گرین زون فلاسفی، والدین اور اولاد کا رشتہ


ٹی وی کے آگے بیٹھ کر آپ انہیں کہیں کہ اسکرین نقصان دہ ہے یہ خود اپنے آپ میں لطیفہ ہے، بچوں کے ساتھ ڈیل کرتے وقت اپنا آپ اور خاص کر اپنا بچپن ذہن میں رکھا کریں جیسے ساس بھی کبھی بہو تھی اس طرح بڑے بھی کبھی بچے تھے۔ اپنے ماں باپ سے اگر ہم اپنے بار میں تھوڑی جانکاری حاصل کریں تو ہمیں اپنے کرتوتوں سے آگاہی ہو گی میرے خیال میں یہ بچے ہمارے سے بہت بہتر انسان اور سمجھدار ہیں۔ اگر ہم بڑے اتنے اچھے ہوتے تو آج دنیا اس برے حال میں نہ ہوتی۔

اسکرین اور سوشل میڈیا کے علاوہ ماڈرن دور کا دوسرا بڑا چیلنج طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہے اس میں بچے یا تو والدین میں سے ایک کو مورد الزام ٹھیرا کر ساری عمر اس کی طرف کڑواہٹ رکھتے ہیں یا اپنے آپ کو اس کا الزام دے کر ساری عمر گلٹ کا شکار رہتے ہیں اور ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ماں باپ یہ قدم احتیاط کے ساتھ اٹھائیں اور اپنے تنازعات کو دروازے کے پیچھے حل کریں اور بچوں کو دونوں مل کر ساری صورتحال سی آگاہ کریں تاکہ ان کے اوپر اس کا کم از کم اثر کیا آئے طلاق آج کی دنیا کی حقیقت ہے آپ شتر مرغ کی طرح مٹی میں سر دبا کر اس بات کو دہراتے رہیں کہ ہمارا خاندانی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے اس سے یہ حقیقت ٹلنے والی نہیں کہ آج کے دور میں دو انسان صرف محبت کے ساتھ تو ایک گھر میں رہ سکتے ہیں سمجھوتوں اور مجبوریوں کے نیچے دب کے نہیں۔ طلاق ایک مشکل کام ہے لیکن دونوں فریق صرف اس ایک نکتے پر متفق ہو جائیں کہ اس سارے عمل میں بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا تو بھی یہ کافی ہے۔

سب سے زیادہ چیلنج ایسے بچوں کی تربیت ہے جو انتہائی غیرمعمولی طور پر ذہین ہیں۔ یہ بچے مختلف طرح سے سوچتے اور چیزوں کو سیکھتے ہیں اس لیے ان کے والدین خصوصاً ماوًں کے لیے اس بات کو سمجھنا کہ ان کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے ایک طرف روایت اور خاندان کا بوجھ ہوتا ہے دوسری طرف آپ کا غیر روایتی بچہ ہوتا ہے ہمیشہ اپنے بچے کا ساتھ دیں، اس پر اعتماد کریں کہا جاتا ہے کہ براؤن خاندانوں میں اگر آپ ڈاکٹر، وکیل، انجیر آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں تو آپ اپنے خاندان کے لیے شرمندگی ہیں تخلیقی صلاحیتیں مروجہ اصولوں کے تابع نہیں ہوتیں ان بچوں کو زیادہ انڈرسٹینڈنگ کی، والدین کی توجہ کی اور محبت کی ضرورت ہے، ان کی ضروریات کو سمجھنا اور اس کے مطابق ان کے تربیت کرنا ہی سب کے فائدے میں ہوتا ہے اس سے معاشرے کو بہترین لکھاری، شاعر، میوزیشن اور سائنسدان ملتے ہیں اور ترقی کا عمل آگے بڑھتا ہے۔

والدین کا ہر بچے سے ایک الگ پرسنل ریلیشن ہونا چاہیے جس میں آپ اور وہ محبت کی گرین زون میں ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ بطور انسان یہ رشتہ اور اس کے متعلق گفتگو خاص کر ماؤں کے لیے بہت جذباتی طور پر بھاری ہے کیونکہ مائیں اپنے بچوں سے بہت محبت کرتی ہیں اور یہ محبت عموماً بچوں کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ اردگرد کے معاشرتی رشتوں کا پریشر ماؤں پر زیادہ ہوتا ہے ہر وقت وہ مائیکرو اسکوپ کے نیچے ہوتی ہیں بچوں کی ہر غلط حرکت کے کیے ان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور ہر اچھے کام کا سہرا خاوند کے کھاتے میں چلا جاتا ہے کیونکہ بچے اگلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا زندگی کی طرف نظریہ بالکل مختلف ہوتا ہے یہ والدین اور بچے چاہے آپس میں کتنی محبت کیوں نہ کرتے ہوں، تنازعات پیدا کرتا ہے، والدین اپنے نظریات کے مطابق مسائل کو زندگی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور بطور والدین اس میں ایک دوسرے کے نظریات کا احترام اور اس بات کی جانکاری کہ جہاں آپ کی آزادی کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے دوسروں کی آزادی کی حد شروع ہوجاتی ہے۔

یہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے اور ہم سب ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں اہم چیز اس میں والدین اور اولاد کے درمیان ایسے رشتے کو استوار کرنا ہے جس سے تمام معاشرے کی بھلائی ہو سکے اور اچھے انسان ہم اس دنیا کو دے سکیں۔ اس میں ہر روز ہم غلطی کریں گے اور گریں گے لیکن اس سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ان غلطیوں سے سیکھیں اور ان کو درست کریں اور اس میں ہم سب اکٹھے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2