مجھ کو مہدی حسن مانو


ہمارے بچپن کا زمانہ تھا لگ بھگ، 1965 کی بات ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں ایوب خان کی حکمرانی تھی ہماری خالہ اور نانی ہماری امی سے ملنے کے لیے انڈیا سے پاکستان آئیں ستمبر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ان کا واپس جانا ناممکن ہو گیا جنگ ختم ہونے کے بعد ان دونوں کو واپس بھجوانے کے لیے کوشش شروع کی گئی اس دوران ہماری خالہ کا اک رشتہ آ گیا اور ان کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی گئیں اس زمانہ میں عام طور پر شادی کی تقریب گھر کے سامنے شامیانہ لگا کر منعقد کی جاتی تھی۔ نہ شادی ہال ہوا کرتے تھے نہ کیٹرنگ سروس اور ہمارے گھر کے تو دونوں جانب کھلے میدان تھے۔

اس تقریب کی تیاری کے دوران ہمارے والد صاحب کے دفتر سے ایک نوجوان چپراسی ہماری والدہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے بلایا گیا۔ ابھی شلوار قمیض عام لباس کے طور پر رائج نہیں ہوئی تھی۔ نچلے درجے کے سرکاری ملازمین انگریز کے زمانے کی سمارٹ یونیفارم زیب تن کرتے تھے۔ یہ چھریرے بدن کا نوجوان جس کا نام رشید تھا خاکی رنگ کے بش کوٹ جس کے نچلے حصے میں بڑی فلیپ والی جیبیں سینے پر دو نوں جانب چھوٹی فلیپ والی جیبیں، پورا بش کوٹ پیتل کے سنہرے بٹن سے آراستہ، خاکی پتلون اور سیاہ چمک دار جوتے زیب تن کی ہوئے شادی کی تقریب کے انتظامات میں مشغول ہو گیا ہماری والدہ کو رشید کا کام کرنے کا انداز اتنا پسند آیا کہ رشید میاں ہمارے گھر میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی تقریب کا لازم و ملزوم حصہ بن گئے۔ رفتہ رفتہ رشید میاں کی آمد و رفت بڑھتی چلی گئی اور وہ ہمارے خاندان میں ہی شامل سمجھے جانے لگے۔

رشید کی تعلیم تو واجبی سی تھی لیکن وہ ملکی و بین الاقوامی سیاست سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور رکھتے تھے۔ اس کو موسیقی سننے کا شوق بھی تھا اور کچھ نہ کچھ گلوکاری بھی کر لیتے تھے۔ اس کا انداز بیان فطری اور معصومیت سے بھرپور ہوا کرتا تھا۔ ملکی و بین الاقوامی واقعات اور سیاست پر بھی اس کی گفتگو اور تبصرے بڑے مختلف قسم کے ہوتے تھے اور اس میں مزاح کا پہلو ضرور نکل آتا تھا لیکن اس کو بالکل پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس کی بات مزاح سے بھرپور ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس کی بیشتر گفتگو لائٹ کامیڈی کے انداز میں ہوتی تھی۔

رشید کی ایک خوبی یا خامی یہ بھی تھی کہ وہ کسی شخص کا صحیح نام نہیں لے سکتا تھا اور ایسا وہ جان کر نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا یہ فطری انداز تھا۔ مثلاً ہمارے ایک کزن جن کو ہم ساجد بھائی کہتے تھے وہ ان کو ہمیشہ ”شاہ جی بھائی“ کہ کر ہی مخاطب کرتا تھا۔ یہ کوئی وہ ازراہ مذاق نہیں کرتا تھا بلکہ اس کے منہ سے ”ساجد بھائی“ کا لفظ نکلتا ہی نہیں تھا۔

ایک دن کا ذکر ہے کہ وہ ہمارے گھر لنگڑاتا ہوا آیا، میں نے کہا رشید! یار کیوں لنگڑا رہے ہو؟ کہنے لگا، کیا بتاؤں! بس میں آ رہا تھا کہ ایک ”ننگے تڑنگے“ آدمی نے میرے پیر پر پیر رکھ دیا، پہلے تو میں حیران ہوا پھر میری سمجھ میں آیا کہ یہ ”لمبے تڑنگے“ کو ”ننگے تڑنگے“ کہہ رہا ہے۔ وقت گزرتا گیا ہم رشید کی موشگافیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے اور 1979 ء کا سال آ گیا۔ 20 نومبر 1979 ء کی بات ہے ہجری کیلنڈر کے مطابق نہ صرف یہ سال کا پہلا دن تھا بلکہ چودھویں صدی ہجری کا بھی پہلا دن تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ انٹرنیٹ تھا نہ موبائل فون ہوتے تھے نہ ہی پرائیویٹ سیٹلائٹ چینل ہوا کرتے تھے۔ صبح دس بجے کے لگ بھگ ریڈیو پاکستان سے یہ خبر نشر ہوئی کہ خانہ کعبہ پر کسی نا معلوم گروہ نے قبضہ کر لیا ہے۔

لیکن اسی دن اور اسی صبح اسلام آباد کی سڑکوں پرایک دوسرا لائیو شو چل رہا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب اقتدار کے سنگھاسن پر فوجی آمر ضیاءالحق براجمان تھا اور اسی سال اپریل 1979 ء میں پاکستان کے جمہوری اور عوامی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا چکا تھا۔ خوشامدیوں کا ٹولہ جو ہر آمر کے گرد اپنا گھیرا تنگ رکھتا ہے نے اس فوجی آمر کو شہر کے اندر سفر کرنے کے لیے سائیکل استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا تا کہ وہ بھی سابق عوامی وزیراعظم کی طرح ”عوامی جنرل“ کی حیثیت سے پاکستانی عوام کو بے وقوف بنا سکے۔

پہلے کئی روز تک تو فوجی آمر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے دفتر جاتا رہا جو اس کی رہائش گاہ سے صرف 500 گز کے فاصلے پر تھا۔ اس عمل سے اس کا حوصلہ بڑھا اور اس نے سائیکل پر آرمی ہاؤس سے راولپنڈی شہر کے قلب میں واقع راجہ بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ اب جنرل کی حفاظت کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سیکورٹی اداروں کے کاندھوں پر آن پڑی۔ بے چارے ایک بہت بڑی تعداد میں سادے لباس میں جنرل کی سائیکل کے پیچھے اور چاروں طرف سائیکلوں پر سوار ہو کر ایک جلوس کی شکل میں چلتے رہے۔ سرکاری میڈیا بھی اس جلوس کا آنکھوں دیکھا حال نشر کرتا رہا، اس اثنا میں خانہ کعبہ پر مخالف گروہ کے قبضے کی خبر پورے پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پاکستانی عوام سخت غم و غصے کا شکار ہو گئے۔ لیکن فوجی آمر اس سنگین واقعہ سے بے خبر سائیکل پر سوار کشاں کشاں راجہ بازار کی طرف گامزن تھا۔

خانہ کعبہ پر قبضہ کی خبر سن کر اسلام آباد میں ایک بڑے ہجوم نے سفارتی انکلیو کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ مظاہرین کے اس ہجوم کے راستے میں فوارہ چوک بھی پڑتا تھا، جہاں سے سائیکل پر سوار جنرل ضیا ء الحق کے جلوس کو بھی گزرنا تھا اس لیے انتظامیہ نے مظاہرین کے جلوس کو تیزی سے فوارہ چوک سے گزارا موقع پر پہنچ کر مظاہرین امریکی سفارت خانہ کی عمارت کے اندر گھس گئے اور اس کو آگ لگادی۔ شہر کی حفاظت کے لیے موجود فوجی اور پولیس کے دستے چونکہ ”عوامی جنرل“ کی سائیکل سواری کے عظیم الشان مظاہرہ کے جلوس کی حفاظت پر مامور تھے اس لئے بروقت امریکی سفارت خانہ نہیں پہنچ سکے۔ جب شام کے چار بجے فوج اور پولیس کے دستے سفارت خانے پہنچے تو گزشتہ سات گھنٹوں سے آگ بھڑک رہی تھی۔ اس عمارت میں مقامی عملے سمیت 90 کے قریب افراد موجود تھے۔ ایک امریکن میرین دم گھٹنے کی وجہ سے فوت ہو گیا تھا، جبکہ باقی افراد، جو راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کو فوجیوں نے بچا لیا۔

دوسری طرف اسی صبح خانہ کعبہ میں فجر کے وقت ایک خونی ڈرامے کا آغاز ہو چکا تھا۔ انسانوں کا ایک گروہ جو بے ترتیب لباس میں ملبوس تھے اور ان کی داڑھیاں بھی بے ہنگم طریقے سے بڑھی ہوئی تھیں آٹھ دس جنازوں کے تابوت لیے اندر داخل ہوئے ان افراد نے ان تابوتوں کو زمین پر رکھا اور ان میں چھپے ہوئے اسلحہ کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ ہزاروں نمازیوں نے سراسیمگی کی حالت میں یہ دہشت ناک منظر دیکھا، ان وحشی قسم کے افراد نے فوراً ہی چاروں اطراف فائرنگ شروع کردی۔

صحن میں موجود پولیس کے جوانوں نے مزاحمت کی کوشش کی تو ان باغیوں نے گولیاں چلا کر پولیس والوں کو وہیں ڈھیر کر دیا۔ صحن میں ہر طرف انسانوں کا خون بہنے لگا، بہرحال 14 دن کی مسلسل جدوجہد کے بعد ان باغیوں کی مکمل سرکوبی کردی گئی اور خانہ کعبہ کو ان کے قبضے سے خالی کرا لیا۔ ان تمام واقعات کے گزرنے کے کوئی ایک ہفتے بعد رشید ہمارے گھر آیا اور میرے پاس آ کر کہنے لگا، ارے آپ کو پتہ چلا کہ خانہ کعبہ پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

میں نے کہا، ہاں رشید یہ تو پتہ چل گیا تھا لیکن یہ بتاؤ کہ باغیوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کیوں کیا تھا، ان کا مقصد کیا تھا؟ رشید نے فوراً جواب دیا کہ باغیوں کا سربراہ کہ رہا تھا کہ ”مجھ کو مہدی حسن مانو“ اس کا یہ جملہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے کہا، یار رشید! مہدی حسن تو پاکستان کے مشہور گلوکار ہیں۔ ان کا اس واقعہ سے کیا تعلق۔ کہنے لگا گانے والے مہدی حسن نہیں، وہ مہدی حسن جو قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے۔

میں نے کہا، اچھا! تو تم ”حضرت امام مہدی علیہ السلام“ کی بات کر رہے ہو۔ بولا جی جی وہ ہی، دراصل اس صبح خانہ کعبہ میں ہوا بھی یہی تھا، جب امام شیخ السبیل فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اجتماعی دعا مانگ رہے تھے، تو یہ باغی خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک شخص نے امام کعبہ کو دھکا دے کر ان سے مائیک چھین لیا اور نمازیوں سے مخاطب ہو کر با آواز بلند یہ کہا تھا کہ ”برادران اسلام، اللہ اکبر، مہدی کا ظہور ہو گیا ہے“ اور اس کے ساتھیوں نے اپنے ہاتھوں میں اسلحہ لہرا کر جوابی نعرے لگانے شروع کر دیے تھے کہ ”مہدی کا ظہور ہو گیا ہے“ لیکن رشید کی کہی ہوئی یہ بات کہ ”مجھ کو مہدی حسن مانو“ ہمارے لیے ایک ضرب مثل بن گئی۔ اور جب بھی ہمارا یا ہمارے دوستوں کا واسطہ کسی ایسے آدمی سے پڑتا جو بے انتہا خود پسندی کا شکار ہوتا، اپنے سامنے کسی کو نہیں گردانتا اور ہر وقت میں میں کرتا رہتا تو ہم آپس میں کہتے یار وہ تو ”مجھ کو مہدی حسن مانو“ ہے۔

ویسے تو 1979 ء سے لے کر اب تک ہمارا معاشرہ بے انتہا تنزلی کا شکار ہو گیا ہے اور پاکستانی معاشرے میں ہر دوسرا شخص ”مجھ کو مہدی حسن مانو“ بن چکا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے سابق حکمران جو اپنے تئیں مدینے کی ریاست تعمیر کر رہے تھے سرفہرست ہیں کہ ان کے فرمودات صرف میں میں پرہی مشتمل ہوتے تھے۔ میں یورپ کو سب سے اچھی طرح جانتا ہوں، ہندوستان کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا کیونکہ میں وہاں بہت دفعہ جا چکا ہوں، امریکہ میں تو مجھ پر مقدمہ چل چکا ہے اس لیے اس کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور اقتدار سے محرومی کے بعد الیکشن کمیشن غلط، فوج، عدلیہ سپریم کورٹ غلط، پی ڈی ایم غلط، میڈیا غلط، جیو نیوز غلط، سینئرز صحافی غلط، 174 ایم این اے غلط، پی ٹی آئی کے چند ایم این اے غلط، کروڑوں پاکستانی عوام غلط، سرکاری ملازمین غلط، شاہد آفریدی غلط، لاکھوں علما ء غلط، صرف اور صرف نیازی، اے آر وائی اور پی ٹی آئی کے ضمیر فروش لوٹے ٹھیک ہیں۔ ارے واہ۔ مطلب یہی کہ ”مجھ کو مہدی حسن مانو“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments