نیلو


میرے والد مولوی خلیل اللہ خان نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ بھرپور جوانی میں رنڈوے ہو جائیں گے۔ لوگوں نے ان کو بہت مشورے دئیے کہ وہ دوسرا نکاح کرلیں لیکن وہ نہیں مانے۔ جب بھی کوئی ہمدرد ان کی شادی کی بات اٹھاتا والد صاحب اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیتے کہ میں اپنے معصوم ابراہیم خلیل اللہ کو سوتیلی ماں کے پنجوں میں نہیں دوں گا۔ انہوں نے مجھے ماں اور باپ بن کر پالا۔ مجھے گھر میں بھی بھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہوئی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ماں کی وفات کے وقت میں صرف تین سال کا تھا مجھے تو اس کی صورت ہی یاد نہیں تھی۔ دوسری یہ کہ کبھی ابا نے اسے میرے سامنے یاد ہی نہیں کیا وہ تو مجھے صرف قران شریف یاد کراتے رہتے تھے۔ تیسری یہ کہ گھر میں اس کی کوئی تصویر ہی نہیں تھی۔ اس زمانے میں ایک تو لوگ تصویریں بنواتے بھی کم تھے دوسرے وہ ایک مولوی کی گھر والی تھی اس لئے اس کی تصویر ہونے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ چوتھی اور سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مدرسے میں پڑھنے والے سارے بچے اپنی ماﺅں کے مظالم کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے رہتے تھے کہ کس طرح مائیں نہیں کھیلنے سے منع کرتی ہیں، نہلاتے وقت ان کے جسموں پر صابن رگڑتی ہیں زبردستی دودھ کا گلاس پینے پر مجبور کرتی ہیں۔ کپڑے خراب ہو جانے پر انہیں کان کے نیچے تھپڑ لگاتی ہیں۔ بچوں کی ایسی درد بھری باتیں سن کر میں خدا کا شکر ادا کرتا کہ میرے گھر میں ماں نہیں ہے۔ میرے گھر میں تو مولوی خلیل اللہ جیسا شریف باپ اور اکبر شاہ جیسا مجذوب ماموں تھا۔ اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو اکبر شاہ میرا ماما نہیں، ماں تھا۔ میرا خیال رکھنے کے علاوہ اس کے ذمے کئی کام تھے جیسے ابا کی دو بکریاں چرانا۔ سارے کپڑے دھونا۔ شام کو دو تین گھروں میں جا کے وظیفے اکٹھے کرنا۔ رات کو سوتے وقت مجھے پیغمبروں اور اصحاب رسول کی کہانیاں سنانا۔ مسجد کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا اور پانچ وقت اذان دینا۔

اذان اس کے دن کا پسندیدہ ترین کام ہی نہیں بلکہ زندگی کا مقصد تھا۔ اگر گاﺅں کا کوئی بزرگ اس سے پہلے چبوترے پر چڑھ کے اذان دے دیتا توماما اکبر اسے دل ہی دل میں اپنا ذاتی دشمن سمجھنے لگتا تھا لیکن اس سے عمر میں چھوٹا کوئی نمازی اذان دینے کی غلطی کر بیٹھتا توماما دوسرے اللہ اکبر سے پہلے ہی اس بے چارے کو چبوترے سے دھکا دے کر گراتا اور اپنے خود ساختہ مصری لحن میں اذان دینے لگتا۔ خدا گواہ ہے نہ اس کی آواز اچھی تھی اور نہ ہی لحن مصری۔ بلکہ اس کا توکوئی لحن تھا ہی نہیں وہ دن میں پانچ اذانیں دیتا اور پانچوں ایک دوسرے سے مختلف ہوتیں۔ سچ پوچھیں تو وہ ایسی اذان دیتا تھا جیسے گاﺅں والوں کو دھمکیاں دے رہا ہو۔ کئی بارحی علی الصلوۃ کہنے کے بعد باآواز بلند ”نمازکی طرف آتے ہو یا میں آﺅں ؟“ بھی کہہ دیا کرتا تھا۔ وہ جب اپنی مہیب آواز میں اذان بلند کرتا تو مسجد کے پڑوس میں ایک افغانی کے گھر کا کتا ڈر کر بھونکنے لگتا ایک دن تو غضب ہی ہو گیا کتے کو بھونکتا سن کر ماما اذان ادھوری چھوڑ چبوترے سے اترا اور ڈنڈا لے کر افغانی کے گھر میں گھس گیا جہاں سے نہ صرف کتے بلکہ عورتوں کے ساتھ ساتھ ماما کے چیخنے کی آوازیں بھی آنے لگیں۔ دراصل ان عورتوں نے کتے کو پٹتے دیکھ کر ماما کو بھی پیٹ ڈالا۔ کسی نہ کسی طرح سے وہ وہاں سے جان بچا کر نکلا اور چبوترے پر چڑھ کے وہیں سے اذان کو جوڑا جہاں سے توڑ کر دشمن کے پیچھے گیا تھا۔ اس کے بعد تو اس کتے اور ماما میں اینٹ کتے کا بیر ہو گیا۔ وہ دن رات اسے زہر دینے کے منصوبے بناتا رہتا لیکن کبھی عمل نہ کر سکا۔ وہ جب بھی عمل کرنے کی ہمت کرتا اسے افغانی عورتوں کی پٹائی یاد آجاتی اوروہ کوئی بہانہ کر کے منصوبہ ترک کر دیتا۔

” ماما اگر تم سے نہیں ہوتا تو مجھے گوشت پر زہر لگا کے دو، میں اندر جا کے کھلا آتا ہوں کتے کو“ ایک دن اسے کتے کی بھونکوں پر کڑھتا دیکھ کر میں نے مشورہ دیا

”زہر سے مرتا تو میں کب کا اسے مار چکا ہوتا۔ یہ کتا نہیں شیطان ہے۔ یہ میرے زہر سے نہیں اللہ کے قہر سے مرے گا۔ اس پر میرا اللہ ہی ہاتھ ڈالے گا۔ جس کی اذان ہے وہی چپ کرائے گا اس شیطان کو“

ماما نے بات پوری کر کے دعا کے لئے نہ صرف اپنے ہاتھ اٹھائے بلکہ مجھے بھی اشارہ کیا اور میں بھی اس کے ساتھ دعا میں شریک ہو گیا ۔

” یا اللہ پاک تیری اذان کے تحفظ اور ناموس کی خاطر تیرے اس کمزور اکبر شاہ نے عورتوں اور کتوں سے جہاد فی سبیل للہ کر کے اپنی ذمے داری پوری کی ہے اب تیری باری ہے۔ اس کتے کو یا تو ہدایت دے یا پھرجہنم کا راستہ دکھا۔ تیرے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ تو نے فرعون کے لئے بھی تو ابابیلوں کا لشکر بھیجا تھا۔ اس لشکر میں سے کوئی ابابیل زندہ ہو تو اسے وقت کے اس فرعون پر بھیج کر اپنا دین بچا۔ شیر عالم افغانی کا کتا۔ رنگ سیاہ۔ گاﺅں منگراٹ۔ نزد سپن مسجد۔ تحصیل اور ضلع کچلاغ۔ “

خدا کو کتے کے گھر کا پورا پتہ سمجھانے کے بعد ماما اذان دینے نکل کھڑا ہوا اور میں سوچتا رہ گیا کہ کہ خدا نے کس فرعون پر ابابیل بھیجے تھے۔ یہ تو جب کچھ شعور آیا تب معلوم ہوا کہ ماما کو بس کہانی ڈالنا ہوتی تھی نام مقام اور زمان اس کا سر درد نہیں تھا۔ وہ موسیٰ کی کہانی میں عیسیٰ کے معجزے بیان کر دیتا تو کبھی حضرت ابراہیم کو فرعون کے دربار میں لے آتا۔ اس کے حساب سے تو حضرت عیسیٰ کو سولی ابولہب کے حکم سے دی گئی تھی۔ جب میں نے ناظرہ قران شریف ختم کر لیا تو ابا نے اس خوشی میں مجھے دس روپے کا ایک نوٹ دیا۔ زندگی میں پہلی بار دس کا نوٹ میرے ہاتھوں میں آیا تھا اس لئے میں اسے جی بھر کے دیکھنے کے بعد خرچ کرنا چاہتا تھا۔ میں ایک پتھر پر بیٹھا نوٹ کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کر ہی رہا تھا کہ بکریوں کو گھر واپس لاتے ماما نے مجھے دیکھ لیا

یہ کہاں سے آیا ہے ابراہیم خلیل اللہ ؟ ماما نے ہمیشہ کی طرح میرا پورا نام لے کر مجھ سے پوچھا

”ناظرہ ختم کرنے کے انعام میں ابا نے دیا ہے۔ پورے دس روپے‘ ‘ میں نے سینہ تان کر جواب دیا

ماما یہ سن کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ اس نے نوٹ میرے ہاتھ سے لیا اور وہ بھی اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔

”پتہ ہے یہ کہاں کا فوٹو ہے“ نوٹ کی پشت پر چھپے باب خیبر کی تصویر دکھاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے نفی میں سر ہلایا

” ارے بے وقوف یہ پشاور میں خیبر کا قلعہ ہے۔ اب تمہیں کیا معلوم خیبر کی کہانی کیا ہے۔ تو پھر سنو۔ آج سے چودہ سو سال پہلے کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ مکہ سے مدینہ جا رہا تھا۔ جسے یہودیوں نے لوٹ لیا۔ پھر ان کو خیال آیا جب مدینے میں بیٹھے رسول اللہ اور ان کے اصحاب مجاہدوں کو اس کارستانی کا علم ہو گا تو ضرور ہمارے پیچھے آئیں گے اس لئے انہوں نے لوٹ کا ساراسامان ڈالے میں ڈالا اور وہاں سے فرار ہو گئے “

اس زمانے میں ڈالے کہاں سے آگئے ماما؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا

”او یار گھوڑوں کو عربی میں ڈالا کہتے ہیں۔ پہلے پوری بات سنو پھر سوال کرنا “ماما نے مجھے ڈانٹا اور آگے کا قصہ سنانے لگا

”سارے یہودیوں نے راستے میں فیصلہ کیا کہ کسی ایسے ملک جاتے ہیں جہاں وہ مسلمانوں کے ہاتھ نہ آسکیں۔ ایک نے مشورہ دیا کہ چین چلتے ہیں۔ لیکن دوسرے نے کہا کہ نہیں چینی تو کتے تک کھا جاتے ہیں ہمیں بھی کھا جائیں گے۔ اس لئے چین جانے کا خیال دل سے نکالو۔ کسی نے کہا ایران کی طرف بھاگتے ہیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ وہاں تو خمینی کی حکومت ہے اس نے شاہ ایران کو نہیں چھوڑا ہمیں اپنے ملک میں کیسے چھوڑے گا۔ ایک بڈھے لیکن چالاک یہودی نے کہا ارے خر دماغو پاکستان جاﺅ وہاں راجہ داہر کی حکومت ہے وہ کچھ نہیں کہے گا۔ بس ابراہیم خلیل اللہ یہ سارے یہودی محمد بن قاسم کی قیادت میں پاکستان جانے والی سڑک پر آگئے۔ ادھر جب حضور پاک کو خبر ملی کہ مسلمانوں کو لوٹ لیا گیا ہے تو انہوں نے اپنی تلوار حضرت علی کو دیتے ہوئے فرمایا جاﺅ علی ان یہودیوں سے بدلہ لو۔ حضرت علی نے نکالا گھوڑا اور اسے ڈال دیا پاکستان کے رستے پر۔ منزلوں پہ منزلیں مارنے کے بعد ان حرامیوں کو پشاور میں اسی نوٹ پر چھپے درہ خیبر کے نزدیک آ کے پکڑ لیا۔ حضرت علی کو دیکھتے ہی سارے یہودی ان کے قدموں میں گر گئے اور سارا لوٹا ہوا مال ان کو واپس کر کے معافی مانگنے لگے۔ حضرت علی نے فرمایا ایک شرط پر معافی ملے گی۔ وہ یہ کہ آج کے بعد تم سب عرب کی پاک زمین پر قدم نہیں رکھو گے۔ بولو منظور ہے یا نکالوں تلوار ؟ یہودیوں نے کہا بالکل منظور ہے۔ بس بھانجے حسن حسین کے بابا اور میرے جدامجد نے خیبر کا یہ قلعہ فتح کیا اور مال لے کر عرب کا راستہ پکڑا اور یہودی یہیں رہ گئے۔ سارے پٹھان انہی یہودیوں کی نسل ہیں۔ یہ تو میرے بڑوں کی محنت ہے جس نے بعد میں ان کو مسلمان کیا۔ حکومت پاکستان کو جب معلوم ہوا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت علی نے قدم رکھا تھا تو اس پر یہ یادگار بھی بنائی اور اسے دس کے نوٹ پر بھی اس لئے چھاپا کہ کوئی مسلمان اسے خرچ نہ کرے بلکہ آنکھوں سے لگائے چومے اور تعویز بنا کر گردن میں لٹکا لے “

یہ کہہ کرماما نے نوٹ کو اپنی آنکھوں سے لگایا چوما اور اپنی جیب میں ڈال کر وہاں سے چل دیا اور میں اسی پتھر پر بیٹھا سوچتا رہ گیا کہ کیا واقعی میں یہودیوں کی اس نسل سے ہوں جسے ماما اکبر شاہ کے بڑوں نے مسلمان کیا تھا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ ابا سے اس قصے کا ذکر کروں لیکن نہ کرسکا کیوں کہ وہ اب زیادہ تر خاموش رہنے لگے تھے۔ ان کا سارا دن مسجد میں گزرتا تھا جہاں صبح سے ظہر تک گاﺅں کی لڑکیوں کو قران پڑھاتے اور ظہر کے بعد ہم لڑکوں کی باری ہوتی۔ میرے اور ان کے درمیان باپ بیٹے سے زیادہ استاد شاگرد کا تعلق تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ان کی طرح صرف پانچ نمازیں پڑھانے والا مولوی نہیں بلکہ مفتی بنوں۔ انہوں نے میرے کان میں شروع سے ہی یہ بات ڈال رکھی تھی کہ جونہی میری عمر ہو گی وہ مجھے کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم میں بھیج دیں گے۔ مجھے جب بھی ان کی یہ بات یاد آتی تو میں اداس ہو جاتا۔ میں ماما اور اپنا گاﺅں چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں چلا گیا تو ماما کی کہانیوں سے محروم ہو جاﺅں گا۔ میں کبھی کبھار ماما سے اپنے اس خدشے کا اظہار کرتا تووہ مجھے کوئی تسلی دینے کی بجائے عالم اور مفتی بننے کے فائدے گنوانا شروع کر دیتا

” او ابراہیم خلیل اللہ تمہیں نہیں معلوم مفتی میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ ایک اکیلے مفتی محمود نے بھٹو جیسے بادشاہ کو تخت سے اتار کر تختے تک پہنچا دیا تھا “

اب اس کم عمری میں مجھے کیا معلوم کہ بھٹو کون تھا اورمفتی محمود کون۔ ماما میرے چہرے پر پھیلی کم علمی کو اپنے علم سے منور کرتے کے لئے بھٹو کی کہانی سنانا شروع کر دیتا

” بھٹو سندھ کا بادشاہ تھا جس کی شاہی کراچی سے لے کر ہمارے تخت سلیمان تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایک دن اس نے نشے میں سب کے سامنے کہہ دیا کہ ہاں ہاں شراب پیتا ہوں، غریبوں کا خون نہیں پیتا۔ جب یہ بات اپنے خیمے میں ٹوپیاں سیتے صوبہ سرحد کے سب سے اعلی وزیر مفتی محمود کے کانوں تک پہنچی تو اس نے اپنی چادر کندھے پر ڈالی اور گھر والی کو آواز دے کر کہا او فضل الرحمن کی اماں میں ذرا بھٹو کو تخت سے اتار کے آتا ہوں میرے سوئی دھاگے کا خیال رکھنا۔ مفتی محمود بہت بڑا اللہ والا اور عالم تھا۔ سارا دن فتوے دیتا تھا اور رات کو ٹوپیاں سی کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ تو بس میری جان وہ سیدھا دارالخلافے پہنچا اور بھٹو سے کہا یا تو شراب چھوڑ دو یا پھر تخت چھوڑ دو۔ اس نے ضد کی کہ دونوں نہیں چھوڑوں گا۔ مفتی صاحب نے اپنی فوج کے سپہ سالاراور صلیبی جنگوں کی مجاہد صلاح الدین ایوبی کو اشارہ کیا جس نے بھٹوکو شراب پینے کے جرم میں لٹکا دیا۔ اس قصے سے خود اندازہ لگا لو کہ ایک مفتی کی کتنی طاقت ہوتی ہے۔ اب تمہاری مرضی کراچی جا کے مفتی محمود بننا ہے یا ادھر گاﺅں میں خوار ہونا ہے “

ماما کی یہی الٹی سیدھی کہانیاں سن کر میں بڑا ہو رہا تھا۔ اب میں اپنا دماغ استعمال کرنے اور کہانیوں کی صحت پر سوال اٹھانے لگا تھا۔ ماما کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ اب اس کا واحد سامع اس کی باتوں پر شک کرنے لگا ہے تو اس نے بھی کہانیاں سنانا کم کر دی تھیں۔ اسی دوران میں نے محسوس کیا کہ ابا ہفتے میں کم ازکم تین چار بار عشاء کی نماز کے بعد اپنی سائیکل لے کے گھر سے نکل جاتے ہیں اور تہجد کے وقت واپس آتے ہیں۔ مجھ میں ابا سے سوال کرنے کی ہمت نہیں تھی اس لئے میں نے ماما سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ابا کسی دوسرے گاﺅں کی مسجد میں درس دینے جاتے ہیں۔ میں نے دماغ لڑایا کہ ابا تو ایک عام سے مولوی ہیں ان کا کام صرف نمازیں پڑھانا ہے نہ کہ علماءکی طرح درس دینا اور مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ ماما مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے۔ میں نے اسے اس کی مری بہن اور اپنی ماں کی قسم دے کر پوچھا کہ سچ سچ بتاﺅ ماما ابا راتوں کو کہاں جاتے ہیں ؟

”ابھی تم چھوٹے ہو اس طرح کے سوال مت کیا کرو۔ جب بڑے ہو جاﺅ گے تو خود ہی سمجھ جاﺅ اپنے باپ کو بھی اور اس کی مجبوری کو بھی “

ماما نے شوربے میں ڈوبے آلوکو روٹی کے نوالے کے ساتھ کچلتے ہوئے جواب دیا۔

کون سی مجبوری ؟ میں مشکوک انداز میں پھر سوال کیا۔ لیکن ماما نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ وہ آلو کو کچلنے میں لگا رہا۔

”یا تو آج کل آلو سخت آ رہے ہیں یا پھر یہ قادر خان کے گھر والی سست ہو گئی ہے۔ پچھلے ہفتے بھی کچا سالن دیا تھا کم بخت نے۔ گاﺅں والوں کو لگتا ہے مولوی تو جیسے انسان نہیں، جن ہیں۔ کچے آلو بھی کھا جائیں گے اس لئے ان کو وظیفے کے سالن میں لکڑ پتھر اور روٹیوں کے نام پر چمڑہ بھی دے دو تو کوئی بات نہیں۔ یہ دیکھو فوجی بوٹ سے بھی سخت روٹی ہے۔ تم ہی بتاﺅ بھانجے یہ چمڑہ کون چبائے؟“

” باتوں کو ادھر ادھر مت گھماﺅ۔ ابا کہاں جاتے ہیں رات کو؟“میں نے ماما کو آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا

”اپنی دوسری بیوی کے پاس“ ماما نے آنکھیں چراتے ہوئے جواب دیا

اس انکشاف پر مجھے ایسی چپ نے گھیر لیا جس کے سامنے ابا کی خاموشی بھی بے معنی لگنے لگی۔ میری نظریں پلیٹ میں کچلے آلو اور اپنی کچلی روح کے درمیان ایک عجیب سا تعلق بنانے لگیں۔ ماما نے اس خاموشی میں اپنی بات جاری رکھی

”بابا آدم بھی اکیلا رہنے سے تنگ آ گیا تھا اس نے بھی کہا تھا "یا خدائے پاکا میرے ساتھ گپ شپ لگانے کے لئے کوئی ساتھی عطا کر۔ تو پھر اللہ نے ہماری تمہاری ماں اماں حوا کو بنایا۔ اللہ پاک نے دنیا جوڑوں کے لئے بنائی ہے۔ اکیلی ذات خدا کی اچھی ہے۔ بندہ زیادہ دیر تک اکیلا رہے تو شیطان بن جاتا ہے۔ گناہ کرنے لگتا ہے۔ گناہ کرنے سے افضل ہے کہ مسلمان نکاح کر لے۔ اللہ بخشے میری بہن کو وہ تو مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئی۔ تمہارا باپ تو مٹی نہیں ہوا ناں۔ اس کا بھی دل کرتا ہو گا کہ کسی کے ساتھ ویسی گپ شپ لگائے جو بابا آدم نے اماں حوا سے لگائی تھی۔ اب سنو شیطان حرام کے تخم نے اماں جی کو کون سی پٹی پڑھائی تھی۔ ہوا کچھ ایسے کہ۔۔ “

”کس کے ساتھ اور کب کی ہے اور تمہیں کس نے بتایا ہے؟“ میں نے ماما کی بات کو کاٹتے ہوئے پوچھا

”اتنی معلومات تو نہیں ہیں۔ لیکن میرا تجربہ بتاتا ہے کہ جب مرد رات کو گھر میں نہ رہے تو سمجھ لو اس کی زندگی میں کوئی عورت ہے۔ مجھے یقین ہے وقت آنے پر تمہارا باپ خود ہی تم سے بات کر ے گا۔ وہ کچھ سوچ کے ہی نہیں بتا رہا ہو گا۔ اس لئے تم تھوڑاصبر کرو۔ خبردار اگر تم نے باپ کو آنکھیں دکھائیں یا اس سے کوئی سوال جواب کیا تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ تمہاری ماں مولوی جی سے بہت پیار کرتی تھی۔ اگر تم نے باپ کو آنکھیں دکھائیں تومیری بہن کی روح کوبھی بہت تکلیف ہوگی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تمہارے کراچی جانے کے بعد ہی اس کو اس گھر میں لائے گا تاکہ تم سوتیلی ماں کے ظلم سے بچ سکو “

ماما کے اس انکشاف کے بعد ابا تو جیسے میری نظروں سے گر ہی گئے۔ لیکن میں نے کبھی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میں ان کی دوسری بیوی کے بارے میں جانتا ہوں۔ اسی دوران کراچی سے ان کے اس واقف دارکا خط آیا جس کے ذمے انہوں نے دارالعلوم میں میرے داخلے کا کام لگا رکھا تھا۔ اور میں اپنی ساری کہانیاں گاﺅں میں چھوڑ کر دارالعلوم میں آ گیا۔ مجھے بس میں بٹھاتے ہوئے ابا کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا جیسے ان کی زندگی کا سب سے بڑا کانٹا نکل رہا ہو اور اب وہ اس پھول کو گھر لاسکیں گے جس کو اتنے سالوں سے چھپا رکھا ہے۔

”اللہ کی امان میں جاﺅ ابراہیم خلیل اللہ۔ اب گاﺅں میں مفتی بن کر آنا “انہوں نے میرے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا

”انشاءاللہ مفتی بن کر آﺅں گا اور آپ کے ساتھ بھٹو والا حشر کروں گا۔“ میں نے دل میں کہا

ماما اکبر شاہ نے میرے گلے میں ایک تعویذ ڈال کر سینے سے لگایا اور ابا نے بس کے ڈرائیور کو میری ذمے داری سونپ کر کراچی کے لئے  روانہ کر دیا۔

 آہستہ آہستہ گاﺅں کی یادوں پر کراچی غالب آگیا۔ سچ پوچھیں تومیں سب کچھ بھول گیا صرف یہ یاد رہا کہ ابا نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا دھوکا دیا ہے۔ چھٹیوں میں اس امید پر گھر جاتا تھا کہ ابا کی نئی بیوی کو آنکھیں دکھاﺅں گا لیکن وہاں کسی عورت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہمیشہ وہی دو بوڑھے ہوتے مرد ہی دکھائی دیتے تھے۔ میرے پوچھنے پر ماما نے بتایا کہ ابا کی ابھی تک راتوں کی وہی روٹین ہے۔ ابا انتہا درجے کے منافق اور بزدل آدمی تھے۔ ماں کے مرنے کے بعد گاﺅں والوں کے سامنے ہوائی فائرنگ کر چکے تھے کہ وہ اپنے بیٹے پر سوتیلی ماں نہیں بٹھائیں گے لیکن نفسانی خواہشات ان دوسری عورت کی طرف لے گئیں۔ وہ اس لئے اس عورت کو گاﺅں نہیں لا رہے تھے کہ اب ان لوگوں کو کیا جواب دیں گے جو انہیں پہلے شادی کے مشورے دے رہے تھے۔ میں کچلاغ میں ایک ہفتہ گزار کر باقی کی ساری چھٹیاں دارالعلوم میں گزارتا تھا۔ میں نہ صرف نصابی بلکہ غیرنصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ میری سب سے بڑی غیرنصابی سرگرمی بندر روڈ کے نشاط سینما کو آگ لگانا ہے۔ انگریزوں نے یوٹیوب پر توہین رسالت کی تو سب سے زیادہ ردعمل کراچی میں ہوا۔ ہم نے ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ مجھے فخر ہے کہ نشاط سینما کے اوپر لٹکتی ایک ادھ ننگی انگریز ایکٹریس کے پوسٹر کو سب سے پہلی تیلی میں نے دکھائی اور پھر آن کی آن میں ساری عمارت شعلوں میں گھر گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے جان بوجھ کر ابا کے سامنے اپنے اس کارنامے کا ذکر کیا تھا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کا بیٹا آگ لگانے کے قابل ہو گیا ہے۔ اس وقت خدا جانے ان کا چہرہ کیوں ویسا ہی راکھ ہو گیا جیسا وہ سینما ہوا تھا۔ ان کا وہ بجھا چہرہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ چلو کم ازکم انہیں معلوم تو ہوا کہ اب میرا چہرہ چمکنے کا وقت آ رہا ہے۔

اسی آگ اور راکھ کے کھیل میں میری تعلیم مکمل ہو گئی۔ مفتی کی دستار ملنے سے تین دن پہلے ماما اکبر شاہ نے روتے روتے ٹیلی فون کیا کہ ابا نہیں رہے۔ میں پہلی دستیاب بس پکڑ کرکچلاغ پہنچا۔ ابا کو سائیکل پر کوئٹہ جاتے ہوئے ایک تیز رفتاربس نے کچل دیا تھا۔ اگلے تین ہفتے تک میں ان کی دوسری بیوی کا انتظار کرتا رہا مجھے یقین تھا اب تو وہ ضرور آئے گی۔ لیکن اس کے آنے سے پہلے کوئٹے سے ایک بوڑھا اجنبی ابا کو تلاش کرتے ہوئے ہمارے گاوں آگیا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ وہ نہیں رہے تو اس نے سب سے پہلے ابا کا فاتحہ دیا اور پھر میرے ہاتھ پر ایک چابی رکھ کر کہنے لگا۔

” مفتی صاحب میرا نام غفار کاکڑ ہے۔ کئی سال پہلے میری کوئٹے میں ایک چھوٹی سی ویڈیو شاپ ہوا کرتی تھی۔ اللہ بخشے مولوی صاحب کو ان جیسا انسان میں نے ساری زندگی نہیں دیکھا۔ وہ پہلے میرے گاہک بنے پھر دوست اور بھائی بن گئے۔ جب میری ویڈیو شاپ تھی تو وہ ہفتے میں تین چار بار میرے پاس ضرو ر آتے تھے۔ فلمیں دیکھنے۔“

غفار کاکڑ کے اس فلمی انکشاف نے میرے دل میں ابا کے لئے جو نمک برابر عزت تھی وہ بھی ختم کر دی۔ شکر ہے آس پاس کوئی گاﺅں والا نہیں بیٹھا تھا ورنہ وہ بھی جان جاتا کہ روڈ ایکسڈنٹ میں شہید ہونے والا ان کا پیش امام عیاشی اور فحاشی کا امام بھی تھا۔ میری انہی سوچوں میں غفار کاکڑ کی بات جاری رہی

”انہوں نے مجھ سے آپ کے لئے ایک چھوٹا سا گھر قسطوں پر لیا تھا۔ میری فلموں کی دکان ختم ہوجانے کے بعد اب ہر ہفتے آنے کی بجائے مہینے میں صرف مکان کی قسط ادا کرنے آتے تھے۔ اس بار انہیں آخری قسط دینے آنا تھا لیکن نہیں آئے تو میں پریشان ہو گیا۔ قسط کے لئے نہیں، مولوی جی کے لئے۔ یہ چابی آپ کی امانت ہے یہ ابھی سنبھال لیں۔ میں بوڑھا ہو گیا ہوں زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں اس لئے جتنی جلدی ہو کوئٹہ آ کر مجھ سے یہ مکان اپنے نام کرا لیں۔ آخری قسط میں اپنے بھائی مولوی خلیل اللہ خان کو اللہ کے نام پر معاف کرتا ہوں “

یہ کہہ کر غفار کاکڑ چپ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسواس کی سفید داڑھی کے بالوں میں گم ہو رہے تھے۔ اس نے دوبارہ فاتحہ کے لئے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔

میں نے کئی سوالوں کے گرداب میں غوطے کھاتے ہو ئے کوئٹے کی ایک نواحی بستی کے مکان کے تالے میں چابی گھمائی۔ یہ دو کمروں کا ایک چھوٹا سا خالی گھر تھا لیکن ایک کمرے میں ابا کی کچھ باقیات موجود تھیں۔ ایک چارپائی جائے نماز پلاسٹک کی چپل اور ایک چھوٹی سی وہ الماری جسے بچپن میں میں نے اپنے کچلاغ والے گھر میں دیکھا تھا۔ ماما کے بقول صرف یہی الماری میری ماں کے جہیز میں آئی تھی۔ اور وہی اسے اپنے سر پر اٹھا کے لایا تھا۔ میں نے الماری کو کھولا اس میں تین چار زنانہ کپڑوں کے جوڑے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی میرا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ دوسری بیوی کے ہیں انہی کپڑوں کے نیچے ایک موٹا سارجسٹر نظر آیا۔ اس کو کھولتے ہی ایک تصویر اس سے گر کر میرے قدموں میں آئی۔ تصویر کی پشت پر ابا کے ہاتھ سے لکھی تحریر تھی ” ام ابراہیم اپنے نومود ابراہیم خلیل اللہ کے ساتھ۔ کوئٹہ۔ بروز عید 1985“

میں نے پلٹ کر دیکھا یہ اماں اور ابا کی کسی فوٹو سٹوڈیو میں بنوائی گئی جوانی کی تصویر تھی۔ ماں نے مجھے اپنے بازووں میں چھپا رکھا تھا۔

میں رجسٹر لے کر چارپائی پر بیٹھا اور اس میں ابا کے ہاتھ کی لکھی تحریریں پڑھنے لگا۔ پہلی تحریر فروری 1990 کی تھی

” محبت کے قابل ام ابراہیم۔ مجھے نہیں معلوم میں کیا کر رہا ہوں کیوں خط لکھ رہا ہوں۔ محبت تو معلوم اور نامعلوم کے درمیان لٹکتا ایک ایسا جذبہ ہے جو بس سانس لیتا ہے۔ اس لئے میں بھی معلوم اور نامعلوم کی قید سے آزاد ہو کر تم سے ہمکلام ہوں۔ ابراہیم کو ایک ہفتے سے تیز بخار آ رہا تھا تو میں آج اسے ڈاکٹر کو دکھانے کوئٹے لے گیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اب اس کی حالت بہت اچھی ہے۔ جب تک ڈاکٹر نہیں آیا تو میں ابراہیم کو گود میں اٹھا کر باہر آگیا تاکہ بازار میں آتی جاتی موٹر کاریں دیکھ کر اس کا دل خوش ہوتا رہے۔ ڈاکٹر کی دکان کے ساتھ ہی کاکڑ ویڈیو ہاؤس نام کی دکان تھی جس میں مجھے تم اچانک نظر آ گئیں۔ اب پوچھو گی کہ تم وہاں کیسے آگئیں تو پھر سنو۔ دکان کے شیشوں پر فلموں کے اشتہار لگے تھے ان میں ایک عورت کی شکل بالکل تمہارے جیسی تھی۔ اسے قریب سے دیکھنے کے لئے میں دکان کی طرف بڑھ گیا۔ حالانکہ کوئٹے میں مجھے کوئی نہیں جانتا لیکن پھر بھی پہلے اپنی داڑھی کو رومال سے ڈھانپا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ یہ مولوی فلموں کی دکان کی طرف کیوں جا رہا ہے۔ اشتہار پر اس عورت کے نیچے نیلو لکھا ہوا تھا اور فلم کا نام تھا زرقا۔ اب مجھے کیا معلوم یہ نیلو کون ہے؟ زرقا کیا ہے؟ لیکن اشتہار میں موجود دوسرے لوگوں کے عربی کپڑے دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ ضرور کوئی اسلامی فلم ہے۔ اگر زندگی نے موقع اور ہمت دی تو یہ فلم ضرور دیکھوں گا۔ تمہاری اجازت ہے؟“

”پیاری ام ابراہیم آج ہمت کر کے دکان پر چڑھ ہی گیا۔ اور اس کے مالک غفار کاکڑ سے زرقا فلم دیکھنے کا پورا عمل اور اس کا خرچہ پوچھا۔

اس نے بتایا کہ اپنا شناختی کارڈ رکھوا کر دس روپے کے کرائے پر فلم لے جاﺅ اور اپنے گھر جا کے دیکھو اور اگر گھر میں نہیں دیکھنی تو میری دکان میں دیکھو جس کا کرایہ بیس روپے ہو گا۔ غفار کاکڑ نے اپنی دکان کے پیچھے ان لوگوں کے لئے فلمیں دکھانے کا بندوبست کر رکھا ہے جن کے گھر میں وہ مشین نہیں جس پر فلم چلتی ہے۔ یہ ساری معلومات لے کر واپس گاﺅں آگیا۔ ابراہیم اور اکبرٹھیک ہیں اور میں بھی بس ٹھیک ہی ہوں۔ تمہیں یاد کرتا ہوں اور کبھی کبھی تو اداس بھی ہو جاتا ہوں۔ نہ کسی سے بات کرنے کا دل کرتا ہے نہ کسی کی سننے کا۔ سب کہنا سننا تم ہی سے تھا۔ تم ہی سے کہہ رہا ہوں۔ جہاں رہو مسکراتی رہو میری رفیق حیات۔ “

میں صفحے پلٹتا رہا اور ابا کی ماں سے گفتگو پڑھتا رہا۔ ابا نے ماں کو ہر بات لکھ رکھی تھی۔ زرقا فلم کی پوری کہانی اور اس سے جڑا ایک واقعہ بھی اسی رجسٹر میں درج تھا۔

” آج دل تھوڑا اداس ہے ام ابراہیم۔ آج باتوں باتوں میں غفار کاکڑ نے بتایا کہ اس فلم کے بننے سے کئی سال پہلے ایوب خان کے دور میں جب شاہ ایران پاکستان کے دورے پر آیا تو پنجاب کے گورنر ملک امیر محمد نے نیلو کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کے سامنے رقص کرے۔ نیلو نے انکار کر دیا جس پر اس بے چاری کو بہت دکھ دئیے گئے ساری رات گورنر کے سرکاری گھر میں اس پر تشدد ہوتا رہا۔ اب خدا بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوا لیکن غفار نے بتایا کہ اس نے یہ سارا واقعہ کسی اخبار میں پڑھا تھا۔ میرے ابا بتاتے تھے کہ امیر محمد خان بہت با اصول آدمی تھا۔ ایک کمزور اور لاچار عورت پر تشدد کرنا کون سا اصول ہے کہاں کی مردانگی ہے۔ جب زرقا فلم بن رہی تھی تو اس واقعے کو بالکل اسی طرح اس میں شامل کر دیا گیا۔ نیلو وہی تھی لیکن اسے زنجیریں پہنانے والے بدل گئے۔ اصل میں ملک امیر محمد تھا فلم میں میجر ڈیوڈ تھا۔ زنجیریں پہن کے رقص کرتے وقت نیلو کی آنکھوں میں بے بسی دیکھ کر مجھے اپنی بے بسی یاد آجاتی ہے۔ جب تم اللہ کو دم دے رہی تھیں میں مجبور اور بے بس تمہارے سرہانے بیٹھا تھا۔ اللہ تمہیں جنت کے باغوں میں سے کوئی باغ عطا کرے۔ میری پیاری۔ خدا کسی کو بے بس نہ کرے نہ کسی نیلو کو اور نہ کسی مولوی خلیل اللہ کو۔ بے بسی انتہائی تکلیف دہ احساس ہے۔ غفار کاکڑ نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں اسی ملک امیر محمد کو اس کے اپنے سگے بیٹے نے اس کے بستر میں ہی گولیاں مار کے ختم کر دیا تھا۔ اللہ اللہ۔ مرحوم ابا کی اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ پروردگار نہ ظالم کرے نہ ظالم کے حوالے کرے۔ جہاں رہو آباد رہو ام ابراہیم۔

ایک صفحے پرمیرے کراچی جانے کا احوال بھی لکھا تھا۔

”آج میں اور اکبر تمہارے ابراہیم کو کراچی روانہ کر آئے۔ میں نے اسے جب مفتی بن کر واپس آنے کا کہا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے اسے دعائیں دیتے ہوئے گلے لگایا اور اکبر نے ایک تعویذ اس کے گلے میں پہنایا۔ اللہ جانے اکبر کس پیر سے اور کیا لکھوا لایا تھا اس تعویذ میں “

[مجھے اس تعویذ کی یاد آگئی جو اب میرے گلے میں نہیں بلکہ میری کتابوں والے صندوق میں رکھا ہوا تھا۔ دارالعلوم میں میرے استاد مولانا اللہ بخش جتوئی نے اسے بدعت قرار دیتے ہوئے میری گردن سے اتروا دیا تھا.

”میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے ابراہیم کے لئے مسجد کا حجرہ نہیں بلکہ ذاتی مکان چھوڑ جاﺅں۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہاری نشانی میری طرح چندے اور وظیفوں سے پلے۔ اس سلسلے میں میں نے بھائی غفار کاکڑ سے بات کی ہے۔ اس کے کوئٹہ شہر میں کئی چھوٹے چھوٹے مکان ہیں۔ اس نے مجھے ایک مکان قسطوں میں دینے کا عہد کیا ہے۔ اب تم سوچ رہی ہو گی یہ ماہانہ قسطیں کہاں سے آئیں گی۔ تو سنو میری پیاری، میں نے گاﺅں کے بڑوں سے بات کی ہے سب نے حامی بھری ہے کہ وہ مل کر میرے ماہانہ وظیفے میں اتنا اضافہ کر دیں گے کہ مکان کی قسط نکل آئے گی۔ آگے اللہ مالک ہے۔ تمہاری سونے کی دونوں چوڑیاں بیچ کر غفار بھائی کو ایڈوانس کی رقم ادا کر دی ہے۔ انہیں بیچتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ گھر آکر روتا اور تمہارے دوپٹے سے آنسو پونچھتا رہا “

 الماری میں موجود کپڑے اور دوپٹہ میری ماں کا تھا۔ یہ خط پڑھتے ہوئے میری آنکھیں بھی بھیگ گئیں اور ماں کا دوپٹہ ہی ان بھیگی آنکھوں کے کام آیا]

”ام ابراہیم آج دل میں تھوڑا ڈر محسوس ہونے لگا ہے۔ ابراہیم نے ایک ایسی بات کی جسے سن کر خود سے شرمندگی ہوئی۔ اس نے کراچی میں دوسرے طلباء کے ساتھ مل کر کسی غریب کے سینما گھر کو آگ لگا دی۔ دوسروں کے گھروں کو بھلا کون آگ لگاتا ہے۔ اس گھر سے نجانے کتنے گھروں کے چولہے جلتے ہوں گے۔ اللہ پاک سب کو عقل عطا کرے۔ اللہ نہ کرے یہ آگ ہمارے گھر تک پہنچے جہاں میرے اور اکبر کے علاوہ جلنے لائق کچھ ہے ہی نہیں۔ بس تم دعا کرو کہ اللہ ابراہیم کو ہدایت کا رستہ دے۔ میں سوچ رہا ہوں دستار بندی ہوتے ہی اس کی شادی کرا دوں۔ تمہارے دماغ میں تم جیسی کوئی اچھی لڑکی ہو تو ضرور بتانا۔ لیکن تم سے اچھا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا “

ان ساری تحریروں کی کڑیاں میرے دماغ میں خود بخود ایک دوسرے سے جڑتی گئیں۔ ابا اپنی کسی دوسری بیوی سے نہیں، اپنی پہلی بیوی سے ملنے اتنی دور کوئٹہ آتے تھے وہ بھی سائیکل پر۔ یہاں آکر وہ غفار کاکڑ کی دکان میں صرف زرقا فلم ہی بار بار دیکھتے تھے۔ انہوں نے اس کے علاﺅ ہ نیلو کی کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔ ایک بار غفار کاکڑ نے کوئی اور فلم لگا دی جس میں نیلو کسی کلب میں ناچ رہی تھی تو ابا اسے اس حال میں دیکھ کر اسی وقت الٹی کر بیٹھے۔ دو دن بخار میں تڑپتے رہے۔ وہ نیلو کو زرقا کے علاﺅہ کسی اور کردار میں دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔ اور ایک طرف میں تھا جس نے ابا کو باپ کے علاوہ ہر کردار میں دیکھا۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ میری آنکھوں کے سامنے جلتا ہوا نشاط سینما گھومنے لگا۔ تیز رفتار بس سے کچلا مولوی خلیل اللہ یاد آنے لگا۔ میں آنکھوں میں آنسو اور دل میں بہت سا درد لے کر اس مکان سے نکل آیا اور سیدھا ایک انٹرنیٹ کیفے پر پہنچا اور نیلو کو تلاش کرنے لگا چند لمحوں میں اس کی بہت سی تصویریں میرے سامنے تھیں اور میرے ہاتھ میں میری ماں کی وہی اکلوتی تصویر تھی۔ خدا گواہ ہے ماں ہو بہو نیلو جیسی تھی۔

چند دن بعد میں کراچی روانہ ہو گیا جہاں دستار بندی کا جلسہ تو بہت پہلے ہو چکا تھا لیکن میری دستار میرا انتظار کر رہی تھی۔ میں سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور کتابوں کے صندوق سے ماما اکبر کا دیا ہوا تعویذ نکالا۔ پتہ نہیں میں کیوں اسے کھول کے دیکھنا چاہتا تھا۔ چمڑے میں سلے اس تعویذ کے ٹانکے ادھےڑنے میں مجھے بہت مشقت کرنی پڑ ی۔ اللہ اللہ کر کے وہ کھلا اور میں نے دیکھا کہ اس کے اندر دس روپے کا وہی نوٹ بند ہے جو ماما اکبر نے مجھ سے لیا تھا۔ اگلے دن میرے استاد شیخ الحدیث مولانا اللہ بخش جتوئی نے ظہر کی نماز کے بعد مجھ اکیلے کی دستار بندی کی۔ مجھے دستار پہناتے وقت ان کی نظر میری گردن میں لپٹے دھاگے پر گئی۔ انہوں نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ منع بھی کیا تھا پھر کیوں اس بدعت کو گردن کا طوق بنا کر آگئے ہو لیکن میں اس خاموش سوال کا جواب دئیے بغیر ان کے ہاتھ کو بوسہ دے کر ہمیشہ کے لئے کراچی سے نکل گیا۔ کوئٹے کے بس اڈے کی طرف جاتے ہوئے رکشہ جب نشاط سینما کے سامنے سے گزرا تو میں نے شرمندگی سے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ پہلے اس جلے سینما کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہمیشہ میری گردن فخرسے اکڑ جایا کرتی تھی لیکن آج آگ کی لپٹوں سے کالی ہوگئی اس عمارت کا ڈھانچہ سینہ تانے کھڑا تھا اور میں اس سے چہرہ چھپائے جا رہا تھا۔

2021 کی تیس جنوری مجھے کبھی نہیں بھولے گی۔ اس رات میں اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں کے ساتھ ان کی پسندیدہ فلم دیکھنے کے بعد حسب معمول بوڑھے ماما اکبر کے کمرے میں اسے سلام کرنے گیا وہ بستر میں لیٹا اپنے چھوٹے سے ٹی وی پر خبریں دیکھ رہا تھا۔ ماما روٹی کھانا بھول جاتا تھا لیکن خبریں سننا نہیں بھولتا تھا۔ ہر وقت ٹی وی پر ملکی اور غیر ملکی خبریں دیکھتا رہتا تھا

ہاں ماما ہے کوئی نئی خبر ؟ میں نے ماما کی ٹانگیں دباتے ہوئے پوچھا

”بڑی خبریں ہیں بھانجے۔ وہ بھٹو تھا ناں جسے مفتی محمود نے تخت سے اتارا تھا اس کی بیٹی بختاور بھٹو کی شادی ہو رہی ہے آج۔

”بختاور بینظیر بھٹو کی بیٹی ہے ماما، بھٹو کی نہیں “

تو پھر بھٹو کی بیٹی کون ہے ؟ ماما نے پوچھا

”بے نظیر“۔ میں نے جواب دیا

”یار کیوں مجھے دوسروں کی بیٹیوں میں پھنسا رہا ہے صاف صاف بتا یہ بختاورمفتی محمود والے بھٹو کی کون ہے؟“ ماما نے الجھتے ہوئے کہا

”بختاور مفتی محمود والے بھٹو کی نواسی اور بے نظیر کی بیٹی ہے۔ آج اسی کی شادی ہوئی ہے۔ “ میں نے آرام آرام سے اپنا جملہ مکمل کیا تاکہ ماما کی الجھن ختم ہو سکے

”اچھا اچھا اللہ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے چاہے بھٹو کی ہو یا مفتی محمود کی۔ آج تو سارا دن اس کی خبریں چلتی رہیں اس کی رخصتی کے ساتھ ہی ایک اور بندی کے رخصت ہونے کی خبر بھی آ گئی۔ کوئی شان نام کا آدمی ہے اس کی ماں نیلو مر گئی ہے۔ اللہ کا بخش ہو اسے بھی۔ اللہ جانے کون تھی لیکن رات کے دس بجے سے اس کی باتیں ہو رہی ہیں ٹی وی پر۔ 80 سال کی تھی۔ یوں سمجھو میری ہم عمر تھی“

میں اپنی جگہ پر پتھر بن چکا تھا مجھے نہیں معلوم ماما نے اور کیا باتیں کیں میرے ہاتھ اس کی کمزور ٹانگوں پر کمزور پڑ نے لگے

”تو جانتا تھا اسے ؟ کون تھی نیلو“ ماما کا اچانک سوال میرے کانوں میں خنجر بن کر اترا

”ماں تھی اور کون تھی “میں نے آہستہ سے جواب دیا اور اس کے کمرے سے نکل گیا۔

تیس جنوری 2021ء کی ساری رات میں نے روتے اور سسکتے گزاری۔ اس رات شان کی نہیں، میری ماں مری تھی۔

Latest posts by مصطفیٰ آفریدی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 21 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments