اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015

میں ہیروؤں کو دیکھ ہی نہیں رہی تھی۔ میں جنگ میں شامل ایسے لوگوں اور اس کے گواہوں، جن کا کسی نے نوٹس نہیں لیا تھا، کی کہانیوں کے ذریعے تاریخ لکھ رہی تھی۔ ان سے کبھی کسی نے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ لوگ کیا سوچتے ہیں؟ ہمیں واقعی میں یہ پتہ نہیں کہ لوگ عظیم خیالات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ایک جنگ کے فوراً بعد ایک بندہ اسی جنگ کی کہانی سنائے گا۔ کچھ دہائیوں کے بعد یہ یقیناً، ایک مختلف جنگ ہو گی۔ اس بندے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی آ چکی ہو گی کیونکہ اس نے اپنی ساری زندگی کو یادوں کی تہوں میں لپیٹ دیا ہو گا بلکہ اس نے اپنی ذات کو بھی ان میں تہہ کر دیا ہو گا۔ اس نے وہ تمام سال کیسے گزر بسر کی، اس نے کیا پڑھا، کیا دیکھا، کس کس سے ملا۔ وہ کس میں یقین رکھتا ہے۔ اور آخر، کیا وہ خوش ہے یا نہیں۔ دستاویزات زندہ مخلوق ہوتی ہیں۔ یہ اسی طرح بدلتی ہیں جس طرح ہم بدلتے ہیں۔
میں اس بات پر مکمل طور پر قائل ہوں کہ 1941 کے جنگی زمانے کی لڑکیاں اور جوان عورتیں پھر دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوں گی۔ یہ ”لال ’نظریے کا نقطہ عروج تھا۔ یہ انقلاب اور لینن سے بھی بہت اونچا تھا۔ ان کی‘ فتح ’ابھی بھی‘ گولاگ ’کو گہناتی ہے۔ میں ان عورتوں کو دل و جان سے پیار کرتی ہوں، لیکن آپ ان سے سٹالن کے بارے میں باتیں نہیں کرتے یا اس حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں کہتے کہ جنگ کے فوراً بعد دلیر ترین اور سب سے زیادہ کھل کر بات کرنے والوں کو ریل گاڑی میں بھر کر سیدھا سائبیریا بھجوا دیا گیا تھا۔ باقی سب گھروں کو لوٹ گئے اور خاموش رہے۔ ایک بار میں نے سنا تھا:
” ایک ہی وقت ایسا تھا جب ہم آزاد تھے۔ یہ جنگ کا زمانہ تھا اور ہم محاذ پر تھے۔“
تکلیف سہنا ہمارا سرمایہ ہے، گیس اور تیل کی بجائے۔ ’دکھ برداشت کرنا‘ ہمارے قدرتی وسیلے ہیں۔ یہی کچھ ہے جسے ہم تواتر سے پیدا کرنے کے قابل ہیں۔ میں ہمیشہ اس سوال کا جواب تلاش کرتی رہتی ہوں کہ ہمارا دکھ جھیلنا کیوں آزادی میں ڈھل نہیں پاتا؟ کیا یہ سچ ہے کہ سب غارت گیا؟
( روسی ) چادایف (Chaadayev) صحیح کہتا تھا:
روس ایک ایسا ملک ہے جس کی کوئی یادداشت نہیں۔ یہ ایک ایسا خلا ہے جس پر مکمل نسیانی کیفیت طاری ہے۔ اس کا ضمیر/شعور تنقید اور انعکاس کے لیے کورا ہے۔
لیکن عظیم کتابیں ہمارے ہی پیروں تلے ہی ڈھیر پڑی ہیں۔
1989
میں کابل میں ہوں۔ میں اب جنگ کے بارے میں مزید نہیں لکھنا چاہتی لیکن میں یہاں ایک اصلی جنگ میں موجود ہوں۔ اخبار ’پراودا‘ کہتا ہے :
”ہم سوشلزم کی تعمیر میں برادر افغان عوام کی مدد کر رہے ہیں۔“
جنگ کرتے لوگ اور جنگی ساز و سامان ہر طرف پھیلا ہے۔ یہ جنگ کا زمانہ ہے۔
وہ کل مجھے میدان جنگ میں لے کر نہیں گئے تھے :
”جوان محترمہ، ہوٹل میں ہی رہو۔ ہمیں بعد میں تمہارے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔“
میں ہوٹل میں بیٹھی ہوں اور سوچ رہی ہوں :
یہ نامناسب بات ہے کہ دوسروں کے حوصلے اور خطرہ جو وہ مول لیتے ہیں، کو پرکھا جائے۔ میں یہاں دو ہفتے کے لیے ہوں اور میں اس احساس سے چھٹکارا نہیں پا سکتی کہ جنگ مردانہ نوعیت کی شے ہے۔ یہ میرے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ لیکن جنگ کے روزمرہ کے لوازمات بڑے ہیں۔ میں نے اپنے لیے یہ دریافت کیا کہ ہتھیار، مشین گنیں، بارودی سرنگیں، ٹینک سب خوبصورت ہوتے ہیں۔ انسان نے اس پر بہت سوچ و بچار کی ہے کہ دوسرے انسانوں کو بہترین طریقے سے کیسے مارا جائے۔ یہ سچائی اور خوبصورتی کا ازلی جھگڑا ہے۔ انہوں نے مجھے ایک نئی اطالوی بارودی سرنگ دکھائی اور میرا نسوانی ردعمل تھا:
”یہ بہت خوبصورت ہے۔ یہ اتنی خوبصورت کیوں ہے؟“
انہوں نے مجھے بالکل فوجی معنوں میں سمجھایا:
اگر کوئی اس پر گاڑی چڑھائے یا اس پر ویسے ہی ایک خاص زاویے سے۔ اپنے قدم رکھ دے۔ تو اس کا کچھ نہیں بچے گا، بس گوشت کی آدھی بالٹی ہی رہ جائے گی۔ یہاں لوگ غیر معمولی باتیں کرتے ہیں جیسے وہ خود نارمل ہوں اور انہیں درست بھی سمجھتے ہیں۔ ’تمہیں تو پتہ ہی ہے۔ یہ جنگ ہے۔ کوئی بھی بندہ ان تصویروں کو دیکھ کر حواس نہیں کھوتا۔ مثال کے طور پر اسے دیکھو۔ وہاں ایک بندہ مرا پڑا ہے، اس کو کسی اور نے نہیں مارا نہ ہی اس کی آئی ہوئی تھی، اسے ایک دوسرے بندے نے مارا ہے۔ ‘
میں نے ایک ”بلیک ٹیولپ“ (وہ جہاز جس میں مرے ہوؤں کو زنک کے تابوتوں میں رکھ کر گھر واپس بھجوایا جاتا ہے۔ ) کو بھرتے دیکھا۔ مرے ہوؤں کو عام طور پر چالیس کی دہائی کے قدیمی یونیفارم، برجس کے ساتھ پہنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی کافی نہیں ہوتے کہ سب کو پہنائے جا سکیں۔ فوجی آپس میں باتیں کر رہے تھے :
” انہوں نے کچھ نئی سرد خانوں میں رکھی ہیں۔ یہ جنگلی سورؤں کی طرح باس مار رہی ہیں۔“
میں اس بارے میں لکھوں گی۔ مجھے خدشہ ہے کہ پیچھے گھر (وطن) میں میری بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ ہمارے اخبار صرف دوستی کے ان راستوں اور پٹریوں کے بارے میں لکھتے ہیں جو سوویت فوجیوں نے بنائی ہوتی ہیں۔
میں فوجیوں سے بات کرتی ہوں۔ ان میں سے اکثر رضاکارانہ طور پر آئے ہیں۔ انہوں نے یہاں آنے پر خود ترجیح دی۔ میں نے نوٹ کیا کہ یہ پڑھے لکھے خاندانوں سے تھے۔ یہ دانشوروں میں سے تھے۔ استاد تھے۔ ڈاکٹر تھے۔ لائبریرین تھے۔ ایک لفظ میں بات کی جائے تو یہ کتابی لوگ تھے۔ وہ سب مخلصانہ طور پر یہ خواب دیکھتے تھے کہ افغانوں کو سوشلزم تعمیر کرنے میں مدد دیں۔ اب وہ خود پر ہنستے ہیں۔ مجھے ائر پورٹ پر ایک جگہ دکھائی گئی جہاں سینکڑوں زنک کے تابوت دھوپ میں پراسرار طور پر چمک رہے تھے۔ وہ افسر جو میرے ساتھ تھا خود کو یہ کہنے سے باز نہ رکھ سکا:
” کون جانتا ہے۔ میرا تابوت بھی وہیں کہیں رکھا ہو۔ وہ مجھے اس میں ٹھونس دیں گے۔ میں یہاں کس لیے لڑ رہا ہوں؟“
وہ اپنے ہی لفظوں سے خوفزدہ ہو گیا اور اس نے مجھے فوراً کہا:
”اسے مت لکھنا۔“
رات میں مجھے مرے ہوئے خواب میں آتے رہے۔ ان سب کے چہروں پر حیرانی تھی:
’ کیا، تمہارا مطلب ہے، میں مارا جا چکا ہوں؟ کیا میں واقعی مار دیا گیا ہوں؟‘
میں نرسوں کے ایک گروپ کے ساتھ افغان شہریوں کے ایک ہسپتال میں گئی۔ ہم اپنے ساتھ بچوں کے لیے تحائف لے کر گئے تھے۔ کھلونے، بسکٹ، گولیاں اور ٹافیاں، میرے پاس پانچ ٹیڈی بیئر بھی تھے۔ ہم ہسپتال پہنچے۔ یہ ایک لمبی بیرک تھی۔ کسی کے پاس اوڑھنے کے لیے ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ ایک جوان افغان عورت ایک بچہ گود میں اٹھائے میرے پاس آئی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔ پچھلے دس سال کے عرصے میں تقریباً ہر کسی نے تھوڑی بہت روسی بولنا سیکھ لیا تھا۔ میں نے اس کے بچے کو ایک کھلونا دیا جو اس نے دانتوں سے دبوچ لیا۔
” اس نے دانتوں سے کیوں دبوچا ہے؟“ ، میں نے حیرانی سے پوچھا۔ اس نے اس کے ننھے جسم سے کمبل ہٹا دیا۔ ننھے لڑکے کے دونوں بازو نہیں تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

