اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015


” سورج چمک رہا ہے۔ کہیں دھواں نہیں، پٹرول کی بو نہیں۔ کوئی گولیاں اور گولے نہیں داغ رہا۔ یہ جنگ کیسے ہو سکتی ہے؟ لیکن ہمیں مہاجر بننا پڑ رہا ہے۔“

ہر صبح، ہر کوئی خبروں کے لالچ میں اخباروں پر جھپٹتا اور پھر نا امید ہو کر انہیں پٹخ دیتا۔ کوئی جاسوس نہ ملا۔ کسی نے عوام کے دشمنوں کے بارے میں نہ لکھا۔ جاسوسوں اور عوام کے دشمنوں کے بغیر یہ دنیا بھی اجنبی اور نامانوس تھی۔ یہ بھی کسی نئی شے کی شروعات تھی۔ افغانستان میں ناکامی کے بعد جلد ہی چرنوبل نے ہمیں آزاد قوم بنا دیا۔

میرے لیے دنیا دو لخت ہو گئی۔ زون کے اندر مجھے بیلارسین یا روسی یا پھر یوکرینی ہونے کا احساس نہ ہوتا بلکہ میں ایک ایسی حیاتیاتی نوع کی نمائندہ تھی جسے تباہ کیا جا سکتا تھا۔ دو المیے، دو آفتیں، دو تباہیاں ایک ساتھ آ ملی تھیں۔ سماجی دائرے میں سوشلسٹ ’اٹلانٹس‘ ڈوب رہا تھا۔ اور سنسار کی سطح پر۔ چرنوبل تھا۔ سلطنت کے ڈھے جانے پر ہر کسی اور ہر شے کو الٹا پلٹا کر رکھ دیا۔ لوگ روزمرہ کی زندگی کے بارے میں پریشان ہونے لگے۔

اشیاء کیسے، کیونکر اور کس سے خریدی جائیں؟ کیسے زندہ رہا جائے؟ کس پر یقین کیا جائے؟ اس بار کن نعروں کے پیچھے چلا جائے؟ یا ہمیں کسی بھی عظیم نظریے کے بغیر زندہ رہنے کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہو گی؟ آخری بات بھی نامانوس تھی، اس لیے کہ اس طرح کی زندگی کسی نے نہ جی تھی۔ ’لال‘ آدمی کو سینکڑوں سوالات کا سامنا تھا لیکن وہ اپنے آپ میں تھا۔ آزادی کے ان اولین دنوں میں وہ ایسا اکیلا بندہ تھا کہ کبھی پہلے تنہا نہ ہوا تھا۔ میں چاروں طرف سے ایسے لوگوں میں گھری ہوئی تھی جو صدمے کے عالم میں تھے۔ میں نے انہیں سنا۔

میں اپنی ڈائری بند کرتی ہوں۔

جب سلطنت ڈھ گئی تو ہم پر کیا بیتی؟ پہلے دنیا ظالموں اور مظلوموں میں منقسم تھی۔ یہ گولاگ تھا۔ بھائی اور بہن تھے۔ یہ جنگ تھی۔ رائے دہندگان تھے۔ ٹیکنالوجی کا کچھ حصہ تھا اور ہمعصر دنیا تھی۔ ہماری دنیا ان میں منقسم تھی جو قید میں تھے اور جو انہیں قید کرنے والے تھے۔ آج یہاں سلاوک اور مغربیت پسندوں کی تقسیم ہے، ”فاشسٹ۔ غدار“ اور محب وطنوں کی تقسیم ہے۔ اور ان کے بیچ وہ ہیں جو اشیاء خرید سکتے ہیں اور وہ جو نہیں خرید سکتے۔

یہ آخری والے، میں کہوں گی، سب سے ظالم آزمائش میں ہیں اور سوشلزم کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں کیونکہ زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ سب برابر تھے۔ ’لال‘ آدمی آزادی کی بادشاہت میں داخل ہونے کے قابل نہ رہا تھا کیونکہ اس کے خوابوں کی دنیا اس کے باورچی خانے کی میز کے گرد گھومتی تھی۔ روس نے اسے کچھ نہ دیا اور اس کے پاس کچھ نہ رہا۔ اس کی ہتک کی گئی اور اسے لوٹا گیا۔ وہ مشتعل اور خطرناک ہو گیا۔

یہاں میں کچھ تبصرے پیش کر رہی ہوں جو میں نے سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد روس میں سفر کے دوران سنے۔

”یہاں جدیدیت صرف ’شاراشکس‘ (سائنس دانوں کے لیے بنائے گئے قید خانے اور ان کے لیے کھڑے کیے گئے فائرنگ سکواڈ) کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔“

”یہاں ایماندار لوگ نہیں ہیں لیکن ایسے ضرور ہیں جنہیں ولی کہا جا سکتا ہے۔“

ہم کوئی ایسی نسل نہیں دیکھیں گے جسے کوڑے نہ مارے گئے ہوں۔ روسی آزادی کا مطلب نہیں سمجھتے، انہیں قازکوں اور کوڑوں کی ضرورت ہے۔ ”

”روس میں دو الفاظ سب سے اہم ہیں۔ یہ ’جنگ‘ اور ’قید خانہ‘ ہیں، آپ کچھ چرائیں، کچھ موج مستی کریں، وہ آپ کو بند کر دیں گے۔ آپ باہر نکلیں گے اور دوبارہ جیل میں جا کر سڑیں گے۔“

”روسی زندگی کو فاسد اور گھناؤنا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کی روح تبھی اوپر اٹھے گی اور اسے سمجھ آئے گی کہ وہ اس دنیا کے لیے نہیں بنی۔ چیزیں جتنی غلیظ اور خونیں ہوں گی روح کے لیے اتنی ہی زیادہ جگہ ہو گی۔“

”کسی کے پاس اتنی توانائی نہیں کہ ایک اور انقلاب لائے یا دیوانگی پھیلائے۔ اب حوصلے ہی نہیں رہے۔ روسیوں کو ایسے نظریے کی ضرورت ہے جو ان کی ریڑھ کی ہڈی تک میں کپکپی پیدا کر دے۔“

”اسی لیے ہماری زندگی افراتفری اور بیرکوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ کمیونزم مرا نہیں ہے، اس کی لاش ابھی بھی زندہ ہے۔“

میں یہ کہنے کی جسارت کروں گی کہ ہم نے وہ موقع گنوا دیا ہے جو ہمیں 1990 کی دہائی میں ملا تھا۔ اس وقت یہ سوال کھڑا ہوا تھا کہ ہمارا ملک کس قسم کا ہونا چاہیے؟ ایک طاقتور ملک یا ایک ایسا، جس میں لوگ نفاست سے رہ سکیں؟ ہم نے پہلا والا چنا۔ ایک طاقتور ملک۔ ہم ایک بار پھر ’طاقت‘ کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ روسی یوکرینیوں سے لڑ رہے ہیں جو ان کے بھائی ہیں، میرا باپ بیلارسین ہے، میری ماں یوکرینی ہے۔ ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہے۔ اور روسی جہاز شام پر بمباری کر رہے ہیں۔

امید سے بھرا وقت پھر سے اس وقت میں بدل گیا ہے جو خوف سے لدا ہے۔ زمانے نے الٹا رخ پھیر لیا ہے اور وقت میں پیچھے کی طرف رواں دواں ہے۔ ہم اب جس وقت میں رہ رہے ہیں یہ پرانا ہے اور پہلے سے برتا ہوا ہے۔

بعض اوقات مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے ”لال“ آدمی کی تاریخ لکھ لی ہے، اسے مکمل کر لیا ہے۔

میرے تین گھر ہیں۔ میری بیلارسین زمین جو میرے والد کا وطن ہے، جہاں میں نے اپنی ساری زندگی گزاری ہے۔ یوکرین، میری ماں کا وطن جہاں میں پیدا ہوئی اور روس کی عظیم تہذیب و تمدن جس کے بغیر میں اپنے وجود کے نہ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ مجھے یہ سب پیارے ہیں لیکن آج کے دن اور اس عمر میں میرے لیے پیار اور محبت کے بارے میں بات کرنا مشکل ہے۔

(بیلارس کی سویٹلانا ایلکسیوچ (Svetlana Alexievich) نے اپنا یہ لیکچر 7، دسمبر 2015 ء کو سویڈش اکیڈمی، سٹاک ہوم، سویڈن میں، روسی زبان میں دیا تھا۔ اصل زبان میں یہ لیکچر nobelprize۔ org پر موجود ہے۔ )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6