ہو۔ ہمارے کلچر کی ہر بات سے آگاہ ہو۔ ہاں صحیح کہتی ہو۔ ایک دور دراز کے فوجی کے لئے گھر کو لوٹنا کتنی بڑی خوشی ہے کہ اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو گھر سے دور جا چکا ہو۔“
ایک تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھل گئی۔
”اچھا تو پھر جنگ کی باتیں بتاؤ۔“ میں نے اس سے اپنی دلچسپی والی بات پوچھی۔
”جوانی میں انسان کو اتنا شعور کہاں ہوتا ہے؟ وہ ہر چیز کو ایک کھیل سمجھتا ہے۔ ویسے بھی تم تو جانتی ہو ہم امریکن کتنی آسان اور آرام دہ زندگی کے عادی ہیں۔ جنگ میں گیا تو میرا تو ذہن ہی الٹ گیا۔“ وہ سنجیدگی سے بولتا چلا گیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

