اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015


فلوبئیر نے خود کو انسانی قلم کہا تھا، میں یہ کہتی ہوں کہ میں ایک انسانی کان ہوں۔ میں جب گلیوں اور بازاروں میں نکلتی ہوں تو الفاظ، جملے اور فجائیے سنتی ہوں اور میں ہمیشہ سوچتی ہوں۔ کتنی کہانیاں اور ناول اپنا نشان چھوڑے بنا غائب ہو جاتے ہیں! تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں۔ ہم ادب کے لیے انسانی زندگی کی اس مکالماتی سمت کا ادراک نہیں کر پاتے۔ ہم اسے داد نہیں دیتے، ہمیں حیرانی نہیں ہوتی یا ہم اس سے خوش نہیں ہوتے۔ یہ البتہ میرا دل موہ لیتی ہے اور مجھے اپنا بندی بنا لیتی ہے۔ مجھے انسانی گفتگو سے پیار ہے۔ مجھے انسان کی اپنی تنہا آواز سے پیار ہے۔ یہی میرا سب سے کھرا عشق اور حب ہے۔

اس مقام تک پہنچنے والا راستہ طویل رہا ہے۔ ایک بندے سے دوسرے تک جانا اور ایک آواز سے دوسری تک پہنچنے کا یہ سفر لگ بھگ چالیس سال پر محیط ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں ہمیشہ اس راستے پر چلی ہوں۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ میں انسانوں سے خوفزدہ ہوئی ہوں اور مجھے ان سے صدمہ بھی پہنچا ہے۔ انہوں نے مجھے جھٹکے سے بھی دوچار کیا ہے۔ مجھے فرحت، مسرت اور خوشی کے احساسات کے ساتھ ساتھ گھن بھی آئی ہے۔ میں بعض اوقات یہ بھی چاہتی رہی ہوں کہ میں نے جو سنا، اسے بھول جاؤں اور اس سمے میں لوٹ جاؤں جب میں لاعلم تھی، بہرحال، میں نے ایک سے زیادہ بار لوگوں میں رفعت اور عالی ظرفی دیکھی ہے۔ اور میرا دل رونے کو چاہا ہے۔

میں ایک ایسے ملک میں رہی ہوں جہاں مرنا، ہمیں بچپن سے ہی سکھایا گیا۔ ہمیں موت بارے تعلیم دی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ انسان زندہ ہی اس لیے رہتے ہیں کہ اپنا سب کچھ لٹا دیں، سب کچھ جلا ڈالیں اور خود کو بھی نثار کر دیں۔ ہمیں یہ سکھایا گیا کہ ہم ہتھیار بند لوگوں سے محبت کریں۔ میں اگر کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوئی ہوتی تو میں نے اس راستے پر سفر نہ کیا ہوتا۔ کھوٹ، برائی اور بدی ظالم ہوتی ہے، آپ کو اس کے خلاف تیار کیا جاتا ہے۔ ہم گردن مارنے والوں اور بھینٹ چڑھنے والوں کے درمیان پلے بڑھے۔ اگر ہمارے والدین کو خوف میں بھی رہنا پڑا تو انہوں نے ہمیں سب کچھ نہ بتایا۔ اور اکثر تو انہوں نے ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا۔ ہماری زندگیوں کی فضا زہر آلود ہی رہی۔ بدی نے ہم پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی تھی۔

میں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ایسی کتاب جو یوٹوپیا کی تاریخ کے بارے میں ہے۔

( روسی ادیب ) وارلم شالاموف (Varlam Shalamov) نے ایک بار لکھا تھا: ”میں ایک بڑی لڑائی میں شریک رہا ہوں۔ یہ انسانیت کی اصلی بحالی کے لیے لڑی جا رہی تھی لیکن ہم یہ جنگ ہار گئے تھے۔“

میں نے اس جنگ کی تاریخ، اس کی فتوحات اور اس کی شکستوں کو مرتب کیا ہے۔ اس تاریخ کو، کہ لوگ کیسے اس دھرتی پر ’فلکی سلطنت‘ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ جنت! آفتابی شہر! اور آخر میں لاکھوں لوگوں کی تباہ حال زندگیاں اور خون کا ایک سمندر ہی بچا۔ تاہم ایک وقت وہ بھی تھا جب بیسویں صدی کے کسی بھی سیاسی نظریے کا کمیونزم سے مقابلہ نہیں تھا (یا اس کی علامت کے طور پر اکتوبر انقلاب) ۔ یہ وہ وقت تھا جب مغربی دانشوروں اور دنیا بھر کے لوگوں کو اس کے علاوہ اور کچھ بھی، جذباتی سطح پر طاقتور اور موثر نظر نہیں آتا تھا۔

( فرانسیسی ) ریمنڈ ایرن (Raymond Aron) نے روسی انقلاب کو ”دانشوروں کی افیون“ قرار دیا تھا۔ لیکن کمیونزم کا نظریہ کم سے کم دو ہزار سال پرانا ہے۔ ہم اسے افلاطون کی تعلیمات میں، ایک مثالی، کامل اور درست ریاست کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ ارسطوفینز کے ان خوابوں میں نظر آتا ہے جن میں وہ ایک ایسے وقت کو دیکھتا ہے جب ”ہر شے ہر کسی کے پاس ہو گی۔“ ۔ یہ ہمیں (برطانوی) ٹامس مور اور (اطالوی) توماسو کمپانیلا میں۔ بعد ازاں (فرانسیسی) سینٹ۔ سائمن، فوئیر اور (ویلیش) رابرٹ اوون میں بھی نظر آتا ہے۔ روسیوں کے جذبوں اور جذبوں میں کچھ ایسا سمایا ہوا ہے جس نے انہیں مجبور کیا کہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔

بیس برس پہلے، ہم نے سوویتوں کی ’لال سلطنت‘ کو کوستے ہوئے اور روتے ہوئے رخصت کیا۔ اب ہم اپنے اس ماضی کو ایک تاریخی تجربے کے طور پر زیادہ سکون سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اہم ہے کیونکہ سوشلزم کے بارے میں بحثیں ابھی مری نہیں ہیں۔ اس دوران ایک نئی نسل دنیا کی ایک مختلف تصویر لیے پروان چڑھ چکی ہے لیکن بہت سے نوجوان مارکس اور لینن کو پھر سے پڑھ رہے ہیں۔ روسی شہروں میں سٹالن کی مداحی میں نئے عجائب گھر بن رہے ہیں اور اس کی خاطر نئی یادگاریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

’سرخ سلطنت‘ جا چکی ہے لیکن ’لال آدمی‘ ہومو۔ سوویتیکس ابھی بھی باقی ہے۔ وہ زندہ ہے۔

میرے والد حال ہی میں فوت ہوئے ہیں۔ وہ مرتے وقت تک کمیونزم پر یقین رکھتے رہے۔ انہوں نے اپنا پارٹی رکنیت کا کارڈ سنبھالے رکھا۔ میں خود کو کبھی بھی تیار نہ کر پائی کہ لفظ ’سوووک‘ (sovok) ، سوویت ذہنیت کے لیے توہین آمیز خطاب، برت سکوں کیونکہ پھر مجھے اسے اپنے والد، قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے لیے بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ ان سب کا ایک ہی گڑھ، سوشلزم ہے۔ ان میں بہت سے عینیت پسند ہیں۔ رومان پسند۔ انہیں آج کل بعض اوقات رومان پسندی کا غلام کہا جاتا ہے۔

یہ یوٹوپیا کے غلام ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ سب بہت مختلف زندگیاں بسر کر سکتے تھے لیکن انہوں نے سوویت زندگیاں بسر کیں۔ کیوں؟ میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں بہت وقت صرف کیا ہے۔ میں نے اس وسیع ملک کے ہر حصے میں سفر کیا جو کبھی یو ایس ایس آر ( USSR ) کہلاتا تھا اور میں نے ہزاروں ٹیپیں ریکارڈ کیں۔ یہ سوشلزم تھا اور سیدھے سیدھے ہماری زندگیاں تھیں۔ میں نے تھوڑی تھوڑی کر کے ’گھریلو‘ یا کہہ لیں ’گھروں کے اندر‘ کے سوشلزم کی تاریخ مرتب کی۔ تاریخ کہ اس نے انسانی روح اور جذبات کے ساتھ کیسے کھیلا۔ میں نے اس چھوٹی ہیئت پر توجہ کی جسے انسان کہا جاتا ہے۔ تنہا ایک فرد۔ یہ فرد ہی وہ حقیقت ہے جس پر ہر واردات گزرتی ہے۔

جنگ کے فوراً بعد ، (جرمن) تھیوڈور اڈورن (Theodor Adorno) نے صدمے کی حالت میں لکھا تھا: ”آشوٹز (Auschwitz) کے بعد شاعری کرنا جنگلی پن ہے۔“ میرے استاد، ایلس ایڈامووچ، جن کا نام میں آج یہاں ممنونیت کے طور پر لے رہی ہوں، نے یہ محسوس کیا تھا کہ بیسویں صدی نے جو ڈراؤنے خواب دکھائے ہیں ان پر نثر لکھنا، نثر کی توہین اور بے ادبی ہے۔ نثر کے لیے کچھ نیا نہیں گھڑا جا سکتا۔ آپ کو سچ لازماً ویسے ہی بیان کرنا پڑتا ہے جیسا کہ وہ ہے، ورنہ ایک ’سپر۔لٹریچر‘ درکار ہو گا۔ گواہ کو لازماً بولنا چاہیے۔ ایسے میں نطشے (Nietzsche) کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ کوئی بھی فنکار حقیقت کی برابری نہیں کر سکتا۔ وہ اس کا وزن نہیں اٹھا سکتا۔

مجھے ایک بات ہمیشہ تنگ کرتی رہی ہے کہ سچ ایک دل، ایک دماغ میں نہیں سما سکتا اور یہ کہ سچ کسی نہ کسی طور ٹکڑیوں میں بٹا ہوتا ہے۔ سچ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ متنوع ہوتا ہے۔ اور یہ ساری دنیا میں پھیلا ہوتا ہے۔ دوستوفسکی کا خیال تھا کہ انسانیت اپنے بارے میں اس سے بھی کہیں زیادہ جانتی ہے جتنا اسے ادب میں ریکارڈ کیا گیا ہے، اس لیے یہ کیا ہے جو میں کر رہی ہوں؟ میں روزمرہ زندگی کے احساسات، خیالات اور الفاظ کو جمع کر رہی ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6