کیرم بورڈ


آخری بار جب میں نے انہیں دیکھا تھا تو وہ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اس دن جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ سو رہے تھے یا شاید بے ہوش تھے۔ چہرے کی جھریاں ایک دوسرے کے اوپر سمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سرخ ہونٹ کے ساتھ زبان بھی سرخ سرخ سی ہو رہی تھی۔ سر پر کوئی بال نہیں اور ماتھے کے تل کافی نمایاں تھے۔ دھنسی ہوئی آنکھیں اور چہرہ کسی مرے ہوئے آدمی کا چہرہ لگ رہا تھا۔

انہوں نے آنکھیں کھولیں تو احساس ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔ دھنسی ہوئی آنکھوں میں اندر، بہت اندر ایک چمک سی باقی تھی۔ زندگی کی چمک، زندہ رہنے کی روشنی۔ انہوں نے مجھے دیکھا، پہچان کی ایک رمق سی آنکھوں میں آئی، انہوں نے مسکرانے کی کوش کی لیکن مسکرا نہیں سکے۔ کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہیں سکے، سوچ کا عمل اور سمجھنے کا سلسلہ جاری تھا، ذہن بیدار مگر جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ مجھے دیکھا ہو گا، کچھ سوچا ہو گا۔ دماغ میں الفاظ اگے ہوں گے۔ سب مل کر جملے بنیں ہوں گے مگر زبان پر کوئی قابو نہیں تھا جیسے دماغ اور زبان کے درمیان بجلی کی لائن کٹ گئی تھی۔ میرا دل ان کی کمزوری اور بیماری پر اتنا نہیں دکھا جتنا ان کے چہرے کی بے بسی پر دکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے اور کہہ نہیں پا رہے تھے۔ میں نے سوچا تھا، یا اللہ انہیں اچھا کردے یا انہیں موت دے دے۔ تھوڑی دیر تک ان کے پیروں کے پاس کھڑا رہا، انہیں دیکھتا رہا، ان کی بے بسی پر کڑھتا رہا پھر گھر چلا آیا تھا۔

رات دو بجے ثریا کا فون آیا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے افسوس تو ہوا مگر تسلی بھی کہ اب وہ زندہ رہنے کے عذاب سے نکل گئے ہیں۔ موت نے زندگی کے ساتھ زندگی کی مشکلات کا بھی خاتمہ کر دیا تھا۔

ثریا نے ہی بتایا کہ کلیم کو امریکا خبر کر دی گئی ہے۔ کلیم میرا دوست تھا۔ ہم دونوں نے ساتھ ہیپی ہوم اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ میں نے کامرس گروپ لے کر چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کی اور اس کے بعد کراچی میں ہی میرے لیے راستے کھلتے چلے گئے تھے۔ کلیم کا داخلہ سندھ میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا۔ میٹرک کے بعد ہم دونوں کی تعلیمی سرگرمیاں تو مختلف تھیں مگر ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

ہم لوگ پابندی سے ملتے، اکثر ساتھ ساتھ گھومتے۔ میں اس کے گھر جاتا اور وہ ہمارے گھر آتا۔ دوستی بڑھتی ہی چلی گئی تھی۔ کلیم کی تین بڑی بہنیں تھیں۔ وہ گھر میں ہر ایک کا لاڈلا تھا۔ ہونا بھی چاہیے، پاکستان میں تین بہنوں کے بعد بھائی کا پیدا ہونا تو جیسے ایک طرح کا معجزہ تھا۔ کلیم کو بھی اپنی اہمیت کا اندازہ تھا۔ مگر وہ اپنی اس اہمیت کا ناجائز فائدہ کبھی نہیں اٹھاتا تھا۔

میں اپنے کام میں مصروف رہنے لگا اور گھر کی دوسری ذمے داریوں میں الجھتا چلا گیا اور وہ ڈاکٹر بن کر امریکا چلا گیا۔ میں نے سنا کہ اس نے امریکا کے امتحانوں میں بڑے اچھے نمبر لیے ہیں۔ شروع میں تو وہ ہر سال کراچی کا چکر لگاتا رہتا۔ وہ جب بھی آتا تھا ہم لوگ کئی شامیں ضرور ساتھ گزارتے تھے۔ برنس روڈ پر یا کسی چائنیز ریسٹورنٹ میں، گزرے زمانوں کی باتیں کرتے ہوئے۔ اس کی تینوں بہنوں کی شادی میں، میں نے نہ صرف یہ کہ شرکت کی تھی بلکہ بے انتہا کام بھی کیا تھا، بالکل گھر کے کسی فرد کی طرح۔

پھر بہنوں نے بڑے چاؤ سے کتنی ہی لڑکیوں کو دیکھنے کے بعد کلیم کے لیے بھی لڑکی پسند کرلی اور بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی اس کی۔ شادی سے پہلے تک تو کلیم ہمیشہ یہی کہتا رہا تھا کہ اسے امریکا کچھ دن رہنے کے بعد پاکستان واپس آنا ہے مگر شادی کے بعد ایسا لگا تھا کہ جیسے اسے کچھ یقین نہیں ہے کہ وہ پاکستان واپس آئے گا۔ ہر سال وہ پاکستان آتا ضرور تھا مگر بے یقینی کی کیفیت کے ساتھ۔

اس کے ہاں پہلے دو جڑواں لڑکے ہوئے تھے جن کا عقیقہ بھی کراچی میں ہی ہوا۔ پھر ایک کے بعد ایک کر کے دو بیٹیاں بھی پیدا ہو گئی تھیں۔ اس کا کام امریکا میں بڑھ بھی گیا مگر چھٹیوں میں وہ آتا ضرور تھا۔

آہستہ آہستہ وہ امریکن ہوتا چلا گیا۔ میں نے اسے تبدیل ہوتا ہوا محسوس کیا تھا۔ اس کے انگلش بولنے کا انداز، اس کے زور سے چلانے کا طریقہ، بات بات میں ”گاڈ ڈیم“ کی تکرار، چھوٹے چھوٹے بل کو دینے کے لیے کبھی پرس کا نکالنا پھر اپنے کسی کارڈ کے ذریعے بل دینے کی کوشش کرنا۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں میں دیکھ رہا تھا کہ کس طرح سے آہستہ آہستہ وہ تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔ بدلا ہوا پاکستانی امریکن۔ اس کے امریکن ہو جانے کے باوجود اس کی محبت میں کوئی کمی نہیں محسوس کی تھی میں نے۔

مجھے ایک دفعہ اپنی کمپنی کی طرف سے ایک ٹریننگ کے لیے امریکا بھیجا گیا، نیویارک میں ایک ہفتے کا کام تھا میرا، اس کے بعد کلیم نے مجھے ٹکٹ بھیج کر اٹلانٹا بلا لیا تھا۔ پھر پانچ دن تک وہ اپنی ویگن میں مجھے لے کر گھومتا گھماتا رہا تھا۔ خوب سیر کرائی اس نے اور خوب پیسہ بھی خرچ کیا مجھ پر۔

وہ بڑی شان سے رہ رہا تھا امریکا میں۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اٹلانٹا کے ایک اور علاقے میں عنقریب گھر لینے والا ہے جو بڑا بھی ہے اور اچھا بھی۔ اس کی بیوی نسیمہ بھی مجھے بہت خوش لگی اور بچے تو تھے ہی پیارے پیارے سے۔

میرے واپس آنے کے کچھ ہی ہفتوں کے بعد کلیم کی والدہ کا یکایک انتقال ہو گیا۔ زیادہ عمر نہیں تھی اس وقت ان کی، مشکل سے پچاس سال کی ہوں گی بس یکا یک بیمار پڑ گئی تھیں۔ کچھ ذیابیطس کا مسئلہ تھا۔ کلیم کو خبر کی گئی اور اس کے آنے آنے تک وہ جاں بر نہیں ہو سکی تھیں۔ نہ جانے کیا ہوا، تیز بخار آیا ان کو، پھر دیکھتے ہی دیکھتے موت واقع ہو گئی۔ کلیم ایک ہفتہ رہ کر چلا گیا تھا۔ بہت اداس، بہت پژمردہ، بہت بے حال۔ میں اس کی بے کلی کا اندازہ کر سکتا تھا۔

اپنی ماں کی موت مجھے یاد تھی۔ مجھے کسی بھی قسم کا احساس جرم تو نہیں تھا مگر کلیم کو شدید احساس تھا کہ وہ موت کے وقت ان کے سرہانے نہیں تھا۔ کاش وہ یہاں ہوتا تو شاید کچھ کر سکتا۔ آج کل کے زمانے میں کوئی ذیابیطس سے نہیں مرتا ہے اور یہ کوئی بیماری تھوڑی ہے، ایک ہارمون کی کمی ہے اور اس کی کمی سے کوئی مر جائے وہ بھی آج کل جب کہ ہر چیز ہر جگہ مل جاتی ہے۔ سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی۔

اس واقعے کے بعد کلیم کے والد تو یکایک بوڑھے بہت بوڑھے ہو گئے۔ تیس چالیس سال کا ساتھ اچانک اس طرح سے چھوٹ جائے تو شاید ایسے ہی ہوتا ہے۔

زندگی ان کے لیے بہت کٹھن ہو گئی۔ بڑا سا گھر تھا مگر گھر میں کوئی بھی نہیں تھا ان کے لیے۔ بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں اور اکلوتا بیٹا امریکا میں۔ چھ مہینے کے اندر اندر کلیم نے انہیں اپنے پاس امریکا بلا لیا مگر وہ دو ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکے وہاں۔ امریکا کی زندگی انہیں راس نہیں آئی۔ بڑا گھر، گھر میں ہر قسم کا سامان، چوبیس گھنٹے کا ٹیلی ویژن بھی۔ کلیم بھی، کلیم کی بیوی بھی اور بچے بھی مگر ان کا دل نہیں لگا تھا۔ وہ واپس آ گئے اپنے اسی گھر میں جہاں ان کے بچے بڑے ہوئے تھے، جہاں سے ان کی بیٹیوں کی ڈولیاں اٹھی تھیں اور جہاں سے ان کی بیوی کا جنازہ نکلا تھا۔ وہ اداس ضرور تھے مگر مجھے لگا کہ وہ خوش بھی ہیں۔

کچھ ماہ کے بعد کلیم پھر آیا۔ مجھے یاد ہے، انہوں نے کلیم سے کہا تا کہ وہ اتنا پڑھا لکھا ڈاکٹر ہے کہ اب اس کے لیے کراچی میں رہنا اور پیسے کمانا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔ کراچی میں مکمل طور پر غیر صلاحیت یافتہ ڈاکٹر کما رہے ہیں اور خوب کما رہے ہیں تو کلیم کا تو مقام ہونا ہی بلند تھا۔ وہ دل سے چاہتے تھے کہ کلیم کراچی واپس آ جائے اور اپنا کام یہاں شروع کرے۔ مگر کلیم اب امریکا میں ہی رہنا چاہتا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم دونوں نے صدر میں چوہدری فرزند علی کی دکان سے قلفی کھائی تھی، وہاں سے بوہری بازار کی طرف آئے تھے۔

کلیم نے پنجابی، بلوچی، پشتو اور سندھی گانوں کے کیسٹ خریدے۔ صدر کے کوآپریٹو مارکیٹ سے علاقائی دستکاری کا بہت سا سامان خریدا۔ زینب مارکیٹ سے ہاتھ کے کام کی چادریں اور قالین خریدے، ان سب کو امریکا کے اپنے پتے پر بک بھی کرایا تھا پھر ہم لوگ تھک کر وہاں سے ہالی ڈے ان کے، جو اب میریٹ ہو گیا ہے، نادیہ ریسٹورنٹ میں کافی پینے آ گئے تھے۔ بات کرتے کرتے یکایک کلیم نے کہا، ”یار میرے ابو کو سمجھاؤ۔ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں، اس اسٹوپڈ ملک میں؟ کیا ہے یہاں؟ اور کیا کروں گا میں یہاں؟ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا ہے۔ وہ خود تو امریکا چلنے کو تیار نہیں ہیں بلکہ الٹا مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں بھی پاکستان آ کر کراچی میں کام کروں۔ ارے یار! میں اس ملک میں کیا کام کروں گا؟ نہ کوئی قانون ہے نہ ہی کوئی نظام۔ میں کیسے سمجھاؤں ان کو؟ ان کی تو سمجھ میں ہی نہیں آتا ہے۔“

ان کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ وہ امریکا میں بور اور پریشان ہو جاتے تھے۔ ان کے لیے امریکا میں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں ان کی ایک دنیا تھی وہاں ان کا ایک لڑکا تھا۔ کلیم کے لیے پاکستان میں کچھ نہیں تھا۔ وہ افسردہ اور پریشان امریکا واپس چلا گیا اور وہ اپنے پرانے گھر میں اپنی یادوں کے ساتھ رہ گئے تھے۔

بیٹیاں باپ کے لیے پریشان رہتیں اور انہوں نے آپس میں ڈیوٹیاں لگا لی تھیں۔ ہر ہفتے وہ کسی نہ کسی کے گھر چلے جاتے، گھر پرایک نوکر کا بھی انتظام تھا اور زندگی ایک نئے ڈگر پر چل نکلی تھی۔ اس انداز پر وہ اگر خوش نہیں تھے تو ناخوش بھی نہیں تھے۔

پھر ایک روز گھر پر رات کو ڈاکو آ گئے، جو بھی کچھ قیمتی سامان تھا لے گئے، کلیم کے ابا کو مار مار کر بے ہوش کر دیا اور نوکر کی جان چلی گئی تھی۔ ایسا ہی ہو رہا تھا کراچی میں اس وقت۔ دوسرے دن ان کی چھوٹی بیٹی ان کے گھر آئی تو اس نے وہاں سے دوسرے رشتے داروں کو اور مجھے فون کر کے بلایا، انہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑ گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3