اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015


” ایسا تب ہوا تھا جب تمہارے روسیوں نے بمباری کی تھی۔“
کسی نے مجھے سہارا دیا کیونکہ میں گرنے لگی تھی۔

میں نے اپنے ”گراڈ“ راکٹوں کو وہاں کے دیہاتوں کو ایسے کھیتوں میں بدلتے دیکھا جیسے ان میں ہل پھرا ہو۔ میں ایک افغان قبرستان میں گئی۔ یہ ان کے دیہاتوں میں سے ایک جتنا لمبا تھا۔ اس قبرستان کے درمیان کہیں ایک بوڑھی افغان عورت چیخ و پکار کر رہی تھی۔ منسک کے قریب ایک گاؤں میں جب وہ گھر میں زنک کا تابوت لیے داخل ہوئے تو مجھے ایک ماں کا واویلا یاد تھا۔ یہ کسی انسان یا جانور کی چیخ نہیں تھی۔ یہ کچھ ویسی ہی تھی جو میں نے کابل کے قبرستان میں سنی۔

مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں یک دم آزاد نہیں ہوئی۔ میں اپنے کام سے مخلص تھی اور انہیں مجھ پر اعتماد تھا۔ آزادی کے حوالے سے، ہم میں سے ہر کسی کا اپنا اپنا راستہ تھا۔ افغانستان سے پہلے، میں سوشلزم پر یقین رکھتی تھی کہ اس کا ایک انسانی چہرہ ہے لیکن جب میں افغانستان سے واپس آئی تو میں ساری خوش فہمیوں سے آزاد تھی۔

” ابا، مجھے معاف کرنا۔“ ، میں نے جب انہیں دیکھا تو کہا، ”آپ نے مجھے اس لیے بڑا کیا تھا کہ میں کمیونسٹ نظریات پر یقین رکھوں لیکن ان جوانوں کو، تازہ بنے سوویت، سکول کے لڑکے، ویسے جنہیں آپ اور ماں نے بھی پڑھایا (میرے والدین ایک دیہاتی سکول میں استاد تھے ) جب ان لوگوں کو مار رہے تھے جنہیں وہ جانتے تک نہ تھے اور وہ بھی بدیسی علاقے میں۔ یہ دیکھنا کافی تھا۔ اور اس نے آپ کے سارے الفاظ راکھ میں بدل ڈالے۔ ابا ہم قاتل ہیں۔ آپ اس بات کو سمجھتے ہیں نا! ؟“

میرے والد یہ سن کر رو پڑے تھے۔

افغانستان سے پلٹنے والے بہت سے لوگ آزاد ہو گئے تھے لیکن دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان میں میرا ایک نوجوان ساتھی تھا جو مجھ پر چلایا تھا:

” تم ایک عورت ہو، تمہیں جنگ کی کیا سمجھ ہے؟ تم سمجھتی ہو کہ لوگ جنگ میں ویسی ہی سہانی موت مرتے ہیں جیسی کتابوں اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے؟ کل میرا ایک دوست مارا گیا، اس نے اپنے سر میں گولی ماری اور اپنے پھٹتے بھیجے کو قابو میں رکھنے کی کوشش میں دس میٹر دور تک بھاگتا رہا۔“

سات سال بعد میرا وہی ساتھی ایک کامیاب بزنس مین ہے جو افغانستان کے بارے میں کہانیاں سنانا پسند کرتا ہے۔ اس نے مجھے فون کیا:

” آپ کی کتابیں کس کام کی ہیں؟ یہ بہت ہی خوفناک ہیں۔“

اب وہ ایک مختلف بندہ تھا، وہ اب وہ جوان نہیں تھا جسے میں موت کی وادی میں ملی تھی اور وہ بیس سال کی عمر میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔

میں خود سے پوچھتی ہوں کہ میں جنگ کے بارے میں کس قسم کی کتاب لکھنا چاہتی ہوں۔ میں ایک ایسے بندے کے بارے میں کتاب لکھنا چاہتی ہوں جو گولی چلانا نہیں چاہتا، جو کسی دوسرے انسان پر فائر نہیں کھول سکتا، جسے جنگ کے خیال سے ہی اذیت کا احساس ہوتا ہو۔ وہ کہاں ہے؟ میں اس سے کبھی نہیں مل پائی۔

1990۔ 1997

روسی ادب دلچسپ ہے، اس لحاظ سے کہ یہ وہ واحد ادب ہے جو ہمیں ایک ایسے تجربے کی داستان سناتا ہے جو ایک وسیع اور بڑے ملک پر کیا گیا۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے : آپ المیوں کے بارے میں کیوں لکھتی ہیں؟

میں ایسا اس لیے لکھتی ہوں کہ ہم ان میں ہی رہتے ہیں۔ اب ہم مختلف ملکوں میں رہتے ہیں لیکن ’لال‘ لوگ ہر جگہ ہیں۔ وہ اسی زندگی سے باہر آئے ہیں اور ان کے پاس اسی زندگی کی یادیں ہیں۔

میں نے چرنوبل پر لکھنے کے حوالے سے، لمبا عرصہ خود کو روکے رکھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میں اس بارے میں کیسے لکھوں، کیا طریقہ اختیار کروں اور اس موضوع تک کیسے رسائی حاصل کروں۔ دنیا جس نے کبھی میرے ننھے سے ملک، جو یورپ کے ایک کونے میں ٹکا ہے، کے بارے میں کچھ نہیں سنا تھا لیکن اب اس کا نام ہر زبان پر تھا۔ ہم بیلارسین چرنوبل کے لوگ بن گئے تھے۔ وہ جنہوں نے اک ان ہونی، اک انجانے سانحے کا سامنا کیا۔ تب یہ واضح ہو گیا تھا کہ کمیونسٹ، نسلی اور نئے مذہبی چیلنجوں کے علاوہ ہمارے لیے اور بھی خونی، درندہ صفت اور عالمی چیلنج موجود ہیں گو یہ فی الحال نظر نہیں آ رہے البتہ چرنوبل کے بعد کچھ تو، چاہے رتی برابر سہی، ہم پر آشکار ہوا ہے۔

مجھے ایک بوڑھا ٹیکسی ڈرائیور یاد ہے۔ اس کی ونڈ شیلڈ سے جب ایک کبوتر ٹکرایا تھا اور اس نے مایوسی کے عالم میں قسمیہ کہا تھا:

”دو تین پرندے روز کار میں آ ٹکراتے ہیں لیکن اخبارات یہی کہتے ہیں کہ صورت حال قابو میں ہے۔“

شہر کے باغات کو پتوں سے خالی کر دیا گیا تھا۔ انہیں آبادی سے باہر لے جا کر گہری زمین میں دفن کیا گیا۔ آلودہ علاقوں کی مٹی کو بھی کھود ڈالا گیا اور اسے بھی لے جا کر دفنا دیا گیا۔ دھرتی کو دھرتی میں ہی دفن کیا گیا۔ جلانے کے کام آنے والی لکڑیاں اور گھاس بھی دفنائی گئی۔ پر بندہ کسی حد تک دیوانہ نظر آنے لگا تھا۔ شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک بوڑھے نے مجھے بتایا:

” اس صبح میں باغ میں گیا تو کوئی شے۔ ایک مانوس آواز وہاں کم تھی۔ وہاں شہد کی مکھیاں نہیں تھیں۔ میں ایک مکھی کی آواز بھی نہ سن سکا۔ ایک کی بھی نہیں! کیوں؟ وہاں کیا ہو رہا تھا؟ وہ دوسرے روز بھی نہ اڑیں اور پھر تیسرے روز بھی۔ تب ہمیں بتایا گیا کہ نیوکلیائی سٹیشن پر ایک حادثہ پیش آ گیا ہے۔ اور یہ زیادہ دور نہیں ہے۔ لیکن ہمیں اس کے بارے میں عرصے تک کچھ بھی معلوم نہ ہوا۔ شہد کی مکھیوں کو پتہ تھا لیکن ہم بے خبر تھے۔

اخباروں میں چرنوبل کے بارے میں سب کچھ فوجی زبان میں تھا: ’دھماکہ، ہیرو، فوجی، انخلاء۔ کے جی بی ( KGB ) سٹیشن پر مصروف عمل تھی۔ وہ جاسوس اور تخریب کار تلاش کر رہی تھی۔ افواہیں پھیلیں کہ یہ حادثہ سوشلسٹ کیمپ کو کمزور کرنے کے لیے مغربی انٹیلی جنس اداروں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ فوجی ساز و سامان چرنوبل کی طرف رواں دواں تھا۔ وہاں فوجی آ رہے تھے۔ جیسا کہ معمول تھا، نظام ایسے چل رہا تھا جیسے یہ جنگ کا زمانہ ہو لیکن اس نئی دنیا میں، ایک نئی چمکتی مشین گن لیے فوجی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ صرف ایک کام کر سکتا تھا کہ تابکاری کی بڑی مقدار اپنے اندر جذب کرتا رہے اور جب گھر واپس جائے تو مر جائے۔

میرے آنکھوں کے سامنے چرنوبل کے حادثے سے پہلے کے لوگ یک دم ”پیپل آف چرنوبل“ بن گئے۔

آپ تابکاری کو نہ تو دیکھ سکتے ہیں، نہ چھو سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ سکتے ہیں۔ ارد گرد کی دنیا مانوس تھی اور نامانوس بھی۔ میں نے جب اس زون میں سفر کیا تو مجھے فوراً ہی بتا دیا گیا:

پھولوں کو ہاتھ نہیں لگانا، گھاس پر نہیں بیٹھنا، کسی کنویں سے پانی نہیں پینا۔ ہر جگہ موت چھپی ہوئی تھی لیکن اس بار یہ مختلف قسم کی موت تھی۔ اس نے نیا مکھوٹا پہن رکھا تھا۔ یہ ایک اجنبی بھیس میں تھی۔ بوڑھے لوگ جو پہلے بھی جنگ جھیل چکے تھے، کا پھر سے انخلاء شروع ہو چکا تھا۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے :

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6