پیوما ( 2 )


پہلی بات جس نے مجھے بے لطف کیا وہ اعتراف کے جلو میں سنایا جانے والے لطیفہ تھا۔ کہنے لگی ”آج چونکہ سعدی کی برسی تھی۔ میں نے اسے Tribute (خراج تحسین) پیش کرنے کے لیے تمہیں دیوتاؤں کی طرح پیار کیا

It ’s not me، most of the times

(میں عام طور پر ایسا نہیں کرتی) ۔ جس طرح سعدی کے حوالے سے تمہیں اپنے بدن کی سیر کرائی ہے اور تم نے جتنی جلدی تھکاوٹ کا اظہار کیا۔ مجھے یہ سب کچھ نوٹ کر کے ایک جوک یاد آ گیا جو سعدی نے مجھے اور اپنے باس گھانگرو صاحب کو سنا کر دونوں طرف سے بہت خوشنودی حاصل کی تھی۔ مجھ سے بستر میں اور اپنے باس گھانگرو صاحب سے ایک بیرونی دورے کا فیور لینے کے معاملے میں۔

وہ جوک یہ تھا کہ ایک مادہ ژرافہ کی ایک دیسی بندر سے دوستی ہو گئی۔ بندر کو بہت شدید Foot۔ Fetish تھا۔ دیسی بندر کی پیروں سے یہ مخصوص نوعیت کی جنسی لگاوٹ بندریا کی حد تک تو قابل انتظام تھی مگر ایک ڈیٹ پر جب ژرافہ اور بندر اکٹھے ہوئے تو معاملہ میری جان، میرے بخاری سب پر بھاری، آج کی رات آپ والا تھا۔ کہاں وہ لب جنہیں دیکھ کر بندر کہا کرتا تھا کہ

سرخی اس دے بلاں دی
ایسی تیسی پھلاں دی

کہاں بندریا اور کہاں اس حرافہ ژرافہ کے پیر۔ سمجھ ہی نہ پایا کہ لبوں اور پیروں میں کس کو وہ قاتل کہے، کس کو مسیحا سمجھے۔ لبوں سے پیروں تک کا فاصلۂ بوس کنار طے کرتے کرتے غریب ہلکان ہی ہو کر رہ گیا۔

سعدی نے مجھے بتایا کہ گھانگرو نے یہ لطیفہ اسی رات مجرے کی ایک محفل میں سندھ کے وزراء صاحبان کی ایک ٹولی کو سنایا تھا۔ لطیفے میں البتہ پیروں کی جگہ کوئی اور مقام لطف و کرم شامل کر دیا گیا، ژرافہ کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور بندر کا تعلق لالو کھیت والے تین ہٹی پل سے ذرا ورے (ہندی میں قریب) کر دیا گیا۔ جس سے وہ لطیفہ محفل کی لسانی وابستگیوں کی روشنی میں زیادہ کٹیلا اور قہقہہ آور ہو گیا۔ شریک محفل ایک با اثر وزیر کے بارے میں نیب ذرا گرم تھی، گھانگرو نے انہیں بتایا کہ ان تحقیقات کے پس پردہ ان کی اپنی پارٹی کی کون سی ہستی ہے۔ وہ بھی بتایا اور ساتھ میں سی۔ ایم۔ صاحب سے ایک پٹرول پمپ کی منظوری کی عرضی بھی تھما دی۔ گھانگھرو صاحب پولیس کے بھلے براہ راست سیاسی بنیادوں پر بطور ڈی ایس پی بھرتی ہونے والے افسر تھے مگر ایس۔ پی بن جانے کے بعد اب ایک عرصے سے اپنے نام کے ساتھ پی۔ ایس۔ پی یعنی پولیس سروس آف پاکستان ضرور لکھتے تھے۔

اس صوبے میں پولیس کے افسران کی اکثریت کو چونکہ پٹرول پمپ لگانے کا ہڑکا (جنون) تھا۔ لہذا ان کے حاسد دوسرے پیشہ ورانہ گروپس کے انکم ٹیکس، کسٹم اور ڈی ایم جی والے ساتھیوں نے اس سروس کا نام ہی طنزاً پٹرولیم سروس آف پاکستان رکھ دیا تھا۔ سندھ کے تقریباً تمام بڑے پولیس افسران بشمول وہ بھی جو مقتدر حلقوں میں معتبر اور اہل ایمان سمجھے جاتے تھے ان کے بھی بیس تیس پٹرول پمپ کراچی تا کشمور نصب تھے۔

کچھ دیر پہلے نیند سے جب لوگ سب سے زیادہ سچ بولتے ہیں تو پیوما کی جانب سے ایک حواس باختہ اشارہ یہ ہوا کہ وہ کہنے لگی کہ سعدی میری بات مان کر میرے ساتھ امریکہ چلا جاتا تو ہماری اب تک اپنی فیملی ہوتی۔ میں تو ویسے ہی گرین کارڈ ہولڈر ہوں، وہاں ڈیڈ کلیان جی کا بھی اچھا خاصا بزنس ہے۔

میں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ کچھ لوگ اسے کبھی بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

You remember night we came to your place and Seemi was there. Boy I was completely blown by Sadi.Few men can love me like him. He knew all my circuits.

(تمہیں وہ رات یاد ہے جب ہم تمہارے گھر آئے تھے۔ سیمی بھی وہاں موجود تھی۔ سعدی نے مجھے اڑا کے رکھ دیا تھا۔ بہت کم مرد مجھے اس طرح پیار کر سکتے ہیں۔ اسے میرے سارے سرکٹس کا علم تھا۔ )

میں نے بہت آہستگی سے اس بات پر اسے چوکنا کیے بغیر کہ میں اندر سے مکمل طور پر بیدار ہوں یہ پوچھ لیا کہ کیا سعدی کی موت میں اس کی بیوی کا ہاتھ تھا۔ وہ دوسری طرف مڑ کر سگریٹ سلگاتے ہوئے کہنے لگی ”تحقیقات کا رخ اس کیس میں ابتدا میں اس کے سسرال کی جانب بھی تھا۔ حتی کہ اس کے بہنوئی جو انسداد منشیات کے ادارے کے افسر ہیں اور اس کے دور کے رشتہ دار بھی، ان کی مداخلت سے گھرانے کو ملوث کرنے سے رخ موڑ کر کیس بھی بند ہوا۔

میں ابھی اپنی سوچوں میں گم، سعدی کی موت کے بارے میں پیوما کے ان انکشافات کی گتھیاں سلجھا ہی رہا تھا کہ پیوما کے خراٹوں کی آواز آئی اور اس کی انگلیوں سے جلتا ہوا سگریٹ لے کر میں نے ایش ٹرے میں بجھا دیا۔ میں نے ایک گہری نگاہ پیوما پر ڈالی جو اس لیے اس پر جم کر رہ گئی کہ اس کے کاندھے سے چادر کھسک کے بہت نیچے تک ڈھلک گئی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ اسے اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میری کب آنکھ لگ گئی۔

سعدی اپنی موت سے ایک ماہ پہلے گھانگرو صاحب کے کسی مہرباں وڈیرے دوست کے فیز ٹو ڈیفنس میں مارکیٹ سے ذرا دور والے بنگلے میں شفٹ ہو گیا تھا۔ فیز ٹو ویسے بھی بہت اداس اور آدم بے زار علاقہ ہے، یہ محلہ تو ویسے بھی بہت پیچھے کی جانب واقع تھا۔ ایک عجب منحوس قسم کی سوگواری یہاں ہمہ وقت طاری رہتی تھی۔

گھر سے منتقلی کا سبب سعدی کی بیوی مہرین کی شدید ناراضگی بنی۔ سعدی کے پیوما سے تعلقات کے بارے میں اس پر کچھ بھیانک حقائق کا انکشاف ہوا تھا سی ویو پر واقع یہ گھر مہرین کو اس کے والدین نے جہیز میں دیا تھا۔ اس کا بھائی اور بہن بہنوئی بھی موقع کی نزاکت کو سامنے رکھ کر مردان سے کراچی آ گئے تھے۔ بہنوئی کی تو خیر پوسٹنگ بھی ادارۂ انسداد منشیات میں ہو گئی تھی۔ ان افراد کی موجودگی اور بھابھی مہرین کے اشتعال کو سامنے رکھ کر سعدی اپنے گھر سے منتقل ہو گیا۔

میں نے بڑی ضد کی کہ وہ میرے پاس آن کر رہے۔ یوں بھی اس کا کافی سامان میرے ہاں ایک الماری میں موجود رہتا ہے۔ میرے کمرے کے ساتھ والا کمرہ یوں بھی زیادہ تر اسی کے تصرف میں رہتا ہے۔ پیوما سے اس کی اکثر ملاقاتیں بھی خاکسار کے آستانے پر ہوتی ہیں۔ وہ نہ مانا۔ وہ بہت خود دار اور باوقار انسان تھا۔

اس کا عذر یہ تھا کہ اس کی سرکاری مصروفیت میں اپارٹمنٹ لائف میل نہیں کھاتی۔ اس کے اپنے گھر آنے جانے کے اوقات غیر متعین ہیں

پیشہ ورانہ تقاضوں کی روشنی میں اکثر ملاقاتی اس لائق نہیں ہوتے ہیں کہ انہیں گھر کا راستہ دکھایا جائے۔ مخبر، دہشت گرد، قاتل، بدکار عورتیں سبھی طرح کے لوگوں سے معلومات لینی ہوتی ہیں۔ میں چپ کر گیا۔

سعدی کی موت پر یہ تاثر عام ہوا کہ اس نے خود کشی کی تھی۔ اس کی لاش بنگلے میں اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹکتی ہوئی پائی گئی تھی۔ ایک پاؤں میز پر اور ایک نیچے لٹک رہا تھا۔ لاش کو پنکھے سے لٹکتے ہوئے بارہ گھنٹے سے زائد ہو گئے تھے۔ وہ تو اس کا پی۔ اے کوئی رپورٹ لے کر آیا تو یہ عقدہ کھلا کہ سعدی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ کچھ یہ معاملہ بھی مشکوک تھا۔ گھر پر زمیندار صاحب کے اپنے کک اور چوکیدار کے علاوہ کوئی اور فرد نہ رہتا تھا۔ چوکیدار ہفتے کی شام چھٹی پر گیا تھا۔ کک اس طرف کم ہی آتا تھا۔ میں اور ثمر اس بات کو کبھی بھی ماننے پر تیار نہ تھے کہ سعدی خودکشی کر سکتا ہے۔ جب اس کی موت واقع ہوئی تو محرم کا مہینہ تھا میں اور ثمر دونوں ہی براستہ ایران شام میں زیارت پر تھے۔ ہمیں واپسی پر اس کا علم ہوا تو بہت دکھ ہوا۔

مہرین بھابھی اور سعدی میں ابھی باقاعدہ طلاق نہیں ہوئی تھی مگر گیلانی (پیوما کے مبینہ میاں ) نے ان دونوں کی ازدواجی زندگی میں کچھ ایسی تلخیاں گھول دیں تھیں کہ میرے اور ثمر کے لاکھ سمجھانے پر بھابھی مہرین نہیں مانیں۔ ہم نے بہت اصرار کیا تو انہوں نے سعدی اور پیوما کے لمحات وصال کی بہت قابل اعتراض تصاویر سے بھرا لفافہ ہمارے سامنے ڈال دیا۔ میں نے اور ثمر نے یہ تصاویر لے لیں۔ یہ گیلانی کے بیڈ روم میں بنی ہوئی تھیں اور گیلانی نے انہیں مہرین بھابھی کو خود کورئیر کیا تھا۔ یہ تصاویر نہ ہوتیں تو شاید سعدی اور بھابھی صاحبہ کے تعلقات اتنے کشیدہ نہ ہوتے۔

مجھے اور ثمر کو دکھ ہوا کہ سعدی نے لمحات وحشت و وصال پیوما کے ساتھ بتانے کے لیے میرے اپنے بڑے سے پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ، ہوٹل یا اپنے کسی دوست کے ایسے ملاقاتوں کے لیے مخصوص آستانہ ہائے فیض و شہوت کی بجائے پیوما اور گیلانی کے بنگلے والے بیڈ روم کا انتخاب کیوں کیا۔

ثمر کا خیال تھا کہ اس میں مجھے سعدی سے زیادہ پیوما کی رضا اور منصوبہ بندی شامل لگتی ہے۔ وہ ہر قیمت پر گیلانی کو چھوڑ کر سعدی کو اپنانا چاہتی تھی۔ اس نے جب بھانپ لیا کہ سعدی شاید اس کے ساتھ خوشی خوشی امریکہ نہ جائے گا تو اس نے وہ حرکت کی جسے ٹینس کے کھیل کی اصطلاح میں forced error: کہتے ہیں یعنی کھیلنے کا وہ انداز جس کی وجہ سے مخالف غلطیاں کرنے پر مجبور ہو جائے۔ شاید یہ اس کے منصوبے میں شامل تھا کہ سعدی بھی انہی جبری اغلاط کا شکار ہو کر اتنا مجبور ہو جائے کہ اس کے لیے فرار کا راستہ معدوم ہو جائے اور وہ اس کے ساتھ امریکہ چلا جائے۔ اپنے بیڈ روم کی الماری اور درازوں میں ورنہ ایسے ناقابل تردید ثبوت سینت سینت کر رکھنے کے لیے بہت کم آئی۔ کیو درکار ہوتا ہے۔ جب کہ پیوما کی معاملہ فہمی اور دلیری تو مخالفین کی ناک میں گرم ریت بھر دیتی تھی۔ بیڈ روم سے ہی ملنے والی دستاویزات میں کسی۔ لیبارٹری سے تصدیق حمل کی ٹیسٹ رپورٹس اور ایک بڑے کلینک کی Obstetrics شعبہ کے بل کی رسید کی فوٹو کاپی بھی تھی۔ ان دونوں کی تاریخ سے شبہ ہوتا کہ اس کا تعلق اسقاط حمل کے معاملات سے ہو گا۔ ان دستاویزات پر مسز بینش سعد لکھا تھا۔ آپ کو تو یاد ہے نا کہ سعدی کا اصل نام سعد نجم الدین تھا۔

پیوما کی نیند سے کچھ دور، چھت کی طرف تکتے ہوئے مجھے سعدی کی موت سے پہلے کی کچھ گفتگو یاد آنے لگی۔ وہ ایک دن کہنے لگا کہ کبھی کبھی اسے پیوما سے خوف آتا ہے۔ میرے سوال پر کہ وہ کیوں؟ وہ تو اس پر جان نچھاور کرتی ہے۔ اب تو اس کے میاں گیلانی نے بھی اس بات سے سمجھوتہ کر لیا ہے کہ اس شادی میں دو مرد اور ایک عورت شامل ہیں۔ پھر خوف کیسا؟ وہ کہنے لگا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ازدواجی بندھنوں اور بڑی بلڈنگوں میں ایسا بارہا ہوتا ہے کہ لوگ ایک جگہ ضرور رہتے ہیں مگر یہ لازم نہیں کہ وہ رہتے بھی ایک ہی دنیا میں ہوں

کئی دفعہ ہم دونوں کی ملاقات میں جب وہ میری بانہوں میں سمٹی لباس اور وقت کی قید سے آزاد میری جانب ادھ کھلی آنکھوں اور کپکپاتے کرسٹین ڈی اور کے لپ اسٹک والے ہونٹوں سے ادھ موئی ہو کر اوں اوں کی آواز نکالتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ کوئی سچ ہے جو اس کے لبوں سے ادا نہیں ہو پا رہا۔ ایسا سچ جو وہ میرے بارے کہنے سے قاصر ہے۔ میں نے کئی دفعہ کریدا۔ بتاتی کچھ نہیں۔ ایک دفعہ تو روئی بھی بہت۔

پیوما سے میری اور سعدی کی ملاقات ایک دعوت میں ہوئی۔ پیوما کے شوہر شہود گیلانی کا تعارف ثمر جعفری یعنی میرے کزن نے مجھ سے اور سعدی سے کرایا تھا۔ گیلانی کی خاندانی جائیداد کا جھگڑا چل رہا تھا۔ سندھ حکومت کے ایک شہری ادارے میں اس جائیداد کی نقلی دستاویزات کی بنیاد پر گیلانی کے سوتیلے بھائی بہن اپنے نام کرانا چاہتے تھے۔ گیلانی کو اس کی سن گن ملی تو اس نے اپنے کسی رشتہ دار کے ذریعے جس کے ثمر سے گہرے کاروباری تعلقات تھے سعدی سے رابطہ کیا، اس کی مدد سے اس فائل کو آبزرویشن میں ڈلوا دیا۔ فائل پر ادارے کے ڈی۔ جی صاحب نے یہ شرط لگادی کہ جب تک کورٹ سے اس کی تقسیم کے واضح احکامات موصول نہ ہوں اس پر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ یہ فائل بھی انہوں نے ریکارڈ روم سے منگوا کر اپنی تحویل میں لے لی۔ گیلانی اس کرم نوازی پر سعدی کا بہت ممنون تھا۔

ایک شام سعدی جب اپنے گھر، محلے کی مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر واپس آ رہا تھا، میں نے یعنی حماد بخاری نے اسے راستے سے ہی اچک لیا۔ مجھے یقین ہے آپ پیوما کے چکر میں مجھ بندۂ حقیر حماد بخاری سب پر بھاری کو بھول گئے ہوں گے۔ ہم نجیب الطرفین سید ہیں اور ہمارا تعلق چنڈ بھروانہ کے مہاجر گھرانے سے ہے۔

میں سعدی کو اپنی کار میں بٹھا کر اپنے گھر لے آیا۔ اسفنج کی سفید چپل، سفید کرتہ شلوار اور ٹوپی پہنے سعدی میرے پاس ہی بیٹھا تھا کہ اس کے سیل فون پر شہود گیلانی کا فون آیا۔ اس نے سعدی کو اپنے گھر دعوت کے لیے لے کر آنے کے لیے اپنی کار بھیج دی تھی۔ سعدی اس دعوت میں شریک ہونے پر رضامند نہ تھا۔ اس نے اپنے لباس سے لے کر میرے کسی کام پر جانے کی طرح کے کئی بہانے گھڑے۔ گیلانی کی ضد تھی کہ دعوت اچانک ہوئی ہے، اب وہ ضرور آئے۔ بیرون شہر کے دو ایک دوست آئے ہوئے ہیں۔ گھر کی دعوت ہے۔ سب ہی لبرل جام لنڈھانے والے۔ شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز، جل جانے والے، خواتین اور مرد دوست شامل ہیں۔ کوئی فارمل ڈنر تو ہے نہیں کہ Appearance کا تکلف لازم ہو۔ سعدی نے ٹالنے کے لیے جب کہا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھا ہے تو گیلانی نے ضد کی کہ مجھے بھی ساتھ لے آئے۔

میں نے ہی سعدی کو اشارے سے کہا ”اس سے پوچھو آیت اللہ فقہیہ ولایت، مرجع خلائق، پوچھ رہے ہیں دعوت میں شراب ملے گی؟“ تو گیلانی کہنے لگا کریٹس کے حساب سے اور ہر طرح کی۔ وہ انکار نہ کرے۔ اس نے پیوما سے بڑی مشکل سے اس دعوت میں سعدی کو بلانے کی اجازت لی ہے۔

ابھی ہم ٹھیک سے فیصلہ بھی نہ کرپائے تھے کہ بلڈنگ کی لابی سے چوکیدار کا انٹر کام بجا کہ ہمارے لیے کوئی کار آئی ہوئی ہے۔ چارہ نہ تھا سو ہم چل پڑے۔ سعدی کہہ رہا تھا کہ آیت اللہ آپ نے بلا وجہ دارو کی پخ لگا کر دعوت قبول کرلی۔ سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد میرا ارادہ تھا کہ آپ کے ساتھ کھانا کھا کر گھر جاکر سو جاؤں گا۔ میرے ماموں کہتے تھے کہ سونے جیسا سکھ کوئی نہیں اور رونے جیسا کوئی دکھ نہیں۔

لالہ زار میں ایک بڑا سا بنگلہ تھا۔ ڈرائینگ روم میں سات خواتین اور تین مرد۔ ایک دوسرے پر اوندھے پڑنے کے لیے بے تاب۔ مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے سعدی نے اتنا ضرور کیا کہ ٹوپی سر سے اتار کر خالی جیب میں رکھ لی۔

کونے میں ایک میز پر شراب، برف، گلاس، سوڈے کا اہتمام کر کے ایک عارضی مے کدہ کھول دیا گیا تھا۔

مہمانوں میں شامل دو خواتین کسی میڈیا گروپ کی تھیں۔ تین عدد مہمان خواتین پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئی تھیں، وہ اسی کمپنی میں ملازم تھیں جن میں گیلانی کسی بڑے عہدے پر تھا۔ مرد گیلانی کے پرانے دوست تھے۔ آسودہ حال، عیاش اور خرانٹ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 93 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments