کیرم بورڈ


وہ اٹلانٹا میں اسٹون ماؤنٹین کے علاقے میں رہتا تھا۔ پورا اٹلانٹا گہرے سبز رنگ کے درختوں سے بھرا ہوا ہے اور اسٹون ماؤنٹین کا علاقہ بڑا شاندار، خوبصورت اور امیر لوگوں کا علاقہ ہے۔ پنچ اسٹریٹ کے اوپر ایک چھوٹی سی جھیل کے کنارے اس کا بڑا سا مکان تھا۔

گھر پہنچتے ہی اس نے مجھے پورے گھر کی سیر کرائی۔ بڑا سا خوبصورت سا لان، سوئمنگ پول، لان کے ساتھ گھوڑوں کو رکھنے کی جگہ، مکان کے نیچے ایک تہہ خانہ جس میں ورزش کرنے کا سامان اور اسٹور تھا۔ ایک بڑا ہال سا تھا اوپر، جس میں ایک بڑا سا ڈرائنگ روم، اس کے ساتھ ایک بڑا سا باورچی خانہ اور کچھ کمرے بنے ہوئے تھے۔ اس نے ڈرائینگ روم سے نکلتے ہوئے کہا کہ یہ میرا پاکستان ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔

پھر وہ مجھے ہر ایک کمرے میں لے گیا۔ ہر کمرے کی ڈیکوریشن مختلف تھی۔ پنجاب، بلوچستان، سندھ اور سرحد کے حوالے سے۔ وہاں کی دستکاری، وہاں کی تصویریں، وہا کے بنے ہوئے قالین اور وہاں کی موسیقی کے کیسٹ موجود تھے۔ ہر کمرے کو صوبے کے لحاظ سے سجایا بنایا گیا تھا۔ لگتا تھا کہ ان کمروں کی سجاوٹ بناوٹ میں بڑی محنت اور عرق ریزی کی گئی ہے اور ساتھ ہی بے تحاشا پیسے بھی خرچ کیے گئے ہیں۔ وطن سے دور، وطن کا ہر صوبہ اس نے اپنے گھر میں بنالیا تھا۔

”یہ سارے ہمارے مہمانوں کے لیے کمرے ہیں۔ تم کہاں سونا چاہو گے۔ چلو تمہیں کراچی میں سلاتا ہوں۔ یہ ذرا الگ سا کمرہ میں نے سندھی کمرے کے اندر بنایا ہوا ہے۔ یہ سندھ میں شامل بھی ہے اور سندھ سے الگ بھی ہے۔ سندھ میں شامل ہے کیوں کہ یہ سندھ کا علاقہ ہے اور الگ بھی ہے۔ یہاں پر مہاجر، سندھی، پنجابی، بلوچ، پٹھان، افغانی، ہندو، عیسائی، پارسی، چینی، یہودی، کچھی اپنے الگ وجود کے ساتھ رہتے ہیں۔ اب تو ہر طرح کے لوگ کراچی آ گئے ہیں۔ امریکا میں جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے ایک گھر میں پاکستان کے چاروں صوبے بغیر کسی جھگڑے کے ایک ساتھ خوشی خوشی رہ رہے تھے۔

اوپر کے حصے میں اس کے اور بچوں کے کمرے تھے، اوپر بھی پکانے اور کھانے کا علیحدہ انتظام تھا۔ بہت خوبصورت گھر تھا اس کا بڑی محنت کی تھی اس نے اور اس کی بیوی نے اس کو سجانے میں۔ امریکن مہمان گھر دیکھ کر ضرور مرعوب ہو جاتے ہوں گے۔

اس کے بچوں اور بیوی سے ملنے کے بعد ہم نے کھانا کھایا اور کافی پیتے پیتے اس نے یکایک مجھ سے کہا تھا، ”بہت مس کرتا ہوں پاکستان کو۔ لیکن دیکھو، آ نہیں سکا وہاں پر۔ ابا جان نے شرط ہی اتنی بڑی لگادی تھی۔ بڑا دل کرتا تھا میرا کہ میں ان کے پاس آخری وقت میں تو ہواؤں۔ مگر یار مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ ان سے کہہ سکتا کہ میں پاکستان نہیں آؤں گا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ پاکستان میں میرے لیے کچھ نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے بچے ہیں۔ ان کی تعلیم تو پاکستان میں ممکن ہی نہیں ہے۔ یار، کیا ہے، وہاں ہر چیز کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ خاص طور پر بچوں کا تو کوئی مستقبل نہیں ہے۔“

میں نے اس سے بحث نہیں کی، اس سے اختلاف نہیں کیا، اس کا فائدہ نہیں تھا مگر میں نے دل میں سوچا کہ پاکستان کا یہ آدمی جو وہاں ایماندار تھا، یہاں بے ایمان ہو گیا ہے۔ اس ملک میں جہاں زیادہ تر لوگ سچ ہی بولتے ہیں، یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میرا دل کہتا تھا کہ میں اس سے کہہ دوں کہ وہ پاکستان نہیں آئے تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، جو کچھ یہاں پر ملا ہے تمہیں شاید پاکستان میں نہیں ملتا مگر اتنی تو ہمت سے کام لو کہ صرف یہی بات کہو۔

کہو کہ تمہاری اقتصادی مجبوریاں ہیں، کہو کہ تم بے تحاشا ڈالر کے بغیر نہیں رہ سکتے ہو۔ زندگی کی یہ آسائشیں، یہ سڑک پر گھر، یہ بازار، یہ سہولتیں سب اچھی چیزیں ہیں۔ تم ان کے عادی ہو گئے ہو۔ نہیں رہ سکتے اس جگہ پر، مکھی مچھر کے درمیان، بغیر پانی بجلی کے گندگستان میں۔ بچوں کی تعلیم کا بہانہ تو نہ بناؤ۔ یہ عجیب بات ہے ہم لوگوں کی۔ پاکستان میں بھی ہر برا کام کرنے والا یہی کہتا ہے کہ وہ رشوت نہیں لینا چاہتا ہے۔

وہ بے ایمانی نہیں کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب تو کرنا پڑتا ہے، اپنے بچوں کے لیے۔ آخر ان کا کیا قصور ہے؟ ان کو اچھی زندگی چاہیے۔ کتنے جھوٹے ہیں لوگ پاکستان سے امریکا تک۔ لیکن اس سے میں یہ بات نہیں کہہ سکا۔ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ میں سنتا رہا پھر مجھے اس کے والد کے دیے ہوئے پیکٹ کا خیال آیا جس نے میرے سوٹ کیس کے تلے کو تقریباً مکمل طور پر گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ میں نے وہ پیکٹ اسے لا کر دے دیا۔

اس نے وہ پیکٹ میرے سامنے ہی کھول لیا۔ خاکی رنگ کے اس بڑے سے پیکٹ میں کچھ تصویریں تھیں اور ایک چھوٹا سا کیرم بورڈ اور ایک لفافے میں اس کیرم بورڈ کی چھوٹی چھوٹی گوٹیاں تھیں۔

”یہ دیا ہے تمہارے ابا نے تمہارے لیے۔ اسے بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا انہوں نے۔ اپنا مکان چھوڑتے ہوئے اور کچھ نہیں اٹھایا تھا گھر سے۔ انہیں گھر کے لٹ جانے کا شاید اتنا غم نہیں تھا جتنا اس کیرم بورڈ اور تمہارے کمرے کی چیزوں کے بچ جانے کی خوشی تھی۔ اس چھوٹے سے کیرم بورڈ کو سینے سے لگا کر رکھا تھا انہوں نے۔ ہر روز اسے چھوتے تھے جیسے تم کو چھو رہے ہیں، دھیرے سے ہنستے تھے، جیسے تمہیں ان گوٹیوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔ اپنی تینوں بیٹیوں سے پیار تھا انہیں، تم سے شدید محبت تھی۔ تم بیٹے تھے ان کے، اکلوتے بیٹے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ تم جب بہت چھوٹے تھے تو تم نے ایک دن ان سے جلدی آنے کو کہا تھا۔ گھر سے نکلتے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ان کے کالر کو پکڑ کر ان کے گالوں کو چوم کر اپنی تتلاتی ہوئی زبان میں۔ ان کو یاد تھا ایک ایک لفظ جو تم نے کہا تھا، ایک ایک حرکت جو تم نے کی تھی۔ ان کے ذہن کے پردے پر سلو اسپیڈ میں چلتی ہوئی کسی فلم کی طرح وہ پوری طرح محفوظ تھی اور اسی دن وہ نہیں آ سکے تھے اور تم انتظار کر کر کے پریشان ہوتے رہے تھے۔“

”تمہیں خوش کرنے کے لیے یہ چھوٹا سا کیرم بورڈ خریدا تھا انہوں نے تم اسے دیکھ کر خوش ہو گئے تھے اور نہ جانے کتنے دنوں تک تم اس سے کھیلتے رہے تھے۔ انہیں تو جیسے ایک ایک گیم یاد تھا۔ ایک ایک گوٹی کے ساتھ ایک کہانی تھی اور ایک ایک اسٹرائک کے ساتھ ایک قصہ تھا۔ یہ بالکل بچوں والی باتیں ہیں۔ صرف ایک قصہ ہے مگر انہوں نے مجھے سنایا تھا اور کہا تھا کہ تمہیں اسی طرح سے بتا دوں۔ انہوں نے تمہیں کھو دیا۔ تمہارا کیرم بورڈ تو ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ کیرم بورڈ تمہیں دے دوں تو پھر ایک بار خوش ہو جاؤ گے، ان کے امریکا نہ آنے سے تم شاید ناراض ہو گئے ہو۔“

کلیم ساکت اپنی ویران آنکھوں سے مجھے تک رہا تھا، اس نے کیرم بورڈ کو زور سے سینے سے لگا لیا جیسے کوئی اپنے بچوں کو سینے سے لگاتا ہے۔

…………O…………

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3