اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015

میں اپنے وقت کی زندگی جمع کر رہی ہوں۔ میں روح کی تاریخ میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ روح اور جذبوں کی روزمرہ کی زندگی، ان اشیاء کی جو تاریخ کی بڑی تصویر عام طور پر چھوڑ جاتی ہے یا جنہیں وہ حقیر جانتی ہے۔ میں لاپتہ اور گم کردہ تاریخ پر کام کرتی ہوں۔ مجھے اکثر بتایا جاتا ہے اور ایسا اب بھی ہوتا ہے کہ میں جو لکھ رہی ہوں، وہ ادب نہیں ہے، یہ ایک دستاویز ہے۔ آج ادب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب کون دے سکتا ہے؟ ہم جتنی تیزی سے جی رہے ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں جیے تھے۔
مواد ہیئت کو پھاڑ دیتا ہے۔ اسے توڑ دیتا ہے اور اسے بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ہر چیز اس کے کناروں سے باہر امڈ پڑتی ہے۔ موسیقی، پینٹنگ۔ یہاں تک کہ دستاویزات میں لکھے الفاظ دستاویز کی سرحدوں سے نکل بھاگتے ہیں۔ حقیقت اور گھڑی گئی باتوں کے درمیان سرحدیں نہیں ہوتیں، یہ ایک دوسرے میں بہہ جاتی ہیں۔ گواہی دینے والے غیر جانب دار نہیں ہوتے۔ کہانی بیان کرتے ہوئے انسان ساتھ میں تخلیق بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ اسی طرح کشتی کر رہے ہوتے ہیں جس طرح ایک مجسمہ ساز پتھر سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہ بیک وقت اداکار اور تخلیق کار ہوتے ہیں۔
مجھے چھوٹے (عام) لوگوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے، عظیم لوگ، جیسا کہ میں انہیں کہتی ہوں کیونکہ یہ لوگ دکھ سہ سہ کر اور ابتلا میں رہ رہ کر پھیل جاتے ہیں۔ میری کتابوں میں یہ لوگ اپنی ننھی ننھی تاریخیں بیان کرتے ہیں اور بڑی تاریخ ان کے ساتھ از خود بیان ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ سمجھ سکیں کہ ہمارے ساتھ پہلے ہی کیا ہو چکا ہے اور ابھی بھی ہو رہا ہے، ہمیں بس اسے کہہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شروعات کرنے کے لیے، جو بیت چکا ہے، کم از کم، اس کا اظہار تو کرنا ہو گا۔ ہم ایسا کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم اپنے ماضی کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ دوستوفسکی کے ناول ’بد روحیں‘ ( Demons ) میں شاتوف، ستیوروجن سے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہتا ہے :
”ہم دو مخلوقات (جاندار) ہیں جو حدوں سے عاری ابد میں ملے ہیں۔ اور ایسا دنیا میں آخری بار ہوا ہے اس لیے یہ انداز چھوڑو اور انسانوں کی طرح بات کرو۔ کم از کم ایک بار تو ایسا کرو کہ انسانی آواز میں بولو۔“
میری مرکزی کرداروں کے ساتھ گفتگو کم و بیش کچھ ایسے ہی شروع ہوتی ہے۔ لوگ اپنے اپنے ’وقت‘ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ کسی کھوہ سے تو نہیں بول رہے ہوتے لیکن پھر بھی انسانی روح تک پہنچنا مشکل ہے۔ اس کے راستے پر ٹیلی ویژن اور اخبار بکھرے ہیں۔ صدی کے توہمات ہیں۔ اس کے تعصبات ہیں اور اس کی منافقتیں اور دھوکے ہیں۔
وقت کیسے حرکت کرتا ہے۔ ایک خیال کیسے مرتا ہے۔ اور میں اس کے راستے پر کیسے چلتی ہوں، یہ دکھانے کے لیے، میں اپنی ڈائریوں کے کچھ صفحات پڑھنا چاہوں گی۔
1980۔ 1985
میں جنگ کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہی ہوں۔ جنگ کے بارے میں ہی کیوں؟ کیونکہ ہم جنگ کے ہی لوگ ہیں۔ ہم ہمیشہ سے ہی جنگ میں رہے ہیں یا جنگ کی تیاری کرتے رہے ہیں۔ اگر آپ نزدیک سے دیکھیں تو ہم سوچتے بھی جنگ کے حوالے سے ہیں، چاہے گھر پر ہوں یا سڑکوں اور گلیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں انسانی زندگی ارزاں ہے۔ ہر چیز جنگی زمانے کی سی ہے۔
میں نے شکوک و شبہات کے ساتھ دوسری عالمی جنگ پر ایک اور کتاب شروع کی۔ کس لیے؟
میں ایک دورے کے دوران ایک عورت سے ملی۔ وہ جنگ کے دوران طبی عملے میں رہی تھی۔ اس نے مجھے ایک کہانی سنائی:
جیسے ہی انہوں نے سردیوں میں لاڈوگا جھیل عبور کی، ان کی حرکت دشمن کی نظر میں آئی۔ اس نے ان پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ گھوڑے اور لوگ برف میں دب گئے۔ یہ سب رات میں ہوا۔ اس نے کسی کو پکڑا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ زخمی تھا اور اسے کنارے کی طرف کھینچنے لگی۔ ”میں نے اسے کھینچا، وہ گیلا اور ننگا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس کے کپڑے پھٹ چکے ہیں۔“ ، اس نے مجھے بتایا۔ ایک بار جب وہ کنارے پر پہنچ گئی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک زخمی سٹرجیون (sturgeon) مچھلی کو کھینچتی رہی تھی۔ اور اس نے جنگ کی شکار اس مچھلی کو چھوڑ دیا۔ لوگ تو اس ننگی بربریت کو سہ ہی رہے تھے لیکن جانور، پرندے اور مچھلیاں۔ انہوں نے کیا کیا تھا؟
ایک اور دورے کے دوران میں نے گھڑ سوار سکواڈرن سے وابستہ طبی عملے کی ایک رکن کی کہانی سنی۔ وہ ایک لڑائی کے دوران ایک زخمی فوجی کو گھسیٹ کر بم کے دھماکے سے بنے ایک گڑھے میں گھسیٹ رہی تھی اور پھر اس نے دیکھا کہ وہ ایک جرمن تھا۔ اس کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔ وہ دشمن تھا! کیا کیا جائے؟ اوپر، اس کے اپنے ساتھی مر رہے تھے! اس نے لیکن جرمن کی مرہم پٹی کی اور رینگتے ہوئے باہر نکلی۔ اس نے ایک روسی فوجی کو گڑھے میں گھسیٹا۔ وہ بیہوش تھا۔ جب وہ ہوش میں آیا تو جرمن فوجی کو مار دینا چاہتا تھا۔ جب اس کا سامنا جرمن سے ہوا تو اس نے مشین گن تان لی۔ وہ روسی کو مارنا چاہتا تھا۔ ”میں نے پہلے ایک کو تھپڑ مارا اور پھر دوسرے کو۔ ہم سب کی ٹانگیں خون سے لت پت تھیں۔“ اس نے یاد کیا، ”ہمارا خون آپس میں رل مل گیا تھا۔“
یہ وہ جنگ تھی جس کے بارے میں، میں نے کبھی کچھ نہیں سنا تھا۔ یہ ایک عورت کی جنگ تھی۔ یہ ہیروؤں کے بارے میں نہیں تھی۔ یہ اس بارے میں نہیں تھی کہ لوگوں کے ایک گروہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے انسانوں کے ایک دوسرے گروہ کو مار ڈالا تھا۔ مجھے وہ عورت یاد ہے جو اکثر نوحہ پڑھا کرتی تھی:
” لڑائی کے بعد جب ہم کھیتوں میں چہل قدمی کرتے تو وہ اپنی پشت پر لیٹے ہوتے۔ سارے جوان اور خوبرو تھے۔ وہ وہاں لیٹے ہوتے اور ان کی آنکھیں آسمان کو گھور رہی ہوتیں۔ ہمیں ان سب کے بارے میں افسوس ہوتا۔ یہ دونوں اطراف پر تھا۔“ ، یہ رویہ تھا، ”سب کے بارے میں، دونوں اطراف پر۔“
اس سے مجھے یہ خیال آیا کہ میری کتاب کس بارے میں ہو گی۔ جنگ سوائے مرنے مارنے کے اور کچھ بھی نہیں۔ یہ اسی طرح عورتوں کی یادوں میں منقش ہوئی۔ ’یہ بندہ ابھی ہنس کھیل رہا تھا اور سگریٹ پی رہا تھا۔ اور اب یہ جا چکا ہے۔ یوں لاپتہ ہونا، منظر سے غائب ہو جانا ہی تھا جس کے بارے میں عورتیں سب سے زیادہ بات کرتی تھیں۔ جنگ میں، ہر شے کیسے تیزی سے، اچانک اور یک دم‘ لا شے ’میں بدل جاتی ہے۔ دونوں، انسان اور انسان کا سمے بھی۔ درست ہے کہ انہوں نے 17 یا 18 کو محاذ پر جانے کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا تھا لیکن وہ کسی کو مارنا نہیں چاہتے تھے۔ اور پھر بھی مرنے کے لیے تیار تھے۔ اپنی مادر وطن کے لیے مرنے کو تیار تھے۔ اور سٹالن کے لیے مرنے کو تیار تھے۔ آپ ان الفاظ کو تاریخ سے کھرچ کر صاف نہیں کر سکتے۔
یہ کتاب پریسترویکا اور گورباچوف کے آنے سے پہلے دو سال تک چھپ نہ سکی۔ ”تمہاری کتاب پڑھنے کے بعد کوئی بھی نہیں لڑے گا۔“ ، سنسر والوں نے مجھے درس دیا۔ ”تمہاری جنگ بہت خوفناک ہے۔ تم ان میں ہیروؤں کو کیوں شامل نہیں کرتیں؟“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

