‘بهنبهور کے مسافر’ اور ‘تهر کے عاشق’ عبدالقادر منگی کی رحلت


پیشے کے لحاظ سے سرکاری بیوروکریٹ۔ ’پیشن‘ کے لحاظ سے ثقافت و تاریخ و تہذیب و تمدن، زبان و ادب کے شیدائی۔ اس سے وابستہ حقیقی خدمت گزاروں کے خدمتگار۔

ادبی شناخت کے لحاظ سے نثر نویس، نثری مرتب، مصنف، لوک کرداروں سے متعلق تحقیق کرنے والے محقق اور کالم نویس۔

مزاجاً: ایک درویش اور دانشور۔
عادتاً: دوست مزاج، دوست نواز، ملنسار اور ہر کسی کے کام آنے والے۔
نمایاں خدمات کے لحاظ سے ادب، اور ثقافت سمیت تمام فنون لطیفہ کے پروموٹر۔
نام محمد بچل عرف عبدالقادر منگی۔

ہفتہ 11 جون اور اتوار 12 جون کی درمیانی شب کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں آخری سانسیں لے کر ہم سے بچھڑے۔

گویا سندھ سے اس کے ایک عاشق نے رخصت لی۔

عبدالقادر منگی نے، 26 نومبر 1947 ء کو ، ضلع لاڑکانہ کے علم و ادب و سیاست کے حوالے سے زرخیز شہر ’رتودیرو‘ میں علی شیر منگی اور ان کی اہلیہ غلام فاطمہ کے گھر میں آنکھ کھولی۔ ان کا گھر کا نام محمد بچل جبکہ ریکارڈ کے مطابق ان کا نام عبدالقادر تھا۔ ان کے والد کی جائے پیدائش شکارپور ضلع، کے تعلقہ گڑھی یاسین کا ’مدیجی‘ نامی چھوٹا سا قصبہ تھی، مگر انہوں نے رتودیرو ہی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ وہ (منگی صاحب کے والد) پہلے تدریس کے شعبے سے استاد کی حیثیت سے وابستہ تھے۔

بعد ازاں وہ پٹواری کا امتحان کامیابی سے پاس کر کے محکمۂ ریونیو میں پٹواری بن گئے۔ ان کی ملازمت کا سلسلہ بھی لاڑکانے ضلع ہی میں رہا، اسی لیے انہوں نے اپنا دارالسکونت رتودیرو ہی کو رکھا، جہاں ان کے اس بیٹے عبدالقادر کی ولادت ہوئی۔ علی شیر خان 1959 ء میں محکمۂ ریونیو سے رٹائرڈ ہونے کے تین برس بعد 1962 ء میں چل بسے، جب عبدالقادر محض 15 برس کے تھے۔ والد کی وفات کے بعد لڑکپن میں ان کی پرورش ان کے ماموں دیدار حسین منگی نے کی اور ان کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کے تعلیمی مراحل کی تکمیل کے حوالے سے ان کا خیال رکھا۔

محمد بچل عرف عبدالقادر منگی، بچپن ہی سے ذہین طالب العلم ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم، گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 رتودیرو سے حاصل کرنے کے بعد 1965 ء میں گورنمنٹ ہائی سکول رتودیرو سے میٹرک کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کیا۔ جس کے بعد 1968 ء میں انٹر سائنس، گورنمنٹ کالج لاڑکانے سے پاس کرنے کے بعد ، پشاور میں قائم ’پاکستان فاریسٹ کالج‘ (جو بعد ازاں ’پاکستان فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ بنا) میں داخلہ لیا، جہاں سے 1970 ء میں جنگلات میں ڈپلوما/ بی۔ ایس۔ سی (فاریسٹری) کا امتحان پاس کر کے، سندھ آ کر ’رینج فاریسٹ افسر‘ مقرر ہوئے اور یوں ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا۔

مئی 1975 ء میں مقابلے کا امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے بعد ، صوبائی سول سروس میں شامل ہو کر اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ پیشہ ورانہ تربیت کی تکمیل کے بعد وہ کھپرو، گھارو، ٹنڈوالہیار اور سجاول میں ’اے۔ سی۔‘ (اسسٹنٹ کمشنر) / ’ایس ڈی ایم‘ رہے۔ ساڑھے 13 برس کے عرصے کے بعد 1988 ء میں 18 گریڈ میں ترقی پاکر لاڑکانے کے ’ایڈیشنل کمشنر‘ مقرر ہوئے، جہاں ساڑھے تین برس تک مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ منگی صاحب سندھ کی تاریخ و ثقافت و علم و ادب سے اپنی غیر معمولی رغبت اور محبت کی وجہ سے جس جس جگہ تعینات رہے، وہاں وہاں کے گرد و نواح میں واقع تاریخی آثار قدیمہ اور مشاہیر پر کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کراتے رہے۔

ٹھٹہ ضلع کے تعلقہ ’گھارو‘ میں 1983 ء میں اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے معروف آثار قدیمہ ’بھنبھور‘ اور ’دیبل‘ (بندرگاہ) پر ایک قومی سیمینار منعقد کرایا اور اس موقع پر پیش کیے گئے مقالہ جات کو سندھی میں ”بھنبھور اور دیبل“ کے نام سے کتابی صورت میں ترتیب دے کر شائع کرایا۔ اس کانفرنس میں ملک کے معتبر اسکالرز کے مابین یہ بات بھی صحتمند تحقیقی بحث کا موضوع رہی، کہ آیا ’دیبل‘ کی بندرگاہ (جہاں سے مبینہ طور پر عربوں نے سندھ پر غاصبانہ حملہ اور بعد میں قبضہ کیا تھا) یہی بھنبھور کا وہ مقام ہے؟ جو کراچی کے مشرق میں 65 کلومیٹر ( 40 میل) کے فاصلے پر ، سندھ اور بلوچستان کی معروف لوک رومانوی داستان ”سسی پنہوں“ سے منسوب وہ آثار قدیمہ ہیں، جو سمندر کی ’گھارو کریک‘ کے کنارے موجود ہیں؟ یا ’دیبل‘ کسی اور مقام/ بندرگاہ کا نام ہے، جو اس جگہ سے خواہ مخواہ منسوب ہو گیا ہے۔

اس کے بعد جب عبدالقادر صاحب حیدرآباد کے قریب ’ٹنڈوالہیار‘ میں اسسٹنٹ کمشنر مقرر ہوئے، تو وہاں بھی اسی طرز پر سندھ کے معروف عوامی کردار ”وتایو فقیر“ (جو اپنے حکمت سے بھرپور لطائف کی وجہ سے ہر عام و خاص میں بے حد مقبول ہیں ) کی شخصیت اور شگفتہ مزاجی میں پنہاں حکایات سے متعلق مزید پہلوؤں کی تلاش کی غرض سے ایک یادگار سیمینار منعقد کرایا (کیونکہ ’وتایو‘ نامی اس درویش کا مبینہ مرقد، ٹنڈوالہیار کے نواح میں ہے ) اس سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالہ جات کو یکجا کر کے بھی انہوں نے ایک جامع کتاب شائع کرائی۔

یہ دستاویز بھی ”بھنبھور اور دیبل“ (کتاب) کی طرح سندھ کی تاریخ اور ثقافت میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سندھ کے اس معروف خوش مزاج کردار ”وتایو فقیر“ پر منعقدہ اس سیمینار میں پڑھے گئے مقالہ جات کی اس ترتیب کے علاوہ بھی، منگی صاحب نے وتایو کی حکایات کو الگ سے اکٹھا کر کے کتاب کی صورت میں شائع کیا، جو اس گمنام لوک پسند/ عوامی کردار کے حوالے سے ان کا انتہائی قابل قدر اور قابل ستائش کام ہے۔

جنوری 1992 ء میں جب سابقہ ضلع تھرپارکر کو دو الگ الگ اضلاع، میرپور خاص اور ’تھر‘ میں تقسیم کر کے مٹھی (شہر) کو ضلع ’تھر‘ کا ہیڈ کوارٹر بنایا گیا، تو منگی صاحب اس نؤ قائم شدہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔ وہ صحرائے تھر جیسے پسماندہ علاقے اور ساکنین تھر کے دکھوں، مصائب و مسائل کا مکمل ادراک رکھتے تھے، لہاذا انہوں نے اس علاقے کے لوگوں کے درد کو اپنا درد سمجھ کر ، تھر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات کی دستیابی اور بہتر زندگی میسر کرنے کے لیے مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں، ابتدائی عملی اقدام کے طور پر کثیر روزہ ’تھر سیمینار‘ منعقد کروایا۔

جس میں سندھ کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر کے عالموں، ادیبوں اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی اہم سرکاری شخصیات کو مدعو کر کے ان کے سامنے نہ صرف تھر کے تاریخی، ثقافتی، تمدنی اور سماجی ماضی اور حال کے حالات کو سامنے رکھا گیا، بلکہ وہاں کے باشندوں کو درپیش مسائل کے ممکنہ حل کے حوالے سے تمام اکابرین کے مشورے بھی اکٹھے کیے گئے اور اس سیمینار کی سفارشات مرتب کی گئیں، جو منگی صاحب ہی کی کوششوں سے اس دور کی حکومت کو ارسال کی گئیں۔

دور حاضر کے تھر کو آج جو سہولیات میسر ہیں (جو کہ اب بھی بہت ناکافی ہیں ) ان میں سے بہت سی شاید، اسی ’تھر سیمینار‘ کی سفارشات کا ثمر آور نتیجہ ہوں۔ اس سیمینار کی روداد بھی کتابی شکل میں شایع ہوئی، جس میں اسکالرز کے تھر کی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے پڑھے گئے مقالہ جات بھی شامل ہیں۔ یہ ضخیم کتاب سندھی کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی شائع کی گئی۔ اسی برس تھر میں ’کالے سونے‘ (کوئلے ) کی دریافت بھی ہوئی۔ یوں کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا کہ جدید تھر کی بہتری اور ترقی کی بنیاد ڈالنے میں دیگر افراد اداروں کے ساتھ، عبدالقادر منگی کا بھی ایک مخلص عمل دار کے طور پر کلیدی کردار رہا۔

انہیں ساکنان تھر نے تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی اپنے محسن کے طور پر یاد رکھا ہوا ہے۔ وہ خود بھی تھر کے دیس کو اپنا ’دوسرا گھر‘ کہا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں ایک اہم سندھی کتاب بالخصوص تھر میں گزارے ہوئے تلخ شب و روز پر مشتمل ہے۔ جس کا عنوان انہوں نے رکھا: ”جے موں گھاریا تھر میں“ (ترجمہ: ’جو دن میں نے تھر میں بتائے‘ )

تھر کی تعمیر و ترقی میں ان کی بیش قدر خدمات کے عوض، انہیں 1994 ء میں ”سندھ گریجوایٹس ایسوسی ایشن“ (سگا) کی جانب سے اوارڈ برائے ”سروسز ٹو ڈاؤن ٹروڈن پیپل آف تھر“ (تھر کے دبے کچلے لوگوں کے لیے خدمات کا ایوارڈ) دیا گیا۔

تھر کے علاوہ عبدالقادر منگی، لاڑکانے اور خیرپور میں بھی ڈپٹی کمشنر رہے۔ اپنی ثقافت دوستی کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے، انہوں نے خیرپور میں اپنی عملداری کے ایام میں کثیر روزہ (غالباً ایک ہفتے پر مشتمل) ”جشن خیرپور“ کا اہتمام کیا، جس میں تحقیقی سیشنز، مشاعروں، مباحثوں، محافل موسیقی، تصویری و مصوری کی نمائشوں وغیرہ کے ذریعے سابقہ ریاست ہائے خیرپور کے شاندار شاہی، تاریخی و تہذیبی ماضی کو اجاگر کیا گیا۔

منگی صاحب 2001 ء میں حیدرآباد کے کمشنر بھی رہے۔ 1999 ء تا 2008 ء ملک میں جاری مارشل لا کے تحت لائے گئے نئے نظام کے تحت (جس میں تمام اضلاع کے ’ڈپٹی کمشنرز‘ کو ’ڈی۔ سی۔ اوز‘ کا درجہ دیا گیا تھا) عبدالقادر صاحب نوابشاہ اور سکھر کے ’ڈی۔ سی۔ او‘ رہے۔ ان کی آخری پوسٹنگ بطور صوبائی سیکریٹری، محکمۂ ثقافت و سیاحت و سماجی بہبود، حکومت سندھ تھی، جہاں سے انہوں نے 25 نومبر 2007 ء کو رٹائر کیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 2009 ء تا 2011 ء کانٹریکٹ بنیادوں پر ’گورکھ ہل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ کے ڈئرایکٹر جنرل رہے۔

عبدالقادر منگی نے 2008 ء میں اپنے چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر سندھی زبان کے سیٹلائیٹ ٹی وی چینل ’دھرتی نیوز‘ کی داگ بیل ڈالی، مگر پھر جلد ہی بوجوہ اس ادارے سے الگ ہو گئے۔ 2017 ء کے اواخر میں سندھی زبان میں ان کی خود نوشت شائع ہوئی، جس کا نام انہوں نے حضرت سچل سرمست کی سطر سے چنا، جو تھا: ”جوئی آہیاں، سوئی آہیاں۔“ (میں جو ہوں، سو ہوں! ) ۔ ان کی اس خود نوشت کو ادبی و ثقافتی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی۔

عبدالقادر منگی نے دو شادیاں کیں۔ ان کی پہلی شادی ’خورشید‘ نامی ان کی خالہ زاد سے ہوئی، جو مارچ 1991 ء میں اپنی جوانی میں ہی اس دار فانی سے رخصت ہوئیں۔ جن میں سے ان کو تین بچوں کی اولاد، بالترتیب، صفیہ قادر (پیدائش: 1971 ء) ، ذکیہ قادر ( 1972 ء) اور صاحبزادہ بنام انیس قادر ( 1976 ء) ہوئی۔ خورشید منگی کی وفات کے پانچ برس بعد 1996 ء میں، منگی صاحب خیرپور سے متعلق عزیز فاطمہ کھرل سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ جن سے ان کے دو بیٹے محمد اریس خان اور علی حمیص قادر ہوئے۔

اتوار، 12 جون 2022 ء کو عبدالقادر منگی کی وفات کی خبر سندھ کے علمی، ادبی و ثقافتی حلقوں کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث بنی، جو سب کو بے حد اداس کر گئی۔ عبدالقادر منگی کو اتوار ہی کے روز کلفٹن کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔ اور دھرتی کا بیٹا اسی سندھ دھرتی کی گود میں، ’سندھو ساگر‘ (بحیرۂ سندھ) کے پڑوس میں، ابدی نیند جا سویا۔ مگر میری طرح اس دھرتی سے متعلق اکثر لوگوں کو یقین ہے کہ یہ سرزمین اور اس پر مستقبل میں بسنے والے لوگ انہیں ان کی بے لوث ادبی و ثقافتی خدمات کی وجہ سے اتنی آسانی سے فراموش نہیں کر سکیں گے۔

ان کے مرقد کے کتبے پر بجا طور پر یہ قطعہ کندہ ہونا چاہیے :
تاریخ اور ثقافت کے عشق کا تحرک
اپنے ہنر میں یکتا، اپنی لگن میں صادق
بچھڑا تو ’ڈھٹ‘ ، ’دیبل‘ ، ہے سوگ میں ’وتایو‘
’بھنبھور کا مسافر‘ ، ’تھر کا عظیم عاشق‘

Facebook Comments HS