کیرم بورڈ


میں نے انہیں آغا خان ہسپتال میں دیکھا تھا۔ وہ ہوش میں تھے مگر خوف ان کے چہرے پر آنسوؤں کی طرح بہہ رہا تھا۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیوں ہوا، کیسے ہوا؟ انہوں نے رک رک کر بتایا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے لوگ ان سے کچھ پیسوں کا مطالبہ کر رہے تھے مگر انہوں نے منع کر دیا۔ جس پر ان سے کہا گیا کہ انہیں مار دیا جائے گا اور مکان پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کو محض دھمکی سمجھا تھا اور کسی سے کچھ کہا بھی نہیں تھا کہ یہ سب کچھ ہو گیا۔

کراچی میں تو یہی ہو رہا تھا۔ لڑکے ہتھیار لے کر آتے تھے، دکانوں میں، مکانوں میں، کاروبار پر دن کو، رات کو۔ زبردستی پیسے بھی چھین لیتے، گھر والوں کو یرغمال بھی بنا لیتے تھے۔ عورتوں، لڑکیوں کی عزت پامال کر دیتے۔ کراچی پر تو جیسے جنگل کا راج تھا۔ انسان نہیں وحشی تھے سب لوگ۔ ان کے گھروں میں جہاں بوڑھے اکیلے رہ رہے ہوں یا جہاں بیوائیں بغیر سہارے کے زندگی کے دن گزار رہی ہوں وہاں تو جانے کیا کچھ ہوجاتا تھا۔ بھرے پرے گھروں پر بھی بڑی تعداد میں اسلحہ لے کر راتوں کو حملہ ہوتا تھا۔ پولیس، رینجرز اور سیاسی لیڈر چین کی نیند سو رہے تھے۔ لوگ پریشان تھے۔ کلیم کے ابو پریشان تھے، سخت پریشان۔ دو دن بعد وہ ہسپتال سے اپنی دوسری بیٹی رخسانہ کے گھر منتقل ہو گئے تھے۔ ایک ماہ کے اندر ہی ان لوگوں نے ناظم آباد کا پرانا مکان فروخت کر دیا تھا۔

مکان سے قیمتی چیزیں تو پہلے ہی چوری ہو گئی تھیں۔ کچھ فرنیچر وغیرہ میں نے خریدنے کی کوشش کی تھی جو بہت حجت کے بعد انہوں نے بہت ہی تھوڑے پیسوں میں مجھے دے دیا تھا اور میں نے دیکھا تھا کہ چند چھوٹی چھوٹی بچوں کے بچپن کی چیزوں کو انہوں نے احتیاط سے الگ کر لیا تھا۔ کلیم آیا نہیں فون آتے رہے تھے۔ اس کے ابا کے پاس بھی اور میرے پاس بھی۔ مجھ سے اس نے کہا تھا کہ میں ہفتے دو ہفتے میں انہیں ضرور دیکھ لیا کروں۔

میں نے اس کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ میرے جانے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر میں تھے، اپنے نواسوں نواسیوں کے درمیان۔ ان کا داماد بھی بہت خیال رکھنے والا آدمی تھا۔ مگر پھر کلیم کی خواہش تھی تو میں ان کے گھر چلا جایا کرتا تھا۔ بڑی پابندی کے ساتھ ان کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔ ان سے باتیں کرتا تھا ان کے بارے میں ان کی صحت کے بارے میں، اور وہ باتیں کرتے تھے کلیم کے بارے میں، کلیم کے کام کے متعلق، کلیم کا بچپن اور کلیم کا گھر جو اٹلانٹا میں تھا۔ انہیں اس کے بارے میں باتیں کر کے مزہ آتا تھا۔

آہستہ آہستہ وہ اپنی بیٹی کے گھر میں سیٹ ہو گئے۔ بچوں کے ساتھ مصروف رہتے، اخبار پڑھتے اور محلے کی مسجد میں جا کر نماز پڑھ لیتے۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ بے چینی سے میرا انتظار کرتے رہتے تھے۔ کلیم کی باتیں سناتے، اس کے فون کا ذکر کرتے، اس کے بچوں کی تصویریں دکھاتے۔ مجھے پتا تھا کہ اس کی باتیں کر کے وہ خوش ہوتے ہیں اور ان کے پاس خوش ہونے کے لیے تھا بھی کیا۔

کلیم پھر نہیں آیا۔ وہ خط بھی نہیں لکھتا تھا ہاں فون کرتا تھا، مصروف آدمی کے لیے فون کرنا آسان ہوتا ہے۔ فون پر صرف آواز ہوتی ہے۔ کم وقت میں بہت ساری باتیں کرنے کی خواہش ہوتی ہے، آدمی کی شرمندگی بھی چھپ جاتی ہے اور احساس جرم کو بھی چھپایا جاسکتا ہے۔ خط میں تو بڑی جگہ ہوتی ہے، بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، بہت کچھ لکھنا پڑتا ہے۔ خاص کر اگر اپنے گھر بھیجا جا رہا ہو تو۔ وہ پاکستان آنے سے ڈرتا تھا۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ اپنے باپ سے کہے کہ وہ پاکستان نہیں آئے گا۔ اس میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ انہیں آ کر دوبارہ امریکا لے جانے کے لیے آمادہ کرتا۔

وہ فون کرتا اور ہر مہینے اس کے اکاؤنٹ سے خود بہ خود کچھ رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی۔ الیکٹرانک ٹرانسفر۔ کاش الیکٹرانک کے ذریعے جذبات، احساسات، پیار بھی ٹرانسفر ہوسکتے۔ کلک سے بٹن دبا کر کسی کے جلد کی نرمی کا احساس ہو سکتا، ہونٹوں کی نمی محسوس ہوتی۔ آنکھوں کی چمک نظر آتی، کپکپاتے ہوئے ہاتھ اور دھڑکتے ہوئے دل بھی محسوس ہوتے۔ الیکٹرانک ٹرانسفر سے یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سے تو صرف ڈالر ٹرانسفر ہوسکتے تھے۔ سنگدل ڈالر کے نوٹ، حساب کتاب کے ساتھ۔

مجھے یاد ہے، ایک دن انہوں نے کہا، ”پرانا زمانہ اچھا تھا جب پوسٹ مین منی آرڈر کے ذریعے پیسے لے کر آتا تھا تو ایک رومانیت ہوتی تھی اس میں۔ سارے محلے کے لوگوں کو پتا ہوتا کہ آج بیٹے نے پیسے بھیجے ہیں۔ پوسٹ مین کو چائے پلائی جاتی، کچھ پیسے دیے جاتے اور آدمی فخر سے سر اٹھا کر گھومتا۔ لوگوں کو بھی پتا ہوتا کہ اس کا بیٹا ہے، قابل ہے، دور ہے، مگر باپ کا خیال کرتا ہے۔ آج کل کیا ہے، محض بینک سے آیا ہوا ایک خط، آ کے اکاؤنٹ میں اتنے ڈالر آ گئے ہیں۔ ٹھنڈے کالے حروف، جذبات سے عاری کسی ٹائپ رائٹر کی ٹھک ٹھک کی طرح تکلف دہ۔“ وہ ایسی ہی باتیں کرنے لگے تھے۔ وقت کے ساتھ بڑھاپا اور کمزوری دونوں انہیں آہستہ آہستہ فتح کرتے چلے جا رہے تھے۔

ایک دن جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دونوں چھوٹی بیٹیوں نے انہیں نہلا کر غسل خانے سے نکالا تھا اور وہ کرسی پر بیٹھے چائے کے ساتھ بسکٹ کھا رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک وہ وہاں رہی تھیں پھر چلی گئیں، تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے رشید، جو ان کا خاص نوکر تھا، اس کے حوالے نہیں کرتے ہیں بلکہ مجھے خود سے نہلاتے ہیں۔ بڑی تکلیف دیتا ہوں ان لوگوں کو۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر بولے کہ جب صرف بیٹیاں ہوتی تھیں تو سب لوگ ہم دونوں میاں بیوی کو رحم کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ مجھے یاد ہے میری ماں نے تو کہہ بھی دیا تھا کہ میاں بیٹا نہیں ہو گا تو بڑھاپا کیسے گزارو گے؟

دیہات کی سادہ عورت تھیں وہ، جو انہوں نے دیکھا وہی کہہ دیا تھا۔ کلیم کی ماں کو بہت برا لگا تھا۔ اگرچہ ہم دونوں کی شدید خواہش تھی کہ بیٹا بھی ہو جائے ہم لوگوں کو، پھر خدا نے بیٹا بھی دے دیا۔ کیا کیا خوشیاں نہیں منائی تھیں ہم لوگوں نے۔ کس کس طرح ناز اٹھائے تھے ہم نے کلیم کے مگر غلط تھی میری ماں۔ اسے کیا پتا تھا کہ امریکا بھی کوئی جگہ ہے جہاں بیٹے جا کر مصروف ہو جاتے ہیں اور بیٹیاں اپنے بوڑھے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا بنتی ہیں۔

ان کے لہجے میں شکایت تھی، بلا کا درد تھا مگر ساتھ ہی کلیم کے لیے بے تحاشا پیار بھی۔ ارے وہ کرتا بھی کیا یہاں پر؟ اتنی قابلیت کے ساتھ تو وہ ضائع ہوجاتا۔ پاکستان کو اچھے ڈاکٹر تھوڑی چاہئیں، گدھے چاہئیں، گدھے آ جاتے ہیں یہاں جو وہاں کچھ نہیں کر سکتے ہیں جو وہاں ناکام ہو جاتے ہیں۔ کلیم توبڑا قابل ڈاکٹر ہے۔ وہاں کے لیے ہی ہے وہ۔ یہاں کیا کرے گا؟ پھر صحیح کہتا ہے کلیم۔ کراچی میں تو اب بچوں کی تعلیم بھی صحیح طریقے سے نہیں ہو سکتی ہے۔ یہاں بچے تو ضائع ہوجائیں گے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے چکروں میں۔

عام طور پر میں ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتا اور یہی کیا میں نے اس وقت بھی۔

آج وہ طویل بیماری کے بعد مر گئے۔ کل تدفین ہو جائے گی۔ تینوں بہنیں گلے لگ کر باپ کے لیے رو لیں گی۔ بھائی فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے دیر سے پہنچے گا۔ دو دن، چار دن غمزدہ ماحول میں رہنے کے بعد چیزیں نارمل ہونا شروع ہوجائیں گی اور پھر افسردگی کے ساتھ ہم سب لوگ کلیم کو ائرپورٹ پر جاکر الوداع کہیں گے۔ میں نے سوچا۔

مگر کلیم نہیں آیا اور میں کلیم کو وہ بڑا سا پیکٹ بھی نہیں دے سکا جو اس کے والد نے مرنے سے کچھ عرصے قبل میرے حوالے کیا تھا کہ جب بھی کلیم آئے میں اسے دے دوں۔ ”اس میں اس کے لیے کچھ اہم ہدایت ہے۔“ انہوں نے ہنس کر مجھے کہا تھا پھر ایک کہانی بھی سنائی تھی۔ نہ کلیم آیا تھا، نہ بہنوں کو اس کے ساتھ مل کر رونے کا موقع ملا اور نہ ہی وہ کہانی میں اسے سنا سکا۔

پھر یکایک مجھے میری کمپنی کی طرف سے امریکا جانا پڑ گیا۔ کلیم کو میں نے خبر کی کہ نیویارک میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد میں اس کے پاس آؤں گا۔

اٹلانٹا کے بڑے سے ائرپورٹ پر وہ مجھے لینے آیا۔ یہ ائرپورٹ جان ایف کینیڈی ائرپورٹ سے بھی شاید بڑا تھا۔ ائرپورٹ کیا چھوٹا سا ایک شہر تھا۔ نہ جانے کتنے ٹرمینل تھے اور ایک ٹرمینل سے دوسرے ٹرمینل جانے کے لیے اندر، اندر ٹرین کا نظام تھا۔ ایک وقت میں کئی کئی جہاز آتے جاتے رہتے تھے۔ ہم لوگ کراچی میں ایک بس کا اڈا نہیں بنا سکے تھے۔ ان لوگوں نے ہر شہر میں شہروں سے بھی بڑے ائرپورٹ بنا لیے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3